مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
ترقیم عوامۃ: 38015 ترقیم الشثری: -- 39630
٣٩٦٣٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد الله بن عمرو بن اسلم عن ناجية بن جندب بن ناجية قال: لما (كنا) (٢) بالغميم لقي رسول الله ﷺ (خبر) (٣) قريش: انها بعثت خالد بن الوليد في (جريدة) (٤) خيل (تتلقى) (٥) رسول الله ﷺ، (فكره رسول الله ﷺ) (٦) ان يلقاه، وكان (بهم) (٧) رحيما، فقال:"من (رجل) (٨) يعدلنا عن الطريق؟" فقلت: انا بابي انت وامي يا رسول الله (٩) ، قال: فاخذت بهم في طريق (قد) (١٠) كان مهاجري بها فدافد وعقاب (١١) ، فاستوت (بي) (١٢) الارض حتى انزلته على الحديبية وهي نزح، قال: فالقى فيها ⦗٥٤٤⦘ سهما او سهمين من كنانته ثم بصق فيها ثم دعا، (قال) (١٣) : فعادت عيونها حتى اني لاقول -او نقول: لو شئنا (لاغترفنا) (١٤) (باقداحنا) (١٥) (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (كان).
(٣) في [س]: (خير).
(٤) في [ق]: (جريد).
(٥) في [س]: (يتلقى).
(٦) سقط من: [ي].
(٧) في [جـ]: بياض.
(٨) في [أ، ب]: (دخل).
(٩) في [ق، هـ]: زيادة ﷺ.
(١٠) في [جـ]: بياض.
(١١) الفدافد: الأرض الصعبة، والعقاب: الطرق بين الجبال المرتفعة.
(١٢) في [أ، ب]: (في).
(١٣) سقط من: [ي].
(١٤) في: [ع، هـ]: (لاغترقنا).
(١٥) في [أ، ب]: (بأقدامنا).
(١٦) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه الأسلمي، وأخرجه الطبراني (١٧٢٧)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣١٩)، والسمهمي في تاريخ جرجان ص ١٦٢، وورد حق من طريق آخر، أخرجه النسائي (٤١٣٥)، وابن جرير ٢/ ٢٢١.
حضرت ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مقام غمیم میں (پہنچے) تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کی اطلاع ملی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ کے ہمراہ روانہ کیا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آپ ان سے ملاقات کریں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بہت رحم کھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون آدمی ہے جو ہمیں اس راستہ سے ہٹا دے؟ (یعنی دوسرے راستہ پر لے جائے) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں لے جاؤں گا۔ فرماتے ہیں: پس میں نے انہیں ایک ایسے کٹھن راستہ پر ڈال دیا۔ جس میں گھاٹیاں اور اتار چڑھاؤ تھا۔ پھر جب ہموار زمین آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام حدیبیہ میں پڑاؤ کروایا اور اس جگہ کا پانی ختم تھا۔ ناجیہ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کنویں میں اپنے ترکش سے ایک یا دو ترا ڈالے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالاپھر دعا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: پس اس کے چشمے لوٹ آئے یہاں تک کہ میں نے …یا ہم لوگوں نے … کہا اگر ہم چاہیں تو اپنے پیالے (برتن) سے پانی بھر لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39630]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39630، ترقيم محمد عوامة 38015)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39630 in Urdu