مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
25. غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها
بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا،اور غزوہ بدر کے واقعات
ترقیم عوامۃ: 37856 ترقیم الشثری: -- 39464
٣٩٤٦٤ - حدثنا عيسى بن يونس (عن ابيه) (١) عن ابيه -يعني جده- عن ذي الجوشن الضبابي قال: اتيت رسول الله ﷺ بعد ان فرغ من اهل بدر بابن فرس (لي) (٢) ⦗٤٥٠⦘ يقال لها القرحاء، فقلت: يا محمد، إني قد اتيتك بابن القرحاء لتتخذه، قال:"لا حاجة لي فيه، وإن اردت ان اقيضك به المختارة من دروع بدر فعلت"، قلت: ما كنت اقيضك اليوم ( (بغرة) (٣) لا حاجة في فيه) (٤) ، ثم قال:"يا ذا الجوشن الا تسلم فتكون من اول هذا الامر"، قلت: لا، قال:"ولم؟" قلت: إني رايت قومك ولعوا بك، قال:"فكيف ما بلغك عن مصارعهم؟" قلت: قد بلغني، قال:"فانى يهدى بك"، قلت: إن تغلب على الكعبة وتقطنها، قال:"لعلك إن (عشت) (٥) ان ترى ذلك"، ثم قال:"يا بلال خذ حقيبة الرجل فزوده من العجوة"، فلما ادبرت قال:"اما إنه خير فرسان بني عامر". قال: فوالله إني باهلي بالعوذاء (إذ) (٦) اقبل راكب (فقلت) (٧) : من اين انت؟ قال: من مكة، قال: (قلت) (٨) : ما فعل الناس؟ قال: قد (والله غلب) (٩) عليها محمد (١٠) وقطنها، (فقلت) (١١) : هبلتني امي، لو اسلم يومئذ ثم اساله (الحيرة) (١٢) لاقطعنيها قال: والله لا اشرب الدهر (في) (١٣) كوز ولا (يضرط) (١٤) ⦗٤٥١⦘ الدهر تحتي برذون (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (له).
(٣) في [س]: (بعزه).
(٤) في [ق]: (فرسًا بدرع).
(٥) في [هـ]: (عشيت).
(٦) في [أ، ب، س]: (إذا).
(٧) في [ب]: (قلت).
(٨) سقط من: [أ].
(٩) في [جـ]: (غلب واللَّه)
(١٠) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(١١) في [أ، ب]: (قلت).
(١٢) في [أ، ب]: (الجيرة).
(١٣) في [ق]: (من)، وفي [هـ]: (مي).
(١٤) في [ب]: (يضر)، وفي [جـ]: (تفرط)، وفي [ي]: (تضرط)، وفي [ق]: (يغرط)، وفي [هـ]: (يضره).
(١٥) منقطع؛ أبو إسحاق لم يثبت سماعه من ذي الجوشن، أخرجه أحمد (١٥٩٦٥)، وأبو داود (٢٧٨٦)، والطبراني (٧٢١٦)، والبيهقي ٩/ ١٠٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٠٦)، وابن سعد ٦/ ٤٧، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (١٦٦٣٥)، والمزي ٨/ ٥٢٧، وانظر: الخبر في مسند ابن أبي شيبة (٥٥٩).
حضرت ذی الجوشن سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بدر سے فارغ ہوگئے تھے۔ اپنے ایک گھوڑے کے بچے کو لے کر حاضر ہوا۔ جس گھوڑے کا نام۔ القرحائ۔ تھا اور میں نے عرض کیا۔ اے محمد! میں آپ کے پاس اس قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ یہ آپ لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم اس کے بدلہ میں مجھ سے بدر کی زرہ میں سے منتخب ذرہ بدلہ میں لینا چاہتے ہو تو پھر میں یہ لے سکتا ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ میں آج آپ سے اس گھوڑے کے عوض کچھ نہیں لوں گا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ذو الجوشن! کیا تم اسلام نہیں لے آئے تاکہ تم اس معاملہ (دین) کے پہلوں میں سے ہو جاؤ؟ میں نے جواب دیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ میں نے کہا: میں آپ کی قوم کو دیکھتا ہوں کہ وہ آپ کے درپے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ان کے پچھاڑے ہوئے (مُردوں) کے بارے میں کیسی خبر پہنچی ہے؟ میں نے کہا: وہ تو مجھے پہنچی ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر کب تیرے ذریعہ سے ہدایت دی جائے گی؟ میں نے کہا۔ اگر آپ کو مکہ پر غلبہ اور وہاں پر آباد ہونا میسر آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ تو اس بات کو دیکھنے تک زندہ رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اس آدمی کا توشہ دان پکڑو اور اس کو توشہ میں عجوہ دے دو۔ پھر جب رُخ پھیر کر مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ خبردار! یہ بنو عامر کا بہترین گھڑ سوار ہے۔ راوی کہتے ہیں: بخدا! میں عوذاء مقام پر اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا کہ ایک سوار سامنے آیا۔ میں نے پوچھا۔ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا۔ مکہ سے میں نے پوچھا۔ (وہاں) لوگوں کا کیا ہوا؟ اس آدمی نے کہا بخدا! مکہ پر محمد کا غلبہ ہوگیا ہے اور وہ وہاں پر آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا۔ میری ماں مجھے گم پائے۔ کاش میں اس دن اسلام لے آتا۔ پھر میں ان سے حیرہ کی سلطنت بھی مانگتا تو مجھے مل جاتی۔ خدا کی قسم! میں کبھی صراحی سے نہیں پیوں گا اور میرے نیچے کبھی گھوڑا نہیں آئے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39464]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39464، ترقيم محمد عوامة 37856)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39464 in Urdu