🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37781 ترقیم الشثری: -- 39387
٣٩٣٨٧ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا محمد بن فضيل عن حصين (عن) (٢) عبد الله بن شداد قال: كتب كسرى إلى باذام اني نبئت ان رجلا يقول شيئا لا ادري ما هو، فارسل إليه فليقعد في بيته ولا يكن من الناس في شيء وإلا ⦗٤٠٩⦘ فليواعدني موعدا القاه به، قال: فارسل باذام إلى رسول الله ﷺ رجلين حالقي لحاهما مرسلي شواربهما، فقال رسول الله ﷺ:"ما يحملكما على هذا؟" (قال) (٣) : فقالا له: يامرنا به (الذي) (٤) يزعمون انه ربهم قال: فقال رسول الله ﷺ:"لكنا نخالف سنتكم، نجز هذا، ونرسل هذا"، قال: فمر به رجل من قريش طويل الشارب فامره رسول الله ﷺ ان يجزهما، قال: (فتركهما) (٥) بضعا وعشرين يوما، ثم قال:"اذهبا إلى (الذي) (٦) يزعمون انه ربكما، فاخبراه ان ربي قتل الذي يزعم انه ربه"، قالا: متى؟ قال:"اليوم" قال: فذهبا إلى باذام فاخبراه الخبر، قال: فكتب إلى كسرى فوجدوا اليوم هو الذي قتل فيه كسرى (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق].
(٢) في [س، ي]: (بن).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٤) في [ط، ي]: (الذين).
(٥) في [ط، هـ]: (فتركها).
(٦) في [أ، ب، س]: (الذين).
(٧) مرسل؛ عبد اللَّه بن شداد تابعي.

حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے کہ کسریٰ نے باذام کو لکھا کہ مجھے خبر دی گئی ہے۔ کہ ایک آدمی وہ بات کہتا ہے جو مجھے معلوم نہیں ہے۔ پس تم اس کی طرف کسی کو بھیجو تاکہ وہ اپنے گھر میں سکون کرے اور لوگوں میں کسی بات کو نہ پھیلائے وگرنہ میرے ساتھ کوئی وقت اور جگہ مقرر کرلے میں اس سے وہاں ملوں گا۔ راوی کہتے ہیں۔ باذام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو داڑھی منڈے ہوئے آدمیوں کو بھیجا جن کی مونچھیں لمبی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات پر کس نے ابھارا ہے؟ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ کہ ہمیں اس نے اس بات کا حکم دیا ہے جو لوگوں کے گمان کے مطابق ان کا پروردگار ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لیکن ہم تمہارے طریقہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم اس کو (مونچھوں کو) صاف کرتے ہیں اور اس (داڑھی) کو بڑھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک دراز مونچھوں والا قریشی مرد گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ انہیں کاٹ دو۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قاصدوں کو بیس سے کچھ اوپر دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں اس کے پاس جاؤ جس کو تم اپنا پروردگار گمان کرتے ہو اور اس کو بتاؤ کہ میرے رب نے اس شخص کو قتل کردیا ہے جو اپنے گمان میں رب بنا ہوا تھا۔ ان آدمیوں نے پوچھا: یہ کب ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن۔ راوی کہتے ہیں: پس یہ دونوں باذام کی طرف گئے اور جا کر اس کو یہ خبر دی۔ راوی کہتے ہیں: ا س نے کسریٰ کو خط لکھا تو انہوں نے کسریٰ کے قتل کو آج ہی کے دن میں رونما پایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39387]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39387، ترقيم محمد عوامة 37781)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37782 ترقیم الشثری: -- 39388
٣٩٣٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن حرملة الاسلمي قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: كتب رسول الله ﷺ إلى كسرى وقيصر والنجاشي:"اما بعد، تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد إلا الله، ولا نشرك به شيئا، ولا (يتخذ) (١) بعضنا بعضا اربابا من دون الله، فإن تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون"، قال سعيد بن المسيب: فمزق كسرى الكتاب ولم ينظر فيه، قال نبي الله:"مزق ومزقت امته"، فاما النجاشي فآمن (٢) من كان عنده، وارسل إلى رسول الله ﷺ بهدية حلة، فقال رسول الله ﷺ:"اتركوه ما ترككم"، واما قيصر فقرا ⦗٤١٠⦘ كتاب رسول الله ﷺ فقال: هذا كتاب لم اسمع به بعد سليمان النبي (٣) بسم الله الرحمن الرحيم، ثم ارسل إلى (ابي) (٤) سفيان والمغيرة بن شعبة كانا تاجرين بارضه، فسالهما عن بعض شان رسول الله ﷺ وسالهما: من تبعه؟ فقالا: تبعه النساء وضعفة الناس، فقال: ارايتما الذين يدخلون معه ويرجعون؟ قالا: لا، قال: هو نبي، ليملكن ما تحت قدمي، لو كنت عنده لقبلت قدميه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ي]: (تتخذ).
(٢) أي: من الأمان لمن عنده من الصحابة، وفي رواية أبي عبيد: (فآمن أو قال: فأسلم وآمن من كان عنده من أصحاب النبي ﷺ)، وفي [ق، هـ]: (فآمن وآمن).
(٣) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﵇.
(٤) سقط من: [ب].
(٥) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه سعيد بن منصور ق/ ١ (٢٤٨٠)، والقزويني في التدوين ٣/ ٤١٨، وأبو عبيد في الأموال (٥٩)، وأشار له البخاري في الصحيح (٦٤).

حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں: کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو۔ اور قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا: یہ بتاؤ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! قیصرنے کہا۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39388، ترقيم محمد عوامة 37782)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37783 ترقیم الشثری: -- 39389
٣٩٣٨٩ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن يعقوب عن جعفر بن عمرو قال: بعث رسول الله ﷺ اربعة نفر إلى اربعة وجوه: رجلا إلى كسرى، ورجلا إلى قيصر، ورجلا إلى المقوقس، وبعث عمرو بن امية إلى النجاشي، فاصبح كل رجل منهم يتكلم بلسان القوم الذين بعث إليهم، فلما اتى عمرو بن امية النجاشي وجد لهم بابا صغيرا يدخلون منه مكفرين (١) ، فلما راى عمرو ذلك ولى ظهره القهقري، قال: فشق ذلك على الحبشة في مجلسهم عند النجاشي حتى هموا به حتى قالوا للنجاشي: إن هذا لم يدخل كما دخلنا، قال: ما منعك ان تدخل كما دخلوا؟ قال: إنا لا نصنع هذا بنبينا (٢) ، ولو صنعناه باحد صنعناه به، قال: صدق، قال: دعوه، قالوا للنجاشي: هذا يزعم ان عيسى (٣) مملوك، قال: فما تقول في عيسى (٤) ؟ قال: كلمة ⦗٤١١⦘ الله وروحه، قال: (ما استطاع) (٥) عيسى ان يعدو ذلك (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: ذليلين.
(٢) في [ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٣) في [ي]: زيادة ﵇.
(٤) في [ي]: زيادة ﵇.
(٥) في [أ]: (ما استطل).
(٦) مرسل؛ جعفر تابعي، ويعقوب مجهول، أخرجه الطبراني في الأوسط (٤٨٩)، وابن عساكر ٤٥/ ٤٢٩.

حضرت جعفر بن عمرو کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار افراد کو چار افراد کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ ایک آدمی کو کسریٰ کی طرف۔ ایک آدمی کو قیصر کی طرف، ایک آدمی کو مقوقس کی طرف اور عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اس قوم کی زبان بولنے والا ہوگیا جن کی طرف انہیں (قاصد بنا کر) بھیجا گیا تھا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ، نجاشی کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے انکے ہاں ایک چھوٹا دروازہ پایا جس میں سے لوگ جھک کر گزرتے تھے۔ پس جب حضرت عمرو نے یہ دیکھا تو آپ الٹے پاؤں واپس ہو لئے۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات نجاشی کی مجلس میں بیٹھے حبشی لوگوں کو شاق گزری یہاں تک کہ انہوں نے ان کا ارادہ کیا۔ اور یہاں تک کہ انہوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا۔ یہ آدمی اس طرح اندر نہیں داخل ہوا جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں۔ نجاشی نے پوچھا۔ تمہیں لوگوں کی طرح اندر داخل ہونے سے کس چیز نے منع کیا ہے؟ حضرت عمرو نے فرمایا: ہم یہ کام اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں کرتے اور اگر ہم یہ کام کسی کے ساتھ کرتے تو ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ کام کرتے۔ نجاشی نے کہا۔ اس نے سچ کہا ہے اور نجاشی نے کہا۔ اس کو چھوڑ دو۔ لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ مملوک ہیں۔ نجاشی نے پوچھا: تم عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ حضرت عمرو نے فرمایا: وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (یعنی واقعۃً ایسا ہی ہے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39389]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39389، ترقيم محمد عوامة 37783)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37784 ترقیم الشثری: -- 39390
٣٩٣٩٠ - حدثنا ابو اسامة عن (مجالد) (١) قال: كتب رسول الله ﷺ إلى جدي وهذا كتابه عندنا:"بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله (٢) إلى عمير ذي مران وإلى من اسلم من همدان، سلام عليكم فإني احمد إليكم الله الذي لا إله إلا هو، اما بعد (ذلكم) (٣) ، فإنه بلغنا إسلامكم مرجعنا من ارض الروم، فابشروا فإن الله قد هداكم بهداه، وإنكم إذا شهدتم ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله واقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة فإن لكم ذمة الله وذمة محمد رسول الله (٤) على دمائكم واموالكم وارض البون التي اسلمتم عليها سهلها وجبلها و (غيولها) (٥) ومراعيها غير مظلومين ولا مضيق عليكم فإن الصدقة لا تحل لمحمد واهل بيته، وإنما هي زكاة تزكون بها اموالكم لفقراء المسلمين، وإن مالك بن مرارة الرهاوي حفظ الغيب وبلغ الخبر وآمرك به يا ذامران خيرا، فإنه منظور إليه، وكتب علي بن ابي طالب والسلام عليكم وليحييكم ربكم" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (مجاهد).
(٢) في [ي]: زيادة ﷺ.
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(٥) غيولها: أنهارها ومجاري مياهما، وفي [ق، هـ]: (عيونها).
(٦) معضل؛ مجالد ضعيف، أخرجه ابن أبي عمر العدني في الإيمان (٧٨)، وورد من حديث مجالد بن سعيد بن عمير عن أبيه عن جده، أخرجه الطبراني ١٧/ (١٠٧)، وابن عدي ٦/ ٤٢٠، وورد من حديث مجالد عن الشعبي عن عامر بن شهر أخرجه أبو داود (٣٠٢٧)، وأبو يعلى (٦٨٦٤)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٢، وابن سعد ٦/ ٢٨.

حضرت مجاہد فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے دادا کو خط تحریر فرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامہ مبارک ہے۔ شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط ذی مُرَّان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہو! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے بعد! ہمیں ارض روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ تو پس تمہارے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہو اس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ، اس کے چشمے اور اس کی چراگاہیں تمہاری ہیں۔ نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ (کا مال) محمد اور اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہے۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراء کو دے کر پاک کرو گے۔ بیشک مالک بن مرارہ رہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا۔ اور اے ذی مران! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظر ہے۔ اور یہ خط علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ والسلام علیکم۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39390، ترقيم محمد عوامة 37784)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37785 ترقیم الشثری: -- 39391
٣٩٣٩١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس ابن ابي حازم قال: بعث رسول الله ﷺ إلى خثعم لقوم كانوا فيهم، فلما غشيهم المسلمون استعصموا بالسجود، قال: فسجدوا، قال: فقتل بعضهم فبلغ ذلك رسول الله ﷺ فقال:"اعطوهم نصف العقل لصلاتهم"، ثم قال النبي ﷺ:"الا إني بريء من كل مسلم مع مشرك" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه الشافعي في المسند ص ٢٠٢ والأم ٦/ ٣٥، والبيهقي ٨/ ١٣٠، وأصله عند النسائي (٦٩٨٢) والترمذي (١٦٠٥)، وسعيد ١/ (٢٦٦٣)، وورد من حديث قيس عن جرير، أخرجه الطبراني (٢٢٦٥)، وبنحوه عند أبي داود (٢٦٤٥)، والترمذي (١٦٠٤)، وورد من حديث قيس عن خالد عند الطبراني (٣٨٣٦)، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٢٧٤.
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خثعم قبیلہ کی طرف انہی میں سے کچھ لوگوں کو قاصد بنا کر بھیجا۔ پس جب مسلمانوں نے ان کو ڈھانپ (گھیر) لیا تو ان لوگوں نے سجدوں کے ذریعہ حفاظت طلب کی (یعنی سجدوں سے اپنا اسلام ظاہر کیا)۔ راوی کہتے ہیں: پس ان لوگوں نے سجدہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر بھی مسلمانوں نے بعض ساجدین کو قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کی نمازوں کی وجہ سے ان کی نصف دیت ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! جو مسلمان مشرک کے ہمراہ رہ رہا ہے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39391]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39391، ترقيم محمد عوامة 37785)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37786 ترقیم الشثری: -- 39392
٣٩٣٩٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن الاعمش عن ابي ظبيان عن اسامة قال: بعثنا رسول الله ﷺ في سرية فصبحنا (الحرقات) (١) من جهينة، فادركت رجلا فقال: لا إله إلا الله، فطعنته فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي ﷺ فقال النبي ﷺ:"قال: لا إله إلا الله وقتلته"، قال: قلت: يا رسول الله، إنما قالها فرقا من السلاح؟ قال:"هلا شققت عن قلبه حتى تعلم اقالها فرقا من السلاح ام لا"، فما زال يكررها حتى تمنيت اني اسلمت يومئذ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ي]: (الخرقات).
(٢) حسن؛ أبو خالد صدوق، والخبر أخرجه البخاري (٤٢٦٩)، ومسلم (٩٦).

حضرت اسامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا: ہم نے جہینہ قبیلہ میں سے ایک آدمی کو پالیا تو اس نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا۔ میں نے اس کو نیزہ مار دیا۔ پھر یہ بات میرے دل میں ٹھہر گئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ کہا اور تم نے پھر بھی اس کو قتل کردیا؟ راوی کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس نے تو اسلحہ سے ڈر کر یہ کلمہ کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو نے اس کا دل کیوں نہ چیرا تاکہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے یہ کلمہ اسلحہ کے ڈر سے کہا ہے کہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اتنی مرتبہ دوہرائی کہ میرے دل میں یہ آرزو ہوئی کہ (کاش) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39392]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39392، ترقيم محمد عوامة 37786)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37787 ترقیم الشثری: -- 39393
٣٩٣٩٣ - حدثنا يزيد بن هارون (قال: اخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن (عمر) (٢) ابن الحكم بن (ثوبان) (٣) عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله ﷺ بعث علقمة بن ⦗٤١٣⦘ (مجزز) (٤) على بعث انا فيهم، فلما انتهى (إلى) (٥) راس غزاته او كان ببعض الطريق استاذنته طائفة من الجيش فاذن لهم، وامر عليهم عبد الله بن حذافة بن قيس السهمي، فكنت فيمن غزا معه، فلما كنا ببعض الطريق اوقد القوم نارا ليصطلوا او (ليصطنعوا) (٦) عليها (صنيعا) (٧) لهم، فقال عبد الله وكانت فيه دعابة: اليس لي عليكم السمع والطاعة، قالوا: بلى، قال: فما انا بآمركم (٨) شيئا إلا صنعتموه، قالوا: نعم، قال: فإني اعزم عليكم الا تواثبتم في هذه النار، قال: فقام ناس (فتحجزوا) (٩) ، فلما ظن انهم واثبون قال: امسكوا على انفسكم، فإنما كنت امزح معكم، فلما قدمنا ذكرنا ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"من امركم منهم بمعصية فلا (تطيعوه) (١٠) " (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (قال: لنا).
(٢) في [أ، ب]: (الحكم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (نوفل).
(٤) انظر: الإصابة ٤/ ٥٥٩، وشرح مشكل الآثار ٤/ ٣٠٦، وهدي الساري ص ٢١٦، والإكمال ٧/ ١٦٨، وتوضيح المشتبه ٨/ ٧٧، وفي [أ، ب، هـ]: (محرز)، وفي [جـ]: (محرر).
(٥) في [أ، ب]: (على).
(٦) في [أ، ب]: (يسطتعوا).
(٧) في [هـ]: (عليه شيئًا).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (بشيء).
(٩) في [أ، ب، ط، هـ]: (فتجهزوا).
(١٠) في [هـ]: (تطيعوهم).
(١١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٦٣٩)، وابن ماجه (٢٨٦٣)، وابن حبان (٤٥٥٨)، وأبو يعلى (١٣٤٩).

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علقمہ بن محرز کو ایک وفد میں امیر بنا کر بھیجا۔ میں بھی اس وفد میں تھا۔ پس جب یہ راستہ میں تھے یا یوں فرمایا کہ کچھ راستہ طے کرچکے تھے تو ان سے لشکر کے ایک گروہ نے اجازت مانگی۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر فرما دیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا تھا۔ پس جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو لوگوں نے آگ جلائی تاکہ ہاتھ پاؤں گرم کریں یا اس آگ پر کوئی کھانا وغیرہ بنائیں۔ عبد اللہ (امیر قافلہ) کہنے لگے۔ یہ مذاق و ہنسی کرتے تھے۔ کیا تم پر میری بات کا سننا اور ماننا واجب نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! تو عبد اللہ نے کہا: پس میں تمہیں جو بھی حکم دوں گا تم اس کی تعمیل کرو گے؟ لوگوں نے کہا: ہاں! عبد اللہ نے کہا: میں تمہں تاکیداً یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور اس کے لئے تیار ہوگئے۔ پھر جب عبد اللہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ لوگ کود جائیں گے تو انہوں نے کہا: تم لوگ ٹھہر جاؤ۔ میں تو تمہارے ساتھ محض مزاح کر رہا تھا۔ پھر جب واپس آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں، ان (امرائ) میں سے جو گناہ کا حکم دے تو تم اس کی بات نہ مانو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39393]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39393، ترقيم محمد عوامة 37787)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37788 ترقیم الشثری: -- 39394
٣٩٣٩٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الاجلح عن عبد الله بن ابي الهذيل قال: بعث رسول الله ﷺ خالد بن الوليد إلى العزى، (١) فجعل يضربها بسيفه ويقول: (٢) إني رايت الله قد اهانك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبا بردة).
(٢) في [ي]: زيادة (كفرانك لا سبحانك).
(٣) مرسل؛ عبد اللَّه بن أبي الهذيل تابعي، أخرجه خليفة بن خياط في التاريخ ص ٨٨.

حضرت عبد اللہ بن ابی الہذیل کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو عُزیٰ کی طرف بھیجا۔ پس حضرت خالد عُزیّٰ کو تلواریں مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ اے عُزیّٰ! تم قابل انکار ہو نہ کہ قابل تقدیس، میں نے دیکھ لیا ہے کہ تجھے اللہ نے رسوا کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39394]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39394، ترقيم محمد عوامة 37788)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37789 ترقیم الشثری: -- 39395
٣٩٣٩٥ - حدثنا وكيع عن عمرو بن عثمان بن موهب قال: سمعت ابا بردة يقول: كتب رسول الله ﷺ إلى رجل من اهل الكتاب:"اسلم انت"، قال: فلم يفرغ النبي ﵊ (١) (من كتابه حتى اتاه كتاب من ذلك الرجل انه يقرا على النبي ﷺ فيه السلام، فرد النبي ﷺ ﵇ (٢) في اسفل كتابه) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٢) سقط من: [أ، هـ].
(٣) سقط من: [أ].
(٤) مرسل؛ أبو بردة بن أبي موسى تابعي.

حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی کو خط لکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابھی اپنے خط (لکھوانے) سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اسی آدمی کا خط آگیا کہ وہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتی کی دعا کر رہا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خط کے آخر میں اس کے سلام کا جواب دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39395]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39395، ترقيم محمد عوامة 37789)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37790 ترقیم الشثری: -- 39396
٣٩٣٩٦ - حدثنا وكيع عن قرة بن خالد السدوسي عن يزيد بن عبد الله بن الشخير قال: كنا جلوسا بهذا (المربد) (١) بالبصرة، فجاء اعرابي معه قطعة (من) (٢) اديم او قطعة من جراب فقال: هذا كتاب كتبه لي النبي ﷺ، قال: فاخذته فقراته على القوم، فإذا فيه:"بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله ﷺ لبني زهير ابن (اقيش) (٣) : إنكم (إن) (٤) اقمتم الصلاة واتيتم الزكاة واعطيتم من المغانم الخمس وسهم النبي والصفي فانتم آمنون بامان الله وامان رسوله (٥) "، قال: فما سمعت رسول الله ﷺ يقول شيئا، قال: سمعته يقول:"صوم شهر الصبر وثلاثة ايام من كل شهر يذهبن وحر الصدر" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (المريد).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (أقيس)، وفي [ق]: (أقتيش).
(٤) في [أ، ب]: (إذا).
(٥) في [جـ، س، ي]: زيادة ﷺ.
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٠٧٠)، والنسائي ٧/ ١٣٤، وابن سعد ١/ ٢٧٩، وأبو عبيد في الأموال (٣٠)، وابن زنجويه (٨٠)، والطحاوي ٣/ ٣٠٢، وابن قانع ٣/ ١٦٥، والطبراني في الأوسط (٤٩٣٧)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ٣٠٦، والخطيب في الأسماء المبهمة ص ٣١٥، وابن الأثير ٥/ ٣٥٨.

حضرت یزید بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ ہم بصرہ میں اس باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے یا کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس آدمی نے کہا۔ یہ وہ خط ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تحریر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اس خط کو پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ تحریر تھا۔ بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محمد کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کی طرف۔ بلاشبہ اگر تم لوگ نماز کو قائم کرو اور زکوۃ کو ادا کرو اور غنائم میں سے خمس، سہم ال نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حاکم کا منتخب حصہ ادا کرو تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امان حاصل ہوگا۔ راوی نے پوچھا۔ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات سُنی ہے؟ اعرابی نے کہا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور ہر ماہ تین دن کے روزے سینہ کے وساوس کو ختم کردیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39396]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39396، ترقيم محمد عوامة 37790)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں