🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. حديث طلق بن حبيب
حضرت طلق بن حبیب کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36305 ترقیم الشثری: -- 37890
٣٧٨٩٠ - حدثنا محمد بن بشرقال: حدثني عتبة بن قيس عن طلق بن حبيب قال: اربع من اوتيهن اوتي خير الدنيا والآخرة من اوتي لسانا ذاكرا وقلبا شاكرا وجسدا على البلاء صابرا، وزوجا مؤمنة لا تبغيه في نفسها خونا.
حضرت طلق بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں چار چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس کو دی جائیں تو اس کو دنیا، آخرت کی خیر دی گئی۔ جس آدمی کو ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور مصائب پر صبر کرنے والا جسم اور ایسی صاحب ایمان بیوی ملے جو اپنے بارے میں شوہر کے ساتھ کوئی خیانت نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37890، ترقيم محمد عوامة 36305)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36306 ترقیم الشثری: -- 37891
٣٧٨٩١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن طلق بن حبيب قال: إن حقوق الله اثقل من ان يقوم بها العباد، وإن نعم الله اكثر من ان يحصيها العباد، ولكن اصبحوا توابين وامسوا توابين.
حضرت طلق بن حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے حقوق اس سے وزنی ہیں کہ بندے ان کو قائم کریں اور خدا کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ بندے ان کو شمار کریں۔ لہٰذا تم صبح کو بھی توبہ کرو اور شام کو بھی توبہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37891، ترقيم محمد عوامة 36306)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36307 ترقیم الشثری: -- 37892
٣٧٨٩٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثنا عبد الحميد بن عبد الله بن مسلم بن يسار قال: اخبرنا كلثوم بن (جبر) (٢) قال: كان المتمني بالبصرة يقول: عبادة طلق بن حبيب، وحلم مسلم بن يسار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) في [س]: (جبير)، وفي [ط]: (خير).

حضرت کلثوم بن جبر کہتے ہیں کہ بصرہ میں متمنی کہتا تھا۔ طلق بن حبیب کی عبادت، عبادت ہے اور مسلم بن یسار کا حلم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37892، ترقيم محمد عوامة 36307)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36308 ترقیم الشثری: -- 37893
٣٧٨٩٣ - حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن عاصم قال: قلنا لطلق بن حبيب: صف لنا التقوى، قال: التقوى عمل بطاعة الله رجاء رحمة الله على نور من الله، والتقوى ترك معصية الله نحافة (١) الله على نور من الله (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عقابه).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٣٣٦)، وابن ماجه (٣٨٢٥)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٤)، وابن حبان (٨٢٠)، والحميدي (١٣٠)، والبزار (٤٠٢٠)، والبغوي (١٢٨٤)، والمروزي في زوائد ابن المبارك (١١٢٢)، والطبراني في الدعاء (١٦٤٦).

حضرت عاصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت طلق بن حبیب سے کہا آپ ہمیں تقویٰ کے بارے میں بتائیں۔ فرمایا: تقویٰ خدا کی فرمانبرداری کا عمل ہے۔ اس کی رحمت کی امید پر اور اس کے نور کی روشنی میں اور تقویٰ خدا کی نافرمانی کو خدا کے خوف سے خدائی نور کی وجہ سے ترک کرنے کا نام ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37893]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37893، ترقيم محمد عوامة 36308)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36309 ترقیم الشثری: -- 37894
٣٧٨٩٤ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن ابي المنهال قال: حدثني صفوان ابن محرز قال: قال جندب: مثل الذي (يعظ) (١) وينسى نفسه مثل المصباح يضيء لغيره ويحرق نفسه، ليبصر احدكم ما يجعل في بطنه، فإن الدابة إذا ماتت كان اول (ما) (٢) ينفتق (منها) (٣) بطنها، وليتق احدكم ان يحول بينه وبين الجنة (ملء) (٤) ⦗٥٢٦⦘ كف من دم مسلم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يعض).
(٢) في [هـ]: (من).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [ط، هـ]: (ملأ).
(٥) صحيح؛ أبو المنهال هو سيار بن سلامة ثقة، وأخرجه أحمد في الزهد (ص ١٨٢ و ٢٠٢)، والبيهقي في الشعب (٥٠١٢)، ونعيم بن حماد في الفتن (٣٧٥)، وقد ورد مرفوعًا من حديث جندب، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣١٤)، والطبراني (١٦٨١)، والخطيب في الاقتضاء (٧٠)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٤٢٣، وابن البخاري في ذيل التاريخ بغداد ١٦/ ٢٧٤، وابن أبي الدنيا في الورع (١١٩).

