🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. غزوة الخندق
غزوہ خندق
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37951 ترقیم الشثری: -- 39560
٣٩٥٦٠ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا يزيد بن هارون قال: ⦗٤٨٧⦘ (اخبرنا) (٢) محمد ابن عمرو عن ابيه عن جده عن عائشة قالت: خرجت يوم (الخندق) (٣) اقفو آثار الناس، فسمعت وئيد الارض (ورائي) (٤) فالتفت فإذا انا بسعد بن معاذ ومعه ابن اخيه الحارث بن اوس، يحمل مجنه، فجلست إلى الارض. قالت: فمر سعد وعليه (درع) (٥) قد خرجت منها اطرافه، فانا اتخوف على اطراف سعد، قالت: وكان من اعظم الناس واطولهم، قالت: فمر يرتجز وهو يقول: لبث قليلا يدرك الهيجا حمل … ما احسن الموت إذا حان الاجل (قالت) (٦) : فقمت فاقتحمت حديقة، (فإذا) (٧) فيها نفر من المسلمين فيهم عمر بن الخطاب وفيهم (رجل) (٨) عليه تسبغة له -تعني: المغفر-، قال: فقال عمر: ويحك ما جاء بك؟ ويحك ما جاء بك؟ والله إنك (لجريئة) (٩) ما يؤمنك ان يكون (تحوز) (١٠) وبلاء، قالت: فما زال يلومني حتى تمنيت ان الارض انشقت فدخلت فيها، (قال) (١١) : فرفع الرجل (التسبغة) (١٢) عن وجهه فإذا طلحة بن ⦗٤٨٨⦘ عبيد الله، قال: فقال: يا عمر، ويحك قد اكثرت (منذ) (١٣) اليوم، واين التحوز او الفرار (إلا) (١٤) إلى الله. (قالت) (١٥) : ويرمي سعدا رجل من المشركين من قريش يقال له: حبان بن العرقة بسهم، فقال: خذها وانا ابن العرقة، فاصاب اكحله فقطعه فدعا الله فقال: اللهم لا تمتني حتى تقر عيني من قريظة -وكانوا حلفاءه ومواليه في الجاهلية- فرقا كلمه، وبعث الله الربح على المشركين ﴿ (وكفى) (١٦) الله المؤمنين القتال وكان الله قويا عزيزا﴾ [الاحزاب: ٢٥] ، فلحق ابو سفيان بتهامة، ولحق عيينة بن بدر بن (حصن) (١٧) ومن معه بنجد، ورجعت بنو قريظة فتحصنوا في صياصيهم. ورجع رسول الله ﷺ إلى المدينة فامر بقبة فضربت على سعد في المسجد ووضع (السلاح) (١٨) ، قالت: فاتاه جبريل فقال: اقد وضعت السلاح، والله ما وضعت الملائكة السلاح، فاخرج إلى بني قريظة فقاتلهم. فامر رسول الله ﷺ بالرحيل ولبس لامته، فخرج فمر على بني غنم، وكانوا جيران المسجد، (فقال) (١٩) :"من مر بكم؟" فقالوا: مر بنا دحية الكلبي، وكان دحية تشبه لحيته (وسنة) (٢٠) وجهه بجبريل. ⦗٤٨٩⦘ فاتاهم رسول الله ﷺ فحاصرهم خمسة وعشرين يوما، فلما اشتد حصرهم واشتد البلاء عليهم قيل لهم: انزلوا على حكم رسول الله ﷺ، فاستشاروا ابا لبابة فاشار (إليهم) (٢١) بيده انه الذبح، فقالوا: ننزل على حكم ابن معاذ، فقال رسول الله ﷺ:"انزلوا على حكم سعد بن معاذ"، فنزلوا وبعث رسول الله ﷺ إلى سعد. (فحمل) (٢٢) على حمار له إكاف من ليف، وحف به قومه، فجعلوا يقولون: يا ابا عمرو، حلفاؤك ومواليك واهل النكاية ومن قد علمت، لا يرجع إليهم قولا حتى إذا دنا من دارهم التفت إلى قومه فقال: قد (انى) (٢٣) لسعد ان لا (يبالي) (٢٤) في الله لومة لائم. فلما طلع على رسول الله ﷺ، قال ابو سعيد: قال رسول الله ﷺ:"قوموا إلى سيدكم فانزلوه"، قال عمر: سيدنا الله، قال:"انزلوه"، فانزلوه قال له رسول الله ﷺ:"احكم فيهم"، (قال: (فإني) (٢٥) احكم فيهم ان) (٢٦) تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم وتقسم اموالهم، فقال رسول الله ﷺ:"لقد حكمت فيهم بحكم الله وحكم رسوله". قال: ثم دعا (الله) (٢٧) سعد (فقال) (٢٨) : اللهم إن كنت ابقيت على نبيك ⦗٤٩٠⦘ من (حرب) (٢٩) قريش شيئا فابقني لها، وان كانت قطعت الحرب بينه وبينهم فاقبضني إليك، (قال) (٣٠) : فانفجر كلمه وكان قد برا حتى ما بقي منه إلا مثل الخرص. قالت: فرجع رسول الله ﷺ، ورجع سعد إلى قبته التي كان ضرب عليه رسول الله ﷺ، قالت: فحضره رسول الله ﷺ وابو بكر وعمر، قالت: فوالذي نفسي بيده إني لاعرف بكاء ابي بكر من بكاء عمر وانا في حجرتي، وكانوا كما قال: الله (٣١) ﴿رحماء بينهم﴾ [الفتح: ٢٩] . قال علقمة: فقلت: اي امه (فكيف) (٣٢) كان رسول الله ﷺ يصنع؟ قالت: كانت عينه لا تدمع على احد، ولكنه كان إذا وجد فإنما هو آخذ بلحيته (٣٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [أ، ب]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٣) في [أ، ب]: (الخميس).
(٤) في [أ، ب]: (وراء)، وفي [ي]: (وراي).
(٥) في [ع]: (ذرع).
(٦) في [أ، ب]: (قال).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ب].
(٩) في [أ]: (لجرية).
(١٠) في [ع]: (تحوزًا).
(١١) في [أ]: (قالت).
(١٢) في [ب]: (السلعة).
(١٣) في [ب]: (أمن ذا).
(١٤) في [أ]: (لا).
(١٥) في [أ]: (قال).
(١٦) في [أ، ب، ق، ع]: (وكفى).
(١٧) في [س، ع، ي]: (حصين).
(١٨) في [جـ]: (السالح).
(١٩) في [أ، ب]: (فقالوا).
(٢٠) في [هـ]: (وسنته و).
(٢١) في [ع]: (عليهم).
(٢٢) في [أ، ب]: (وحمل).
(٢٣) في [ق]: (أن)، وفي [هـ]: (أتى)، وفي [س]: (آن).
(٢٤) في [ع]: (يخاف).
(٢٥) في [أ، ب]: (إني).
(٢٦) سقط من: [ع].
(٢٧) سقط من: [ع].
(٢٨) في [أ، ب]: (قال).
(٢٩) في [أ، ب]: (حرة).
(٣٠) في [هـ]: (فقال).
(٣١) في [جـ، ق]: زيادة (تعالى).
(٣٢) في [ب]: (كيف).
(٣٣) حسن؛ والد محمد بن عمرو هو عمرو بن علقمة الصواب أنه صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٠٩٧)، وابن حبان (٧٠٢٨)، وابن سعد ٣/ ٤٢١، وإسحاق (١١٢٦)، والطبراني (٥٣٣٠)، وأبو نعيم في الدلائل (٤٣٣)، وبعضه عند البخاري (٤١٢١)، ومسلم (١٧٦٩).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں خندق کے دن، لوگوں کے آثار قدم کی پیروی کرتے ہوئے باہر نکلی۔ پس میں نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سُنی۔ میں نے توجہ کی تو وہ سعد بن عبادہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے۔ جنہوں نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ پس میں زمین پر بیٹھ گئی۔ فرماتی ہیں: پس حضرت سعد گزر گئے اور انہوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ اور اس کے کنارے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اور مجھے حضرت سعد کے کناروں سے خوف آ رہا تھا۔ فرماتی ہیں: یہ صاحب لوگوں میں سے بڑے جثہ والے اور لمبے تھے۔ فرماتی ہیں: پھر وہ رجز پڑھتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گزر گئے۔ ”تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ جنگ کو زور پکڑنے دو۔ جب وقت مقرر آجائے تو موت کتنی اچھی ہوتی ہے۔“ ٢۔ فرماتی ہیں۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور ایک باغیچہ میں گھس گئی تو وہاں مسلمانوں کے چند افراد تھے۔ جن میں عمر بن خطاب بھی تھے اور ان میں ایک آدمی وہ بھی تھا جس پر خود تھی۔ راوی کہتے ہیں… حضرت عمر نے کہا: عجیب بات ہے! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے؟ عجیب بات ہے! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے؟ بخدا! تم بہت جری ہو۔ تمہیں کس چیز نے فرار اور آزمائش سے مامون کردیا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضرت عمر مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ زمین شق ہوجائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ فرماتی ہیں۔ پھر (دوسرے) آدمی نے اپنے چہرے سے خود اتاری تو وہ طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے کہا: اے عمر! تم پر افسوس ہے آج تم نے بہت زیادہ ملامت کی ہے۔ فرار اور آزمائش اللہ کے سوا کس کی طرف ہوسکتا ہے۔ ٣۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مشرکین قریش میں سے ایک آدمی نے، جس کو حبان بن العرقۃ کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد کو تیر مارا اور کہا۔ اس کو لے لو۔ میں ابن العرقۃ ہوں۔ وہ تیر حضرت سعد کی بازو کی رگ میں لگا اور اس نے وہ رگ کاٹ دی۔ سعد نے اللہ سے دعا کی۔ اے اللہ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو بنو قریظہ سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے۔ یہ لوگ سعد کے جاہلیت میں حلیف اور ساتھی تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر ان کے زخم کا خون بند ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا بھیج دی۔ وکفی اللّٰہ المؤمنین القتال وکان اللّٰہ قویاً عزیزاً۔ پس ابو سفیان تہامہ کے علاقہ کے ساتھ جا ملا اور عیینہ بن بدر بن حصن اور اس کے ساتھی نجد کے علاقہ کے ساتھ جا ملے اور بنو قریظہ واپس ہوگئے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے اور حکم دیا تو حضرت سعد کے لئے مسجد میں خیمہ لگایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلحہ وغیرہ رکھ دیا۔ ٤۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور عرض کیا۔ کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے؟ بخدا! فرشتوں نے تو اسلحہ نہیں اتارا۔ پس آپ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان سے قتال کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوچ کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سامانِ حضر زیب تن فرمایا اور نکل پڑے۔ اور (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو غنم کے پاس سے گزرے… یہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے … تو پوچھا: کون تمہارے پاس سے گزرا ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا۔ ہمارے پاس سے حضرت دحیہ کلبی گزرے ہیں۔ حضرت دحیہ کی داڑھی اور چہرے کی شکل حضرت جبرائیل سے مشابہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، بنو قریظہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ پس جب بنو قریظہ کا محاصرہ شدید ہوگیا اور ان پر مصیبت سخت ہوگئی تو انہیں کہا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر تسلیم ہو جاؤ۔ انہوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے انہیں یہ اشارہ کیا کہ فیصلہ تو ذبح کا ہے۔ بنو قریظہ نے کہا۔ ہم ابن معاذ کے فیصلہ پر اترتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سعد بن معاذ کے فیصلہ پر (ہی) اُتر آؤ۔ پس وہ لوگ اتر آئے۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا اور انہیں گدھے پر سوار کیا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا اور ان کی قوم نے انہیں گھیر لیا۔ اور یہ کہنے لگے۔ اے ابو عمرو! (یہ لوگ) تیرے حلیف اور تیرے ساتھی ہیں۔ اور تیری پہچان کے لوگ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت سعد نے ان کو کچھ جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جب سعد ان کے گھروں کے پاس پہنچے تو فرمایا: اب سعد کے لئے وہ وقت آپہنچا ہے کہ سعد، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ ٦۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوئے ابو سعید کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اس ک [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39560]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39560، ترقيم محمد عوامة 37951)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39560 in Urdu