🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. الشعبي
حضرت شعبی کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36554 ترقیم الشثری: -- 38142
٣٨١٤٢ - حدثنا علي بن حفص (عن سفيان) (١) عن إسماعيل بن ابي خالد عن الشعبي قال: (يشرف) (٢) قوم في الجنة على قوم في النار فيقولون: ما لكم في النار؟ (وإنما كنا) (٣) نعمل بما (تعلموننا) (٤) ، قالوا: كنا نعلمكم (ولا) (٥) نعمل به.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عن شيبان)، وانظر: حلية الأولياء ٤/ ٣١٢، والزهد لأحمد ص ٣٦٩.
(٢) في [جـ]: (يرى).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط]، وفي [هـ]: (يقولون).
(٤) في [أ، ب]: (تعملوا)، وفي [س]: (تعملون)، وفي [هـ]: (تعلموننا).
(٥) في [ع]: (وما).

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ جنت سے جہنم میں جھانکیں گے تو وہاں انہیں کچھ لوگ نظر آئیں گے وہ ان سے کہیں گے کہ تم جہنم میں کیوں ہو؟ ہم تو ان باتوں پر عمل کیا کرتے تھے جو تم ہمیں سکھاتے تھے؟! وہ کہیں گے کہ ہم تمہیں تو سکھایا کرتے تھے لیکن خود عمل نہیں کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38142]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38142، ترقيم محمد عوامة 36554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36555 ترقیم الشثری: -- 38143
٣٨١٤٣ - حدثنا (هشيم) (١) عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي: ﴿ومعارج عليها يظهرون﴾ [الزخرف: ٣٣] ، قال: الدرج.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هشام).
حضرت شعبی قرآن مجید کی آیت { وَمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سیڑھیاں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38143]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38143، ترقيم محمد عوامة 36555)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36556 ترقیم الشثری: -- 38144
٣٨١٤٤ - حدثنا جعفر بن عون عن سفيان عن إسماعيل (بن سالم) (١) عن الشعبي: ﴿ومعارج عليها يظهرون﴾، قال: الدرج و ﴿سقفا﴾، قال: (الجذوع) (٢) ، ﴿وزخرفا﴾ [الزخرف: ٣٣، ٣٥] ، قال: الذهب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (الجزوع).

حضرت شعبی قرآن مجید کی آیت { وَمَعَارِجَ عَلَیْہَا یَظْہَرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سیڑھیاں ہیں۔ اور سُقُفًا سے مراد تنے ہیں اور زُخْرُفًا سے مراد سونا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38144]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38144، ترقيم محمد عوامة 36556)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36557 ترقیم الشثری: -- 38145
٣٨١٤٥ - حدثنا ابو اسامة عن مالك بن مغول قال: سمعت (عبيد الله) (١) بن العيزار قال: إن الاقدام يوم القيامة (كمثل) (٢) النبل في (القرن) (٣) ، والسعيد من وجد لقدميه موضعا يضعهما، وعند الميزان ملك ينادي: الا إن فلان بن فلان ثقلت موازينه، فسعد سعادة لا يشقى بعدها ابدا، الا إن فلان بن فلان خفت موازينه فشقي شقاء لا يسعد بعده ابدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، س، ع]: (لمثل).
(٣) في [س]: (القرآن).

حضرت عبید اللہ بن عیزار فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن پاؤں ایسے ہوں گے جیسے تیروں کے تھیلے میں تیر ہوتے ہیں۔ اس دن خوش نصیب وہ ہوگا جسے اپنا پاؤں رکھنے کے لئے جگہ مل جائے۔ میزان کے پاس ایک فرشتہ اعلان کررہا ہوگا کہ فلاں بن فلاں کا نامہ اعمال وزنی ہوگیا وہ آج خوش نصیب ہوگیا اور آج کے بعد کبھی وہ بدقسمتی کا شکار نہیں ہوگا۔ اور فلاں بن فلاں کے اعمال کا ترازو ہلکا ہوگیا اور وہ بدقسمت ہوگیا اور آج کے بعد کبھی سعادت کا چہر ہ نہ دیکھ سکے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38145]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38145، ترقيم محمد عوامة 36557)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36558 ترقیم الشثری: -- 38146
٣٨١٤٦ - حدثنا المحاربي عن سفيان عن يحيى بن سعيد عن رجل من الانصار قال: كان يقول: لنعمة الله علي فيما زوى عني من الدنيا، اعظم من نعمته علي فيما اعطاني منها.
ایک انصاری صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ دنیاوی نعمت جو اس نے مجھے عطا نہیں کی، مجھے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے زیادہ بالاتر محسوس ہوتی ہے جو اس نے مجھے عطا کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38146]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38146، ترقيم محمد عوامة 36558)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36559 ترقیم الشثری: -- 38147
٣٨١٤٧ - حدثنا عبد الله بن إدريس سمع اباه وعمه يذكران قالا: كان عبد الملك ابن إياس ممن سمع ثم سكت.
حضرت عبد الملک بن ایاس ان لوگوں میں سے تھے جو سنتے اور خاموش ہوجاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38147]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38147، ترقيم محمد عوامة 36559)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36560 ترقیم الشثری: -- 38148
٣٨١٤٨ - حدثنا (١) ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: اعجب اهل الكوفة إلي اربعة: طلحة و (زبيد) (٢) ومحمد بن عبد الرحمن ويحيى بن عباد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (زبير)، وهو زبيد بن الحارث.

