🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37784 ترقیم الشثری: -- 39390
٣٩٣٩٠ - حدثنا ابو اسامة عن (مجالد) (١) قال: كتب رسول الله ﷺ إلى جدي وهذا كتابه عندنا:"بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله (٢) إلى عمير ذي مران وإلى من اسلم من همدان، سلام عليكم فإني احمد إليكم الله الذي لا إله إلا هو، اما بعد (ذلكم) (٣) ، فإنه بلغنا إسلامكم مرجعنا من ارض الروم، فابشروا فإن الله قد هداكم بهداه، وإنكم إذا شهدتم ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله واقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة فإن لكم ذمة الله وذمة محمد رسول الله (٤) على دمائكم واموالكم وارض البون التي اسلمتم عليها سهلها وجبلها و (غيولها) (٥) ومراعيها غير مظلومين ولا مضيق عليكم فإن الصدقة لا تحل لمحمد واهل بيته، وإنما هي زكاة تزكون بها اموالكم لفقراء المسلمين، وإن مالك بن مرارة الرهاوي حفظ الغيب وبلغ الخبر وآمرك به يا ذامران خيرا، فإنه منظور إليه، وكتب علي بن ابي طالب والسلام عليكم وليحييكم ربكم" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (مجاهد).
(٢) في [ي]: زيادة ﷺ.
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(٥) غيولها: أنهارها ومجاري مياهما، وفي [ق، هـ]: (عيونها).
(٦) معضل؛ مجالد ضعيف، أخرجه ابن أبي عمر العدني في الإيمان (٧٨)، وورد من حديث مجالد بن سعيد بن عمير عن أبيه عن جده، أخرجه الطبراني ١٧/ (١٠٧)، وابن عدي ٦/ ٤٢٠، وورد من حديث مجالد عن الشعبي عن عامر بن شهر أخرجه أبو داود (٣٠٢٧)، وأبو يعلى (٦٨٦٤)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٢، وابن سعد ٦/ ٢٨.

حضرت مجاہد فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے دادا کو خط تحریر فرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامہ مبارک ہے۔ ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط ذی مُرَّان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہو! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے بعد! ہمیں ارض روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ تو پس تمہارے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہو اس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ، اس کے چشمے اور اس کی چراگاہیں تمہاری ہیں۔ نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ (کا مال) محمد اور اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہے۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراء کو دے کر پاک کرو گے۔ بیشک مالک بن مرارہ رہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا۔ اور اے ذی مران! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظر ہے۔ اور یہ خط علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ والسلام علیکم۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39390، ترقيم محمد عوامة 37784)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39390 in Urdu