🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. الشعبي
حضرت شعبی کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36579 ترقیم الشثری: -- 38168
٣٨١٦٨ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا موسى بن مسلم عن عبد الرحمن ابن سابط قال: كان (سعيد بن عمرو) (١) بن حذيم اميرا على (مصر) (٢) فبلغ عمر بن الخطاب انه ياتي عليه حين لا يدخن في تنوره، فبعث إليه بمال، فاشترى ما يصلحه واهله، ثم قال لامراته: لو انا اعطيناها تاجرا لعله ان يصيب لنا فيها، قالت: فافعل، (قال) (٣) : فتصدق بها الرجل، واعطاها حتى لم يبق منها شيء، ثم ⦗٢٨⦘ احتاجوا فقالت له امراته: لو انك نظرت إلى تلك الدراهم فاخذتها، فإنا قد احتجنا إليها، فاعرض عنها، ثم عادت فقالت ايضا، فاعرض عنها، حتى استبان لها انه قد امضاها (قال) (٤) : فجعلت تلومه، قال: فاستعان عليها بخالد بن الوليد فكلمها، فقال: إنك قد آذيته فكانما (اغراها) (٥) به، فقالت له ايضا، فلما راى ذلك الرجل برك على ركبتيه فقال: ما يسرني ان (احبس) (٦) عن (العنق) (٧) الاول يوم القيامة (ولا) (٨) ان لي ما ظهر على الارض، و (لو) (٩) ان خيرة من الخيرات ابرزت اصابعها لاهل الارض من فوق السماوات لوجد ريحهن، فانا ادعهن لكن؟ لان ادعكن لهن احرى من ان ادعهن لكن، فلما رات ذلك كفت عنه (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وفي [ع]: (عمرو بن سعيد)، والمعروف أنه سعيد بن عامر، انظر: التاريخ الكبير ٣/ ٤٥٣، والجرح والتعديل ٤/ ٤٨.
(٢) كذا في النسخ، والمعروف أنه كان واليًا على حمص.
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (قالت).
(٥) في [ع]: (أغداها)، وفي [أ، ب، هـ]: (أعداها).
(٦) في [أ، ب]: (أجلس).
(٧) أي الجيل الأول، وفي [أ، هـ]: (العنو).
(٨) في [أ، ب]: (ولو).
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) منقطع؛ ابن سابط لم يدرك عمر ولا ابن حذيم، وأخرجه ابن إسحاق كما في المطالب (٣١٧٢)، وابن عساكر ٢١/ ١٤٦، والطبراني (٥٥١١)، والفاكهي (٢١٦٥)، وأبو نعيم ١٠/ ٢٤٤.

حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عامر بن حذیم مصر کے امیر تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان پر بعض اوقات ایسے بھی آتے ہیں کہ ان کا چولہا نہیں جلتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اور ان کے اہل و عیال کی کفالت کے لئے کچھ مال بھیجا۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ کیوں نہ ہم یہ مال ایسے تاجر کو دے دیں جو اس میں ہمارے لئے نفع کمائے؟ ان کی اہلیہ نے فرمایا کہ آپ ایسا کرلیجئے۔ پھر آپ نے وہ مال صدقہ کردیا اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر کچھ عرصے بعد انہیں احتیاج ہوئی اور مال کی ضرورت پڑی تو ان کی بیوی نے کہا کہ اگر آپ ان دراہم میں سے کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑتے تو اچھا ہوتا آج ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔ ان کی اہلیہ نے پھر وہی بات دہرائی، انہوں نے پھر اعراض کیا۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ توجہ نہیں کررہے توا نہیں ملامت کرنے لگیں۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور فرمایا کہ تم نے حضرت سعید کو تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت سعید کی اہلیہ نے ان سے بھی یہی بات فرمائی۔ جب اس آدمی کو یہ بات معلوم ہوئی جس کو دراہم حاصل ہوئے تھے تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ قیامت کے دن مجھے پہلی جماعت میں داخل ہونے سے روک لیا جائے جبکہ اس کے بدلے میں مجھے دنیا کی ہر چیز ہی کیوں نہ مل جائے۔ اور اگر ایک حور اپنی انگلیاں زمین والوں کے لئے ظاہر کردے تو ان کی خوشبو سب کو محسوس ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38168]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38168، ترقيم محمد عوامة 36579)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 38168 in Urdu