مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
27. غزوة الخندق
غزوہ خندق
ترقیم عوامۃ: 37951 ترقیم الشثری: -- 39560
٣٩٥٦٠ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا يزيد بن هارون قال: ⦗٤٨٧⦘ (اخبرنا) (٢) محمد ابن عمرو عن ابيه عن جده عن عائشة قالت: خرجت يوم (الخندق) (٣) اقفو آثار الناس، فسمعت وئيد الارض (ورائي) (٤) فالتفت فإذا انا بسعد بن معاذ ومعه ابن اخيه الحارث بن اوس، يحمل مجنه، فجلست إلى الارض. قالت: فمر سعد وعليه (درع) (٥) قد خرجت منها اطرافه، فانا اتخوف على اطراف سعد، قالت: وكان من اعظم الناس واطولهم، قالت: فمر يرتجز وهو يقول: لبث قليلا يدرك الهيجا حمل … ما احسن الموت إذا حان الاجل (قالت) (٦) : فقمت فاقتحمت حديقة، (فإذا) (٧) فيها نفر من المسلمين فيهم عمر بن الخطاب وفيهم (رجل) (٨) عليه تسبغة له -تعني: المغفر-، قال: فقال عمر: ويحك ما جاء بك؟ ويحك ما جاء بك؟ والله إنك (لجريئة) (٩) ما يؤمنك ان يكون (تحوز) (١٠) وبلاء، قالت: فما زال يلومني حتى تمنيت ان الارض انشقت فدخلت فيها، (قال) (١١) : فرفع الرجل (التسبغة) (١٢) عن وجهه فإذا طلحة بن ⦗٤٨٨⦘ عبيد الله، قال: فقال: يا عمر، ويحك قد اكثرت (منذ) (١٣) اليوم، واين التحوز او الفرار (إلا) (١٤) إلى الله. (قالت) (١٥) : ويرمي سعدا رجل من المشركين من قريش يقال له: حبان بن العرقة بسهم، فقال: خذها وانا ابن العرقة، فاصاب اكحله فقطعه فدعا الله فقال: اللهم لا تمتني حتى تقر عيني من قريظة -وكانوا حلفاءه ومواليه في الجاهلية- فرقا كلمه، وبعث الله الربح على المشركين ﴿ (وكفى) (١٦) الله المؤمنين القتال وكان الله قويا عزيزا﴾ [الاحزاب: ٢٥] ، فلحق ابو سفيان بتهامة، ولحق عيينة بن بدر بن (حصن) (١٧) ومن معه بنجد، ورجعت بنو قريظة فتحصنوا في صياصيهم. ورجع رسول الله ﷺ إلى المدينة فامر بقبة فضربت على سعد في المسجد ووضع (السلاح) (١٨) ، قالت: فاتاه جبريل فقال: اقد وضعت السلاح، والله ما وضعت الملائكة السلاح، فاخرج إلى بني قريظة فقاتلهم. فامر رسول الله ﷺ بالرحيل ولبس لامته، فخرج فمر على بني غنم، وكانوا جيران المسجد، (فقال) (١٩) :"من مر بكم؟" فقالوا: مر بنا دحية الكلبي، وكان دحية تشبه لحيته (وسنة) (٢٠) وجهه بجبريل. ⦗٤٨٩⦘ فاتاهم رسول الله ﷺ فحاصرهم خمسة وعشرين يوما، فلما اشتد حصرهم واشتد البلاء عليهم قيل لهم: انزلوا على حكم رسول الله ﷺ، فاستشاروا ابا لبابة فاشار (إليهم) (٢١) بيده انه الذبح، فقالوا: ننزل على حكم ابن معاذ، فقال رسول الله ﷺ:"انزلوا على حكم سعد بن معاذ"، فنزلوا وبعث رسول الله ﷺ إلى سعد. (فحمل) (٢٢) على حمار له إكاف من ليف، وحف به قومه، فجعلوا يقولون: يا ابا عمرو، حلفاؤك ومواليك واهل النكاية ومن قد علمت، لا يرجع إليهم قولا حتى إذا دنا من دارهم التفت إلى قومه فقال: قد (انى) (٢٣) لسعد ان لا (يبالي) (٢٤) في الله لومة لائم. فلما طلع على رسول الله ﷺ، قال ابو سعيد: قال رسول الله ﷺ:"قوموا إلى سيدكم فانزلوه"، قال عمر: سيدنا الله، قال:"انزلوه"، فانزلوه قال له رسول الله ﷺ:"احكم فيهم"، (قال: (فإني) (٢٥) احكم فيهم ان) (٢٦) تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم وتقسم اموالهم، فقال رسول الله ﷺ:"لقد حكمت فيهم بحكم الله وحكم رسوله". قال: ثم دعا (الله) (٢٧) سعد (فقال) (٢٨) : اللهم إن كنت ابقيت على نبيك ⦗٤٩٠⦘ من (حرب) (٢٩) قريش شيئا فابقني لها، وان كانت قطعت الحرب بينه وبينهم فاقبضني إليك، (قال) (٣٠) : فانفجر كلمه وكان قد برا حتى ما بقي منه إلا مثل الخرص. قالت: فرجع رسول الله ﷺ، ورجع سعد إلى قبته التي كان ضرب عليه رسول الله ﷺ، قالت: فحضره رسول الله ﷺ وابو بكر وعمر، قالت: فوالذي نفسي بيده إني لاعرف بكاء ابي بكر من بكاء عمر وانا في حجرتي، وكانوا كما قال: الله (٣١) ﴿رحماء بينهم﴾ [الفتح: ٢٩] . قال علقمة: فقلت: اي امه (فكيف) (٣٢) كان رسول الله ﷺ يصنع؟ قالت: كانت عينه لا تدمع على احد، ولكنه كان إذا وجد فإنما هو آخذ بلحيته (٣٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [أ، ب]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٣) في [أ، ب]: (الخميس).
