🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37833 ترقیم الشثری: -- 39440
٣٩٤٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن جرير بن حازم عن اخيه يزيد بن حازم عن عكرمة مولى ابن عباس قال: لا نزل المسلمون بدرا واقبل المشركون (نظر) (١) رسول الله ﷺ إلى عتبة بن ربيعة وهو على جمل له احمر، فقال:"إن يك عند احد من القوم خير فعند صاحب الجمل الاحمر، إن يطيعوه يرشدوا"، فقال عتبة: اطيعوني ولا تقاتلوا هؤلاء القوم، فإنكم إن فعلتم لم يزل (ذاك) (٢) في قلوبكم، ينظر الرجل إلى قاتل اخيه وقاتل ابيه، (فاجعلوا) (٣) (في جبنها) (٤) وارجعوا، قال: (فبلغت) (٥) ابا جهل فقال: انتفخ والله سحرة حيث راى محمدا (٦) واصحابه، والله ما ذاك به، وإنما ذاك لان ابنه معهم، وقد علم ان محمدا واصحابه اكلة جزور لو قد التقينا، قال: ⦗٤٣٦⦘ فقال عتبة: (سيعلم) (٧) مصفر استه (من) (٨) الجبان المفسد لقومه، اما والله إني لارى تحت القشع قوما ليضربنكم ضربا (٩) يدعون لكم البقيع، اما ترون كان رؤوسهم رؤوس الافاعي، وكان وجوههم السيوف، قال: ثم دعا اخاه وابنه ومشى بينهما حتى إذا (فصل (١٠) من الصف دعا إلى المبارزة (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (نزل).
(٢) في [س]: (ذلك).
(٣) في [أ، ب]: (فارجعوا).
(٤) في [ق، هـ]: (إلى جنبها).
(٥) في [أ، ب]: (فبلغ).
(٦) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [س]: (عن).
(٩) في [جـ، ق]: زيادة (ما).
(١٠) في [ي]: (نصل)، وفي [ب، م]: (اتصل)، وفي [أ]: (تصل).
(١١) مرسل؛ عكرمة تابعي.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اترے اور مشرکین سامنے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا: اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر (کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں (مسلمانوں) سے لڑائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو (زندہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دو اور لوٹ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا: بخدا! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ کو دیکھا ہے بزدل ہوگیا ہے۔ بخدا! (جو یہ کہہ رہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑیں تو وہ کم عدد لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں: عتبہ نے کہا: عنقریب اپنی سرین کو زرد کرنے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے۔ بخدا! میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لئے بقیع کو پکاریں گے۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح (بلند) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہں س؟ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39440]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39440، ترقيم محمد عوامة 37833)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39440 in Urdu