🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38002 ترقیم الشثری: -- 39617
٣٩٦١٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: (حدثنا) (١) عبد العزيز بن سياه قال: حدثنا حبيب بن ابي ثابت عن ابي وائل عن (سهل) (٢) بن حنيف قال: لقد كنا مع رسول الله ﷺ لو نرى قتالا لقاتلنا، وذلك في الصلح الذي كان بين رسول الله ﷺ (٣) وبين المشركين، فجاء عمر بن الخطاب فاتى رسول الله ﷺ فقال: (يا رسول الله) (٤) : السنا على حق وهم على باطل؟ قال:"بلى"، قال: اليس قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال:"بلى"، قال: ففيم نعطي الدنية ونرجع ولما يحكم الله بيننا ⦗٥٢٦⦘ وبينهم؟ قال: ["يا ابن الخطاب، إني رسول الله ولن يضيعني الله ابدا"، قال: فانطلق عمر ولم يصبر متغيظا حتى اتى ابا بكر، فقال: يا ابا بكر، السنا على حق وهم على باطل؟ قال: بلى، قال: اليس قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولما يحكم الله بيننا وبينهم قال: يا ابن الخطاب] (٥) إنه رسول الله ولن يضيعه الله ابدا، قال: فنزل القرآن على رسول الله ﷺ بالفتح، فارسل إلى عمر فاقراه إياه، فقال: يا رسول الله، او فتح هو؟ قال:"نعم"، (فطابت) (٦) نفسه ورجع (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (سهيل).
(٣) سقط من: [أ، ب، ع].
(٤) في [س]: (رسول اللَّه).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٦) في [جـ]: (فعابت)، وفي [أ]: (فعاتب).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٨٢، ٤٨٤٤)، ومسلم (١٧٨٥).

حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ اگر ہماری رائے قتال کی ہوجاتی تو ہم قتال کرتے۔ یہ اس صلح کے دوران کی بات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟ ّ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں! پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! حضرت عمر نے عرض کیا۔ پھر ہم ایسی گھٹیا بات کہہ کر کیوں لوٹ رہے ہیں؟ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر کو صبر نہ آیا اور وہ غصہ کی حالت میں چل دیئے اور حضرت ابوبکر کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ اے ابوبکر! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: کیوں نہیں! حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: کیوں نہیں۔ حضرت عمر نے کہا۔ پھر ہم اپنے دین کے متعلق ایسی گھٹیا بات کہہ کر کیوں جا رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر نے کہا۔ خطاب کے بیٹے! وہ خدا کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو کبھی ضائع نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فتح (کے وعدہ کے) ساتھ قرآن نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کی طرف آدمی بھیجا اور (بلا کر) انہیں یہ قرآن پڑھایا۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس پر حضرت عمر کا دل خوش ہوگیا اور وہ لوٹ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39617]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39617، ترقيم محمد عوامة 38002)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39617 in Urdu