🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. (كلام ابن منبه)
حضرت ابن منبہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36315 ترقیم الشثری: -- 37900
٣٧٩٠٠ - حدثنا ابو اسامة عن سفيان قال: حدثنا رجل من اهل (صنعاء) (١) عن وهب بن منبه قال: مر رجل براهب فقال: يا راهب كيف ذكرك للموت؟ قال: (ما) (٢) ارفع قدما ولا اضع اخرى إلا (رايت) (٣) اني ميت، قال: كيف (داب) (٤) نشاطك، قال: ما كنت ارى (ان) (٥) احدا سمع بذكر الجنة والنار تاتي عليه ساعة لا يصلي، فقال الرجل: إني لاصلي فابكي حتى ينبت البقل من دموعي، فقال الراهب: إنك إن تضحك وانت معترف لله بخطيئتك، خير من ان تبكي وانت مدل بعملك، (إن صلاة) (٦) المدل لا تصعد فوقه، فقال الرجل: (اوصني) (٧) ، فقال الراهب: عليك بالزهد في الدنيا ولا تنازعها اهلها، وكن ⦗٥٢٩⦘ (كالنحلة) (٨) إن اكلت اكلت طيبا، وإن وضعت وضعت طيبا، وإن (وقعت) (٩) على شيء لم تضره ولم تكسره، وانصح لله كنصح الكلب اهله، (إن) (١٠) يجيعوه ويضربوه ويابى إلا نصحا لهم وحفظا عليهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الصنعاء).
(٢) في [ع]: (لا).
(٣) في [أ]: (ربيت).
(٤) في [أ، ب]: (دأب)، وفي [س، ط]: (ذات).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) في [ب]: تكررت.
(٧) في [س]: (أوصاني).
(٨) في [أ، ب]: (كالنخلة).
(٩) في [أ، ب]: (وقفت).
(١٠) كذا في النسخ، وفي الزهد لهناد (٤٥٩)، والمجالسة للدينوري (٢٠١٢): (فإنهم).

حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ایک راہب کے پاس سے گزرا اور پوچھا۔ اے راہب! تیرا موت کو یاد کرنا کیسا ہے؟ اس راہب نے کہا۔ میں جو قدم رکھتا ہوں یا اٹھاتا ہوں تو خود کو مردہ ہی سمجھتا ہوں۔ اس آدمی نے پوچھا۔ تیری نشاط کی حالت کیسی ہے؟ راہب نے کہا: میں خیال نہیں کرتا کہ کوئی آدمی جنت، جہنم کا ذکر سنے اور اس پر ایک گھڑی بھی ایسی آئے کہ وہ نماز نہ پڑھے۔ اس پر اس آدمی نے کہا: میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور روتا ہوں یہاں تک کہ میرے آنسوؤں سے سبزی اگتی ہے۔ راہب نے کہا۔ اگر تم ہنسو جبکہ تم اللہ کے سامنے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہو تو یہ عمل اس سے بہتر ہے کہ تم رو رہے ہو جبکہ تم اپنے عمل پر گھمنڈ میں مبتلا ہو۔ بیشک گھمنڈ کرنے والے کی نماز اس کے سر سے اوپر نہیں جاتی۔ پھر آدمی نے کہا: تم مجھے وصیت کردو۔ تو راہب نے کہا: تم دنیا میں بےرغبتی اختیار کرو اور اہل دنیا سے دنیا نہ چھینو اور شہد کی مکھی کی طرح ہوجاؤ کہ اگر کھاتی ہے تو طیب کھاتی ہے اور اگر نکالتی ہے تو طیب نکالتی ہے اور اگر کسی شے پر گرتی ہے تو نہ اس کو نقصان دیتی ہے اور نہ اس کو توڑتی ہے۔ اور اللہ کے لیے ایسی خیر خواہی رکھ جیسی کتا، اپنے اہل کے ساتھ رکھتا ہے۔ کہ وہ اس کو بھوکا رکھتے ہیں اور اس کو مارتے ہیں مگر وہ ان کے لیے خیر خواہی اور حفاظت ہی کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37900]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37900، ترقيم محمد عوامة 36315)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36316 ترقیم الشثری: -- 37901
٣٧٩٠١ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن برقان قال: بلغني ان ابن منبه كان يقول: اعون الاخلاق على الدين: الزهادة في الدنيا، واوشكها ردى: اتباع الهوى، ومن اتباع الهوى: الرغبة في الدنيا، ومن الرغبة في الدنيا: حب المال والشرف، ومن حب المال والشرف: استحلال المحارم، ومن استحلال المحارم يغضب الله، وغضب الله الداء الذي لا دواء له إلا رضوان الله، (ورضوان الله) (١) دواء لا يضر معه داء، ومن يريد ان يرضي ربه يسخط نفسه، ومن لا يسخط نفسه لا يرضي ربه، إن كان كلما ثقل على الإنسان شيء من دينه تركه اوشك ان لا يبقى معه شيء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت ابن منبہ کہا کرتے تھے۔ اخلاق میں سے سب سے بڑا معاون دین کے لیے دنیا میں بےرغبتی ہے۔ اور دین کے لیے سب سے زیادہ ردی بات، خواہشات کی پیروی ہے۔ اور خواہشات کی پیروی سے دنیا میں رغبت ہے اور دنیا میں رغبت سے مال وجاہ کی محبت ہے اور مال وجاہ کی محبت سے حرام کا حلال سمجھنا ہے اور حرام کو حلال سمجھنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اور غضب خداوندی ایسی بیماری ہے جس کی رضا خداوندی کے علاوہ کوئی دوائی نہیں ہے۔ یہ ایسی دوا ہے جس کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی جو آدمی اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے وہ اپنے نفس کو ناراض کرے اور جو اپنے نفس کو ناراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے رب کو راضی نہیں کرپاتا۔ اگر انسان دین کی بوجھ محسوس ہونے والی چیز چھوڑ دے گا تو قریب ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37901]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37901، ترقيم محمد عوامة 36316)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36317 ترقیم الشثری: -- 37902
٣٧٩٠٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن منصور بن حيان عن القاسم بن ابي بزة قال: سمعت ابن منبه يقول إنا نجد في الكتب ان الله يقول: يا ابن آدم! إنك ما عبدتني ورجوتني فإني غافر لك على ما كان، وحق علي ان (لا اضل) (١) عبدي وهو حريص على الهدى وانا الحكم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الأرض).
حضرت قاسم بن ابوبزہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن منبہ کو کہتے سنا کہ ہم نے (سابقہ) کتب میں یہ بات پائی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! تم جب تک میری عبادت کرو اور مجھ سے امید رکھو تو جیسا بھی ہو میں تمہیں معاف کردوں گا اور یہ بات مجھ پر حق ہے کہ میں اپنے اس بندے کو گمراہ نہ کروں جو بندہ ہدایت کا حریص ہو۔ میں حکم ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37902]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37902، ترقيم محمد عوامة 36317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36318 ترقیم الشثری: -- 37903
٣٧٩٠٣ - حدثنا عبد الله بن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل عن ابن منبه قال: مثل الذي يدعو بغير عمل مثل الذي يرمي بغير وتر.
حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو آدمی بغیر عمل کے دعا کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو کمان کے بغیر تیر پھینکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37903]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37903، ترقيم محمد عوامة 36318)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36319 ترقیم الشثری: -- 37904
٣٧٩٠٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن جعفر بن سليمان (الضبعي) (١) عن النعمان بن الزبير عن ابن منبه قال: اوحى (الله) (٢) إلى عزير: يا عزير لا تحلف (بي) (٣) كاذبا، فإني لا ارضى عمن يحلف كاذبا، (يا) (٤) عزير (بر) (٥) والديك، فإنه من بر والديه رضيت، وإذا رضيت باركت، وإذا باركت بلغت النسل الرابع، يا عزير لا تعق (والديك فإنه من يعق) (٦) والديه غضبت، وإذا غضبت لعنت، وإذا لعنت بلغت النسل الرابع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الصيفي).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) في [س]: (مي).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) سقط من: [ب].

حضرت ابن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کی طرف وحی کی۔ اے عزیر! تم مجھ پر جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹی قسم کھاتا ہے میں اس سے راضی نہیں ہوتا۔ اے عزیر! تم اپنے والدین کی فرمانبرداری کرو۔ کیونکہ جو آدمی اپنے والدین کی فرمانبرداری کرتا ہے۔ میں اس سے راضی ہوتا ہوں اور جب میں راضی ہوتا ہوں، برکت دیتا ہوں۔ اور جب میں برکت دیتا ہوں تو چوتھی نسل تک پہنچتی ہے۔ اے عزیر! تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔ کیونکہ جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے۔ تو میں (اس سے) ناراض ہوتا ہوں اور جب میں ناراض ہوتا ہوں تو لعنت کرتا ہوں اور جب میں لعنت کرتا ہوں تو وہ چوتھی نسل تک جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37904]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37904، ترقيم محمد عوامة 36319)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36320 ترقیم الشثری: -- 37905
٣٧٩٠٥ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا صالح الفزاري عن إبراهيم بن ميمون عن وهب بن منبه قال: قال داود: يا رب ابن آدم ليس منه شعرة إلا تحتها منك نعمة، و (فوقها) (١) منك نعمة، فمن اين يكافؤك بما اعطيته؟ قال: فاوحى الله إليه: يا داود إني اعطي الكثير وارضى باليسير، و (اداء) (٢) شكر ذلك لي ان يعلم ان مابه (من) (٣) نعمة مني.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فوق).
(٢) في [أ، هـ]: (إذا)، وانظر: طبقات المحدثين بأصبهان (٣٠٢)، وتاريخ أصبهان ١/ ٣٠٩.
(٣) سقط من: [س].

حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد نے عرض کیا۔ اے پروردگار! آدم کے بیٹے کے ہر بال کے نیچے بھی آپ کی نعمت ہے اور اس کے اوپر بھی ایک نعمت ہے۔ پس وہ آپ کو، آپ کی عطاؤں کا بدلہ کہاں سے دیں گے؟ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو وحی کی۔ بیشک میں کثیر عطا کرتا ہوں اور تھوڑے پر راضی ہوجاتا ہوں۔ میری ان نعمتوں کا ادائے شکر یہ ہے کہ یہ بات معلوم کی جائے کہ جو کوئی بھی نعمت ہے وہ میری طرف سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37905]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37905، ترقيم محمد عوامة 36320)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36321 ترقیم الشثری: -- 37906
٣٧٩٠٦ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا عطاء بن السائب عن وهب بن منبه قال: اعطى الله موسى نورا يكون لغيره نارا، قال: فدعا موسى هارون فقال: إن الله وهب لي نورا يكون لغيري ⦗٥٣١⦘ نارا (١) ، كان موسى (وهبه) (٢) لي كاني اهبه لكما، قال: فكان ابنا هارون يقربان القربان لبني إسرائيل، قال: (فاحدثا) (٣) شيئا فنزلت النار فاحترقا، قال: فقيل لهما: يا موسى وهارون (كذا) (٤) اصنع بمن عصاني من اهل طاعتي، فكيف اصنع بمن عصاني من اهل معصيتي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ويبدوا أن فيه نقصًا تقديره: (وإني أهبه لك، فدعا هارون ابنيه فقال: إن اللَّه أعطى موسى نورًا يكون لغيره نارًا)، وانظر: حلية الأولياء ٤/ ٥٩، والزهد للإمام أحمد (ص ٨٤)، والبداية والنهاية ٩/ ٢٩٦، وقد ورد أن ابني هارون بقيا بعد وفاته كما في الأحاديث المختارة ٢/ (٦٨٦).
(٢) في [جـ]: (وهبها)، وفي [س]: (وهب).
(٣) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (فأخذنا)، وفي [ط، هـ]: (اختزنا).
(٤) في [جـ]: (هاكذا).

حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ایسا نور دیا تھا جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر موسیٰ نے حضرت ہارون کو بلایا اور کہا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا نور عطا کیا ہے جو دوسروں کے لیے آگ ہوتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ مجھے ہدیہ کیا تھا اور میں یہ تم دونوں کو ہدیہ کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ حضرت ہارون کے دونوں بیٹے بنی اسرائیل کے لیے قربانی کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کوئی بات نئی نکال دی تو آگ اتری اور ان کو جلا دیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ان سے کہا گیا۔ اے موسیٰ و ہارون! میرے اہل طاعت میں سے جو میری نافرمانی کرتا ہے میں اس کے ساتھ اسی طرح کرتا ہوں۔ تو پھر میں اپنے نافرمانوں میں سے نافرمانی کرنے والے کے ساتھ کیسا سلوک کروں گا؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37906]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37906، ترقيم محمد عوامة 36321)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36322 ترقیم الشثری: -- 37907
٣٧٩٠٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا مهدي قال: (حدثنا) (١) عبد الحميد صاحب الزيادي عن ابن منبه قال: كان فيمن كان قبلكم رجل عبد الله زمانا، ثم طلب إلى الله حاجة، وصام لله سبعين (سبتا) (٢) (ياكل كل سبت) (٣) إحدى عشر مرة، قال: وطلب إلى الله حاجته فلم يعطها فاقبل على نفسه فقال: ايتها النفس! من قبلك اتيت، لو كان عندك خير لاعطيت حاجتك، ولكن ليس عندك خير، قال: فنزل إليه (ساعتئذ) (٤) ملك، فقال له: يا ابن آدم إن ساعتك هذه التي رزئت (٥) على نفسك فيها خير من عبادتك كلها التي (٦) مضت وقد اعطاك الله حاجتك التي سالت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (حدثني).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) سقط من: [س]، وفي [ع]: (سنة).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (ساعته)، وفي [جـ، س]: (ساعيذ).
(٥) أي: أنقصت، وتحتمل: (أزريت).
(٦) في [جـ]: زيادة (قد).

