مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37808 ترقیم الشثری: -- 39415
٣٩٤١٥ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه قال: (كانت) (٢) بدر لسبع عشرة من رمضان في يوم جمعة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ي]: (كاتب).
(٣) مرسل؛ أبو جعفر تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢١، وأحمد في العلل ٣/ ٣٥٣.
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بدر کا واقعہ، جمعہ کے روز، سترہ رمضان کو واقع ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39415، ترقيم محمد عوامة 37808)
ترقیم عوامۃ: 37809 ترقیم الشثری: -- 39416
٣٩٤١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا خالد بن عبد الله قال: (اخبرنا) (١) عمرو بن يحيى عن (عمرو بن) (٢) عامر بن عبد الله بن الزبير عن ابيه عن عامر بن ربيعة البدري قال: كانت بدر يوم الاثنين لسبع عشرة من رمضان (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ي]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [ط، ق، هـ].
(٣) مضطرب؛ فقد ورد مرة: (عن عمرو بن يحيى عن عمرو بن عامر)، ومرة: (عن عامر)، ومرة: (عن عامر بن ربيعة)، ومرة: (عن عامر بن عبد اللَّه)، أخرجه من مسند عامر بن ربيعة مسدد كما في المطالب العالية (٤٢٤٤)، وابن سعد ٢/ ٢٠، والبيهقي في الدلائل ٣/ ١٢٨، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٤، وأخرجه من مسند عامر بن عبد اللَّه: ابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٧، والضياء ٨/ (٢٢٢)، والطبراني كما في الإصابة ٢/ ٢٤٥.
حضرت عامر بن ربیعہ بدری بیان کرتے ہیں کہ بدر کا واقعہ بروز پیر، سترہ رمضان کو رونما ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39416، ترقيم محمد عوامة 37809)
ترقیم عوامۃ: 37810 ترقیم الشثری: -- 39417
٣٩٤١٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن عبد الله قال: قال: تحروها (لإحدى) (١) عشرة تبقى: صبيحة بدر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (بإحدى).
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٢٣، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ١٢٨، وبنحوه سعيد بن منصور ٢/ (٩٩٥).
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے۔ صحابہ کرام نے بدر کا قصد چاند کے طلوع سے گیارہ راتیں پہلے کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39417]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39417، ترقيم محمد عوامة 37810)
ترقیم عوامۃ: 37811 ترقیم الشثری: -- 39418
٣٩٤١٨ - حدثنا (الفضل) (١) بن دكين قال: حدثنا (عمر) (٢) بن (شيبة) (٣) قال: سالت ابا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام: اي ليلة كانت ليلة بدر؟ فقال: هي ليلة (الجمعة) (٤) لسبع عشرة ليلة مضت من رمضان (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الفضيل).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (عمرو).
(٣) في [ط، هـ]: (شبة)؛ وزاد بعدها من طبقات ابن سعد ٢/ ٢١: (عن الزهري)، وعمر بن شيبة بن قارض يحدث عن أبي بكر بن عبد الرحمن كما تقدم في كتاب الصلاة باب ليلة القدر برقم [٨٩١٨].
(٤) في [أ، ب]: (الجمع).
(٥) مرسل؛ أبو بكر تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢١.
عمرو بن شیبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن عبد الرحمان سے پوچھا: بدر کا واقعہ کس رات کو رونما ہوا؟ انہوں نے جواب دیا۔ شبِ جمعہ کو۔ اور رمضان کی سترہ تاریخ کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39418]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39418، ترقيم محمد عوامة 37811)
ترقیم عوامۃ: 37812 ترقیم الشثری: -- 39419
٣٩٤١٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن عامر قال: إن بدرا إنما كانت (بئرا) (١) لرجل (يدعى) (٢) بدرا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بين).
(٢) في [أ، ب، س]: (يرعى).
حضرت عامر بیان فرماتے ہیں کہ بدر (کی جگہ پر) ایک آدمی کا کنواں تھا۔ جس آدمی کا نام بھی بدر تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39419]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39419، ترقيم محمد عوامة 37812)
ترقیم عوامۃ: 37813 ترقیم الشثری: -- 39420
٣٩٤٢٠ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) (ابن) (٢) (خثيم) (٣) عن مجاهد قال: لم تقاتل الملائكة إلا يوم بدر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، س]: (خيثم).
(٤) مرسل؛ مجاهد تابعي.
حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ملائکہ نے صرف بدر کے دن ہی قتال کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39420]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39420، ترقيم محمد عوامة 37813)
ترقیم عوامۃ: 37814 ترقیم الشثری: -- 39421
٣٩٤٢١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مسعر عن (ابي) (١) عون عن ابي صالح الحنفي عن علي قال: قيل لابي بكر الصديق و (لي) (٢) يوم بدر: مع احدكما جبريل ومع الآخر ميكائيل، وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال او يقف في الصف (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ابن).
(٢) في [ط، هـ]: (علي).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٥٧)، وابن سعد ٣/ ١٧٥، وأبو يعلى (٣٤٠)، والحاكم ٣/ ١٣٤، والبزار (٧٢٩)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢١٧).
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق سے اور مجھے یوم بدر میں کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ہمراہ جبرائیل اور دوسرے کے ہمراہ میکائیل ہے اور اسرافیل بڑا فرشتہ بھی قتال میں حاضر ہے۔ یا فرمایا: وہ بھی صف میں کھڑا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39421]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39421، ترقيم محمد عوامة 37814)
ترقیم عوامۃ: 37815 ترقیم الشثری: -- 39422
٣٩٤٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن عمرو الليثي عن (١) جده قال: (خرج) (٢) رسول الله ﷺ إلى بدر حتى إذا كان بالروحاء (خطب الناس) (٣) ⦗٤٢٩⦘ فقال:"كيف ترون؟" [قال ابو بكر: يا رسول الله (بلغنا) (٤) انهم بكذا وكذا، قال: ثم خطب الناس فقال:"كيف ترون؟"] (٥) فقال عمر مثل قول ابي بكر ثم خطب فقال:"ما ترون؟" فقال سعد بن معاذ: إيانا تريد، فوالذي اكرمك (٦) وانزل عليك الكتاب ما سلكتها قط ولا لي بها علم، (ولئن) (٧) سرت حتى تاتي برك الغماد من ذي يمن لنسيرن معك، ولا نكون (كالذين) (٨) قالوا لموسى من بني إسرائيل: ﴿ (اذهب) انت وربك فقاتلا إنا هاهنا قاعدون﴾ [المائدة: ٢٤] ، ولكن اذهب انت وربك فقاتلا إنا معكما متبعون، ولعلك ان تكون خرجت لامر واحدث الله (٩) غيره (فانظر) (١٠) (١١) الذي احدث الله إليك فامض له، (فحل) (١٢) (حبال) (١٣) من شئت، واقطع حبال من (شئت) (١٤) ، وسالم من شئت، وعاد من شئت، وخذ من اموالنا ما شئت، فنزل القرآن على (قول) (١٥) سعد: ﴿كما اخرجك ربك من بيتك بالحق (وإن فريقا من المؤمنين) (١٦) ⦗٤٣٠⦘ (لكارهون) (١٧) ﴾ إلى قوله: ﴿ (ويقطع) (١٨) دابر الكافرين﴾ [الانفال: ٥ و ٧] ، وإنما خرج رسول الله ﷺ يريد غنيمة (ما) (١٩) مع ابي سفيان فاحدث الله (لنبيه) (٢٠) القتال (٢١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في الدر المنثور ٤/ ١٥، وتفسير ابن كثير ٢/ ٢٨٨، والبداية والنهاية ٣/ ٢٦٤ زيادة: (عن أبيه).
(٢) في [أ، ب]: (جزم).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٦) في [جـ]: زيادة (بالحق).
(٧) في [أ، ب]: (ولين).
(٨) في [س]: (كالذي).
(٩) في [هـ]: زيادة (إليك).
(١٠) في [ب]: (أنظر).
(١١) في [أ، ب]: زيادة (إلى).
(١٢) في [ق، هـ]: (فصل).
(١٣) في [ي]: (جبال).
(١٤) في [هـ]: (جئت).
(١٥) في [ق]: (قوله).
(١٦) سقط من: [أ، ب].
(١٧) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٨) في [س]: (وليقطع).
(١٩) سقط من: [س].
(٢٠) في [هـ]: (إليه).
(٢١) مرسل؛ علقمة بن وقاص جد محمد تابعي.
