🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37792 ترقیم الشثری: -- 39398
٣٩٣٩٨ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: بعث رسول الله ﷺ عمرا على جيش ذات السلاسل إلى لخم و (جذام) (١) ومسانف الشام، قال: وكان في اصحابه قلة، قال: فقال (لهم) (٢) عمرو: لا يوقدن احد منكم نارا، فشق ذلك عليهم، فكلموا ابا بكر ان يكلم عمرا فكلمه فقال: لا يوقد احد نارا إلا القيته فيها، فقابل العدو فظهر عليهم واستباح عسكرهم، فقال (له) (٣) الناس: الا نتبعهم؟ فقال: لا، إني اخشى ان يكون لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون (بها) (٤) المسلمين (٥) ، (فشكوه) (٦) (إلى) (٧) النبي ﷺ حين رجعوا فقال:"صدقوا يا عمرو"، (قال) (٨) : كان ⦗٤١٦⦘ في اصحابي قلة فخشيت ان يرغب العدو في قتلهم، فلما اظهرني الله عليهم قالوا: اتبعهم؟ قلت: اخشى ان (تكون) (٩) لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون بها المسلمين، قال: (فكان) (١٠) النبي ﷺ حمد امره (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (حذام).
(٢) في [أ]: (له).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [س، ي]: (المسلمون).
(٦) في [أ، ب، جـ، ي]: (فشكرره).
(٧) في [ي]: (آل).
(٨) في [ق]: (فقالوا)، وسقط من: [أ، ب].
(٩) في [ب، س، ي]: (يكون).
(١٠) في [أ، ب]: (وكان).
(١١) مرسل؛ قيس تابعي، وقد ورد الخبر من طريق قيس عن عمرو بن العاص، أخرجه ابن حبان (٤٥٤٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٨٠٤)، وابن عساكر ٢/ ٢٧.

حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لشکر کو لخم، جذام اور مسایف شام کی طرف حضرت عمرو کی امارت میں روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کی قلت تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمرو نے لوگوں سے کہا۔ تم میں سے کوئی شخص آگ روشن نہ کرے۔ یہ بات لوگوں کو بہت شاق گزری تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی۔ کہ وہ حضرت عمرو سے بات کریں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمرو سے اس کے بارے میں بات کی تو آپ نے فرمایا: جو شخص آگ روشن کرے گا تو میں اس شخص کو اسی آگ میں دھکیل دوں گا۔ پھر حضرت عمرو نے دشمن سے لڑائی کی تو ان پر غلبہ پایا اور ان کے لشکر کی جڑ اکھاڑ ڈالی۔ لوگوں نے پوچھا: کیا ہم دشمن کا پیچھا نہ کریں؟ حضرت عمرو نے فرمایا: نہیں! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس پہاڑ کے پیچھے ان کی کمک موجود نہ ہو۔ جس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کو ٹکڑے کردیں۔ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں واپس لوٹے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمرو کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے عمرو! یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ حضرت عمرو نے عرض کیا۔ میرے ساتھیوں کی قلّت تھی۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ دشمن ان میں ان کی قلت کی وجہ سے رغبت کرے گا (اس لئے آگ جلانے سے منع کیا) پس جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تو ان لوگوں نے کہا۔ ان کا پیچھا کرو۔ میں نے کہا؛ مجھے یہ خوف ہے کہ اس پہاڑ کی اوٹ میں دشمن کی کمک موجود ہوگی جو مسلمانوں کے ٹکڑے کر دے گی۔ راوی کہتے ہیں۔ گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرو کی بات کی تعریف فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39398، ترقيم محمد عوامة 37792)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39398 in Urdu