حضرت ابن منبہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اس نے ایک زمانہ اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت مانگی اور اس نے اللہ کے لیے ساٹھ ہفتے روزے رکھے۔ ہر ہفتہ گیارہ مرتبہ کھاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے اللہ سے کوئی حاجت مانگی اور اللہ تعالیٰ نے وہ حاجت اس کو نہ دی۔ چناچہ وہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے کہا۔ اے نفس! تیری وجہ سے مجھے دیا جاتا ہے۔ اگر تیرے پاس کوئی خیر ہوتی تو تجھے تیری حاجت دے دی جاتی۔ لیکن تیرے پاس کوئی خیر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس اسی وقت ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے اس آدمی کو کہا۔ اے آدم کے بیٹے! تیری یہ گھڑی جس میں تو نے اپنے نفس پر عتاب کیا وہ تیری سابقہ ساری عبادت سے بہتر ہے۔ تحقیق تجھے اللہ تعالیٰ نے تیری حاجت دے دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37907]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37907، ترقيم محمد عوامة 36322)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36323 ترقیم الشثری: -- 37908
٣٧٩٠٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر قال: حدثني من لا اتهم عن ابن منبه انه جلس هو وطاوس و (نحوهما) (١) من اهل (ذلك) (٢) الزمان فذكروا (اي) (٣) امر الله اسرع؟ (فقال بعضهم) (٤) : قول الله: ﴿كلمح (البصر) (٥) ﴾ [النحل: ٧٧] ، وقال بعضهم: السرير حين اتي به سليمان، فقال ابن منبه: اسرع امر الله ان يونس على حافة السفينة إذ اوحى الله إلى نون في نيل مصر، قال: فما خر من حافتها إلا في جوفه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نحوهم).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [س]: (فبعضهم قال).
(٥) في [ع]: (بالبصر).

حضرت ابن منبہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ، طاؤس اور ان جیسے اور اس زمانہ کے لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپس میں اس بات کا ذکر چھیڑا کہ کون سا امر خداوندی سب سے تیز تھا؟ تو ان میں سے بعض نے کہا: ارشاد خداوندی کَلَمْحِ الْبَصَرِ اور بعض نے کہا۔ تخت جب حضرت سلیمان کے پاس لایا گیا اس پر حضرت ابن منبہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے تیز ترین یہ تھا کہ حصرت یونس، کشتی کے کنارے پہ تھے جب اللہ تعالیٰ نے مصر کے نیل کی مچھلی کو حکم دیا۔ ابن منبہ کہتے ہیں۔ پس وہ کشتی کے کنارے سے مچھلی کے پیٹ میں جا کر گرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37908]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37908، ترقيم محمد عوامة 36323)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36324 ترقیم الشثری: -- 37909
٣٧٩٠٩ - حدثنا المحاربي عن (عبد الرحمن) (١) بن سليمان العبسي عن إدريس ابن سنان عن (جده) (٢) وهب بن منبه قال: كان على (٣) موسى يوم ناجى ربه عند الشجرة جبة من صوف، و (تبان) (٤) من صوف، وقلنسوة من صوف.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [ب، س، ط]، وفي [جـ، هـ]: (جد)، وإدريس ابن بنت وهب بن منبه، انظر: تهذيب الكمال ٢/ ٢٩٨.
(٣) في [جـ]: زيادة (قوم).
(٤) في [ط]: (ثياب).

حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جس دن موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے درخت کے پاس مناجات کی تھی اس دن انہوں نے اون کا جبہ، اُون کا جان گیا اور اون کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37909]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37909، ترقيم محمد عوامة 36324)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں