مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. (غزوة خيبر)
غزوہ خیبر
ترقیم عوامۃ: 38028 ترقیم الشثری: -- 39643
٣٩٦٤٣ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا وكيع عن ابي جعفر عن قتادة عن انس: ﴿إنا فتحنا لك فتحا مبينا﴾ [الفتح: ١] قال: خيبر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) أبو جعفر الرازي صدوق، وأخرجه الحاكم ٢/ ٤٥٩، والخطيب في النفل ١/ ٤٦٧، وفي صحيح البخاري (٤٥٥٤) قال: الحديبية، وفي صحيح مسلم (١٧٨٦) قال: مرجعه من الحديبية.
حضرت انس (آیت قرآنی) {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ خیبر (والی فتح) ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39643]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39643، ترقيم محمد عوامة 38028)
ترقیم عوامۃ: 38029 ترقیم الشثری: -- 39644
٣٩٦٤٤ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني إياس بن سلمة قال: اخبرني ابي قال: بارز عمي يوم خيبر مرحبا اليهودي (١) (فقال مرحب) (٢) : قد علمت خيبر اني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب (إذا الحروب) (٣) اقبلت تلهب فقال: عمي عامر: قد علمت خيبر اني عامر … شاكي السلاح بطل مغامر فاختلفا ضربتين فوقع سيف مرحب في ترس عامر فرجع السيف على ساقه فقطع اكحله، فكانت فيها نفسه. قال سلمة: فلقيت من صحابة النبي ﷺ فقالوا: بطل عمل عامر، قتل نفسه، قال سلمة: فجئت إلى نبي الله ﷺ (ابكي) (٤) قلت: يا رسول الله بطل عمل عامر، قال:"من قال ذلك؟" قلت: اناس من اصحابك، قال رسول الله ﷺ: ⦗١١⦘"كذب من قال ذلك، بل له اجره مرتين". حين خرج إلى خيبر جعل يرجز باصحاب (رسول الله) (٥) ﷺ، وفيهم النبي ﵊، (يسوق) (٦) (الركاب) (٧) وهو يقول: تالله لولا الله ما اهتدينا … ولا تصدقنا و (لا) (٨) صلينا إن الذين قد بغوا علينا … إذا ارادوا فتنة ابينا ونحن عن فضلك ما استغنينا … فثبت الاقدام إن لاقينا (وانزلن) (٩) سكينة علينا فقال رسول الله ﷺ:"من هذا؟" قال: عامر (يا رسول الله) (١٠) ، قال:"غفر لك ربك"، قال:"وما استغفر لإنسان قط يخصه إلا استشهد"، فلما سمع ذلك عمر بن الخطاب قال: يا رسول الله، لولا ما متعتنا بعامر فقام فاستشهد. قال سلمة: ثم إن رسول الله ﷺ ارسلني إلى (علي) (١١) فقال:"لاعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله، او يحبه الله ورسوله"، قال: فجئت به (اقوده) (١٢) (١٣) ارمد قال: فبصق رسول الله ﷺ في (عينيه) (١٤) ثم اعطاه الراية. ⦗١٢⦘ فخرج مرحب (يخطر) (١٥) بسيفه فقال: قد علمت خيبر اني مرحب … شاكي السلاح بطل مجرب إذا الحروب اقبلت تلهب فقال: علي بن ابي طالب ﵁: انا الذي سمتني امي حيدرة … (كليث) (١٦) (غابات) (١٧) (كريه) (١٨) المنظرة او فيهم بالصاع كيل السندرة ففلق راس مرحب بالسيف، وكان الفتح على يديه ﵀ (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ق]: زيادة (سحرًا).
(٢) في [أ، ب]: (قال: مرحبًا اليهودي).
(٣) في [أ، ب]: (إنا بحروب).
(٤) في [ب]: (أيكنى).
(٥) في [ع]: (النبي).
(٦) في [س]: (سيوف).
(٧) في [ق، هـ]: (الركب).
(٨) سقط من: [س].
(٩) في [أ، ب]: (وأنزل).
(١٠) سقط من: [س].
(١١) في [أ، ب، ق]: زيادة ﵁.
(١٢) في [ع]: (أقود).
(١٣) في [ق]: زيادة (وهو).
(١٤) في [س]: (عينه).
(١٥) في [س]: (يخطي).
(١٦) في [جـ]: (كليب).
(١٧) في [س]: (غايات).
(١٨) في [أ، ب]: (كره).
(١٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٩٦، ٤٢٠٩)، ومسلم (١٨٠٧).
