مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
ترقیم عوامۃ: 37996 ترقیم الشثری: -- 39611
٣٩٦١١ - حدثنا ابو اسامة عن زكريا عن ابي إسحاق عن البراء قال: لما (احصر) (١) رسول الله ﷺ عن البيت صالحه اهل مكة على ان يدخلها فيقيم بها ثلاثا ولا يدخلها إلا بجلبان السلاح: (السيف) (٢) وقرابه، ولا يخرج معه (احد) (٣) من اهلها، ولا يمنع احدا ان يمكث بها ممن كان معه، فقال لعلي:"اكتب الشرط بيننا بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما (قاضى) (٤) عليه محمد رسول الله ﷺ، فقال المشركون (٥) : لو نعلم انك رسول الله تابعناك، ولكن اكتب محمد بن عبد الله قال: فامر عليا ان (يمحوها) (٦) ، فقال علي: لا والله لا (امحوها) (٧) ، فقال رسول الله ﷺ:"ارني مكانها"، فاراه مكانها فمحاها، وكتب: ابن عبد الله، فاقام فيها ثلاثة ايام، فلما كان يوم الثالث قالوا لعلي: هذا آخر يوم من شرط صاحبك، فمره فليخرج، فحدثه بذلك، (فقال:"نعم") (٨) ، فخرج (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (حصر).
(٢) في [ب]: (والسين).
(٣) هكذا في [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (بأحد).
(٤) في [أ، ب]: (قضى)، وفي [ع]: (قاضا).
(٥) في [جـ، ي]: ﷺ.
(٦) في [ع]: (أمحاها - يمحاها)
(٧) في [ع]: (أمحاها - يمحاها).
(٨) في [أ، ب]: (قال له: نعم)، وسقط من: [س].
(٩) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند الشيخين، أخرجه البخاري (٣١٨٤)، ومسلم (١٧٨٣).
حضرت براء سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ سے روک دیا گیا (تو اس وقت) اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر مصالحت کرلی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں پر تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں صرف اسلحہ کے تھیلے کو، جس میں تلوار اور زرہ ہوگی … لے کر آئیں گے اور اہل مکہ میں سے کسی کو لے کر نہیں جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو لوگ ہوں گے ان میں سے کسی کو یہاں ٹھہرنے سے آپ منع نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہمارے درمیان معاہدہ تحریر کرو۔ بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم۔ یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔“ مشرکین کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول، مانتے تو ہم آپ کے متبع بن جاتے لیکن (چونکہ ہم نہیں مانتے لہٰذا) آپ یوں لکھیں۔ محمد بن عبد اللہ۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلی والی عبارت مٹا دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ نہیں! خدا کی قسم! میں اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ جگہ دکھاؤ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ جگہ دکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جملہ کو مٹا دیا۔ اور (اس کی جگہ) لکھا۔ ابن عبد اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اگلے سال) تین دن مکہ میں قیام فرمایا۔ جب تیسرا دن آیا تو مشرکین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی کی شرط کے مطابق آخری دن ہے پس تم ان سے کہو کہ وہ مکہ سے باہر چلے جائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکل گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39611]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39611، ترقيم محمد عوامة 37996)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39611 in Urdu