مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. (غزوة خيبر)
غزوہ خیبر
ترقیم عوامۃ: 38031 ترقیم الشثری: -- 39646
٣٩٦٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن انس ان النبي ﷺ كان لا (يغير) (٢) حتى يصبح فيستمع، فإن سمع اذانا امسك، وإن لم يسمع اذانا اغار، قال: فاتى خيبر، وقد خرجوا من حصونهم فتفرقوا في ارضيهم، معهم مكاتلهم وفؤوسهم (ومرورهم) (٣) ، فلما راوه قالوا: محمد والخميس، فقال رسول الله ﷺ:" (الله) (٤) اكبر خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة فساء صباح المنذرين"، فقاتلهم حتى فتح الله عليه، فقسم الغنائم فوقعت صفية في سهم دحية الكلبي، فقيل لرسول الله ﷺ: إنه قد وقعت جارية جميلة في سهم دحية الكلبي، فاشتراها رسول الله ﷺ بسبعة ارؤس، فبعث بها إلى ام سليم تصلحها، قال: ولا اعلم (إلا) (٥) انه قال: (وتعتد) (٦) عندها، فلما اراد الشخوص قال الناس: ما ندري: اتخذها سرية ام تزوجها؟ فلما ركب سترها واردفها خلفه، فاقبلوا حتى إذا دنوا من (المدينة) (٧) (اوضعوا) (٨) ، وكذلك كانوا يصنعون إذا رجعوا، فدنوا من المدينة، فعثرت ناقة رسول الله ﷺ فسقط وسقطت، ونساء النبي ﷺ ينظرن مشرفات، فقلن: ابعد الله اليهودية واسحقها، ⦗١٤⦘ فسترها وحملها (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (يغبر).
(٣) أي: المجارف، وفي [ق]: (وصدرهم)، وسقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (وتعد).
(٧) في [س]: (المدنية).
(٨) في [أ، ب]: (أو وضعوا)، وفي أي،: (وضعوا)، وفي [ق]: (وأوضعوا).
(٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦١٠)، ومسلم (١٣٦٥ و ٣٨٢)، وأحمد (١٢٢٤٠).
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی بستی پر) حملہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سماعت کرلیں۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک جاتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کی آواز نہ سنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بستی پر) حملہ آور ہوجاتے۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب) خیبر کے علاقہ میں تشریف لائے تو (اس وقت) وہ لوگ اپنے قلعوں سے باہر نکل چکے تھے اور اپنی زمینوں میں پھیل گئے تھے۔ اور ان کے ہمراہ زنبیل، کلہاڑیاں اور پھاؤڑے وغیرہ تھے۔ پس جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بولے۔ محمد اور لشکر!!! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے (آگاہ کردہ) لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنائم کو تقسیم فرمایا۔ صفیہ، حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا۔ کہ حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سات غلاموں کے عوض خرید لیا اور انہیں حضرت ام سلیم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ انہیں درست کریں۔ راوی کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ یہ ان کے پاس عدت گزاریں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وہاں سے) روانگی کا قصد فرمایا۔ تو لوگ کہنے لگے۔ نامعلوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو بطور قیدی کے پکڑا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے شادی کی ہے؟ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کر کے انہیں اپنے پیچھے سوار کیا۔ پھر لوگ چل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے جانوروں کو تیز دوڑایا … لوگوں کی عادت یہی تھی کہ جب وہ (سفر سے) واپسی کرتے اور مدینہ کے قریب پہنچتے تو یونہی کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرپڑے اور صفیہ بھی گرگئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں منتظر ہو کر دیکھ رہی تھیں۔ تو انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ یہودیہ (صفیہ) کو دور کرے اور برباد کرے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کیا اور ان کو (اونٹنی پر) سوار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39646]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39646، ترقيم محمد عوامة 38031)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39646 in Urdu