🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. إسلام سلمان رضي الله (تعالى) عنه
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37760 ترقیم الشثری: -- 39365
٣٩٣٦٥ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا (عبيد الله) (٢) بن موسى قال: (اخبرنا) (٣) إسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي قرة الكندي عن سلمان قال: كنت ⦗٣٩٣⦘ من ابناء (اساورة) (٤) فارس وكنت في كتاب ومعي غلامان، وكانا إذا رجعا من (عند) (٥) معلمهما اتيا (قسا) (٦) (فدخلا) (٧) (عليه) (٨) (فدخلت) (٩) (معهما) (١٠) ، فقال: الم انهكما ان تاتياني باحد، قال: فجعلت اختلف (إليه) (١١) حتى (إذا) (١٢) (كنت) (١٣) احب إليه منهما. قال: فقال لي: إذا سالك اهلك من حبسك؟ فقل: معلمي، وإذا سالك معلمك: من حبسك؟ فقل: اهلي، ثم إنه اراد ان يتحول، فقلت له: انا اتحول معك، فتحولت معه فنزلنا قرية، فكانت امراة تاتيه. فلما حضر قال (لي) (١٤) : يا سلمان (احفر) (١٥) عند راسي، (فحفرت) (١٦) عند راسه فاستخرجت (جرة) (١٧) من دراهم، فقال لي: صبها على (صدري) (١٨) ، (فصببتها على صدره) (١٩) ، فكان يقول: ويل لاقتنائي، ثم إنه مات ⦗٣٩٤⦘ (فهممت) (٢٠) بالدراهم ان (آخذها) (٢١) ، ثم إني ذكرت فتركتها. ثم إني آذنت (القسيسين) (٢٢) والرهبان [به فحضروه فقلت لهم: إنه قد ترك مالا، قال: فقام شباب في القرية فقالوا: هذا مال ابينا فاخذوه. قال: فقلت للرهبان] (٢٣) (اخبروني) (٢٤) برجل عالم اتبعه، قالوا: ما نعلم في الارض رجلا اعلم من رجل بحمص، فانطلقت إليه فلقيته فقصصت عليه القصة، قال: فقال: او (ما) (٢٥) جاء بك إلا (طلب) (٢٦) العلم، قلت: ما جاء بي إلا طلب العلم، قال: فإني لا اعلم اليوم في الارض اعلم من رجل ياتي بيت المقدس كل سنة، إن انطلقت الآن وجدت حماره. قال: (فانطلقت) (٢٧) فإذا انا بحماره على باب بيت المقدس، فجلست عنده وانطلق، فلم اره حتى الحول، فجاء فقلت له: يا عبد الله ما صنعت بي؟ قال: وإنك لها هنا، قلت: نعم، قال: فإني والله ما اعلم اليوم رجلا اعلم من رجل خرج بارض (تيماء) (٢٨) (وإن) (٢٩) (تنطلق) (٣٠) الآن (توافقه) (٣١) ، وفيه ثلاث آيات: ⦗٣٩٥⦘ ياكل الهدية ولا ياكل الصدقة، وعند غضروف كتفه اليمنى خاتم النبوة مثل بيضة الحمامة لونها لون جلده. قال: فانطلقت ترفعني ارض وتخفضني اخرى حتى مررت بقوم من الاعراب فاستعبدوني فباعوني حتى (اشترتني) (٣٢) امراة بالمدينة، فسمعتهم يذكرون النبي ﷺ (٣٣) وكان (عزيزا) (٣٤) ، فقلت (لها) (٣٥) : هبي لي يوما، قالت: نعم. فانطلقت فاحتطبت (حطبا) (٣٦) فبعته (وصنعت طعاما) (٣٧) فاتيت (به) (٣٨) النبي ﷺ وكان يسيرا فوضعته بين يديه، فقال:"ما هذا؟" قلت: صدقة، قال: فقال لاصحابه:"كلوا"، ولم ياكل، قال: قلت: هذا من علامته، ثم مكثت ما شاء الله ان امكث ثم قلت لمولاتي: هبي لي يوما، قالت: نعم، فانطلقت فاحتطبت حطبا فبعته باكثر من ذلك وصنعت به طعاما، فاتيت به النبي ﵇ (٣٩) وهو جالس بين اصحابه فوضعته بين يديه، قال:"ما هذا؟" قلت: هدية، فوضع يده، وقال لاصحابه:"خذوا باسم الله". وقمت خلفه، فوضع رداءه فإذا خاتم النبوة فقلت: اشهد انك رسول الله قال:"وما ذاك؟" فحدثته عن الرجل ثم قلت: ايدخل الجنة يا رسول الله فإنه ⦗٣٩٦⦘ حدثني انك نبي قال:"لن يدخل الجنة إلا نفس مسلمة" (٤٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في النسخ: (عبد اللَّه)، والتصويب من مسند ابن أبي شيبة (٤٦٨)، وكتب التخريج والرجال.
(٣) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٤) في [س]: (أساودة).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [س]: (فسأ).
(٧) في [س]: (قد خلا)
(٨) سقط من: [ق، ي].
(٩) في [ب]: (ودخلت).
(١٠) في [س]: (معها).
(١١) في [س]: (فيه).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) في [ي]: (كتب).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [س]: (احضر).
(١٦) في [س]: (فحضرت).
(١٧) في [ق]: (صرة).
(١٨) في [جـ]: (حدد لي).
(١٩) سقط من: [أ، ب].
(٢٠) في [جـ]: (وهممت).
(٢١) في [ي]: (أحولها).
(٢٢) في [جـ، س]: (القسيس).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ب].
(٢٤) في [ب]: (وخبروني).
(٢٥) سقط من: [س].
(٢٦) في [ب]: (لطلب).
(٢٧) في [ق]: (وانطلقت).
(٢٨) في [هـ]: (يتماء)، وفي [ب]: (تيمًا).
(٢٩) في [أ]: (أنت).
(٣٠) في [أ، ب]: (أنطلق).
(٣١) في [ب]: (نوافقه).
(٣٢) في [ي]: (استريني)، وفي [س]: (اشتريتني)، وفي [ب]: (دستوتني).
(٣٣) في [هـ]: ﵊.
(٣٤) في [س]: بياض.
(٣٥) سقط من: [أ، ب].
(٣٦) في [أ، ب]: (يومًا).
(٣٧) هكذا في: [ق، هـ]، وكنز العمال، وسقط من بقية النسخ.
(٣٨) سقط من: [س].
(٣٩) في [أ، ب، ق، ي]: ﷺ، وفي [س]: ﵊.
(٤٠) حسن؛ أبو قرة صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٧١٢)، وابن حبان (٧١٢٤)، والحاكم ٤/ ١٠٨، وابن هشام ١/ ٢٢٨، وابن سعد ٤/ ٨١، ووكيع في أخبار القضاة ٢/ ١٨٧، والطحاوي ٢/ ٨، والبزار (٢٤٩٩)، والطبراني (٦١٥٥)، وأبو الشيخ في طبقات المحدثين بأصبهان (٩)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ٤٩، والبيهقي ٦/ ٥٩٨، والخطيب في تاريخ بغداد ١/ ١٦٥، وابن الأثير ٢/ ٤١٧، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١/ ٥١٣.

حضرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ میں فارس کے گھڑ سواروں کی اولاد میں سے تھا۔ اور میں ایک مکتب میں تھا اور میرے ساتھ دو لڑکے (اور) تھے۔ جب یہ دونوں لڑکے اپنے مُعلِّم (استاد) کے پا س سے واپس آئے تو ایک پادری کے پاس آئے اور اس پر داخل ہوئے۔ پس میں بھی ان کے ہمراہ اس پادری پر داخل ہوا۔ پادری نے کہا۔ کیا میں نے تم دونوں (لڑکوں) کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے پاس کسی کو لے کر آؤ؟ حضرت سلمان فرماتے ہیں: میں نے اس پادری کے پاس آنا جانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں اس کو ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہوگیا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ پادری نے مجھے کہا: جب تجھ سے تیرے گھر والے سوال کریں کہ تمہیں کس نے روکے رکھا؟ تو تم کہنا۔ میرے استاد نے۔ اور جب تم سے تمہارا استاد پوچھے۔ تمہیں کس نے روکے رکھا؟ تو تم کہنا: میرے گھر والوں نے۔ ٢۔ پھر اس پادری نے (وہاں سے) منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ تو میں نے اس پادری سے کہا۔ میں (بھی) آپ کے ساتھ نقل مکانی کروں گا۔ پس میں نے اس کے ہمراہ نقل مکانی کی اور ہم ایک بستی میں اترے۔ پس ایک عورت (وہاں پر) اس کے پاس آتی تھی۔ پھر جب اس پادری کی مرگ کا وقت قریب ہوا تو اس پادری نے مجھے کہا۔ اے سلمان! میرے سر کے پاس گڑھا کھودو۔ میں نے اس کے پاس گڑھا کھودا تو درہموں کا ایک گھڑا نکلا۔ پادری نے مجھ سے کہا۔ اس گھڑے کو میرے سینہ پر انڈیل دو۔ میں نے وہ گھڑا اس کے سینہ پر انڈیل دیا۔ پھر پادری کہنے لگا۔ ہلاکت ہو میری ذخیرہ اندوزی کی۔ پھر وہ پادری مرگیا۔ میں نے دراہم کو لینے کا ارادہ کیا۔ پھر مجھے اس کی بات یاد آئی تو میں نے دراہم کو چھوڑ دیا۔ پھر میں نے پادریوں اور عبادت گزاروں کو اس میت کی خبر دی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوئے۔ میں نے ان حاضرین سے کہا۔ یہ اس میت نے کچھ مال چھوڑا ہے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں: بستی میں سے کچھ نوجوان کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا: یہ تو ہمارے باپ کا مال ہے۔ پس انہوں نے وہ مال لے لیا۔ ٣۔ حضرت سلمان کہتے ہیں میں نے عبادت گزاروں سے کہا۔ مجھے کسی صاحب علم آدمی کا بتاؤ تاکہ میں اس کے پیچھے چلوں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں روئے زمین پر حمص کے آدمی سے بڑا صاحب علم معلوم نہیں ہے۔ سو میں اس کی طرف چل دیا اور میں نے اس سے ملاقات کی۔ اور اس کو یہ سارا قصہ سُنایا۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ اس نے کہا۔ کیا تمہیں صرف علم کی طلب (یہاں) لائی ہے؟ میں نے جواباً کہا۔ مجھے صرف علم کی طلب ہی (یہاں) لائی ہے۔ اس نے کہا: میں تو آج روئے زمین پر اس ایک آدمی سے بڑا کسی کو عالم نہیں جانتا جو آدمی ہر سال بیت المقدس میں آتا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو اس کے گدھے کو موجود پاؤ گے۔ حضرت سلمان کہتے ہیں۔ میں چل پڑا تو اچانک میں نے بیت المقدس کے دروازہ پر اس کے گدھے کو موجود پایا۔ پس میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور وہ آدمی چل دیا۔ میں نے اس آدمی کو پورا سال نہیں دیکھا۔ پھر وہ آدمی آیا تو میں نے اس سے کہا: اے بندۂِ خدا! تو نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس نے پوچھا: اور (کیا) تم یہیں پر (رہے) ہو؟ میں نے جواب دیا: ہاں! اس نے کہا: مجھے تو، بخدا! اس آدمی سے بڑے عالم کا پتہ نہیں ہے جو کہ ارض تیماء میں ظاہر ہوا ہے۔ اگر تم ابھی چل پڑو گے تو تم اس کو پالو گے اور اس میں تین نشانیاں ہوں گی۔ وہ شخص ہدیہ کھائے گا۔ اور صدقہ نہیں کھائے گا۔ اور اس کے داہنے کندھے کی نرم ہڈی کے پاس مہر نبوت ہوگی۔ جو کہ کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہوگی اور اس کا رنگ کھال والا ہوگا۔ ٤۔ حضرت سلمان کہتے ہیں: پس میں چلا درآنحالیکہ مجھے زمین کی پستی اور بلندی متاثر کرتی رہی۔ یہاں تک میں دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھے غلام بنا لیا پھر انہوں نے مجھے بیچ دیا۔ یہاں تک کہ مجھے مدینہ میں ایک عورت نے خرید لیا۔ میں نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سُنا۔ زندگی بہت سخت گزر رہی تھی۔ میں نے اس عورت سے کہا: تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چلا گیا اور لکڑیاں چُنی۔ اور ان کو فروخت کیا۔ اور کھانا تیار کیا۔ پھر اس کھانے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ وہ کھانا تھوڑا سا تھا۔ میں نے وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا۔ صدقہ ہے: کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کھاؤ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود تناول نہیں فرمایا: فرماتے ہیں۔ میں نے کہا: یہ اس شخص کی علامات میں سے ہے۔ ٥۔ پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا۔ تم مجھے ایک دن ہدیہ کردو۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ میں چل پڑا اور لکڑیاں اکھٹی کیں اور انہیں پہلے سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا اور [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39365]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39365، ترقيم محمد عوامة 37760)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39365 in Urdu