مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. إسلام عدي بن حاتم الطائي ﵁
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
ترقیم عوامۃ: 37761 ترقیم الشثری: -- 39366
٣٩٣٦٦ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا (حسين) (٢) بن محمد قال: (اخبرنا) (٣) جرير بن حازم عن محمد بن سيرين عن ابي عبيدة بن حذيفة ان رجلا قال: قلت اسال عن حديث (٤) عدي بن حاتم وانا في ناحية الكوفة، فاكون انا الذي اسمعه منه، فاتيته فقلت: اتعرفني؟ قال: نعم، انت فلان بن فلان وسماه باسمه، (قلت) (٥) : حدثني قال: بعث النبي ﵊ (٦) فكرهته اشد ما كرهت شيئا قط فانطلقت حتى انزل اقصى (اهل) (٧) العرب مما (يلي) (٨) الروم، ⦗٣٩٧⦘ فكرهت مكاني اشد مما كرهت (مكاني) (٩) الاول، فقلت: لآتين هذا الرجل فإن كان كاذبا لا يضرني، وإن كان صادقا لا يخفى علي، فقدمت المدينة فاستشرفني الناس وقالوا: جاء عدي بن حاتم فقال: النبي ﷺ:"يا عدي بن حاتم اسلم تسلم"، قلت: إني من اهل دين، قال:"انا اعلم بدينك منك"، قال: قلت: انت اعلم بديني مني؟ قال:"نعم، انا اعلم بدينك منك"، قلت: انت اعلم بديني مني؟ قال:"نعم"، (قال) (١٠) :"الست ركوسيا؟" قلت: بلى، قال:"اولست (تراس) (١١) قومك؟" قلت: بلى، قال:"او لست تاخذ المرباع"، قلت: بلى، قال:"ذلك لا يحل (لك) (١٢) في دينك"، قال: فتواضعت من نفسي، قال:"يا عدي بن حاتم اسلم تسلم، فإني ما اظن او احسب انه يمنعك من ان تسلم إلا خصاصة من ترى حولي، وإنك ترى الناس علينا إلبا واحدا ويدا واحدة، فهل اتيت الحيرة"، قلت: لا، وقد علمت مكانها، قال:"يوشك الظعينة ان (ترحل) (١٣) من الحيرة حتى تطوف بالبيت بغير جوار، (ولتفتحن) (١٤) عليكم كنوز كسرى بن هرمز (١٥) "، قالها ثلاثا، يوشك ان يهم الرجل من يقبل صدقته، (فلقد) (١٦) . رايت الظعينة تخرج من الحيرة تطوف بالبيت بغير جوار، ولقد كنت في اول خيل اغارت على المدائن، (ولتجيء) (١٧) الثالثة إنه ⦗٣٩٨⦘ لقول رسول الله ﷺ (قاله لي) (١٨) (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [أ، ب]: (حسن).
(٣) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٤) في [ق، هـ]: زيادة (عن).
(٥) في [أ، ب]: (قال).
(٦) في [أ، ب، جـ، ي]: ﷺ.
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [هـ]: (يعلي).
(٩) في [ب]: (مكان).
(١٠) سقط من: [ق].
(١١) في [جـ، س]: (برأس).
(١٢) في [جـ]: (لي).
(١٣) في [جـ]: (ترتحل).
(١٤) في [ب]: (وليفتحن).
(١٥) في [أ، ب، س، ق]: زيادة (قال: كسرى. .).
(١٦) في [أ، ب]: (ولقد).
(١٧) في [أ، ب، س]: (وليجين)، وفي [جـ]: (ولتحين).
(١٨) سقط من: [س].
(١٩) حسن؛ أبو عبيدة بن حذيفة صدوق، أخرجه أحمد (١٩٣٨٩)، وابن حبان (٦٦٧٩)، والحاكم ٤/ ٥١٨، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٣٤٣، وابن الأثير ٤/ ٨، والدارقطني ٢/ ٢٢١، وأصله عند البخاري (٣٥٩٥).
حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کہتا ہے۔ میں نے کہا میں عدی بن حاتم کی خبر کے بارے میں پوچھتا ہوں اور میں کوفہ کی ایک بستی میں تھا تاکہ میں اس بات کو خود ان سے سننے والا ہو جاؤں۔ پس میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کاس۔ کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا: ہاں! تم فلاں بن فلاں ہو۔ اور نام لے کر بتایا۔ میں نے کہا: آپ مجھے بات بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو مجھے یہ بات اس قدر ناپسند گزری کہ جتنا میں نے کسی چیز کو (کبھی) ناپسند کیا تھا۔ پس میں چل دیا۔ یہاں تک کہ میں اہل عرب کے آخری حصہ پر، جو روم سے ملحق ہے، جا کر اترا۔ پھر مجھے اپنی وہ جگہ پہلی جگہ سے بھی زیادہ ناپسند ہوگئی۔ تو میں نے کہا: میں ضرور بالضرور اس آدمی کے پاس جاؤں گا۔ پس اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔ اور اگر وہ سچا ہے تو پھر مجھ پر واضح ہوجائے گا۔ ٢۔ پس میں مدینہ میں حاضر ہوا۔ لوگوں نے میری طرف اہتمام سے دیکھا اور کہنے لگے۔ عدی بن حاتم آگیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عدی! اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا۔ میں بھی ایک دین والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ عالم ہوں۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: آپ میرے دین کے مجھ سے (بھی) زیادہ جاننے والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! میں تیرے دین کا تجھ سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ میں نے (دوبارہ) عرض کیا۔ آپ میرے دین کے مجھ سے بھی زیادہ جاننے والے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم رکوسی (عیسائیت اور صائبیت کے مابین مذہب) نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو؟ میں نے کہا۔ کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک ربع نہیں وصول کرتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دین میں تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ عدی کہتے ہیں: میں اندر ہی اندر خود کو گھٹیا سمجھتا رہا۔ ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ سلامتی پا جاؤ گے۔ میرا خیال یا میرا گمان یہی ہے کہ تمہیں اسلام لانے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ تم میرے ارد گرد فقراء کو دیکھ رہے ہو۔ اور تم ہمارے خلاف لوگوں کو متحد اور متفق پاتے ہو۔ کیا تم حیرہ میں گئے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں! لیکن مجھے اس کی جگہ معلوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریب ہے وہ وقت کہ ایک مسار عورت حیرہ سے بغیر کسی ہمسفر کے روانہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گی۔ اور البتہ ضرور بالضرور تم پر کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیئے جائیں گے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی۔ قریب ہے وہ وقت کہ آدمی ایسے شخص کو ڈھونڈے گا جو اس کی زکوۃ قبول کرلے گا۔ ٤۔ پس تحقیق میں (عدی) نے مسافر عورت کو دیکھا کہ وہ ہمسفر کے بغیر حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرنے کو آئی۔ اور تحقیق میں مدائن پر لشکر کشی کرنے والے گھڑ سواروں میں تھا۔ اور البتہ تیری بات کا وقت (بھی) آجائے گا۔ کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمائی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39366، ترقيم محمد عوامة 37761)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39366 in Urdu