(٤) في [أ، ب]: (وراء)، وفي [ي]: (وراي).
(٥) في [ع]: (ذرع).
(٦) في [أ، ب]: (قال).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ب].
(٩) في [أ]: (لجرية).
(١٠) في [ع]: (تحوزًا).
(١١) في [أ]: (قالت).
(١٢) في [ب]: (السلعة).
(١٣) في [ب]: (أمن ذا).
(١٤) في [أ]: (لا).
(١٥) في [أ]: (قال).
(١٦) في [أ، ب، ق، ع]: (وكفى).
(١٧) في [س، ع، ي]: (حصين).
(١٨) في [جـ]: (السالح).
(١٩) في [أ، ب]: (فقالوا).
(٢٠) في [هـ]: (وسنته و).
(٢١) في [ع]: (عليهم).
(٢٢) في [أ، ب]: (وحمل).
(٢٣) في [ق]: (أن)، وفي [هـ]: (أتى)، وفي [س]: (آن).
(٢٤) في [ع]: (يخاف).
(٢٥) في [أ، ب]: (إني).
(٢٦) سقط من: [ع].
(٢٧) سقط من: [ع].
(٢٨) في [أ، ب]: (قال).
(٢٩) في [أ، ب]: (حرة).
(٣٠) في [هـ]: (فقال).
(٣١) في [جـ، ق]: زيادة (تعالى).
(٣٢) في [ب]: (كيف).
(٣٣) حسن؛ والد محمد بن عمرو هو عمرو بن علقمة الصواب أنه صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٠٩٧)، وابن حبان (٧٠٢٨)، وابن سعد ٣/ ٤٢١، وإسحاق (١١٢٦)، والطبراني (٥٣٣٠)، وأبو نعيم في الدلائل (٤٣٣)، وبعضه عند البخاري (٤١٢١)، ومسلم (١٧٦٩).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں خندق کے دن، لوگوں کے آثار قدم کی پیروی کرتے ہوئے باہر نکلی۔ پس میں نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سُنی۔ میں نے توجہ کی تو وہ سعد بن عبادہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے۔ جنہوں نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ پس میں زمین پر بیٹھ گئی۔ فرماتی ہیں: پس حضرت سعد گزر گئے اور انہوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ اور اس کے کنارے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اور مجھے حضرت سعد کے کناروں سے خوف آ رہا تھا۔ فرماتی ہیں: یہ صاحب لوگوں میں سے بڑے جثہ والے اور لمبے تھے۔ فرماتی ہیں: پھر وہ رجز پڑھتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گزر گئے۔ ”تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ جنگ کو زور پکڑنے دو۔ جب وقت مقرر آجائے تو موت کتنی اچھی ہوتی ہے۔“ ٢۔ فرماتی ہیں۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور ایک باغیچہ میں گھس گئی تو وہاں مسلمانوں کے چند افراد تھے۔ جن میں عمر بن خطاب بھی تھے اور ان میں ایک آدمی وہ بھی تھا جس پر خود تھی۔ راوی کہتے ہیں… حضرت عمر نے کہا: عجیب بات ہے! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے؟ عجیب بات ہے! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے؟ بخدا! تم بہت جری ہو۔ تمہیں کس چیز نے فرار اور آزمائش سے مامون کردیا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضرت عمر مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ زمین شق ہوجائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ فرماتی ہیں۔ پھر (دوسرے) آدمی نے اپنے چہرے سے خود اتاری تو وہ طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے کہا: اے عمر! تم پر افسوس ہے آج تم نے بہت زیادہ ملامت کی ہے۔ فرار اور آزمائش اللہ کے سوا کس کی طرف ہوسکتا ہے۔ ٣۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مشرکین قریش میں سے ایک آدمی نے، جس کو حبان بن العرقۃ کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد کو تیر مارا اور کہا۔ اس کو لے لو۔ میں ابن العرقۃ ہوں۔ وہ تیر حضرت سعد کی بازو کی رگ میں لگا اور اس نے وہ رگ کاٹ دی۔ سعد نے اللہ سے دعا کی۔ اے اللہ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو بنو قریظہ سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے۔ یہ لوگ سعد کے جاہلیت میں حلیف اور ساتھی تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر ان کے زخم کا خون بند ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا بھیج دی۔ وکفی اللّٰہ المؤمنین القتال وکان اللّٰہ قویاً عزیزاً۔ پس ابو سفیان تہامہ کے علاقہ کے ساتھ جا ملا اور عیینہ بن بدر بن حصن اور اس کے ساتھی نجد کے علاقہ کے ساتھ جا ملے اور بنو قریظہ واپس ہوگئے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے اور حکم دیا تو حضرت سعد کے لئے مسجد میں خیمہ لگایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلحہ وغیرہ رکھ دیا۔ ٤۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور عرض کیا۔ کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے؟ بخدا! فرشتوں نے تو اسلحہ نہیں اتارا۔ پس آپ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان سے قتال کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوچ کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سامانِ حضر زیب تن فرمایا اور نکل پڑے۔ اور (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو غنم کے پاس سے گزرے… یہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے … تو پوچھا: کون تمہارے پاس سے گزرا ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا۔ ہمارے پاس سے حضرت دحیہ کلبی گزرے ہیں۔ حضرت دحیہ کی داڑھی اور چہرے کی شکل حضرت جبرائیل سے مشابہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، بنو قریظہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ پس جب بنو قریظہ کا محاصرہ شدید ہوگیا اور ان پر مصیبت سخت ہوگئی تو انہیں کہا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر تسلیم ہو جاؤ۔ انہوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے انہیں یہ اشارہ کیا کہ فیصلہ تو ذبح کا ہے۔ بنو قریظہ نے کہا۔ ہم ابن معاذ کے فیصلہ پر اترتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سعد بن معاذ کے فیصلہ پر (ہی) اُتر آؤ۔ پس وہ لوگ اتر آئے۔ ٥۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا اور انہیں گدھے پر سوار کیا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا اور ان کی قوم نے انہیں گھیر لیا۔ اور یہ کہنے لگے۔ اے ابو عمرو! (یہ لوگ) تیرے حلیف اور تیرے ساتھی ہیں۔ اور تیری پہچان کے لوگ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت سعد نے ان کو کچھ جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جب سعد ان کے گھروں کے پاس پہنچے تو فرمایا: اب سعد کے لئے وہ وقت آپہنچا ہے کہ سعد، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ ٦۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوئے ابو سعید کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اس ک [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39560]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39560، ترقيم محمد عوامة 37951)
ترقیم عوامۃ: 37952 ترقیم الشثری: -- 39561
٣٩٥٦١ - (حدثنا يزيد بن هارون) (١) قال: (اخبرنا) (٢) محمد بن عمرو قال: حدثني عاصم بن عمر بن قتادة قال: لما نام رسول الله ﷺ (٣) حين امسى (اتاه) (٤) ⦗٤٩١⦘ جبريل (او قال) (٥) (ملك) (٦) ، فقال: (ما) (٧) رجل من امتك مات الليلة، استبشر بموته اهل السماء، (فقال) (٨) :"لا، إلا ان يكون (سعدا) (٩) فإنه امسى (دنفا) (١٠) ، ما فعل سعد؟" قالوا: يا رسول الله قد قبض، وجاءه قومه فاحتملوه إلى دارهم، قال: فصلى رسول الله ﷺ (الفجر) (١١) ثم خرج وخرج الناس، (فبت) (١٢) رسول الله ﷺ الناس مشيا حتى إن (شسوع) (١٣) نعالهم (لتقطع) (١٤) من ارجلهم، وإن ارديتهم لتسقط عن (عواتقهم) (١٥) ، فقال رجل: يا رسول الله (بتت) (١٦) الناس فقال:"إني اخشى ان تسبقنا إليه الملائكة كما سبقتنا إلى حنظلة" (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: تكرر.
