🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38068 ترقیم الشثری: -- 39685
٣٩٦٨٥ - حدثنا احمد بن مفضل قال: (حدثنا) (١) اسباط بن نصر قال: زعم السدي عن مصعب بن سعد عن ابيه قال: لما كان يوم فتح مكة امن رسول الله ﷺ الناس إلا اربعة نفر وامراتين وقال:"اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين باستار الكعبة"، عكرمة بن ابي جهل، وعبد الله بن خطل، ومقيس بن صبابة، وعبد الله ابن سعد بن ابي سرح. ⦗٥١⦘ فاما عبد الله بن خطل فادرك وهو متعلق باستار الكعبة (فاستبق) (٢) إليه سعيد ابن (حريث) (٣) وعمار، فسبق سعيد عمارا، وكان (اشب) (٤) الرجلين فقتله. واما مقيس بن صبابة فادركه الناس في السوق فقتلوه. واما عكرمة فركب البحر فاصابتهم عاصف، فقال اصحاب (السفينة) (٥) لاهل السفينة: اخلصوا، فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا هاهنا، فقال عكرمة: والله لئن لم (ينجني) (٦) في البحر إلا الإخلاص ما ينجيني في البر [غيره اللهم (إن) (٧) لك عهدا إن انت عافيتني مما انا فيه اني آتي محمدا حتى اضع يدي في يده فلاجدنه عفوا كريما، قال: فجاء واسلم] (٨) . واما عبد الله بن سعد بن ابي سرح فإنه اختبا عند عثمان، فلما (دعا) (٩) رسول الله ﷺ (الناس) (١٠) (للبيعة) (١١) جاء به حتى اوقفه على النبي ﷺ فقال: يا رسول الله بايع عبد الله، قال: فرفع راسه فنظر إليه ثلاثا (كل) (١٢) ذلك يابى فبايعه بعد الثلاث، ثم اقبل على اصحابه فقال:" (اما) (١٣) كان فيكم رجل رشيد ⦗٥٢⦘ (يقوم) (١٤) إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن (بيعته) (١٥) فيقتله"، قالوا: وما يدرينا يا رسول الله ما في نفسك الا اومات إلينا بعينك؟ قال:"إنه لا ينبغي لنبي ان (تكون) (١٦) له خائنة اعين" (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (فاستيق).
(٣) في [ط]: (كريب).
(٤) في [أ، ب]: (أشبه).
(٥) في [س]: بياض.
(٦) في [أ، ق، هـ]: (ينجيني).
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [ب]: (رعا)، وفي [س]: (دعى).
(١٠) سقط من: [جـ، ي].
(١١) في [أ، ب، س، ع، ي]: (إلى البيعة).
(١٢) في [أ، ب]: (أكل).
(١٣) في [هـ]: (ما).
(١٤) في [ب]: (القوم).
(١٥) في [ق، هـ]: (بيعة).
(١٦) في [ب]: (يكون).
(١٧) حسن؛ أحمد بن مفضل صدوق، وكذلك أسباط والسدي، أخرجه أبو داود (٢٦٨٣)، والنسائي (٣٥٣٠)، والحاكم ٣/ ٤٥، والبزار (١١٥١)، والطحاوي ٣/ ٣٣٠، وأبو يعلى (٧٥٧)، والدارقطني ٣/ ٥٩، والبيهقي ٨/ ٢٠٢، والضياء ٣/ (١٠٥٤)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ١٧٥، وابن بشكوال ١/ ١٢٩.

حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام لوگوں کو امن دے دیا سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے، اور ارشاد فرمایا: تم لوگ ان کو اگرچہ کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا ہوا پاؤ ان کو تب بھی قتل کر ڈالو۔ (وہ یہ لوگ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن ابی سرح، پھر عبد اللہ بن خطل کو تو اس حالت میں پایا گیا کہ وہ (واقعۃً) کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا تھا۔ تو اس کی طرف حضرت سعید بن حریث اور عمار (دونوں) لپکے لیکن حضرت سعید، حضرت عمار سے آگے بڑھ گئے اور یہ سعید، عمار سے زیادہ جوان تھے۔ اور انہوں نے ابن خطل کو قتل کردیا۔ اور مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پا لیا اور اس کو (وہیں) قتل کردیا اور رہا عکرمہ، تو سمندر میں (کشتی پر) سوار ہوا تو ان (کشتی والوں) کو تیز آندھی نے آلیا۔ چناچہ کشتی والوں نے سواروں سے کہنا شروع کیا۔ (خدا کو) خالص طریقہ سے پکارو، کیونکہ تمہارے معبودان (باطلہ) یہاں پر تمہیں کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے۔ عکرمہ نے (دل میں) کہا۔ بخدا! اگر مجھے اس سمندر میں خالص طریقہ پر (خدا کو) پکارنا ہی نجات دے سکتا ہے تو پھر خشکی پر بھی یہی نجات دے سکتا ہے۔ اے اللہ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے کہ اگر آپ مجھے اس موجودہ مصیبت سے عافیت عطا کریں گے تو میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں گا میں ضرور بالضرور ان کو معاف کرنے والا اور کرم کرنے والا پاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں: پس یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ حضرت عثمان کے ہاں (جا کر) چھپ گیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان، ان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا کردیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! عبد اللہ سے بیعت لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور ان کی طرف تین مرتبہ دیکھا۔ ہر مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا۔ کیا تم میں سے کوئی سمجھ دار آدمی موجود نہیں تھا جو اس کو (مارنے) کھڑا ہوجاتا جبکہ اس نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت لینے سے روکا ہو اتھا۔ اور اس کو قتل کردیتا۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں کیا علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی آنکھ کے ساتھ اشارہ کیوں نہیں کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ کسی نبی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39685]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39685، ترقيم محمد عوامة 38068)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39685 in Urdu