مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37715 ترقیم الشثری: -- 39319
٣٩٣١٩ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا علي بن مسهر عن (الاجلح) (٢) عن الذيال بن حرملة عن جابر بن عبد الله قال: اجتمعت قريش يوما فقالوا: انظروا اعلمكم بالسحر والكهانة والشعر، فليات هذا الرجل الذي فرق جماعتنا وشتت امرنا وعاب ديننا فليكلمه ولينظر ماذا يرد عليه، فقالوا: ما نعلم احدا غير عتبة بن ربيعة، فقالوا: انت يا ابا الوليد، فاتاه عتبة (فقال) (٣) : يا محمد انت خير ام عبد الله؟ فسكت رسول الله ﷺ (ثم) (٤) [ (قال) (٥) : انت خير ام عبد المطلب؟ فسكت رسول الله ﷺ (٦) ، فقال: (إن كنت تزعم) (٧) (ان هؤلاء خير منك فقد عبدوا الآلهة التي (عبتها) (٨) ، وإن كنت تزعم) (٩) انك خير منهم فتكلم حتى نسمع قولك، إنا والله ⦗٣٦٢⦘ ما راينا سخلة قط (اشام) (١٠) على (قومه) (١١) منك، فرقت جماعتنا، وشتت امرنا وعبت ديننا، وفضحتنا في العرب، حتى لقد طار فيهم ان في قريش ساحرا، [وان في قريش كاهنا، والله ما ننتظر إلا مثل صيحة الحبلى ان (يقوم) (١٢) بعضنا لبعض بالسيوف حتى (نتفانى) (١٣) ايها الرجل] (١٤) ، إن كان إنما بك الباءة فاختر اي نساء قريش (ونزوجك) (١٥) عشرا، وإن فإن إنما بك الحاجة (جمعنا) (١٦) لك حتى تكون اغنى قريش رجلا واحدا، فقال رسول الله صلى الله عليه (١٧) وسلم:"افرغت؟" قال: نعم، فقرا رسول الله ﷺ: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ (١٨) ﴿حم (١) تنزيل من الرحمن الرحيم﴾ حتى بلغ: ﴿فإن اعرضوا فقل انذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود﴾ [فصلت: ١ - ٢، ١٣] فقال (له) (١٩) عتبة: حسبك حسبك ما (عندك) (٢٠) غير هذا، قال:"لا"، فرجع إلى قريش فقالوا: ما وراءك؟ قال: ما تركت شيئا ارى انكم تكلمونه به إلا وقد كلمته به، (فقالوا) (٢١) : فهل اجابك؟ قال: نعم، قال: لا، والذي نصبها بنية (٢٢) ⦗٣٦٣⦘ اما فهمت شيئا مما قال: غير انه انذركم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود، قالوا: ويلك يكلمك رجل بالعربية لا تدري ما قال، (قال) (٢٣) : (لا) (٢٤) والله] (٢٥) ما فهمت شيئا مما قال: غير ذكر الصاعقة (٢٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، جـ].
(٢) في [ب، س]: (الأحلج).
(٣) في [س]: (قالوا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٧) تكرر في: [هـ].
(٨) في [أ، ب، س]: (عبت).
(٩) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٠) في [أ، ب]: (أشتم)، وفي [ي]: (أشم)، وفي [س]: (أشبم).
(١١) في [جـ]: (قومك).
(١٢) في [ب، ط، هـ]: (يقول).
(١٣) في [ط، هـ]: (تنفاني).
(١٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٥) في [ب، س]: (فنزوجك)، وفي [جـ، ي]: (فلتزوجك)، وفي [ت]: (ولنزوجك).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [أ]: زيادة (وآله).
(١٨) سقط من: [ق].
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) في [أ]: (عندي).
(٢١) في [ب]: (قال).
(٢٢) أي: الكعبة.
(٢٣) سقط من: [ط، هـ].
(٢٤) سقط من: [س]
(٢٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٦) حسن؛ الأجلح صدوق على الصحيح، والذيال ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جماعة، وأخرجه الحاكم ٢/ ٢٥٣، وعبد بن حميد (١١٢٣)، وأبو يعلي (١٨١٨)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢٥٨)، وابن عساكر ٣٨/ ٢٤٢، ويحيى بن معين في تاريخه برواية الدوري ٣/ ٥٤، والبغوي في التفسير ٤/ ١١٠، والثعلبي ٨/ ٢٨٨.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اپنے میں سے سب سے زیادہ جادو، کہانت اور شعر بنانے والے کو دیکھو اور پھر وہ شخص اس آدمی کے پاس آئے جس نے ہماری جماعت میں تفریق ڈالی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے۔ پھر وہ شخص اس سے گفتگو کرے اور دیکھے کہ یہ اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: مجھے عتبہ بن ربیعہ کے علاوہ کسی کے بارے میں علم نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوالولید تم ہی ہو۔ پس یہ عتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! تم بہتر ہو یا عبد اللہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ پھر اس نے کہا: تم بہتر ہو یا عبد المطلب؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر خاموش رہے۔ پھر عتبہ بولا: اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں تو تحقیق ان لوگوں نے تو ان معبودان کی عبادت کی ہے جن کو تم عیب دار کہتے ہو۔ اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو پھر تم بولو تاکہ ہم تمہاری سُن سکیں۔ ہم نے تو بخدا اپنی قوم پر تم سے زیادہ منحوس کوئی بکری کا بچہ (بھی) نہیں دیکھا۔ تم نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے۔ اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے اور تم نے ہمیں عرب میں رسوا کردیا ہے حتی کہ یہ بات عرب میں گردش کر رہی ہے کہ قریش میں ایک جادوگر ہے اور قریش میں ایک کاہن ہے۔ بخدا! ہم نہیں انتظار کر رہے مگر حاملہ کی چیخ کی مثل کا تاکہ ہم میں سے بعض، بعض کے لئے تلواریں لے کر کھڑے ہوجائیں یہاں تک کہ ہم سب فنا ہوجائیں۔ اے آدمی! اگر تجھے شوق مردانگی ہے تو تم قریش کی عورتوں میں سے جسے چاہو پسند کرلو۔ ہم تمہاری دس شادیاں کردیں گے اور اگر تمہیں کوئی (مالی) ضرورت ہے تو ہم تمہارے لئے (اتنا) جمع کردیں گے کہ تم سارے قریش میں سے اکیلے ہی سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بات کرچکے ہو؟ عتبہ نے کہا: ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت فرمائی۔ بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم { حم تَنْزِیلٌ مِنَ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ } یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت تک پہنچے۔ { فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُودَ } تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ بس کرو۔ بس کرو۔ اس کے سوا تمہارے پاس کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! عتبہ، قریش کے پاس واپس لوٹا۔ قریش نے پوچھا: تمہارے پیچھے (کی) کیا (خبر) ہے؟ عتبہ نے کہا: میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے بارے میں میرا خیال ہو کہ تم نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرنی ہے مگر یہ کہ میں نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرلی ہے۔ قریش نے کہا۔ پھر کیا انہوں نے تمہیں جواب دیا ہے۔ عتبہ نے کہا: ہاں! (پھر) عتبہ نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے خانہ کعبہ کو نصب کیا ہے مجھے ان کی کہی ہوئی باتوں میں سے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ صرف یہ بات (سمجھ آئی) کہ وہ تمہیں عاد اور ثمود کی کڑک سے ڈراتے ہیں۔ قریش نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ۔ ایک آدمی تمہارے ساتھ عربی میں گفتگو کرتا ہے اور تم نہیں جانتے کہ اس نے کیا کہا ہے۔ عتبہ نے کہا۔ بخدا! مجھے ان کی گفتوا میں سے کڑک کے سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39319]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39319، ترقيم محمد عوامة 37715)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39319 in Urdu