حضرت ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میرے چچا نے خیبر کے دن مرحب یہودی سے مبارزت کی تو مرحب نے کہا۔ ع ترجمہ: ”خیبر (کا خطہ) جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ اسلحہ سے لیس ایک مجرب بہادر ہوں۔ جب جنگیں آتیں ہیں تو وہ شعلہ وار ہوجاتا ہے۔“ اس پر میرے چچا نے یہ شعر کہا۔ ع ترجمہ: ”تحقیق خیبر (کا خطہ) مجھے جانتا ہے کہ میں عام ہوں۔ اسلحہ سے لیس اور جان پر کھیلنے والا سپوت ہوں۔“ پس دونوں (کی) ضربیں ایک دوسرے پر شروع ہوگئیں۔ اور مرحب کی تلوار حضرت عامر کی ڈھال میں آپڑی۔ (جس کی وجہ سے) حضرت عامر کی تلوار ان کی پنڈلی پر آ لگی اور اس نے ان کی رگ کو کاٹ دیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سے ملا تو انہوں نے کہا: عامر کے اعمال ضائع ہوگئے۔ انہوں نے خود کو قتل کیا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا عامر کے اعمال ضائع ہوگئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے یہ بات کہی ہے جھوٹ کہی ہے۔ بلکہ اس کے لئے تو دوہرا اجر ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عامر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو رجز کہہ رہے تھے۔ اور انہیں صحابہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے۔ حضرت عامر رکاب کو ہانک رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ ع۔ بخدا! اگر خدا نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی۔ تو ہم صدقہ بھی نہ کرتے اور نمازیں بھی نہ پڑھتے۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہم پر سرکشی کی۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔ ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہوسکتے پس اگر ہماری (دشمن سے) ملاقات ہوجائے تو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینہ نازل فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون ہے؟ کسی نے عرض کیا۔ عامر ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے لئے بھی خصوصیت کے ساتھ استغفار کیا وہ آدمی شہید ہی ہوا۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب نے سُنی تو انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے ہمیں حضرت عامر سے مزید کیوں مستفید نہ ہونے دیا۔ پھر حضرت عامر (میدان جنگ میں مبارزت کے جواب میں) کھڑے ہوئے اور شہید ہوگئے۔ ٦۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا اور فرمایا: آج کے دن میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے … یا فرمایا … جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ سلمہ کہتے ہیں: پس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس حال میں چلا کر لایا کہ ان کو آشوب چشم تھا۔ راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ مرحب اپنی تلوار کو اوپر نیچے ہلاتا ہوا باہر نکلا اور کہہ رہا تھا۔ تحقیق خربا (کے لوگ) مجھے جانتے ہیں کہ میں مرجر ہوں، اسلحہ سے لیس تجربہ کار سپوت ہوں۔ جب جنگیں آگے بڑھتی ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ع ”میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح نہایت مہیب ہوں اور میں دشمنوں کے پیمانہ کے ساتھ پورا ناپ کردیتا ہوں۔“ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر کو (دو حصوں میں) تلوار سے پھاڑ دیا۔ اور یہ فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے حاصل ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39644]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39644، ترقيم محمد عوامة 38029)
ترقیم عوامۃ: 38030 ترقیم الشثری: -- 39645
٣٩٦٤٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن (جبير) (١) بن مطعم قال: قسم رسول الله ﷺ سهم (ذوي) (٢) القربى من خيبر علي بني هاشم وبني المطلب، قال: فمشيت انا وعثمان بن عفان (حتى) (٣) (دخلنا) (٤) عليه فقلنا: يا رسول الله هؤلاء اخوتك من بني هاشم، لا (ينكر) (٥) فضلهم لمكانك الذي وضعك الله به منهم، ارايت (إخوتنا) (٦) من بني المطلب اعطيتهم دوننا، وإنما نحن وهم بمنزلة واحدة في النسب، فقال:"إنهم لم ⦗١٣⦘ يفارقونا في الجاهلية والإسلام" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (خبير).
(٢) في [أ، ب]: (ذي).
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) في [جـ]: بياض.
(٥) في [أ، ب]: (تنكر)، وفي [س]: (ننكر).
(٦) في [س]: (إخواننا).
(٧) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وصرح ابن إسحاق بالسماع عند البيهقي ٦/ ٣٤١، وأخرجه البخاري (٣١٤٠)، وأحمد (١٦٧٤١).
حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر میں سے ذوی القربیٰ کے حصے کو بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب پر تقسیم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: پس میں اور حضرت عثمان بن عفان، نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! یہ آپ بنی ہاشم کے جو بھائی ہیں۔ ان کی اس فضیلت کا انکار نہیں کیا جاسکتا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان میں بھیج کر عطا فرمائی ہے۔ لیکن آپ ہمارے بنی عبد المطلب کے بھائیوں کو کیسا دیکھتے ہیں۔ آپ نے انہیں ہم سے تھوڑا عطا فرمایا ہے۔ حالانکہ ہم اور وہ، نسب کے اعتبار سے ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے ہمارا حالت اسلام اور جاہلیت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39645]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39645، ترقيم محمد عوامة 38030)
ترقیم عوامۃ: 38031 ترقیم الشثری: -- 39646
٣٩٦٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن انس ان النبي ﷺ كان لا (يغير) (٢) حتى يصبح فيستمع، فإن سمع اذانا امسك، وإن لم يسمع اذانا اغار، قال: فاتى خيبر، وقد خرجوا من حصونهم فتفرقوا في ارضيهم، معهم مكاتلهم وفؤوسهم (ومرورهم) (٣) ، فلما راوه قالوا: محمد والخميس، فقال رسول الله ﷺ:" (الله) (٤) اكبر خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة فساء صباح المنذرين"، فقاتلهم حتى فتح الله عليه، فقسم الغنائم فوقعت صفية في سهم دحية الكلبي، فقيل لرسول الله ﷺ: إنه قد وقعت جارية جميلة في سهم دحية الكلبي، فاشتراها رسول الله ﷺ بسبعة ارؤس، فبعث بها إلى ام سليم تصلحها، قال: ولا اعلم (إلا) (٥) انه قال: (وتعتد) (٦) عندها، فلما اراد الشخوص قال الناس: ما ندري: اتخذها سرية ام تزوجها؟ فلما ركب سترها واردفها خلفه، فاقبلوا حتى إذا دنوا من (المدينة) (٧) (اوضعوا) (٨) ، وكذلك كانوا يصنعون إذا رجعوا، فدنوا من المدينة، فعثرت ناقة رسول الله ﷺ فسقط وسقطت، ونساء النبي ﷺ ينظرن مشرفات، فقلن: ابعد الله اليهودية واسحقها، ⦗١٤⦘ فسترها وحملها (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (يغبر).
(٣) أي: المجارف، وفي [ق]: (وصدرهم)، وسقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (وتعد).
(٧) في [س]: (المدنية).
(٨) في [أ، ب]: (أو وضعوا)، وفي أي،: (وضعوا)، وفي [ق]: (وأوضعوا).
(٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦١٠)، ومسلم (١٣٦٥ و ٣٨٢)، وأحمد (١٢٢٤٠).
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی بستی پر) حملہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سماعت کرلیں۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک جاتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کی آواز نہ سنتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بستی پر) حملہ آور ہوجاتے۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جب) خیبر کے علاقہ میں تشریف لائے تو (اس وقت) وہ لوگ اپنے قلعوں سے باہر نکل چکے تھے اور اپنی زمینوں میں پھیل گئے تھے۔ اور ان کے ہمراہ زنبیل، کلہاڑیاں اور پھاؤڑے وغیرہ تھے۔ پس جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بولے۔ محمد اور لشکر!!! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے (آگاہ کردہ) لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح عطا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنائم کو تقسیم فرمایا۔ صفیہ، حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا۔ کہ حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سات غلاموں کے عوض خرید لیا اور انہیں حضرت ام سلیم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ انہیں درست کریں۔ راوی کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ یہ ان کے پاس عدت گزاریں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (وہاں سے) روانگی کا قصد فرمایا۔ تو لوگ کہنے لگے۔ نامعلوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو بطور قیدی کے پکڑا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے شادی کی ہے؟ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کر کے انہیں اپنے پیچھے سوار کیا۔ پھر لوگ چل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے جانوروں کو تیز دوڑایا … لوگوں کی عادت یہی تھی کہ جب وہ (سفر سے) واپسی کرتے اور مدینہ کے قریب پہنچتے تو یونہی کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرپڑے اور صفیہ بھی گرگئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں منتظر ہو کر دیکھ رہی تھیں۔ تو انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ یہودیہ (صفیہ) کو دور کرے اور برباد کرے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفیہ کو باپردہ کیا اور ان کو (اونٹنی پر) سوار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39646]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39646، ترقيم محمد عوامة 38031)
ترقیم عوامۃ: 38032 ترقیم الشثری: -- 39647
٣٩٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابن عون عن عمرو بن سعيد عن ابي طلحة قال: كنت ردف النبي ﷺ يوم خيبر، فلما انتهينا وقد خرجوا بالمساحي، فلما راونا قالوا: محمد والله، محمد (٢) والخميس، (فقال) (٣) رسول الله ﷺ (٤) :" (الله) (٥) اكبر انا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ]: زيادة (واللَّه).
(٣) في [ي]: (قالوا).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [أ، ب]: (واللَّه).
(٦) منقطع؛ عمرو بن سعيد لا يروي عن أبي طلحة، أخرجه الشاشي (١٠٧٦)، وورد من حديث عمرو عن الحسن عن أبي طلحة، وأخرجه أحمد (١٦٣٤٧)، والطبراني (٤٧٠٤)، والشاشي (١٠٥٥)، وورد عن أنس عند البخاري (٣٧١)، ومسلم (١٣٦٥).
حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب ہم (خیبر) پہنچے تو وہ لوگ (اپنے کھیتوں میں) بیلچوں کے ساتھ نکل چکے تھے۔ پس جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہنے لگے۔ محمد! بخدا! محمد اور لشکر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر! جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39647]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39647، ترقيم محمد عوامة 38032)
ترقیم عوامۃ: 38033 ترقیم الشثری: -- 39648
٣٩٦٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) داود بن ابي هند عن عامر ان النبي ﷺ اكرى خيبر بالشطر، ثم بعث ابن رواحة عند القسمة (فخيرهم) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (فحوهم)، وفي [خـ]: (يخرصهم).
(٣) مرسل؛ عامر هو الشعبي تابعي.
حضرت عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے ایک حصہ کو کرایہ پر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن رواحہ کو تقسیم کے وقت بھیجا اور آپ نے انہیں اختیار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39648]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39648، ترقيم محمد عوامة 38033)
ترقیم عوامۃ: 38034 ترقیم الشثری: -- 39649
٣٩٦٤٩ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) ميمون ابي عبد الله عن عبد الله بن بريدة (٢) الاسلمي عن ابيه قال: لما نزل رسول الله ⦗١٥⦘ بحضرة خيبر فزع اهل خيبر وقالوا: جاء محمد في اهل يثرب، قال: فبعث رسول الله ﷺ عمر بن الخطاب بالناس فلقي اهل خيبر فردوه وكشفوه هو واصحابه، فرجعوا إلى رسول الله ﷺ) (٣) يجبن اصحابه ويجبنه اصحابه، قال: فقال رسول الله ﷺ:"لاعطين اللواء غدا رجلا يحب الله ورسوله، (ويحبه الله ورسوله) (٤) "، قال: فلما كان الغد تصادر لها ابو بكر وعمر، قال: فدعا عليا وهو يومئذ ارمد فتفل في عينه واعطاه اللواء قال: فانطلق بالناس، قال: فلقي اهل خيبر ولقي مرحبا الخيبري، وإذا هو يرتجز (ويقول) (٥) : قد علمت (خيبر اني مرحب) (٦) … شاكي السلاح بطل مجرب إذا (الليوث) (٧) اقبلت تلهب … اطعن احيانا وحينا اضرب قال: فالتقى هو وعلي (فضربه علي ضربة على هامته) (٨) بالسيف، عض السيف منها بالاضراس، وسمع صوت ضربته اهل العسكر، قال: فما تتام آخر الناس حتى فتح لاولهم (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، هـ]: زيادة (الأنصاري).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [س]: (وهو يقول).
(٦) في [ي]: (مرحب أني خيبر).
(٧) في [ع]: (الليوت).
(٨) في [س]: (فضربه علي ضربته)، وفي [هـ]: (فضربه ضربة على هامته).
(٩) ضعيف؛ لضعف ميمون، وأخرجه أحمد ٥/ ٣٥٨ (٢٣٠٨١)، والنسائي (٨٤٠٣)، والحاكم ٣/ ٤٣٧، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٧٩)، وابن سعد ٣/ ٢٧٣، وابن شبه في أخبار المدينة (١٠٨٥)، والثعلبي في التفسير ٩/ ٤٩، وابن جرير في التاريخ ٢/ ١٣٦، وابن عساكر ٤٢/ ٩٣، وابن عبد البر في الدرر في اختصار المغازي ص ١٩٩.
حضرت عبد اللہ بن بریدہ اسلمی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے علاقہ میں فروکش ہوئے تو اہل خیبر گھبرا گئے اور کہنے لگے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اہل یثرب کے ہمراہ آگئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کو چند لوگوں کے ہمراہ بھاجٓ وہ اہل خیبر سے ملے لیکن اہل خیبر نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو واپس کردیا پس یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں کو بزدل کہہ رہے تھے اور ان کے ساتھی انہیں بزدلی کا کہہ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جھنڈا کل ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس (آدمی) سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پس جب اگلا دن آیا تو حضرت ابوبکر اور عمر اس جھنڈے کے امیدوار تھے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھ میں تھتکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عَلَم تھما دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر چل دئیے۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سامنا اہل خیبر سے ہوا اور مرحب خیبری سے آپ کا سامنا ہواتو وہ یہ رجز پڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ع تحقیق خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، اسلحہ سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب شیرآگے بڑھتے ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں، کبھی نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار بازی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مرحب کا ٹکراؤ ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کھوپڑی پر تلوار کے ساتھ ایسی ضرب لگائی۔ کہ تلوار نے اس کی کھوپڑی سے داڑھوں تک کاٹ کر رکھ دیا۔ اور آپ کی ضرب کی آواز تمام لشکر نے سُنی مسلمانوں کے لشکر کے ابتدائی حصہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کردی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39649]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39649، ترقيم محمد عوامة 38034)
ترقیم عوامۃ: 38035 ترقیم الشثری: -- 39650
٣٩٦٥٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن ابي (عروبة) (١) عن قتادة ⦗١٦⦘ عن ابي نضرة عن ابي سعيد قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ من مكة إلى خيبر في ثنتي عشرة بقيت من رمضان، فصام (طائفة) (٢) من اصحاب رسول الله ﷺ، وافطر آخرون (٣) فلم يعب ذلك (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (عروة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ق]: زيادة ﷺ.
(٤) صحيح؛ محمد بن بشر روى عن سعيد بن أبي عروبة قبل اختلاطه، أخرجه مسلم (١١١٦)، وأحمد (١١٨٧٠)، وتقدم ٣/ ١٧ [٩٢٣٥] بلفظ: (حنين) بدل (خيبر).
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرا ہ مکہ سے خیبر کی طرف نکلے جبکہ رمضان میں سے بارہ دن باقی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے روزہ چھوڑ دیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی پر طعن نہں فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39650]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39650، ترقيم محمد عوامة 38035)
ترقیم عوامۃ: 38036 ترقیم الشثری: -- 39651
٣٩٦٥١ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن الحكم ان رسول الله ﷺ قسم لجعفر واصحابه يوم خيبر، ولم يشهدوا (الوقعة) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الوامقة).
(٢) مرسل؛ الحكم تابعي.
حضرت حکم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کو خیبر کے دن تقسیم میں شامل فرمایا۔ حالانکہ یہ لوگ جنگ خیبر میں شریک نہیں تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39651]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39651، ترقيم محمد عوامة 38036)
ترقیم عوامۃ: 38037 ترقیم الشثری: -- 39652
٣٩٦٥٢ - حدثنا شاذان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن سهيل عن ابيه عن ابي هريرة قال: قال عمر: إن (النبي) (١) ﷺ قال:"لادفعن اللواء غدا إلي رجل يحب الله ورسوله يفتح الله به"، قال عمر: ما تمنيت (الإمرة) (٢) إلا يومئذ، فلما كان الغد تطاولت لها، قال: فقال:"يا علي قم اذهب فقاتل ولا (تلتفت) (٣) حتى يفتح الله عليك"، فلما (قفى) (٤) كره ان يلتفت، فقال: يا رسول الله (علام) (٥) اقاتلهم؟ قال:"حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا (قالوها) (٦) حرمت دماؤهم واموالهم إلا بحقها" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رسول اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (الأمر).
(٣) في [هـ]: (تلفت).
(٤) في [أ، ب]: (بقي).
(٥) في [ع]: (علاما).
(٦) في [س]: (قالوا).
(٧) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٤٠٥)، وأحمد ٢/ ٣٨٤ (٨٩٧٨).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا۔ اللہ پاک اس کے ذریعہ فتح عطا فرمائیں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے امارت کی تمنا اس دن کے سوا کبھی نہیں کی۔ پھر جب اگلا دن (کل کا دن) آیا تو میں اس کو اونچا ہو کر دیکھنے لگا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی رضی اللہ عنہ! کھڑے ہو جاؤ، جاؤ اور جا کر لڑو۔ کسی طرف توجہ نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے (ہاتھ) پر فتح دے دیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رُخ پھیرا تو انہوں نے (واپس) مڑنا ناپسند کیا۔ عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں ان کفار سے کس بات پر لڑوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (لڑو) یہاں تک کہ وہ کہہ دیں۔ لا الہ الا اللّٰہ۔ پس جب وہ یہ بات کہہ دیں تو ان کے اموال اور ان کے خون محفوظ ہوجائیں گے سوائے کسی حق کی صورت میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39652]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39652، ترقيم محمد عوامة 38037)