مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
60. (كلام ابن منبه)
حضرت ابن منبہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36315 ترقیم الشثری: -- 37900
٣٧٩٠٠ - حدثنا ابو اسامة عن سفيان قال: حدثنا رجل من اهل (صنعاء) (١) عن وهب بن منبه قال: مر رجل براهب فقال: يا راهب كيف ذكرك للموت؟ قال: (ما) (٢) ارفع قدما ولا اضع اخرى إلا (رايت) (٣) اني ميت، قال: كيف (داب) (٤) نشاطك، قال: ما كنت ارى (ان) (٥) احدا سمع بذكر الجنة والنار تاتي عليه ساعة لا يصلي، فقال الرجل: إني لاصلي فابكي حتى ينبت البقل من دموعي، فقال الراهب: إنك إن تضحك وانت معترف لله بخطيئتك، خير من ان تبكي وانت مدل بعملك، (إن صلاة) (٦) المدل لا تصعد فوقه، فقال الرجل: (اوصني) (٧) ، فقال الراهب: عليك بالزهد في الدنيا ولا تنازعها اهلها، وكن ⦗٥٢٩⦘ (كالنحلة) (٨) إن اكلت اكلت طيبا، وإن وضعت وضعت طيبا، وإن (وقعت) (٩) على شيء لم تضره ولم تكسره، وانصح لله كنصح الكلب اهله، (إن) (١٠) يجيعوه ويضربوه ويابى إلا نصحا لهم وحفظا عليهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الصنعاء).
(٢) في [ع]: (لا).
(٣) في [أ]: (ربيت).
(٤) في [أ، ب]: (دأب)، وفي [س، ط]: (ذات).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) في [ب]: تكررت.
(٧) في [س]: (أوصاني).
(٨) في [أ، ب]: (كالنخلة).
(٩) في [أ، ب]: (وقفت).
(١٠) كذا في النسخ، وفي الزهد لهناد (٤٥٩)، والمجالسة للدينوري (٢٠١٢): (فإنهم).
حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ایک راہب کے پاس سے گزرا اور پوچھا۔ اے راہب! تیرا موت کو یاد کرنا کیسا ہے؟ اس راہب نے کہا۔ میں جو قدم رکھتا ہوں یا اٹھاتا ہوں تو خود کو مردہ ہی سمجھتا ہوں۔ اس آدمی نے پوچھا۔ تیری نشاط کی حالت کیسی ہے؟ راہب نے کہا: میں خیال نہیں کرتا کہ کوئی آدمی جنت، جہنم کا ذکر سنے اور اس پر ایک گھڑی بھی ایسی آئے کہ وہ نماز نہ پڑھے۔ اس پر اس آدمی نے کہا: میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور روتا ہوں یہاں تک کہ میرے آنسوؤں سے سبزی اگتی ہے۔ راہب نے کہا۔ اگر تم ہنسو جبکہ تم اللہ کے سامنے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہو تو یہ عمل اس سے بہتر ہے کہ تم رو رہے ہو جبکہ تم اپنے عمل پر گھمنڈ میں مبتلا ہو۔ بیشک گھمنڈ کرنے والے کی نماز اس کے سر سے اوپر نہیں جاتی۔ پھر آدمی نے کہا: تم مجھے وصیت کردو۔ تو راہب نے کہا: تم دنیا میں بےرغبتی اختیار کرو اور اہل دنیا سے دنیا نہ چھینو اور شہد کی مکھی کی طرح ہوجاؤ کہ اگر کھاتی ہے تو طیب کھاتی ہے اور اگر نکالتی ہے تو طیب نکالتی ہے اور اگر کسی شے پر گرتی ہے تو نہ اس کو نقصان دیتی ہے اور نہ اس کو توڑتی ہے۔ اور اللہ کے لیے ایسی خیر خواہی رکھ جیسی کتا، اپنے اہل کے ساتھ رکھتا ہے۔ کہ وہ اس کو بھوکا رکھتے ہیں اور اس کو مارتے ہیں مگر وہ ان کے لیے خیر خواہی اور حفاظت ہی کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37900]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37900، ترقيم محمد عوامة 36315)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37900 in Urdu