حضرت صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت جندب نے فرمایا: اس آدمی کی مثال جو وعظ کہتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے اس چراغ کی طرح ہے جو دوسروں کے لیے روشنی کرتا ہے اور اپنا آپ کو جلاتا ہے۔ چاہیے کہ تم میں سے (ہر) ایک اپنے پیٹ میں جانے والی چیز کو دیکھے۔ کیونکہ جب جانور مرجاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پیٹ پھٹتا ہے۔ اور تم میں سے (ہر) ایک، اپنے اور جنت کے درمیان خون مسلم کی ایک مٹھی کے بھی حائل ہونے سے ڈرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37894، ترقيم محمد عوامة 36309)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36310 ترقیم الشثری: -- 37895
٣٧٨٩٥ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا ابان بن إسحاق قال: حدثني رجل من عرينة قال: خرج جندب البجلي في سفر له، فخرج معه ناس من قومه حتى إذا كانوا في المكان الذي يودع بعضهم بعضا قال: الا ترى (المحروب) (١) من حرب دينه، وإن المسلوب من سلب دينه، الا إنه لا فقر بعد الجنة، ولا غنى بعد النار، الا إن النار لا يفك اسيرها، ولا يستغني فقيرها، ثم ركب الجادة وانطلق (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (المحدوب).
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي عن جندب، وأخرجه مسدد كما في المطالب (٣١٣٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣١٥١)، وأحمد في الزهد (ص ٢٠٢)، ونعيم بن حماد في الفتن (٣٧٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٦٤٢)، وابن الجوزي في ذم الهوى (ص ١٧٦).

قبیلہ عرینہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بجلی، اپنے ایک سفر میں نکلے اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ بھی نکلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں ان میں سے بعض نے بعض کو الوداع کہا۔ تو جندب نے کہا۔ آپ کو معلوم نہیں ہے۔ محروب وہ ہوتا ہے جس کے دین پر حملہ ہوا ہو اور مسلوب وہ ہے جس کا دین سلب ہوا ہو۔ خبردار! جنت کے بعد کوئی فقر نہیں ہے اور جہنم کے بعد کوئی غناء نہیں ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ جہنم کا قیدی رہائی نہیں پاتا اور اس کا فقیر، غنی نہیں ہوپاتا۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور چل پڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37895]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37895، ترقيم محمد عوامة 36310)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36311 ترقیم الشثری: -- 37896
٣٧٨٩٦ - حدثنا ابو (اسامة) (١) عن عوف عن غالب بن عجرد قال: حدثني رجل من فقهاء اهل الشام في مسجد منى قال: إن الله خلق الارض وخلق ما فيها من الشجر، ولم يكن احد من (بني) (٢) آدم ياتي شجرة من تلك الشجر إلا اصاب منها خيرا او كان له خير، فلم (يزل الشجرة) (٣) كذلك حتى تكلمت (فجرة) (٤) بني ⦗٥٢٧⦘ آدم بالكلمة العظيمة قولهم: ﴿اتخذ الله ولدا﴾ [البقرة: ١١٦] ، فاقشعرت الارض فشاك الشجر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سلمة).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ط، هـ]: (تزل الشجرة).
(٤) سقط من: [س].

مسجد منی میں اہل شام کے فقہاء میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اور زمین میں موجود درختوں کو پیدا فرمایا۔ اور اولادِ آدم میں سے جو کوئی بھی ان درختوں میں سے کسی درخت کے پاس آتا تھا تو وہ اس درخت سے خیر ہی پاتا تھا۔ یا اس کے لیے یہ بہتر ہی ہوتا تھا چناچہ درختوں کی مسلسل یہی حالت رہی یہاں تک کہ اولادِ آدم میں سے فجار نے یہ بڑی بات بولی کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے۔ اس پر زمین کانپ اٹھی اور درختوں میں کانٹے پیدا ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37896]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37896، ترقيم محمد عوامة 36311)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36312 ترقیم الشثری: -- 37897
٣٧٨٩٧ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن ابي قحذم قال: اتي ابن زياد بصرة فيها حب حنطة امثال النوى، وجدت في بعض بيوت الكسرى مكتوب معها: هذا (نبت) (١) زمان (كذا وكذا، كانه يعني نبت زمان) (٢) كان يعمل فيه بطاعة الله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بنت).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).

حضرت ابوقحذم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حصرت ابن زیاد کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں کھجور کی گٹھلی کے برابر گندم کے دانے تھے۔ اور یہ تھیلی خاندانِ کسریٰ میں سے بعض کے گھر میں پائی گئی تھی اور اس کے ہمراہ یہ تحریر تھی۔ یہ فلاں، فلاں زمانہ کی پیداوار ہے یعنی وہ اس زمانہ میں پیدا ہوئی تھی جس میں خدا کی فرمانبرداری کی جاتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37897]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37897، ترقيم محمد عوامة 36312)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36313 ترقیم الشثری: -- 37898
٣٧٨٩٨ - حدثنا ابو اسامة عن عوف عن خالد الربعي قال: كان في بني إسرائيل رجل، وكان (مغمورا) (١) في العلم، وإنه ابتدع بدعة، فدعا الناس (فاتبع) (٢) ، وانه تذكر ذات ليلة فقال: هب هؤلاء الناس لا يعلمون ما ابتدعت، اليس (الله قد علم) (٣) ما ابتدعت؟ قال: فبلغ من توبته (ان) (٤) (خرق) (٥) ترقوته، وجعل فيها سلسلة، وربطها بسارية من سواري المسجد، قال: لا انزعها حتى (يتاب) (٦) علي، قال: فاوحى الله إلى نبي من انبياء بني إسرائيل، وكان لا يستنكر بالوحي: ان قل لفلان: لو ان ذنبك كان (فيما) (٧) بيني وبينك لغفرت لك، ولكن كيف بمن اضللت من عبادي فدخلوا النار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ش]: (مغموزًا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [جـ، س، ع]: (قد علم اللَّه).
(٤) في [ع]: (أنه).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (حرق)، وانظر: الزهد لأحمد (ص ٩٨)، والفقيه والمتفقه للخطيب ٢/ ٣٢٩.
(٦) في [س]: (ثياب).
(٧) سقط من: [جـ].

حضرت خالد ربعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اور علم سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے ایک بدعت ایجاد کی۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی اور اس کی اتباع ہونے لگی۔ ایک رات اس کو یہ خیال آیا اس نے کہا۔ ان لوگوں کو تو چھوڑو۔ انہیں تو میری ایجاد کا علم نہیں ہے۔ لیکن کیا اللہ تعالیٰ کو میری اس پیدا کردہ بدعت کا علم نہیں ہے؟ کہتے ہیں وہ اپنی توبہ میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اپنی ہنسلی کی ہڈی کو جلا لیا اور اس میں ایک رسی ڈال کر مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا۔ میں اس کو تب تک نہیں کھولوں گا جب تک کہ میری توبہ قبول نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کو وحی کی کہ آپ فلاں سے کہہ دو۔ اگر تیرا گناہ میرے، تیرے درمیان ہوتا تو میں تجھے معاف کردیتا لیکن میرے جن بندوں کو تو نے گمراہ کیا ہے ان کا کیا ہوگا؟ چناچہ وہ جہنم میں داخل ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37898]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37898، ترقيم محمد عوامة 36313)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36314 ترقیم الشثری: -- 37899
٣٧٨٩٩ - حدثنا زيد بن حباب عن عبد الله بن مروان قال: سمعت صالحا ابا (الخليل) (١) يقول في قوله: ﴿إنما يخشى الله من عباده العلماء﴾ [فاطر: ٢٨] ، قال: اعلمهم به اشدهم خشية له.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الخيل).
حضرت عبداللہ بن مروان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ابوخلیل صالح کو ارشادِ خداوندی {إنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ } کے بارے میں سنا۔ انہوں نے فرمایا: خدا کا سب سے بڑا عالم وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ خوف کھانے والا ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37899]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37899، ترقيم محمد عوامة 36314)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں