🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37787 ترقیم الشثری: -- 39393
٣٩٣٩٣ - حدثنا يزيد بن هارون (قال: اخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن (عمر) (٢) ابن الحكم بن (ثوبان) (٣) عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله ﷺ بعث علقمة بن ⦗٤١٣⦘ (مجزز) (٤) على بعث انا فيهم، فلما انتهى (إلى) (٥) راس غزاته او كان ببعض الطريق استاذنته طائفة من الجيش فاذن لهم، وامر عليهم عبد الله بن حذافة بن قيس السهمي، فكنت فيمن غزا معه، فلما كنا ببعض الطريق اوقد القوم نارا ليصطلوا او (ليصطنعوا) (٦) عليها (صنيعا) (٧) لهم، فقال عبد الله وكانت فيه دعابة: اليس لي عليكم السمع والطاعة، قالوا: بلى، قال: فما انا بآمركم (٨) شيئا إلا صنعتموه، قالوا: نعم، قال: فإني اعزم عليكم الا تواثبتم في هذه النار، قال: فقام ناس (فتحجزوا) (٩) ، فلما ظن انهم واثبون قال: امسكوا على انفسكم، فإنما كنت امزح معكم، فلما قدمنا ذكرنا ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"من امركم منهم بمعصية فلا (تطيعوه) (١٠) " (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (قال: لنا).
(٢) في [أ، ب]: (الحكم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (نوفل).
(٤) انظر: الإصابة ٤/ ٥٥٩، وشرح مشكل الآثار ٤/ ٣٠٦، وهدي الساري ص ٢١٦، والإكمال ٧/ ١٦٨، وتوضيح المشتبه ٨/ ٧٧، وفي [أ، ب، هـ]: (محرز)، وفي [جـ]: (محرر).
(٥) في [أ، ب]: (على).
(٦) في [أ، ب]: (يسطتعوا).
(٧) في [هـ]: (عليه شيئًا).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (بشيء).
(٩) في [أ، ب، ط، هـ]: (فتجهزوا).
(١٠) في [هـ]: (تطيعوهم).
(١١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٦٣٩)، وابن ماجه (٢٨٦٣)، وابن حبان (٤٥٥٨)، وأبو يعلى (١٣٤٩).

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علقمہ بن محرز کو ایک وفد میں امیر بنا کر بھیجا۔ میں بھی اس وفد میں تھا۔ پس جب یہ راستہ میں تھے یا یوں فرمایا کہ کچھ راستہ طے کرچکے تھے تو ان سے لشکر کے ایک گروہ نے اجازت مانگی۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر فرما دیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا تھا۔ پس جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو لوگوں نے آگ جلائی تاکہ ہاتھ پاؤں گرم کریں یا اس آگ پر کوئی کھانا وغیرہ بنائیں۔ عبد اللہ (امیر قافلہ) کہنے لگے۔ یہ مذاق و ہنسی کرتے تھے۔ کیا تم پر میری بات کا سننا اور ماننا واجب نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! تو عبد اللہ نے کہا: پس میں تمہیں جو بھی حکم دوں گا تم اس کی تعمیل کرو گے؟ لوگوں نے کہا: ہاں! عبد اللہ نے کہا: میں تمہں تاکیداً یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور اس کے لئے تیار ہوگئے۔ پھر جب عبد اللہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ لوگ کود جائیں گے تو انہوں نے کہا: تم لوگ ٹھہر جاؤ۔ میں تو تمہارے ساتھ محض مزاح کر رہا تھا۔ پھر جب واپس آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں، ان (امرائ) میں سے جو گناہ کا حکم دے تو تم اس کی بات نہ مانو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39393]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39393، ترقيم محمد عوامة 37787)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39393 in Urdu