مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ
معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
ترقیم عوامۃ: 37725 ترقیم الشثری: -- 39329
٣٩٣٢٩ - (حدثنا ابو بكر) (١) قال: حدثنا الحسن بن موسى (بن) (٢) الاشيب قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن انس ان رسول الله ﷺ قال:"اتيت بالبراق وهو دابة ابيض فوق الحمار ودون البغل، يضع (حافره) (٣) عند منتهى طرفه، فركبته فسار بي حتى اتيت بيت المقدس فربطت الدابة بالحلقة التي (كان) (٤) (يربط) (٥) بها الانبياء ﵈ (٦) ، ثم دخلت فصليت فيه ركعتين، ثم خرجت فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن، فقال (جبريل) (٧) : اصبت الفطرة، ⦗٣٧٠⦘ قال: ثم عرج بنا إلى السماء (الدنيا) (٨) فاستفتح جبريل فقيل: من انت؟ (فقال) (٩) : جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٠) ، فقيل: وقد ارسل إليه؟ فقال: قد ارسل (إليه) (١١) ، ففتح لنا فإذا انا بآدم فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: (و) (١٢) من انت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٣) ، فقيل: وقد ارسل إليه؟ (قال) (١٤) : قد ارسل إليه، (ففتح) (١٥) لنا فإذا انا (بابني) (١٦) الخالة: (يحيى) (١٧) وعيسى فرحبا ودعوا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: (١٨) من انت؟ (فقال) (١٩) : جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (٢٠) ، (قالوا) (٢١) : وقد ارسل إليه؟ قال: (قد) (٢٢) ارسل إليه، ففتح لنا فإذا انا [بيوسف وإذا هو قد اعطي شطر الحسن، (فرحب) (٢٣) ودعا لي بخير، ثم عرج بنا ⦗٣٧١⦘ إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل فقيل: (٢٤) من انت؟ (فقال) (٢٥) : جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد ﷺ، فقيل: وقد ارسل إليه؟ فقال: قد ارسل إليه، ففتح لنا فإذا (انا) (٢٦) ] (٢٧) بإدريس (٢٨) فرحب ودعا لي بخير، ثم قال: يقول الله: ﴿ورفعناه مكانا عليا﴾ [مريم: ٥٧] ، ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة (فاستفتح جبريل) (٢٩) فقيل: من انت؟ (قال) (٣٠) : جبريل، فقيل: ومن معك؟ (فقال) (٣١) : محمد (٣٢) ، (فقيل) (٣٣) : وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا انا بهارون فرحب بي (ودعا لي) (٣٤) بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من انت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، (ففتح لنا) (٣٥) فإذا انا بموسى (٣٦) فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل (فقيل) (٣٧) : من انت؟ (قال) (٣٨) : جبريل، ⦗٣٧٢⦘ (فقيل) (٣٩) : ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: (وقد) (٤٠) بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح (لنا) (٤١) فإذا انا (بإبراهيم) (٤٢) ، وإذا هو (مستند) (٤٣) إلى البيت المعمور، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون الف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى (سدرة) (٤٤) المنتهى فإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها امثال القلال، فلما غشيها من امر الله ما غشيها تغيرت، فما احد من خلق الله يستطيع ان يصفها من حسنها، قال: فاوحى الله إلي ما اوحى، وفرض علي في كل يوم (وليلة) (٤٥) خمسين صلاة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على امتك؟ قال: قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فقال: ارجع إلى ربك (فاساله) (٤٦) التخفيف فإن امتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم، قال: فرجعت إلى ربي (فقلت) (٤٧) له: رب خفف (عن) (٤٨) امتي فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقال: ما فعلت؟ فقلت: حط عني خمسا، قال: (إن) (٤٩) امتك لا تطيق ذلك، فارجع إلى ربك (فاساله) (٥٠) التخفيف (لامتك) (٥١) ، فلم ازل ارجع بين ربي وبين ⦗٣٧٣⦘ (موسى ﵇ (٥٢) فيحط عني خمسا خمسا حتى قال. يا محمد هي خمس صلوات في كل يوم وليلة، بكل صلاة (عشر) (٥٣) ، فتلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة، فإن عملها كتبت (له) (٥٤) عشرا، ومن هم بسيئة ولم يعملها (لم) (٥٥) تكتب له شيئا، فإن عملها كتبت (٥٦) سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى (٥٧) فاخبرته، فقال: ارجع إلى ربك (فاساله) (٥٨) التخفيف لامتك، فإن امتك لا تطيق ذلك فقال رسول الله ﷺ: لقد رجعت إلى ربي حتى (استحييت) (٥٩) (٦٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) سقط من: [ق].
(٣) في [س]: (حاضره).
(٤) في [أ، ب]: (كانت).
(٥) في [أ، ب، ط]: (تربط).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب]: (قال).
(١٠) في [جـ، ي): زيادة ﷺ.
(١١) في [ب]: (فيه).
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٤) في [س]: (فقال).
(١٥) في [ب]: (وفتح).
(١٦) في [أ، ب]: (بابن).
(١٧) في [أ، ب]: (ويحيى).
(١٨) في [ق، هـ]: زيادة (و).
(١٩) في [أ، ب، جـ، س]: (قال).
(٢٠) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [أ، ب]: (قيل).
(٢٢) في [أ، ب]: (وقد).
(٢٣) سقط من: [أ، ب].
(٢٤) في [ق، هـ]: زيادة (و).
(٢٥) في [أ، ب]: (قيل).
(٢٦) سقط من: [جـ، ي].
(٢٧) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٢٨) في [جـ، ي]: زيادة ﵇.
(٢٩) سقط من: [أ، ب].
(٣٠) سقط من: [جـ، ي].
(٣١) في [هـ]: (فقيل)، وفي [أ، ب، س، ق]: (قال).
(٣٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٣٣) في [هـ]: (فقال).
(٣٤) في [س]: (دعاني).
(٣٥) سقط من: [ق].
(٣٦) في [جـ، ي]: زيادة ﵇.
(٣٧) في [أ، ب]: (قال).
(٣٨) في [جـ، س، ي]: (فقال).
(٣٩) في [أ، ب]: (فقال).
(٤٠) سقط من: [أ، ب].
(٤١) سقط من: [أ، ب].
(٤٢) في [ق]: زيادة ﵇.
(٤٣) في [ق، هـ]: (مسند).
(٤٤) في [س]: (السدرة: سدرة).
(٤٥) سقط من: [أ، ب].
(٤٦) في [أ، ب]: (واسأله)، وفي [جـ، س، ي]: (فسله).
(٤٧) في [أ، ب]: (وقلت).
(٤٨) في [أ، ب]: (على).
(٤٩) في [أ، ب]: (الآن).
(٥٠) في [جـ، س، ي]: (فسله)، وفي [ب]: (فاسله).
(٥١) في [أ، ب]: (على أمتك).
(٥٢) سقط من: [س].
(٥٣) في [أ، ب، ح، س، ط]: (وعشرًا).
(٥٤) سقط من: [جـ، س، ي].
(٥٥) سقط من: [س].
(٥٦) في [س]: زيادة (له).
(٥٧) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﵇.
(٥٨) في [جـ، س، ي]: (فسله).
(٥٩) في [أ]: (أستحيت).
(٦٠) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد ٣/ ١٤٨ (١٢٥٢٧).
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے پاس براق کو لایا گیا۔ یہ ایک سفید جانور تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر پڑتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا اور یہ جانور مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ مں چ بیت المقدس میں پہنچا۔ اور میں نے جانور کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس حلقہ کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دو رکعات نماز پڑھی پھر میں وہاں سے نکلا تو جبرائیل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کرلیا۔ تو جبرائیل نے کہا۔ آپ نے فطرت سلیمہ کے مطابق درست کام کیا ہے۔ ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہمیں آسمان دنیا پر لے جایا گیا۔ اور جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا: پوچھا گیا:ـ تم کون ہو؟ جبرائیل نے کہا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں آدم سے ملا۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ جبرائیل نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں اپنے دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیٰ سے ملا۔ ان دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٣۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل! پھر پوچھا گیا۔ آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! فرشتوں نے پوچھا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پس ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ پس اچانک میں یوسف سے ملا۔ اور انہیں تو حسن کا ایک بڑا حصہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعاء خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا تو جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! فرشتوں نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا: تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میری حضرت ادریس سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ورفعناہُ مکاناً علیًا۔ ٤۔ پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہیں۔ پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ پس اچانک میری ملاقات حضرت ہارون سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ تو اچانک میری ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٥۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھا یا گیا۔ پس جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پھر پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ نہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پھر پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میں حضرت ابراہیم سے ملا۔ اور وہ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور (یہ وہ جگہ ہے کہ جب) اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ نہیں آئیں گے۔ ٦۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہٰی پر لے جایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور ا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39329، ترقيم محمد عوامة 37725)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39329 in Urdu