(٢) في [ي]: (حدثنا)، وفي [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [أ، ب]: (فأتاه).
(٥) في [ب]: (وقال).
(٦) في [ب]: (لك).
(٧) في [ط، هـ]: (من).
(٨) في [أ، ب]: (قال).
(٩) في [ق، هـ]: (سعد).
(١٠) في [ق]: (دفنا).
(١١) سقط من: [ب].
(١٢) في [ق]: (فشد)، وفي [أ، ب]: (قمت).
(١٣) في [أ، ب]: (استنزع)، وفي [ع]: (المشستدع).
(١٤) في [ب]: (ليقطع).
(١٥) في [ب]: (عواقبهم)، وفي [س]: (عواتفهم).
(١٦) في [أ، ب، س، ع، ي]: (ثبت)، وفي [ق]: (تعب).
(١٧) مرسل؛ عاصم تابعي، ومحمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٤٨٩)، وابن سعد ٣/ ٤٢٣، وإسحاق (١١٢٦)، وورد من حديث عاصم عن محمود بن لبيد، أخرجه البخاري في الأدب المفرد (١١٢٩)، والتاريخ الكبير ٧/ ٤٠٢، والتاريخ الأوسط (٦٦)، وابن سعد ٣/ ٤٢٧.
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ جب رات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل آئے یا فرمایا: کوئی فرشتہ آیا اور پوچھا: آپ کی امت میں سے کون سا آدمی آج رات وفات پا گیا ہے۔ آسمان والوں کو اس کی موت پر خوشی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد کے ساتھ کیا ہوا؟ صحابہ نے بتایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ فوت ہوگیا ہے۔ اور ان کی قوم والے آئے تھے اور انہیں اپنے محلہ کی طرف لے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل نکلے اور لوگ بھی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) چل نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے تسمے ان کے پاؤں سے گرگئے اور ان کی چادریں ان کے کندھوں سے گرگئیں۔ ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں فرشتے سعد کی طرف ہم سے سبقت نہ کر جائیں جیسا کہ وہ حنظلہ کی طرف ہم سے سبقت کر گئے تھے۔ ٢۔ محمد کہتے ہیں مجھے اشعث بن اسحاق نے بتایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس پہنچے جبکہ انہیں غسل دیا جا رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھٹنے اکٹھے کرلیے اور فرمایا: ایک فرشتہ آیا ہے اور اس کے لئے بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی پس میں نے اس کے لئے جگہ چھوڑی ہے۔ حضرت سعد کی والدہ رو رہی تھیں اور شعر کہہ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تمام رونے والیاں کذب بیانی کرتی ہیں سوائے اُمِ سعد کے۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں ہمارے ساتھیوں میں سے بعض لوگوں نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد کے جنازہ کے لئے نکلے تو منافقین میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ سعد کا تختہ کتنا ہلکا ہے، یا کہا: سعد کا جنازہ کتنا ہلکا ہیـ؟ راوی کہتے ہیں: مجھے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ جس دن حضرت سعد فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تحقیق ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد کے جنازہ میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس دن سے پہلے (کبھی) زمین کو نہیں روندا تھا۔ ٤۔ محمد کہتے ہیں: پھر میں نے اسمعیل بن محمد بن سعد کو سنا … جبکہ وہ ہمارے پاس خیمہ میں داخل ہوئے اور ہم واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کو دفن کر رہے تھے … انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بیان کروں جو میں نے اپنے شیوخ سے سُنی ہیَ؟ میں نے اپنے شیوخ کو بادن کرتے سُنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی وفات کے دن ارشاد فرمایا: بلاشبہ ستر ہزار فرشتے سعد کے جنازہ میں آسمان سے اتر کر شریک ہوئے ہیں جنہوں نے اس دن سے پہلے زمین کو نہیں روندا تھا۔ ٥۔ محمد کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بواسطہ اپنے والد، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ مسلمانوں کو نبی کریم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو ساتھیوں (ابو بکر و عمر) یا ان میں سے ایک کے جانے کے بعد، حضرت سعد بن معاذ سے بڑھ کر کسی کی کمی کا شدت سے احساس نہیں ہوا۔ ٦۔ محمد کہتے ہیں: مجھے محمد بن منکدر نے محمد بن شرحبیل کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضرت سعد کی قبر سے اس دن (دفن کے دن) ایک مٹھی مٹی لے لی اور پھر بعد میں اس کو کھولا تو وہ مشک تھی۔ ٧۔ محمد کہتے ہیں: اور مجھے واقد بن عمرو بن سعد نے (بھی) بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ واقد، خوبصورت اور دراز قد لوگوں میں سے تھے … واقد کہتے ہیں: میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہتے ہیں: انہوں نے مجھ سے کہا: تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا۔ میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انس کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے۔ تم تو بلاشبہ سعد کے مشابہ ہو۔ پھر انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے۔ (عام) لوگوں سے دراز قد اور خوبصورت تھے۔ انس کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکیدر دومہ کی طرف ایک وفد بھیجا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک ریشمی جبہ بھیجا جس میں سونا، بُنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جبہ کو زیب تن فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور پھر بیٹھ گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات نہیں کی۔ لوگوں نے اس جُبہ کو ہاتھ لگانا شروع کیا اور اس کو تعجب سے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم لوگ اس جبہ کو تعجب سے دیکھتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم نے اس سے خوبصورت کپڑا نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ و [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39561]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39561، ترقيم محمد عوامة 37952)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39562
٣٩٥٦٢ - قال محمد: فاخبرني اشعث بن إسحاق قال: فحضره رسول الله ﷺ وهو يغسل، قال: فقبض رسول الله ﷺ (ركبتيه) (١) (فقال) (٢) :"دخل ملك (ولم) (٣) يكن له مجلس فاوسعت له"، (وامه) (٤) تبكي وهي تقول: ويل ام سعد سعدا … براعة وجدا (بعد (ايادي) (٥) له ومجدا) (٦) … مقدم (سد) (٧) به (مسدا) (٨) فقال رسول الله ﷺ:"كل البواكي يكذبن إلا ام سعد"، قال محمد: وقال ناس من اصحابنا: إن رسول الله ﷺ لما خرج (لجنازته) (٩) قال ناس من المنافقين: ما اخف سرير سعد او جنازة (سعد) (١٠) (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا في: [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (ركبته).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [ع]: (فلم).
(٤) في [ب]: (وأنه).
(٥) في [أ، ب]: (أنادي).
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [أ، ب]: (سكر)، وفي [ع]: (سر).
(٨) في [س]: (منسدا).
(٩) في [أ، ب]: (إلى جنازته).
(١٠) في [أ، ب]: (سعدا).
(١١) مرسل؛ أشعث بن إسحاق تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (٨٤٣)، وابن سعد ٣/ ٣٢٩، وهشام ابن عمار (٣٨)، وإسحاق (١١٢٦).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39562، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39563
٣٩٥٦٣ - قال: فحدثني سعد بن إبراهيم ان رسول الله ﷺ (قال) (١) يوم مات سعد:"لقد نزل سبعون الف ملك شهدوا جنازة سعد ما وطئوا الارض قبل يومئذ" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) مرسل؛ سعد تابعي، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٤٩١)، وابن سعد ٣/ ٤٢٩.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39563، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39564
٣٩٥٦٤ - [قال محمد: فسمعت إسماعيل بن محمد بن سعد ودخل علينا (الفسطاط) (١) ونحن ندفن (واقد) (٢) (بن عمرو) (٣) بن سعد بن معاذ فقال: الا احدثكم بما سمعت اشياخنا؟ (سمعت اشياخنا) (٤) يحدثون ان رسول الله ﷺ قال يوم مات سعد:"لقد نزل سبعون الف ملك شهدوا جنازة سعد ما وطئوا الارض قبل يومئذ"] (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (للفسطاط)، وفي [ب]: (فسطاط).
(٢) في [ع]: (وافد).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [أ، ب، س]: تكررت.
(٥) سقط من: [ب].
(٦) مجهول؛ لجهالة الأشياخ، وأخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٤٩٢).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39564، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39565
٣٩٥٦٥ - قال محمد: فاخبرني ابي عن ابيه عن عائشة قالت: ما كان احد اشد فقدا على المسلمين بعد رسول الله ﷺ وصاحبيه او احدهما من سعد بن معاذ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو ووالده صدوقان، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٤٩٣)، وابن سعد ٣/ ٤٣٣.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39565، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39566
٣٩٥٦٦ - قال محمد: وحدثني محمد بن المنكدر عن محمد بن شرحبيل ان رجلا اخذ قبضة من تراب قبر سعد يومئذ ففتحها بعد فإذا (هو) (١) مسك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39566، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39567
٣٩٥٦٧ - قال محمد: وحدثني واقد بن (عمرو) (١) بن سعد قال: وكان واقد من احسن الناس واطولهم، قال: دخلت على انس بن مالك قال: فقال لي: من انت؟ قلت: انا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، (قال) (٢) : يرحم الله سعدا، إنك ⦗٤٩٤⦘ بسعد لشبيه، ثم قال: يرحم الله سعدا كان من اجمل الناس واطولهم، قال: بعث رسول الله ﷺ (إلى) (٣) اكيدر دومة فبعث إليه بجبة ديباج منسوج فيها ذهب، فلبسها رسول الله ﷺ فقام على المنبر فجلس فلم يتكلم، (فجعل) (٤) (الناس) (٥) يلمسون (الجبة) (٦) ويتعجبون منها، فقال:"اتعجبون منها؟ قالوا: يا رسول الله ما راينا ثوبا احسن منه، قال:"فوالذي نفسي بيده لمناديل سعد بن معاذ في الجنة احسن مما ترون" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عمر).
(٢) في [ع]: (قالت).
(٣) هكذا في [ق، هـ]، وسقط في باقي النسخ.
(٤) في [ع]: (مجلس).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [ب]، وفي [س]: (الجنة).
(٧) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١٢٢٢٣)، وابن حبان (٧٠٣٧)، والترمذي (١٧٢٣)، والنسائي ٨/ ١٩٩، والبيهقي ٣/ ٢٧٣، وابن سعد ٣/ ٤٢٣، وأحمد في الفضائل (١٤٩٥)، وطرفه عند مسلم (٢٤٦٩)، وانظر: البخاري (٢٦١٦).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39567، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37953 ترقیم الشثری: -- 39568
٣٩٥٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن البراء قال: اهدي للنبي ﷺ ثوب حرير، فجعلوا يتعجبون (١) من لينه، فقال النبي ﷺ:"لمناديل سعد في الجنة الين مما ترون" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (سنة).
(٢) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند الشيخين، أخرجه البخاري (٣٨٠٢)، ومسلم (٢٤٦٨).
حضرت براء سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشم کا کپڑا ہدیہ دیا گیا تو لوگوں نے اس کی ملائمی کو تعجب سے دیکھنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو، سعد کے جنت کے رومال اس سے بھی زیادہ نرم ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39568، ترقيم محمد عوامة 37953)
ترقیم عوامۃ: 37954 ترقیم الشثری: -- 39569
٣٩٥٦٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا زهير عن ابي إسحاق قال: (١) سمعت المهلب بن ابي صفرة يقول -وذكر الحرورية (و) (٢) تبييتهم- فقال: (قال) (٣) اصحاب محمد: قال رسول الله ﷺ يوم حفر الخندق وهو يخاف ان يبيتهم ⦗٤٩٥⦘ ابو سفيان:"إن بيتم فإن دعواكم: حم لا ينصرون" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (لما).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [س].
(٤) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (١٦٦١٥)، والنسائي (٨٨٦١)، وأبو داود (٢٥٩٧)، والترمذي (١٦٨٢)، والحاكم ٢/ ١٠٧، وعبد الرزاق (٩٤٦٧)، وابن الجارود (١٠٦٣)، والبيهقي ٦/ ٣٦١، وابن سعد ٢/ ٧٣، وأبو عبيد في الغريب ٤/ ٩٥.
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے مہلب بن ابی صفرہ کو …جبکہ وہ حروریہ اور ان کے شب خون کا ذکر کر رہے تھے… کہتے سُنا۔ کہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق والے دن فرمایا: اور (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوف تھا کہ ابو سفیان شب خون مارے گا۔ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو تم یہ کہنا۔ حم لاَ یُنْصَرُونَ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39569، ترقيم محمد عوامة 37954)