مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37715 ترقیم الشثری: -- 39319
٣٩٣١٩ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا علي بن مسهر عن (الاجلح) (٢) عن الذيال بن حرملة عن جابر بن عبد الله قال: اجتمعت قريش يوما فقالوا: انظروا اعلمكم بالسحر والكهانة والشعر، فليات هذا الرجل الذي فرق جماعتنا وشتت امرنا وعاب ديننا فليكلمه ولينظر ماذا يرد عليه، فقالوا: ما نعلم احدا غير عتبة بن ربيعة، فقالوا: انت يا ابا الوليد، فاتاه عتبة (فقال) (٣) : يا محمد انت خير ام عبد الله؟ فسكت رسول الله ﷺ (ثم) (٤) [ (قال) (٥) : انت خير ام عبد المطلب؟ فسكت رسول الله ﷺ (٦) ، فقال: (إن كنت تزعم) (٧) (ان هؤلاء خير منك فقد عبدوا الآلهة التي (عبتها) (٨) ، وإن كنت تزعم) (٩) انك خير منهم فتكلم حتى نسمع قولك، إنا والله ⦗٣٦٢⦘ ما راينا سخلة قط (اشام) (١٠) على (قومه) (١١) منك، فرقت جماعتنا، وشتت امرنا وعبت ديننا، وفضحتنا في العرب، حتى لقد طار فيهم ان في قريش ساحرا، [وان في قريش كاهنا، والله ما ننتظر إلا مثل صيحة الحبلى ان (يقوم) (١٢) بعضنا لبعض بالسيوف حتى (نتفانى) (١٣) ايها الرجل] (١٤) ، إن كان إنما بك الباءة فاختر اي نساء قريش (ونزوجك) (١٥) عشرا، وإن فإن إنما بك الحاجة (جمعنا) (١٦) لك حتى تكون اغنى قريش رجلا واحدا، فقال رسول الله صلى الله عليه (١٧) وسلم:"افرغت؟" قال: نعم، فقرا رسول الله ﷺ: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ (١٨) ﴿حم (١) تنزيل من الرحمن الرحيم﴾ حتى بلغ: ﴿فإن اعرضوا فقل انذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود﴾ [فصلت: ١ - ٢، ١٣] فقال (له) (١٩) عتبة: حسبك حسبك ما (عندك) (٢٠) غير هذا، قال:"لا"، فرجع إلى قريش فقالوا: ما وراءك؟ قال: ما تركت شيئا ارى انكم تكلمونه به إلا وقد كلمته به، (فقالوا) (٢١) : فهل اجابك؟ قال: نعم، قال: لا، والذي نصبها بنية (٢٢) ⦗٣٦٣⦘ اما فهمت شيئا مما قال: غير انه انذركم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود، قالوا: ويلك يكلمك رجل بالعربية لا تدري ما قال، (قال) (٢٣) : (لا) (٢٤) والله] (٢٥) ما فهمت شيئا مما قال: غير ذكر الصاعقة (٢٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، جـ].
(٢) في [ب، س]: (الأحلج).
(٣) في [س]: (قالوا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٧) تكرر في: [هـ].
(٨) في [أ، ب، س]: (عبت).
(٩) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٠) في [أ، ب]: (أشتم)، وفي [ي]: (أشم)، وفي [س]: (أشبم).
(١١) في [جـ]: (قومك).
(١٢) في [ب، ط، هـ]: (يقول).
(١٣) في [ط، هـ]: (تنفاني).
(١٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٥) في [ب، س]: (فنزوجك)، وفي [جـ، ي]: (فلتزوجك)، وفي [ت]: (ولنزوجك).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [أ]: زيادة (وآله).
(١٨) سقط من: [ق].
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) في [أ]: (عندي).
(٢١) في [ب]: (قال).
(٢٢) أي: الكعبة.
(٢٣) سقط من: [ط، هـ].
(٢٤) سقط من: [س]
(٢٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٦) حسن؛ الأجلح صدوق على الصحيح، والذيال ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جماعة، وأخرجه الحاكم ٢/ ٢٥٣، وعبد بن حميد (١١٢٣)، وأبو يعلي (١٨١٨)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢٥٨)، وابن عساكر ٣٨/ ٢٤٢، ويحيى بن معين في تاريخه برواية الدوري ٣/ ٥٤، والبغوي في التفسير ٤/ ١١٠، والثعلبي ٨/ ٢٨٨.
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اپنے میں سے سب سے زیادہ جادو، کہانت اور شعر بنانے والے کو دیکھو اور پھر وہ شخص اس آدمی کے پاس آئے جس نے ہماری جماعت میں تفریق ڈالی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے۔ پھر وہ شخص اس سے گفتگو کرے اور دیکھے کہ یہ اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: مجھے عتبہ بن ربیعہ کے علاوہ کسی کے بارے میں علم نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوالولید تم ہی ہو۔ پس یہ عتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! تم بہتر ہو یا عبد اللہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ پھر اس نے کہا: تم بہتر ہو یا عبد المطلب؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر خاموش رہے۔ پھر عتبہ بولا: اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں تو تحقیق ان لوگوں نے تو ان معبودان کی عبادت کی ہے جن کو تم عیب دار کہتے ہو۔ اور اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم ان سے بہتر ہو تو پھر تم بولو تاکہ ہم تمہاری سُن سکیں۔ ہم نے تو بخدا اپنی قوم پر تم سے زیادہ منحوس کوئی بکری کا بچہ (بھی) نہیں دیکھا۔ تم نے ہماری جمعیت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معاملہ کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے۔ اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے اور تم نے ہمیں عرب میں رسوا کردیا ہے حتی کہ یہ بات عرب میں گردش کر رہی ہے کہ قریش میں ایک جادوگر ہے اور قریش میں ایک کاہن ہے۔ بخدا! ہم نہیں انتظار کر رہے مگر حاملہ کی چیخ کی مثل کا تاکہ ہم میں سے بعض، بعض کے لئے تلواریں لے کر کھڑے ہوجائیں یہاں تک کہ ہم سب فنا ہوجائیں۔ اے آدمی! اگر تجھے شوق مردانگی ہے تو تم قریش کی عورتوں میں سے جسے چاہو پسند کرلو۔ ہم تمہاری دس شادیاں کردیں گے اور اگر تمہیں کوئی (مالی) ضرورت ہے تو ہم تمہارے لئے (اتنا) جمع کردیں گے کہ تم سارے قریش میں سے اکیلے ہی سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بات کرچکے ہو؟ عتبہ نے کہا: ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت فرمائی۔ بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم { حم تَنْزِیلٌ مِنَ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ } یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت تک پہنچے۔ { فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَثَمُودَ } تو عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ بس کرو۔ بس کرو۔ اس کے سوا تمہارے پاس کچھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! عتبہ، قریش کے پاس واپس لوٹا۔ قریش نے پوچھا: تمہارے پیچھے (کی) کیا (خبر) ہے؟ عتبہ نے کہا: میں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے بارے میں میرا خیال ہو کہ تم نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرنی ہے مگر یہ کہ میں نے ان سے اس کے بارے میں گفتگو کرلی ہے۔ قریش نے کہا۔ پھر کیا انہوں نے تمہیں جواب دیا ہے۔ عتبہ نے کہا: ہاں! (پھر) عتبہ نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے خانہ کعبہ کو نصب کیا ہے مجھے ان کی کہی ہوئی باتوں میں سے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ صرف یہ بات (سمجھ آئی) کہ وہ تمہیں عاد اور ثمود کی کڑک سے ڈراتے ہیں۔ قریش نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ۔ ایک آدمی تمہارے ساتھ عربی میں گفتگو کرتا ہے اور تم نہیں جانتے کہ اس نے کیا کہا ہے۔ عتبہ نے کہا۔ بخدا! مجھے ان کی گفتوا میں سے کڑک کے سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39319]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39319، ترقيم محمد عوامة 37715)
ترقیم عوامۃ: 37716 ترقیم الشثری: -- 39320
٣٩٣٢٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو (عن) (١) ابي سلمة عن عمرو ابن (العاص) (٢) قال: ما رايت قريشا ارادوا قتل النبي ﷺ إلا يوما ائتمروا به وهم جلوس في ظل الكعبة ورسول الله صلى الله عليه (٣) وسلم يصلي عند المقام، فقام إليه عقبة بن ابي معيط فجعل رداءه في عنقه ثم جذبه حتى وجب (لركبتيه) (٤) ساقطا، وتصايح الناس، فظنوا انه مقتول، (فاقبل) (٥) ابو بكر يشتد حتى اخذ بضبعي رسول الله صلى الله عليه (٦) وسلم من ورائه وهو يقول: اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله، ثم انصرفوا عن النبي صلى الله عليه (٧) وسلم، فقام رسول الله ﷺ فصلى فلما قضى صلاته مر بهم وهم جلوس في ظل الكعبة، فقال:"يا معشر قريش، اما والذي نفس ⦗٣٦٤⦘ محمد بيده ما ارسلت إليكم إلا بالذبح"، واشار بيده إلى حلقه، قال: فقال له ابو جهل: يا محمد ما كنت جهولا، قال: فقال رسول الله ﷺ:"انت منهم" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (العاصي).
(٣) في [أ]: زيادة (وآله).
(٤) في [س، ي]: (ركبته).
(٥) في [جـ]: تكرر.
(٦) في [أ]: زيادة (وآله).
(٧) في [أ]: زيادة (وآله).
(٨) منقطع؛ أبو سلمة لم يدرك عمرو بن العاص، وأخرجه ابن حبان (٦٥٦٩)، وأبو يعلي (٧٣٣٩)، وابن حجر في تغليق التعليق ٤/ ٨٧، وأخرجه البخاري في خلق أفعال العباد ١/ ٧٥، وفيه: (عن عبد اللَّه بن عمرو)، وورد بنحوه من حديث عبد اللَّه بن عمرو عند البخاري في الصحيح (٣٨٥٦).
حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے قریش کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کرتے (کبھی) نہیں دیکھا تھا۔ مگر ایک دن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کر رہے تھے اور وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا فرما رہے تھے۔ پس عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھینچا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل گرنے لگے۔ لوگوں نے شورو غل کیا تو لوگوں نے یہ گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتول ہوگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر سختی کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بغلوں کے پیچھے سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے۔ { أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّی اللَّہُ } پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے گروہ قریش! خبردار! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ مجھے تمہاری طرف نہیں بھیجا گیا مگر ذبح کے ساتھ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا: راوی کہتے ہیں: ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! تم تو جاہل نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو بھی ان میں سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39320]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39320، ترقيم محمد عوامة 37716)
ترقیم عوامۃ: 37717 ترقیم الشثری: -- 39321
٣٩٣٢١ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر ابو جهل فقال: الم انهك (فانتهره) (١) النبي ﷺ فقال له ابو جهل: لم (تنتهرني) (٢) يا محمد، والله لقد علمت ما بها رجل اكبر (ناديا) (٣) مني، قال: فقال جبريل: فليدع ناديه، (قال) (٤) ؛ فقال ابن عباس: والله (٥) لو دعا ناديه لاخذته (زبانية) (٦) العذاب (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (فانتهزه).
(٢) في [أ، ب]: (تنتهزني).
(٣) في [ب]: (باديًا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [ط، ق]: زيادة (أن).
(٦) في [هـ]: (ربانية)، وفي [س]: (زبالة).
(٧) ضعيف؛ أبو خالد صدوق، وداود بن الحصين ثقة إلا في عكرمة، أخرجه أحمد (٢٣٢٢)، والترمذي (٣٣٤٩)، والنسائي في الكبرى (١١٦٨٤)، والطبري ٣٠/ ٢٥٥، والبيهقي ٢/ ١٩٢، والطبراني (١١٩٥٠)، والحاكم ٢/ ٤٨٧.
حضرت ابن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو جہل گزرا اور اس نے کہا۔ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ڈانٹ پلا دی۔ ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! تم مجھے کیوں ڈانٹتے ہو؟ بخدا تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں کوئی شخص مجھ سے بڑی مجلس والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت جبرائیل نے فرمایا: { فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ } راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ بخدا اگر ابو جہل اپنی مجلس (والوں) کو بلاتا تو اس کو عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39321]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39321، ترقيم محمد عوامة 37717)
ترقیم عوامۃ: 37718 ترقیم الشثری: -- 39322
٣٩٣٢٢ - حدثنا جعفر بن عون قال: اخبرنا سفيان عن ابي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد الله بن مسعود قال: كان النبي ﷺ يصلي في ظل الكعبة قال: فقال ابو جهل وناس من قريش، قال: ونحرت جزور في ناحية مكة، قال: فارسلوا فجاؤا من سلاها فطرحوه عليه، قال: فجاءت فاطمة حتى القته عنه، قال: فكان ⦗٣٦٥⦘ (يستحب) (١) (ثلاثا) (٢) يقول:"اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، (اللهم عليك بقريش) (٣) : بابي جهل بن هشام وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وامية بن خلف وعقبة بن ابي معيط"، قال: قال عبد الله: (فلقد) (٤) رايتهم قتلى في قليب بدر، قال ابو إسحاق: ونسيت السابع (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [أ]: (تستحب)، وفي [ق]: (ينتحب).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [ق].
(٤) في [ب]: (لقد).
(٥) صحيح؛ جعفر ثقة، أخرجه البخاري (٢٤٠)، ومسلم (١٧٩٤).
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو جہل اور قریش کے لوگوں نے کہا: اس وقت مکہ کے کسی محلہ میں اونٹ ذبح ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ انہوں نے (کسی کو) بھیجا پس یہ اونٹ کی اوجری لے کر آئے اور انہوں نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پھینک دیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت فاطمہ نے آ کر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔ اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ۔ اے اللہ! قریش کو پکڑ۔ ابو جہل بن ہشام کو۔ عتبہ بن ربیعہ کو۔ شبہہ بن ربیعہ کو۔ ولید بن عتبہ کو، امیہ بن خلف کو اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ راوی کہتے ہیں: کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سب کو قلیب بدر میں مقتول حالت میں دیکھا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے ساتویں آدمی کا نام بھول گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39322، ترقيم محمد عوامة 37718)
ترقیم عوامۃ: 37719 ترقیم الشثری: -- 39323
٣٩٣٢٣ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا الاعمش قال: حدثنا عباد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما ان مرض ابو طالب دخل عليه رهط من قريش فيهم ابو جهل قال: فقالوا: إن ابن اخيك يشتم آلهتنا ويفعل ويفعل (وبقول (ويقول) ) (١) (٢) ، فلو بعثت إليه فنهيته، فبعث إليه او قال: جاء النبي ﷺ فدخل البيت (وبينه) (٣) وبين ابي طالب مجلس رجل، قال: فخشي ابو جهل إن جلس النبي ﷺ (٤) إلى جنب ابي طالب ان يكون ارق له عليه، فوثب فجلس (في) (٥) ذلك المجلس، ولم يجد النبي ﷺ (٦) مجلسا قرب عمه، فجلس عند الباب قال ابو طالب: اي ابن اخي ما بال قومك يشكونك؟ يزعمون (انك) (٧) تشتم آلهتهم وتقول ⦗٣٦٦⦘ (وتقول) (٨) وتفعل وتفعل، قال: فاكثروا عليه من اللحو، قال: فتكلم النبي ﵊ فقال:"يا عم، إني اريدهم على كلمة واحدة يقولونها تدين لهم بها العرب، وتؤدي (إليهم) (٩) بها العجم الجزية"، قال: ففزعوا لكلمته ولقوله قال: فقال القوم: كلمة واحدة -نعم وابيك- وعشرا، قال: وما هي قال: ابو طالب واي كلمة هي يا ابن اخي قال:"لا إله إلا الله"، قال: فقاموا فزعين ينفضون ثيابهم وهم يقولون: ﴿اجعل الآلهة إلها واحدا إن هذا لشيء عجاب﴾، قال: وقرا من هذا الموضع إلى قوله: ﴿لما يذوقوا عذاب﴾ [ص: ٥، ٨] (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ي].
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) في [ط، هـ]: (وبينهم).
(٤) في [أ]: زيادة (وآله).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ]: زيادة (وآله).
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط من: [أ، ب، س].
(٩) في [أ، ب]: (لمن).
(١٠) مجهول؛ لجهالة عباد وقيل في اسمه يحيى بن عباد، وقيل يحيى بن عمارة، أخرجه أحمد (٣٤١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٤٣٧)، والطبري في التفسير ٢٣/ ١٢٥، والترمذي (٣٢٣٢)، وابن حبان (٦٦٨٦)، والحاكم ٢/ ٤٣٢، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٤٦، وأبو يعلي (٢٥٨٣)، وعبد الرزاق (٩٩٢٤)، وابن عساكر ٦٦/ ٣٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٤٥، والطحاوي في شرح المشكل ٥/ ٢٦٤، والضياء ١٠/ (٤١٤).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کا مرض (الوفات) شروع ہوا تو ان کے پاس قریش کا ایک گروہ حاضر ہوا جن میں ابو جہل بھی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ انہوں نے (ابو طالب سے) کہا۔ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔ اور یہ یہ کرتا ہے اور یہ یہ کہتا ہے۔ اگر (اس کی طرف کسی کو) بھیج دیں اور اس کو منع کردیں (تو اچھا ہو) ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ یا راوی کہتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ ابو طالب اور آپ کے درمیان ایک آدمی کی نشست کی جگہ تھی۔ راوی کہتے ہیں: ابو جہل کوا س بات کا خوف ہوا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابو طالب کے پہلو میں بیٹھ گئے تو یہ چیز ابو طالب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نرم کر دے گی۔ پس ابو جہل اچھل کر اس نشست پر بیٹھ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا کے قریب کوئی نشست نہ ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ ابو طالب نے کہا! اے بھتیجے! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم آپ کے بارے میں شکایت کررہی ہے؟ ان کا خیال ہے کہ آپ ان کے معبودان کو برا بھلا کہتے ہیں اور یہ یہ کہتے ہیں اور یہ یہ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب ملامت کی۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو کی اور فرمایا: اے چچا جان! میں انہیں ایسے کلمہ پر بلانا چاہتا ہوں جس کو یہ کہہ لیں گے تو عرب ان کے لئے فرمانبردارہو جائیں گے اور عجم ان کی طرف اپنے جزیہ بھیجیں گے۔ راوی کہتے ہیں: قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سُن کر حیران ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: ایک کلمہ! ہاں! تیرے باپ کی قسم! دس (کلمہ بھی ایسے کہلوا لو) وہ کیا کلمہ ہے؟ ابو طالب نے پوچھا اے بھتیجے! وہ کون سا کلمہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ سب قریشی گھبرا کر اٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو جھاڑنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے۔ { أَجَعَلَ الآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا، إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے۔ { لَمَّا یَذُوقُوا عَذَابِ } تک قراءت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39323، ترقيم محمد عوامة 37719)
ترقیم عوامۃ: 37720 ترقیم الشثری: -- 39324
٣٩٣٢٤ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا يزيد بن زياد قال: حدثنا ابو صخرة جامع بن شداد عن طارق المحاربي قال: رايت رسول الله صلى الله عليه (١) وسلم بسوق ذي المجاز وانا في بياعة ابيعها، قال: فمر وعليه جبة له حمراء وهو ينادي باعلى صوته:"ايها الناس، قولوا: لا إله إلا الله تفلحوا"، ورجل يتبعه بالحجارة، (قد) (٢) ادمى كعبيه وعرقوبيه، وهو يقول: يا ايها الناس لا تطيعوه فإنه كذاب، قال: قلت: من هذا؟ قالوا: هذا غلام بني عبد المطلب، قلت: فمن هذا ⦗٣٦٧⦘ الذي يتبعه يرميه (بالحجارة؟) (٣) قالوا: عمه عبد العزى وهو ابو لهب (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (وآله).
(٢) في [جـ]: (وقد).
(٣) سقط من: [جـ، س].
(٤) صحيح؛ أخرجه النسائي ٨/ ٥٥، و (٢٣١١)، وابن حبان (٦٥٦٢)، وابن خزيمة (١٥٩)، والبخاري في خلق أفعال العباد (٢٧)، والدارقطني ٣/ ٤٤، والحاكم ٢/ ٦١١، والطبراني (٨١٧٥)، والبيهقي ١/ ٧٦ و ٦/ ٤٠، وروى ابن ماجه (٢٦٧٠) بعضه، وذكره ابن أبي شيبة مطولًا في المسند (٨٢٢).
حضرت طارق محاربی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا۔ اور میں وہاں کوئی چیز فروخت کرنے کے لئے گیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سُرخ رنگ کا جُبہ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بآواز بلند یہ ندا کر رہے تھے۔ ”اے لوگو! لا الہ الا اللّٰہ کہہ لو۔ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔“ اور ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پتھر لے کر آ رہا تھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹخنے اور ایڑیوں کو خون آلود کردیا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا۔ اے لوگو! اس کے پیچھے نہ لگنا! کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا؟ یہ نوجوان کون ہے؟ لوگوں نے کہا۔ یہ بنی عبد المطلب کا لڑکا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے جو اس کے پیچھے پتھر مار رہا ہے؟ لوگوں نے کہا۔ اس کا چچا عبدا لعزی ہے اور یہی ابو لہب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39324]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39324، ترقيم محمد عوامة 37720)
ترقیم عوامۃ: 37721 ترقیم الشثری: -- 39325
٣٩٣٢٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن انس قال: قال رسول الله صلى الله عليه (١) وسلم:" (لقد) (٢) (اوذيت) (٣) في الله وما يؤذى احد، ولقد (اخفت) (٤) في الله وما يخاف احد، ولقد اتت علي ثالثة من بين يوم وليلة (وما لي) (٥) ولبلال طعام ياكله ذو كبد إلا ما واراه إبط (بلال) (٦) " (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (وآله).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (أعذ وذيت).
(٤) في [أ، ب]: (أخفتني).
(٥) في [أ، ب]: (ومال).
(٦) في [أ، ب]: (هلال).
(٧) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٢١٢)، والترمذي (٢٤٧٢)، وابن ماجه (١٥١)، وابن حبان (٦٥٦٠)، وأبو يعلي (٣٤٢٣)، وعبد بن حميد (١٣١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٦٣٢)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣٥٣)، وأبو عوانة ٢/ ٣٩، والضياء في المختارة (١٦٣٣).
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اللہ (کی راہ) میں اتنی اذیت دی گئی ہے کہ کسی کو اتنی اذیت نہیں دی گئی اور مجھے اللہ (کے راستہ) میں اتنا خوف زدہ کیا گیا ہے کہ کسی کو اتنا خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ اور تحقیق مجھ پر تین دن رات ایسے بھی آئے کہ میرے اور بلال کے لئے کھانے کی اتنی چیز بھی نہیں ہوتی تھی جس کو کوئی ذی روح کھا سکے مگر وہ مقدار جس کو بلال کی بغل چھپاتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39325]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39325، ترقيم محمد عوامة 37721)
ترقیم عوامۃ: 37722 ترقیم الشثری: -- 39326
٣٩٣٢٦ - حدثنا عبد الله بن نمير عن حجاج عن منذر عن ابن الحنفية (في قوله) (١) : ﴿وليحملن اثقالهم واثقالا مع اثقالهم﴾ [العنكبوت: ١٣] : قال: كان ابو جهل وصناديد قريش يتلقون الناس إذا جاؤا إلى النبي صلى الله عليه (٢) وسلم ⦗٣٦٨⦘ (يسلمون) (٣) فيقولون: إنه يحرم الخمر ويحرم الزنا (ويحرم) (٤) ما كانت تصنع العرب فارجعوا فنحن نحمل اوزاركم، فنزلت هذه الآية: ﴿وليحملن (اثقالهم) (٥) ﴾ (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وقوله).