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ میں مجھے سب سے پسندیدہ چار لوگ ہیں: طلحہ، زبید، محمد بن عبد الرحمن اور یحییٰ بن عباد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38148]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38148، ترقيم محمد عوامة 36560)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36561 ترقیم الشثری: -- 38149
٣٨١٤٩ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث قال: قلت لطلحة: إن طاوسا كان يكره الانين، قال: فما سمع له انين حتى مات.
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ سے کہا کہ حضرت طاوس رونے کی آواز کو ناپسند فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا موت تک ان کے رونے کی آواز نہیں سنی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38149]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38149، ترقيم محمد عوامة 36561)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36562 ترقیم الشثری: -- 38150
٣٨١٥٠ - حدثنا حسين بن علي عن مسعر قال: اعطاني زيد العمي كتابا فيه: ان رجلا اوصى ابنه، (قال) (١) : يا بني كن (ممن) (٢) (نايه (ممن ناى) ) (٣) (٤) عنه (تغنيا) (٥) ونزاهة، و (دنوه) (٦) ممن دنا منه لين ورحمة، ( (ليس) (٧) نايه) (٨) كبرا ولا عظمة، وليس (دنوه) (٩) خدعا ولا خيانة، (١٠) لا يعجل فيما رابه ويعفو عما (تبين) (١١) له، لا يغره ثناء من جهله، ولا ينسى إحصاء ما قد (عمله) (١٢) ، إن ذكر خاف مما يقولون، واستغفر مما لا يعلمون، يقول: ربي اعلم بي من نفسي، وانا اعلم بنفسي من غيري، (يسال) (١٣) ليعلم، وينطق ليغنم، ويصمت ليسلم، ويخالط ليفهم، إن كان في الغافلين (كتب) (١٤) من الذاكرين، (وإن كان في الذاكرين) (١٥) لم يكتب من الغافلين، لانه يذكر إذا غفلوا، ولا ينسى إذا ذكروا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فقال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (من)، وسقط من: [س].
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [س]: (فإنه ممن نأية).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (يقين).
(٦) في [س]: (دلوه).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [س]: (فإنه ممن نأية).
(٩) في [س]: (دلوه).
(١٠) في [ع]: زيادة (و).
(١١) في [ط، هـ]: (تلين).
(١٢) في [جـ]: (علمه).
(١٣) في [هـ]: (يسئل).
(١٤) في [أ، ب]: (ذكر).
(١٥) سقط من: [أ، ط، هـ].

حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ مجھے زید عمی نے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ اے میرے بیٹے! ایسا شخص بن جا جو لوگوں سے بےنیازی اور پاکدامنی کے لئے دور رہے، نرمی اور رحمت اس کے قریب ہو، اس کا دور ہونا تکبر یا نخوت کی وجہ سے نہ ہو۔ اس کا قریب ہونا دھوکہ دینے یا خیانت کرنے کے لئے نہ ہو۔ شک والا کام کرنے میں جلدی نہ کرے۔ جہاں تک ہوسکے معاف کردے۔ جو اسے نہ جانتا ہو اس کے تعریف کرنے سے دھوکہ میں نہ پڑے اور جو وہ کرچکا ہے اسے نہ بھولے۔ اس کا ذکر کیا جائے تو لوگوں کی باتیں اسے خوف میں مبتلا کردیں اور جو وہ نہیں جانتے اس پر استغفار کرے۔ علم کے حصول کے لئے سوال کرے، فائدہ پہنچانے کے لئے بات کرے، سلامتی کے حصول کے لئے خاموش رہے، بات سمجھنے کے لئے میل جول رکھے، اگر وہ غافلین میں سے ہو تو ذاکرین میں سے شمار کیا جائے اور اگر ذاکرین میں سے ہو تو غافلین میں شمار نہ کیا جائے، اس لئے کہ لوگوں کی غفلت کے وقت ذکر کرتا ہو اور جب لوگ ذکر کریں اس وقت بھی اپنے رب کو نہ بھولے۔ ابن عتیبہ نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ وہ علم کو بردباری کے ساتھ ملائے، فنا ہونے والی چیزوں میں اس کی بےرغبتی ان چیزوں میں رغبت جیسی ہو جو باقی رہنے والی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38150]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38150، ترقيم محمد عوامة 36562)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 38151
٣٨١٥١ - قال (حسين) (١) : وزاد فيه ابن عيينة: يمزج العلم بحلم، زهادته فيما (يفنى) (٢) كرغبته فيما يبقى.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحسن).
(٢) في [س]: (يغني).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38151، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں