مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ
معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
ترقیم عوامۃ: 37725 ترقیم الشثری: -- 39329
٣٩٣٢٩ - (حدثنا ابو بكر) (١) قال: حدثنا الحسن بن موسى (بن) (٢) الاشيب قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن انس ان رسول الله ﷺ قال:"اتيت بالبراق وهو دابة ابيض فوق الحمار ودون البغل، يضع (حافره) (٣) عند منتهى طرفه، فركبته فسار بي حتى اتيت بيت المقدس فربطت الدابة بالحلقة التي (كان) (٤) (يربط) (٥) بها الانبياء ﵈ (٦) ، ثم دخلت فصليت فيه ركعتين، ثم خرجت فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن، فقال (جبريل) (٧) : اصبت الفطرة، ⦗٣٧٠⦘ قال: ثم عرج بنا إلى السماء (الدنيا) (٨) فاستفتح جبريل فقيل: من انت؟ (فقال) (٩) : جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٠) ، فقيل: وقد ارسل إليه؟ فقال: قد ارسل (إليه) (١١) ، ففتح لنا فإذا انا بآدم فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: (و) (١٢) من انت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٣) ، فقيل: وقد ارسل إليه؟ (قال) (١٤) : قد ارسل إليه، (ففتح) (١٥) لنا فإذا انا (بابني) (١٦) الخالة: (يحيى) (١٧) وعيسى فرحبا ودعوا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: (١٨) من انت؟ (فقال) (١٩) : جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (٢٠) ، (قالوا) (٢١) : وقد ارسل إليه؟ قال: (قد) (٢٢) ارسل إليه، ففتح لنا فإذا انا [بيوسف وإذا هو قد اعطي شطر الحسن، (فرحب) (٢٣) ودعا لي بخير، ثم عرج بنا ⦗٣٧١⦘ إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل فقيل: (٢٤) من انت؟ (فقال) (٢٥) : جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد ﷺ، فقيل: وقد ارسل إليه؟ فقال: قد ارسل إليه، ففتح لنا فإذا (انا) (٢٦) ] (٢٧) بإدريس (٢٨) فرحب ودعا لي بخير، ثم قال: يقول الله: ﴿ورفعناه مكانا عليا﴾ [مريم: ٥٧] ، ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة (فاستفتح جبريل) (٢٩) فقيل: من انت؟ (قال) (٣٠) : جبريل، فقيل: ومن معك؟ (فقال) (٣١) : محمد (٣٢) ، (فقيل) (٣٣) : وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا انا بهارون فرحب بي (ودعا لي) (٣٤) بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من انت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، (ففتح لنا) (٣٥) فإذا انا بموسى (٣٦) فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل (فقيل) (٣٧) : من انت؟ (قال) (٣٨) : جبريل، ⦗٣٧٢⦘ (فقيل) (٣٩) : ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: (وقد) (٤٠) بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح (لنا) (٤١) فإذا انا (بإبراهيم) (٤٢) ، وإذا هو (مستند) (٤٣) إلى البيت المعمور، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون الف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى (سدرة) (٤٤) المنتهى فإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها امثال القلال، فلما غشيها من امر الله ما غشيها تغيرت، فما احد من خلق الله يستطيع ان يصفها من حسنها، قال: فاوحى الله إلي ما اوحى، وفرض علي في كل يوم (وليلة) (٤٥) خمسين صلاة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على امتك؟ قال: قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فقال: ارجع إلى ربك (فاساله) (٤٦) التخفيف فإن امتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم، قال: فرجعت إلى ربي (فقلت) (٤٧) له: رب خفف (عن) (٤٨) امتي فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقال: ما فعلت؟ فقلت: حط عني خمسا، قال: (إن) (٤٩) امتك لا تطيق ذلك، فارجع إلى ربك (فاساله) (٥٠) التخفيف (لامتك) (٥١) ، فلم ازل ارجع بين ربي وبين ⦗٣٧٣⦘ (موسى ﵇ (٥٢) فيحط عني خمسا خمسا حتى قال. يا محمد هي خمس صلوات في كل يوم وليلة، بكل صلاة (عشر) (٥٣) ، فتلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة، فإن عملها كتبت (له) (٥٤) عشرا، ومن هم بسيئة ولم يعملها (لم) (٥٥) تكتب له شيئا، فإن عملها كتبت (٥٦) سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى (٥٧) فاخبرته، فقال: ارجع إلى ربك (فاساله) (٥٨) التخفيف لامتك، فإن امتك لا تطيق ذلك فقال رسول الله ﷺ: لقد رجعت إلى ربي حتى (استحييت) (٥٩) (٦٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) سقط من: [ق].
(٣) في [س]: (حاضره).
(٤) في [أ، ب]: (كانت).
(٥) في [أ، ب، ط]: (تربط).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب]: (قال).
(١٠) في [جـ، ي): زيادة ﷺ.
(١١) في [ب]: (فيه).
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(١٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٤) في [س]: (فقال).
(١٥) في [ب]: (وفتح).
(١٦) في [أ، ب]: (بابن).
(١٧) في [أ، ب]: (ويحيى).
(١٨) في [ق، هـ]: زيادة (و).
(١٩) في [أ، ب، جـ، س]: (قال).
(٢٠) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [أ، ب]: (قيل).
(٢٢) في [أ، ب]: (وقد).
(٢٣) سقط من: [أ، ب].
(٢٤) في [ق، هـ]: زيادة (و).
(٢٥) في [أ، ب]: (قيل).
(٢٦) سقط من: [جـ، ي].
(٢٧) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٢٨) في [جـ، ي]: زيادة ﵇.
(٢٩) سقط من: [أ، ب].
(٣٠) سقط من: [جـ، ي].
(٣١) في [هـ]: (فقيل)، وفي [أ، ب، س، ق]: (قال).
(٣٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٣٣) في [هـ]: (فقال).
(٣٤) في [س]: (دعاني).
(٣٥) سقط من: [ق].
(٣٦) في [جـ، ي]: زيادة ﵇.
(٣٧) في [أ، ب]: (قال).
(٣٨) في [جـ، س، ي]: (فقال).
(٣٩) في [أ، ب]: (فقال).
(٤٠) سقط من: [أ، ب].
(٤١) سقط من: [أ، ب].
(٤٢) في [ق]: زيادة ﵇.
(٤٣) في [ق، هـ]: (مسند).
(٤٤) في [س]: (السدرة: سدرة).
(٤٥) سقط من: [أ، ب].
(٤٦) في [أ، ب]: (واسأله)، وفي [جـ، س، ي]: (فسله).
(٤٧) في [أ، ب]: (وقلت).
(٤٨) في [أ، ب]: (على).
(٤٩) في [أ، ب]: (الآن).
(٥٠) في [جـ، س، ي]: (فسله)، وفي [ب]: (فاسله).
(٥١) في [أ، ب]: (على أمتك).
(٥٢) سقط من: [س].
(٥٣) في [أ، ب، ح، س، ط]: (وعشرًا).
(٥٤) سقط من: [جـ، س، ي].
(٥٥) سقط من: [س].
(٥٦) في [س]: زيادة (له).
(٥٧) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﵇.
(٥٨) في [جـ، س، ي]: (فسله).
(٥٩) في [أ]: (أستحيت).
(٦٠) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد ٣/ ١٤٨ (١٢٥٢٧).
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے پاس براق کو لایا گیا۔ یہ ایک سفید جانور تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر پڑتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا اور یہ جانور مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ مں چ بیت المقدس میں پہنچا۔ اور میں نے جانور کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس حلقہ کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دو رکعات نماز پڑھی پھر میں وہاں سے نکلا تو جبرائیل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کرلیا۔ تو جبرائیل نے کہا۔ آپ نے فطرت سلیمہ کے مطابق درست کام کیا ہے۔ ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہمیں آسمان دنیا پر لے جایا گیا۔ اور جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا: پوچھا گیا:ـ تم کون ہو؟ جبرائیل نے کہا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں آدم سے ملا۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ جبرائیل نے کہا: جبرائیل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں اپنے دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیٰ سے ملا۔ ان دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٣۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل! پھر پوچھا گیا۔ آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! فرشتوں نے پوچھا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پس ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ پس اچانک میں یوسف سے ملا۔ اور انہیں تو حسن کا ایک بڑا حصہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعاء خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا تو جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! فرشتوں نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا: تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میری حضرت ادریس سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ورفعناہُ مکاناً علیًا۔ ٤۔ پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہیں۔ پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ پس اچانک میری ملاقات حضرت ہارون سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ تو اچانک میری ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٥۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھا یا گیا۔ پس جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پھر پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ نہوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پھر پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میں حضرت ابراہیم سے ملا۔ اور وہ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور (یہ وہ جگہ ہے کہ جب) اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ نہیں آئیں گے۔ ٦۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہٰی پر لے جایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور ا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39329، ترقيم محمد عوامة 37725)
ترقیم عوامۃ: 37726 ترقیم الشثری: -- 39330
٣٩٣٣٠ - حدثنا ابو اسامة عن سعيد عن قتادة عن انس بن مالك (عن مالك) (١) ابن صعصعة عن النبي ﷺ بنحو منه او شبيه به (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ، ي].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٠٧)، ومسلم (١٦٤).
حضرت مالک بن صعصہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے مثل یا اسے مشابہ بیان کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39330]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39330، ترقيم محمد عوامة 37726)
ترقیم عوامۃ: 37727 ترقیم الشثری: -- 39331
٣٩٣٣١ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) زرارة بن اوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ:"لما كان ليلة اسري بي اصبحت بمكة ⦗٣٧٤⦘ قال: (فظعت) (٢) بامري وعرفت ان الناس مكذبي"، فقعد رسول الله ﷺ معتزلا حزينا، فمر به ابو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال:"نعم"، قال: وما هو؟ قال:"اسري بي الليلة"، قال: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قال: ثم اصبحت بين اظهرنا؟ قال:"نعم"، فلم (يره) (٣) انه يكذبه مخافة ان يجحد الحديث إن دعا قومه إليه، قال: اتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال:"نعم"، قال: هيا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: فتنفضت المجالس فجاؤوا حتى جلسوا إليهما، فقال: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول الله ﷺ:"إني اسري بي الليلة"، قالوا: إلى اين؟ قال:"إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم اصبحت بين (ظهرانينا؟) (٤) قال:"نعم"، قال: فمن بين مصفق ومن بين واضع (يده) (٥) على راسه متعجبا (للكذب) (٦) زعم، وقالوا: اتستطيع ان تنعت لنا المسجد؟ قال: وفي القوم من سافر إلى ذلك البلد وراى المسجد، قال رسول الله ﷺ:"فذهبت انعت لهم، فما زلت انعت (وانعت) (٧) حتى التبس علي بعض النعت، فجيء بالمسجد وانا انظر إليه حتى وضع دون دار عقيل او دار عقال، (فنعته) (٨) وانا انظر إليه"، فقال القوم: اما النعت فوالله لقد اصاب (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، س، ق]: (قطعت).
(٣) في [جـ]: (ير)، وفي [هـ]: (يرد).
(٤) في [س]: (أظهرينا)، وفي [جـ، ي]: (ظهرينا).
(٥) في [س]: (يديه).
(٦) في [ق]: (للذي).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) في [س]: تكرر.
(٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٨١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٥)، والطبراني (١١٧٨٢)، والبزار (٥٦/ كشف)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٣، والفاكهي (٢١٠٠)، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩، وابن عساكر ٤١/ ٢٣٥، وأبو نعيم في الدلائل (٧٥)، والحارث (٢١/ بغية)، والآجري في الشريعة (١٠٢٩).
حضرت زرارہ بن اوفی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس رات کو مجھے اسراء کروایا گیا میں نے (اس کی) صبح مکہ میں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں اپنے معاملہ (معراج) کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا اور میں جانتا تھا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ اور غمگین ہو کر بیٹھ گئے تو ابو جہل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزاء کرنے والے کی طرح پوچھا: کیا کچھ (نئی) بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ابو جہل نے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے پوچھا: کہاں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی طرف۔ ابو جہل نے کہا۔ پھر (سیر کے بعد) آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ابو جہل کی رائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی نہ ہوئی۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو بلائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کا انکار نہ کردیں۔ ابو جہل نے کہا۔ اگر میں تمہاری قوم کو تمہاری طرف بلاؤں تو کیا تم انہیں بھی وہ بات بیان کروگے جو تم نے مجھے بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ابو جہل نے کہا: اے بنی کعب بن لوی کی جماعتو! آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس تمام لوگ آگئے یہاں تک کہ لوگ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ تو ابو جہل نے کہا۔ جو بات آپ نے مجھے بیان کی تھی وہ بات اپنی قوم کے سامنے بیان کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: کہاں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی۔ لوگوں نے کہا۔ پھر آپ نے صبح ہمارے درمیان کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! راوی کہتے ہیں: کچھ لوگ، تالیاں بجانے لگے اور کچھ لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھ کر تعجب کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیا۔ اور کہا: کیا آپ ہمارے لئے مسجد (اقصیٰ) کی نعت (صفت) بیان کرسکتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں افراد بھی تھے جنہوں نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد اقصیٰ کو دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ پس میں نے ان کے لئے (مسجد کی) صفت بیان کرنا شروع کی۔ اور میں مسلسل صفت بیان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ بعض اوصافِ مسجد مجھ پر ملتبس ہوگئے تو مسجد کو (سامنے) لایا گیا اور میں مسجد کو دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ مسجد کو دارعقیل یا دارعقال سے پرے رکھ دیا گیا۔ پس میں نے مسجد کی نعت (صفت) بیان کی جبکہ میں مسجد کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لوگوں نے کہا۔ (مسجد کی) صفت تو بخدا بالکل درست (بیان کی) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39331]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39331، ترقيم محمد عوامة 37727)
ترقیم عوامۃ: 37728 ترقیم الشثری: -- 39332
٣٩٣٣٢ - حدثنا عفان (قال) (١) : حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن زر عن حذيفة بن اليمان ان رسول الله ﷺ اتي بالبراق وهو دابة ابيض طويل، يضع (حافره) (٢) عند منتهى طرفه، قال: فلم يزايل ظهره هو وجبريل حتى اتيا بيت المقدس، وفتحت (لهما) (٣) ابواب السماء، (وراى) (٤) الجنة والنار (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: (حاضره).
(٣) في [أ، ب]: (لها).
(٤) في [هـ]: (رأيا).
(٥) ضعيف؛ لضعف عاصم في زر، أخرجه أحمد (٢٣٣٤٣)، والترمذي (٣١٤٧)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٠)، وابن حبان (٤٥)، والحاكم ٢/ ٣٥٩، والحميدي (٤٤٨)، والطيالسي (٤١١)، والبزار (٢٩١٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٠١٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٤، وابن جرير في التفسير ١٥/ ١٥.
حضرت زر، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس براق لائی گئی۔ یہ ایک طویل سفید رنگ کا جانور تھا جو منتہی نظر پر قدم رکھتا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرائیل اس کی پشت پر سوار رہے یہاں تک کہ دونوں بیت المقدس پہنچ گئے اور ان کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز ادا نہیں کی۔ حضرت زر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے گنجے! تیرا نام کیا ہے؟ میں تیری شکل سے واقف ہوں لیکن تیرے نام سے واقف نہیں ہوں؟ حضرت زر کہتے ہیں۔ میں نے جواباً کہا: زر بن حبیش۔ راوی کہتے ہیں۔ اس نے کہا: ارشاد خداوندی ہے۔ { سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا، إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ } حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (وہاں) نماز پڑھتے ہوئے پایا ہے؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھتے تو ہم (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے جیسا کہ ہم مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو اس کڑے کے ساتھ باندھا جس کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ چلا جائے گا حالانکہ اس کو تو اللہ تعالیٰ لائے تھے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39332]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39332، ترقيم محمد عوامة 37728)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39333
٣٩٣٣٣ - قال: وقال حذيفة: ولم يصل في بيت المقدس، قال زر: (فقلت) (١) : بل قد صلى، قال حذيفة: ما اسمك يا اصلع؟ فإني اعرف وجهك ولا ادري ما اسمك؟ قال: (قلت) (٢) : زر بن حبيش، قال: فقال: وما يدريك وهل تجده صلى؟ قال: (قلت) (٣) : يقول الله (٤) : ﴿سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصى (الذي) (٥) باركنا حوله لنريه من آياتنا إنه هو السميع البصير﴾، قال: وهل تجده صلى؟ إنه لو صلى فيه صلينا (فيه) (٦) كما نصلي ⦗٣٧٦⦘ في المسجد الحرام، وقيل لحذيفة: وربط الدابة (بالحلقة) (٧) التي تربط بها (الانبياء؟) (٨) فقال حذيفة: او كان يخاف ان تذهب وقد اتاه الله بها (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قلت).
(٢) هكذا في [هـ]، وسقط في بقية النسخ.
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب]: (معه).
(٧) في [أ، ب]: (الحلقة).
(٨) في [جـ]: زيادة ﵈.
(٩) ضعيف؛ لضعف عاصم في زر، أخرجه أحمد ٥/ ٣٩٢ (٢٣٣٤٣)، وعبد الرزاق في التفسير ٢/ ٣٧٢، والحميدي (٤٤٨)، والطيالسي (٤١١)، وابن جرير في التفسير ١٥/ ١٦، والبزار (٢٩١٥)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٤.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39333، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37729 ترقیم الشثری: -- 39334
٣٩٣٣٤ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد في جدعان عن ابي الصلت عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:" (رايت) (١) ليلة اسري بي لما انتهينا إلى السماء السابعة فنظرت فوقي، فإذا انا برعد وبرق وصواعق، قال: واتيت على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء اكلة الربا، فلما نزلت إلى السماء الدنيا نظرت اسفل (شيء) (٢) فإذا (برهج) (٣) ودخان واصوات، فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذه الشياطين (يحرفون) (٤) على اعين بني آدم، (لا يتفكروا) (٥) في ملكوت السماوات والارض، ولولا (ذاك) (٦) لراوا العجائب" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أرأيت).
(٢) في [ق، هـ]: (مني).
(٣) أي بغبار، وفي [أ، ب]: (بوهيج).
(٤) أي: يصرفون، وفي [ط]: (يحرون)، وفي [س]: (يحرقون)، وفي [هـ]: (يحومون)، وفي [ح]: (يحدقون).
(٥) في [أ، ب]: (لا يتفكرون).
(٦) في [أ، ب]: (ذلك).
(٧) مجهول وفيه ضعف؛ أبو الصلت مجهول، وابن جدعان فيه ضعف، أخرجه أحمد (٨٦٤٠)، وابن ماجه (٢٢٧٣)، وابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٥/ ٣٧.
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس رات مجھے سیر کروائی گئی۔ میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر کو نظر اٹھائی تو مجھے گرج، بجلی اور کڑک دکھائی دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایک گروہ کے پاس آیا ان کے پیٹ گردنوں کی طرح تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل نے کہا: یہ سود خور لوگ ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو میں نے نیچے دیکھا۔ مجھے گرد، دھواں اور آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پوچھاـ: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ جبرائیل نے کہا: یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کی نشانیوں میں تفکر نہیں کرتے۔ اگر یہ چیزیں نہ ہوتیں تو بنی آدم کو عجائبات دکھائی دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39334]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39334، ترقيم محمد عوامة 37729)
ترقیم عوامۃ: 37730 ترقیم الشثری: -- 39335
٣٩٣٣٥ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (اخبرنا) (١) سليمان التيمي وثابت البناني عن انس قال: قال رسول الله ﷺ اتيت على موسى ليلة اسري بي عند الكثيب الاحمر، وهو قائم يصلي في قبره (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٧٥)، وأحمد (١٢٥٠٤).
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس رات مجھے سیر کروائی گئی۔ اس رات میں سُرخ ٹیلے کے پاس حضرت موسیٰ پر سے گزرا تو وہ اپنی قبر مبارک میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39335]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39335، ترقيم محمد عوامة 37730)
ترقیم عوامۃ: 37731 ترقیم الشثری: -- 39336
٣٩٣٣٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن انس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"مررت ليلة اسري بي على قوم (تقرض) (١) شفاههم بمقاريض من نار، (فقلت) (٢) : من هولاء؟ قيل: هؤلاء خطباء من اهل الدنيا ممن (كانوا) (٣) (يامرون) (٤) الناس بالبر وينسون (انفسهم) (٥) وهم يتلون الكتاب افلا (يعقلون) (٦) " (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يفرض).
(٢) في [أ، ب]: (قلت).
(٣) في [أ، ب، س]: (كان).
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (يأمر).
(٥) في [ب]: (أنفسكم)
(٦) في [ب، س]: (تعقلون).
(٧) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٢٢١١)، وعبد بن حميد (١٢٢٢)، والبيهقي في الشعب (٤٩٦٥)، وابن حبان (٥٣)، وأبو يعلى (٤٠٦٩)، وابن المبارك في الزهد (٨١٩)، ووكيع في الزهد (٢٩٧)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٥١٣)، والخطيب في تاريخه ٦/ ١٩٩، والبغوي (٤١٥٩)، وابن أبي حاتم في التفسير (٤٧٦).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس رات مجھے سیر کروائی گئی اس رات میں ایک ایسی قوم پر سے گزرا جن کے ہونٹوں کو جہنم کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ اہل دنیا کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے۔ اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39336]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39336، ترقيم محمد عوامة 37731)
ترقیم عوامۃ: 37732 ترقیم الشثری: -- 39337
٣٩٣٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن ابي إسحاق الشيباني عن عبد الله بن شداد قال: لما اسري بالنبي ﷺ اتي بدابة فوق الحمار (و) (١) دون البغل، يضع (حافره) (٢) ⦗٣٧٨⦘ عند منتهى طرفه، يقال له: براق، فمر رسول الله ﷺ بعير للمشركين فنفرت فقالوا: يا هؤلاء ما هذا؟ قالوا: ما نرى شيئا ما هذه إلا ريح، حتى (اتى) (٣) بيت المقدس فاتي بإناءين في واحد خمر وفي الآخر لبن، فاخذ النبي ﷺ اللبن فقال له (جبريل) (٤) : هديت وهديت امتك-، ثم (سار) (٥) إلى (مصر) (٦) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (حاضرة).
(٣) في [أ، ب]: (أتيت).
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [ق، هـ]: (صار).
(٦) في [ق]: (ممر).
(٧) مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد تابعي، وأخرجه ابن جرير ١٥/ ١٥.
حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کو سیر کروائی گئی تو ایک گدھے سے بڑا، خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا۔ وہ اپنی منتہی نظر پر اپنا قدم رکھتا تھا۔ اس کو براق کہا جاتا تھا۔ پس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے اونٹوں کے قافلے کے پاس سے گزرے تو وہ بدک گئے مشرکین نے کہا: یارو! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں تو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ یہ تو فقط ہوا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ (والا برتن) پکڑ لیا تو جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا۔ آپ کی راہ راست کی طرف راہنمائی کی گئی ہے اور آپ کی امت کو درست راہنمائی کی گئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر کی طرف چلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39337]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39337، ترقيم محمد عوامة 37732)
ترقیم عوامۃ: 37733 ترقیم الشثری: -- 39338
٣٩٣٣٨ - حدثنا ابو خالد (الاحمر) (١) عن حميد عن انس قال: قال رسول الله ﷺ:"لما انتهيت إلى السدرة إذا ورقها مثل آذان الفيلة وإذا نبقها امثال القلال، فلما غشيها من امر الله ما (غشي) (٢) تحولت (فذكر) (٣) الياقوت" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (غشيها).
(٣) في [ق]: (وذكر).
(٤) حسن؛ أبو خالد صدوق، وأخرجه مسلم (١٦٢)، وأحمد (١٢٥٠٥)، وورد عند البخاري (٣٢٠٧) من حديث أنس عن مالك بن صعصعة.
حضر ت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں سدرۃ کے پاس پہنچا تو (میں نے دیکھا کہ) اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر مٹکوں کی طرح تھے پس جب اس کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ڈھانپ لیا تو وہ بدل گئی پس مجھے یاقوت یاد آگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39338]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39338، ترقيم محمد عوامة 37733)