(٢) في [أ]: زيادة (وآله).
(٣) في [أ، ب]: (فيسألون).
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [س]: (أثقالكم).
(٦) مرسل؛ ابن الحنفية تابعي.
حضرت ابن الحنفیہ سے قول خداوندی { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِہِمْ } کی تفسیر میں منقول ہے۔ فرمایا: ابو جہل اور سردارانِ قریش لوگوں سے راستہ میں ملاقات کرتے جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اسلام لانے کے لئے حاضر ہوتے اور لوگوں سے کہتے۔ یہ خمر کو حرام قرار دیتا ہے اور زنا کو حرام قرار دیتا ہے۔ جو چیزیں عرب کرتے تھے یہ انہیں حرام قرار دیتا ہے۔ پس تم لوٹ جاؤ۔ ہم تمہارے بوجھ کو اٹھائیں گے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39326]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39326، ترقيم محمد عوامة 37722)
ترقیم عوامۃ: 37723 ترقیم الشثری: -- 39327
٣٩٣٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن انس ان النبي صلى الله عليه (١) وسلم شج في وجهه وكسرت رباعيته ورمي رمية على كتفه فجعل يمسح الدم عن وجهه ويقول:"كيف تفلح امة فعلت هذا بنبيها وهو يدعوهم (إلى الله) (٢) "، فانزل الله: ﴿ليس لك من الامر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم فإنهم ظالمون﴾ [آل عمران: ١٢٨] (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (وآله).
(٢) في [جـ]: تكرر.
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٩١)، وأحمد ٣/ ٩٩ (١١٩٧٤).
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوگئے اور ایک تیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ وہ امت کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: { لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39327، ترقيم محمد عوامة 37723)
ترقیم عوامۃ: 37724 ترقیم الشثری: -- 39328
٣٩٣٢٨ - حدثنا ابو اسامة حدثنا (مجالد) (١) عن عامر قال: قالت قريش لرسول الله ﷺ: إن كنت نبيا كما تزعم فباعد جبلي مكة (اخشبيها) (٢) هذين (مسيرة) (٣) اربعة ايام او خمسة، فإنها (ضيقة) (٤) حتى نزرع فيها ونرعى، ⦗٣٦٩⦘ وابعث لنا (آباءنا) (٥) من الموتى حتى يكلمونا ويخبرونا انك نبي، واحملنا إلى الشام او إلى اليمن او إلى (الحيرة) (٦) ، حتى نذهب ونجيء في ليلة كما زعمت انك فعلته فانزل الله: ﴿ولو ان قرآنا سيرت به الجبال او قطعت به الارض او كلم به الموتى﴾ [الرعد: ٣١] (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [س]: (أحسبها).
(٣) في [أ، ب]: (بمشير).
(٤) في [هـ]: (ضيفة).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (المسيرة).
(٧) مرسل ضعيف؛ عامر تابعي، ومجالد ضعيف.
حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر تم نبی ہو! جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر تم مکہ کے ان دو پہاڑوں کو، جن پر پانی جمع نہیں رہتا، چار یا پانچ دن کی مسافت تک دور کردو۔ کیونکہ یہ تنگ ہیں۔ تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کریں اور ہم اس کو چراگاہ بنائیں۔ اور ہمارے فوت شدہ آباء کوا اٹھاؤ تاکہ وہ ہم سے باتیں کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اور آپ ہمیں شام، یمن اور حیرۃ کی طرف اٹھائیں تاکہ ہم ایک ہی رات میں آئیں اور جائیں۔ جیسا کہ آپ کا گمان ہے کہ آپ نے ایسا کیا ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: { وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39328، ترقيم محمد عوامة 37724)