حضرت محمد بن عمرو اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ روحاء پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پوچھا تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر نے جواباً عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ وہ فلاں جگہ میں اور اتنی مقدار میں ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور پوچھا: تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تو حضرت عمر نے (بھی) حضرت ابوبکر کی طرح جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور پوچھا۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ تو حضرت سعد بن معاذ نے جواباً عرض کیا۔ آپ کی مراد ہم ہیں؟ قسم اس ذات کی! جس نے آپ کو عزت بخشی اور آپ پر کتاب کو نازل کیا۔ میں اس راہ پر کبھی نہیں چلا اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے۔ لیکن اگر چلتے چلتے ذی یمن مقام میں برک غماد تک بھی پہنچ جائیں گے تو البتہ ہم ضرور بالضرور آپ کے ہمراہ چلتے رہیں گے۔ اور ہم ان لوگوں کی مثال نہیں بنیں گے۔ جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے (ہو کر) موسیٰ سے کہا۔ { اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّک فَقَاتِلاَ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ }۔ بلکہ (ہم یہ کہیں گے) آپ اور آپ کا رب جا کر قتال کرے اور ہم آپ کے ہمراہ پیروی کرنے والے ہوں گے۔ اور ہوسکتا ہے کہ آپ کسی کام کے لئے نکلے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کسی دوسرے امر کو رونما کر دے۔ پس آپ اس موملہ کو دیکھیں جس کو اللہ تعالیٰ آپ کے لئے رونما کرے اور آپ اسی کو پورا کریں۔ سو جس سے آپ چاہیں تعلق قائم کریں اور جس سے آپ چاہیں تعلق کاٹ لیں۔ اور جس سے چاہیں صلح کرلیں اور جس سے چاہیں دشمنی کرلیں۔ اور ہمارے اموال میں سے جو دل چاہے لے لیں۔ حضرت سعد کی بات پر یہ آیت قرآنی نازل ہوئی۔ { کَمَا أَخْرَجَک رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ، وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِہُونَ سے لے کر وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ } اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ ابو سفیان کے پاس موجود مال غنیمت بنا کرلینا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے قتال کا واقعہ رونما کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39422]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39422، ترقيم محمد عوامة 37815)
ترقیم عوامۃ: 37816 ترقیم الشثری: -- 39423
٣٩٤٢٣ - حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: لما كان يوم بدر قال رسول الله ﷺ:"من صنع كذا وكذا ( (فله) (١) كذا وكذا) (٢) "، قال: (فتسارع) (٣) (٤) (شبان) (٥) الرجال، وبقيت الشيوخ تحت الرايات، فلما كانت الغنائم جاؤوا يطلبون الذي جعل لهم، فقال الشيوخ: لا تستاثرون علينا فإنا كلنا (ردءكم) (٦) وكنا تحت الرايات، ولو انكشفتم انكشفتم إلينا، فتنازعوا فانزل الله: ﴿يسالونك عن الانفال﴾ إلى قوله: ﴿واطيعوا الله ورسوله إن كنتم مؤمنين﴾ (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وله).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (تسارع).
(٤) في [هـ]: زيادة (في ذلك)، وفي [س، ع]: زيادة (في).
(٥) في [أ، ب]: (سنان).
(٦) في [أ، ب]: (ردائكم).
(٧) فيه ضعف؛ داود بن الحصين ثقة إلا في عكرمة، أخرجه أبو داود (٢٧٣٧)، والنسائي (١١١٩٧)، وابن حبان (٥٠٩٣)، والطحاوي ٣/ ٢٣٢، والحاكم ٢/ ١٣١، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ١٣٥، وابن جرير ٩/ ١٧٢، وبنحوه عبد الرزاق (٩٤٨٣)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١٠٢، وابن عساكر ٢٠/ ٢٥٠.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ یہ کام کرے تو اس کے لئے یہ یہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ بات سن کر جوان آدمی تیزی دکھانے لگے۔ اور صرف بوڑھے افراد جھنڈوں کے نیچے رہ گئے۔ پھر جب غنیمتیں (اکٹھی) ہوئں ی تو یہ جوان اپنا اپنا (مقررہ) اجر لینے کے لئے آگئے۔ بوڑھوں نے کہا۔ تم لوگ ہم پر زیادتی کے مستحق نہیں ہو۔ کیونکہ ہم تو تمہارے مددگار تھے اور ہم جھنڈوں کے نیچے تھے۔ اگر تم واپس پلٹے تو تم ہمارے طرف ہی واپس پلٹے۔ پس یہ لوگ آپس میں جھگڑنے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ } سے لے کر { وَأَطِیعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ } تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39423]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39423، ترقيم محمد عوامة 37816)
ترقیم عوامۃ: 37817 ترقیم الشثری: -- 39424
٣٩٤٢٤ - حدثنا عبد الاعلى عن داود (عن علي) (١) بن ابي طلحة عن ابن عباس: ﴿سيهزم الجمع﴾، قال: كان ذلك يوم بدر قالوا: ﴿نحن جميع (منتصر) (٢) ﴾ [القمر: ٤٤، ٤٥] ! فنزلت هذه الآية (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (منقر).
(٣) منقطع؛ علي بن أبي طلحة لم يسمع من ابن عباس، أخرجه ابن جرير ٢٧/ ١٠٩.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت قرآنی { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ یہ واقعہ یوم بدر کو ہوا تھا۔ کفار نے کہا۔ نَحْنُ جَمِیعٌ مُنْتَصِرٌ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39424]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39424، ترقيم محمد عوامة 37817)