🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38054 ترقیم الشثری: -- 39669
٣٩٦٦٩ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت البناني عن عبد الله بن رباح قال: وفدت وفود إلى معاوية وفينا ابو هريرة، وذلك في رمضان فجعل بعضنا يصنع لبعض الطعام، قال: فكان ابو هريرة ممن يصنع لنا فيكثر فيدعونا إلى رحله، قال: قلت (٢) : (الا) (٣) اصنع لاصحابنا فادعوهم إلى رحلي؟ قال: فامرت بطعام (فصنع) (٤) (ولقيت) (٥) ابا هريرة من العشي، فقلت: الدعوة عندي الليلة، قال: اسبقتني؟ قال: قلت: نعم، قال: فدعوتهم فهم عندي، قال: قال ابو هريرة: الا اعللكم بحديث من حديثكم يا معشر الانصار. قال: ثم ذكر فتح مكة قال: اقبل رسول الله ﷺ حتى دخل مكة، وبعث الزبير ابن العوام على إحدى المجنبتين، وبعث خالد بن الوليد على المجنبة الاخرى، وبعث ابا عبيدة على الحسر، فاخذوا بطن الوادي، قال: ورسول الله ﷺ في كتيبة. قال: فناداني، قال:"يا ابا هريرة"، قلت: لبيك يا رسول الله، قال:"اهتف لى بالانصار، ولا ياتيني إلا انصاري"، قال: فهتفت بهم، قال: فجاؤوا ⦗٢٦⦘ حتى اطافوا به، قال:"وقد (وبشت) (٦) قريش (اوباشا لها) (٧) واتباعا"، قالوا: (تقدم) (٨) هؤلاء كان (لهم) (٩) (شيء) (١٠) كنا معهم، وإن اصيبوا اعطينا الذي سئلنا. فقال رسول الله ﷺ للانصار حين اطافوا به:" (اترون) (١١) إلي اوباش قريش واتباعهم"، ثم قال بيديه إحداهما على الاخرى: [ (١٢) "احصدوهم" -ثم ضرب سليمان بحرف كفه اليمنى على بطن كفه اليسرى] (١٣) - حصدا حتى (توافوا) (١٤) بالصفا". قال: فانطلقنا فما احد منا يشاء ان يقتل منهم احدا إلا قتله، (وما) (١٥) احد منهم يوجه إلينا شيئا، فقال ابو سفيان: يا رسول الله ابيحت خضراء قريش بعد هذا اليوم، قال: قال رسول الله ﷺ:"من اغلق بابه فهو آمن، (ومن دخل دار ابي سفيان فهو آمن) (١٦) " قال: (فغلق) (١٧) الناس ابوابهم. قال: فاقبل رسول الله ﷺ حتى استلم الحجر وطاف بالبيت، فاتى على صنم إلى جنب البيت يعبدونه، وفي يده قوس وهو آخذ بسية القوس، فجعل ⦗٢٧⦘ يطعن بها في عينه ويقول: ﴿جاء الحق وزهق الباطل﴾ (١٨) [الإسراء: ٨١] ، حتى إذا فرغ من طوافه اتى الصفا فعلاها حيث ينظر إلى البيت فرفع يديه وجعل يحمد الله ويذكره ويدعو بما شاء (الله) (١٩) ان يدعو، قال: والانصار (تحته) (٢٠) قال: (تقول) (٢١) الانصار بعضها لبعض: اما الرجل فادركته رغبة في قريته ورافة بعشيرته. [قال: قال ابو هريرة: وجاء الوحي، وكان إذا جاء الوحي لم يخف علينا، فليس احد من الناس يرفع طرفه إلى رسول الله ﷺ حتى يقضى، فلما قضي الوحي قال رسول الله ﷺ:"يا معشر الانصار"، قالوا: لبيك يا رسول الله، قال:"قلتم، اما الرجل فادركته رغبة في قريته ورافة بعشيرته"] (٢٢) ، قالوا: قد قلنا (ذلك) (٢٣) يا رسول الله، قال:"فما اسمى إذن، كلا إني عبد الله ورسوله، (هاجرت) (٢٤) إلي الله وإليكم، (المحيا) (٢٥) محياكم والممات مماتكم"، (قال) (٢٦) : فاقبلوا إليه يبكون يقولون: والله -يا رسول الله- ما قلنا الذي قلنا إلا للضن بالله (وبرسوله) (٢٧) قال:"فإن الله ورسوله يعذرانكم ويصدقانكم" (٢٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ب]: زيادة (له).
(٣) في [ب، جـ]: (لا).
(٤) في [هـ]: (يصنع).
(٥) في [أ، ب]: (وكفيت).
(٦) في [أ، ب، ع]: (وبثت)، وفي [س]: (وثبت)، وفي [هـ]: (ولشت).
(٧) في [هـ]: (أوباشها).
(٨) في [أ، ب، جـ، ع، ي]: (يقدم)، وفي [هـ]: (فإن تقدم).
(٩) في [أ، ب]: (لنا).
(١٠) في [هـ]: (شر).
(١١) في [ع]: (ترون).
(١٢) من هنا بدأ سقط من: [أ، ب]، ومن هنا تكرر ما في [هـ].
(١٣) في [هـ]: تكرر ما بين المعكوفين
(١٤) في [س]: (تطافوا).
(١٥) في [هـ]: (وأما).
(١٦) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٧) في [ي]: (فأغلق فغلق).
(١٨) في [جـ]: زيادة: ﴿إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾.
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) سقط من: [أ، ب، ي].
(٢١) في [أ، ط، هـ]: (يقول).
(٢٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٢٣) في [جـ، ي]: (ذاك).
(٢٤) في [أ، ب]: (صرت).
(٢٥) سقط من: [أ، ب].
(٢٦) سقط من: [ع].
(٢٧) في [أ، ب]: (ورسوله).
(٢٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٠)، وأحمد (١٠٩٤٨).

حضرت عبد اللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ کی طرف کچھ وفود گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ بھی تھے۔ یہ رمضان کے دنوں کی بات ہے۔ پس ہم میں سے بعض، بعض کے لئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے۔ راوی کا بیان ہے۔ حضرت ابوہریرہ ان میں سے تھے جو ہمارے لئے بہت زیادہ کھانے کی دعوت کا اہتما م کرتے تھے۔ اور ہمیں اپنے کجاوہ (منزل) کی طرف بلا لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا کہ کیوں نہ میں اپنے ساتھیوں کے لئے دعوت کا اہتمام کروں اور انہیں اپنے کجاوہ کی طرف بُلاؤں۔ کہتے ہیں: پس میں نے کھانے کا کہا اور وہ تیار کرلیا گیا اور شام کو حضرت ابوہریرہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے) کہا۔ آج کی رات میری طرف دعوت ہے۔ انہوں نے (آگے سے) فرمایا: کیا تم مجھ پر (آج) سبقت لے گئے ہو؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: پس میں نے سب کو بلایا اور وہ میرے پاس آگئے۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے۔ اے گروہ انصار! کیا میں تمہیں، تمہاری باتوں میں سے ہی کچھ سُناؤں؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے فتح مکہ کا (واقعہ) ذکر کیا۔ ٢۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میمنہ اور میسرہ میں سے ایک لشکر پر حضرت زبیر کو مقرر فرمایا اور حضرت خالد بن الولید کو دوسرے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اور حضرت ابو عبیدہ کو خالی ہاتھ لوگوں پر مقرر فرمایا۔ پھر وہ لوگ وادی کے آنگن میں داخل ہوگئے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چھوٹے سے لشکر میں تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آواز دی۔ فرمایا۔ اے ابوہریرہ! میں نے عرض کیا۔ میں حاضر ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لئے انصار کو آواز دو۔ میرے پاس صرف میرے انصار (صحابہ) ہی آئیں۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پس میں نے انہیں آواز دی۔ کہتے ہیں: وہ سب حاضر ہوگئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جھرمٹ میں لے لیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں: قریش نے اپنے بہت سے پیرو اور متفرق لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ اور قریش کہہ رہے تھے۔ ہم ان لوگوں کو (پہلے) آگے بھیجیں گے پس اگر ان کو کچھ (فائدہ) ملا تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر یہ لوگ مارے گئے تو ہم سے جو سوال کیا گیا ہم وہ دے چکے ہوں گے۔ ٤۔ جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا۔ قریش کے پیرو اور ان متفرق لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مار کر اشارہ فرماتے ہوئے کہا۔ ان کو مار ڈالو… سلمان راوی نے بھی اپنے دائیں ہتھیلی کے کنارے کو بائیں ہتھیلی پر مارا … ان کو خوب مارو یہاں تک کہ تم مجھے صفاء پر ملو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ہم اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ہم سے جو کوئی بھی اُن (اتباعِ قریش) میں سے کسی کو قتل کرنا چاہے تو اس کو قتل کرسکتا تھا۔ اور ان مں سے کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ابو سفیان نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! قریش کے عوام کو مباح قرار دیا گیا ہے؟ (پھر تو) آج کے بعد قریش (باقی) نہیں ہوں گے… راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے گا وہ مامون ہوگا اور جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا وہ بھی مامون ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کرلیے۔ ٥۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب رکھے ہوئے بُت کی طرف آئے جس کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں (اس وقت) کمان تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ٹیڑھی جانب سے پکڑا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قوس (کمان) کو اس بت کی آنکھ میں مارنا شروع کیا اور ارشاد فرمایا: حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر اس جگہ تک بلند ہوئے جہاں سے بیت اللہ دکھائی دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور خدا کا ذ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39669]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39669، ترقيم محمد عوامة 38054)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38055 ترقیم الشثری: -- 39670
٣٩٦٧٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن ابي سلمة ويحيى بن (عبد الرحمن) (٢) بن حاطب قالا: كانت بين رسول الله ﷺ وبين المشركين هدنة، (فكان) (٣) بين بني كعب وبين بني بكر قتال بمكة. فقدم صريخ بني كعب على رسول الله ﷺ فقال: اللهم (إني) (٤) ناشد محمدا … حلف ابينا وابيه (الاتلدا) (٥) (فانصر) (٦) هداك الله نصرا (عتدا) (٧) … وادع عباد الله ياتوا مددا فمرت سحابة فرعدت فقال رسول الله ﷺ:"إن هذه لترعد بنصر بني كعب". ثم قال لعائشة:"جهزيني، ولا (تعلمن) (٨) بذلك احدا"، فدخل عليها ابو بكر فانكر بعض شانها، فقال: ما هذا؟ قالت: امرني رسول الله ﷺ ان اجهزه، قال: إلى اين؟ (قالت) (٩) : إلى مكة، قال: (فوالله) (١٠) ما انقضت الهدنة بيننا وبينهم بعد. فجاء ابو بكر إلى رسول الله ﷺ فذكر له فقال النبي ﷺ:"إنهم اول من غدر"، ثم امر (بالطرق) (١١) فحبست، ثم خرج وخرج المسلمون معه، فغم لاهل مكة ⦗٢٩⦘ (لا) (١٢) ياتيهم خبر، فقال ابو سفيان لحكيم بن حزام: اي حكيم والله لقد (غممنا) (١٣) و (اغتممنا) (١٤) فهل لك ان تركب ما بيننا وبين (مر) (١٥) ، (لعلنا) (١٦) ان نلقى خبرا؟ فقال له بديل بن ورقاء الكعبي من خزاعة: وانا معكم، قالا: وانت إن شئت. قال: فركبوا حتى إذا دنوا من ثنية مر واظلموا فاشرفوا على الثنية، فإذا النيران قد اخذت الوادي كله، قال ابو سفيان لحكيم: (اي حكيم) (١٧) ما هذه النيران؟ قال بديل ابن ورقاء: (هذه) (١٨) نيران بني عمرو، (جوعتها) (١٩) (الحرب) (٢٠) ، قال: ابو سفيان: لا وابيك (لبنو) (٢١) عمرو (اذل و) (٢٢) اقل من هؤلاء، فتكشف عنهم الاراك، فاخذهم حرس رسول الله ﷺ نفر من الانصار، وكان عمر بن الخطاب تلك الليلة على الحرس، فجاؤا بهم (إليه) (٢٣) (فقالوا) (٢٤) : جئناك بنفر اخذناهم من اهل مكة، فقال عمر وهو يضحك إليهم: والله لو جئتموني بابي سفيان ما زدتم، قالوا: قد والله اتيناك بابي سفيان فقال: احبسوه. ⦗٣٠⦘ فحبسوه حتى اصبح، فغدى به على رسول الله ﷺ فقيل له: بايع، فقال: لا اجد إلا ذاك او شرا منه، فبايع، ثم قيل لحكيم بن حزام: بايع، فقال: ابايعك ولا اخر إلا قائما، قال: قال رسول الله ﷺ:"اما من قبلنا فلن تخر إلا قائما". فلما ولوا قال ابو بكر: اي رسول الله (٢٥) إن ابا سفيان رجل يحب السماع -يعني الشرف- فقال رسول الله ﷺ:"من دخل دار ابي سفيان فهو آمن إلا ابن خطل، ومقيس بن صبابة الليثي، وعبد الله بن سعد بن ابي سرح، (والقينتين) (٢٦) ، فإن وجدتموهم متعلقين باستار الكعبة (فاقتلوهم) (٢٧) ". قال: فلما ولوا قال ابو بكر: يا رسول الله (٢٨) لو امرت بابي سفيان (فحبس) (٢٩) على الطريق، واذن في الناس بالرحيل، (فادركه) (٣٠) العباس فقال: هل لك إلى ان تجلس حتى تنظر، قال: بلى، و (٣١) لم (يكن) (٣٢) ذلك (إلا) (٣٣) ان (يرى) (٣٤) ضعفه، (فيتناولهم) (٣٥) . ⦗٣١⦘ فمرت جهينة [فقال: (اي) (٣٦) عباس من هؤلاء؟ قال: هذه جهينة] (٣٧) قال: (ما لي) (٣٨) ولجهينة، والله (ما كانت) (٣٩) بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت مزينة فقال: اي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه مزينة، قال: ما لي ولمزينة، والله ما كانت بيني وبينهم حرب قط، ثم مرت سليم فقال: اي عباس من هؤلاء؟ قال: هذه سليم قال: ثم جعلت تمر طوائف العرب (فمرت) (٤٠) عليه اسلم وغفار، (فيسال) (٤١) عنها فيخبره العباس. حتى مر رسول الله ﷺ في اخريات الناس، في المهاجرين الاولين والانصار في لامة تلتمع البصر، فقال: اي عباس من هؤلاء؟ قال: هذا رسول الله ﷺ (٤٢) في المهاجرين الاولين والانصار، قال: لقد اصبح ابن اخيك عظيم الملك، (قال) (٤٣) : لا والله، ما هو بملك، (ولكنها) (٤٤) النبوة، وكانوا عشرة آلاف او اثني عشر الفا، قال: ودفع رسول الله ﷺ (الراية) (٤٥) إلى سعد بن عبادة، فدفعها سعد إلى ابنه قيس بن سعد. وركب ابو سفيان فسبق الناس حتى اطلع عليهم من الثنية، قال له اهل ⦗٣٢⦘ مكة: ما وراءك؟ قال: ورائي الدهم، ورائي ما (لا قبل) (٤٦) لكم به، ورائي من لم ار مثله، من دخل داري فهو آمن، فجعل الناس يقتحمون داره. وقدم رسول الله ﷺ فوقف بالحجون باعلى مكة، وبعث الزبير بن العوام في الخيل في اعلى الوادي، وبعث خالد بن الوليد في الخيل في اسفل الوادي، وقال رسول الله ﷺ:"إنك لخير (٤٧) ارض الله واحب ارض الله إلي الله، (وإني) (٤٨) والله لو لم اخرج منك ما خرجت، وإنها لم تحل لاحد (كان) (٤٩) قبلي، ولا تحل لاحد بعدي، وإنما احلت لي (ساعة من النهار) (٥٠) ، وهي ساعتي هذه حرام، لا يعضد شجرها، ولا يحتش (جبلها) (٥١) ، ولا يلتقط (ضالتها) (٥٢) إلا منشد"، فقال له رجل يقال له (شاء) (٥٣) ، والناس يقولون: قال له العباس: يا رسول الله إلا الإذخر، فإنه (لبيوتنا (وقبورنا) ) (٥٤) (٥٥) (وقيوننا) (٥٦) او لقيوننا (وقبورنا) (٥٧) . فاما ابن خطل فوجد متعلقا باستار الكعبة فقتل، واما مقيس بن (صبابة) (٥٨) ⦗٣٣⦘ فوجدوه بين الصفا والمروة (فتبادروه) (٥٩) نفر من بني كعب ليقتلوه، فقال له ابن عمه (نميلة) (٦٠) : خلوا عنه فوالله لا يدنوا منه رجل إلا ضربته بسيفي هذا حتى يبرد، فتاخروا عنه فحمل بسيفه ففلق به هامته وكره ان يفخر عليه (احد) (٦١) . ثم طاف رسول الله ﷺ بالبيت، ثم دخل عثمان بن طلحة فقال: اي عثمان، اين المفتاح؟ فقال: هو عند امي (سلامة) (٦٢) ابنة سعد، فارسل إليها رسول الله ﷺ، فقالت: لا واللات والعزى، لا ادفعه إليه ابدا، (قال) (٦٣) : إنه قد جاء امر غير الامر الذي كنا عليه، فإنك إن لم تفعلي قتلت انا واخي، قال: فدفعته إليه، قال: فاقبل به حتى إذا كان وجاه رسول الله ﷺ (٦٤) عثر فسقط المفتاح منه، فقام إليه رسول الله ﷺ فاحنى عليه ثوبه. ثم فتح له عثمان فدخل رسول الله ﷺ الكعبة فكبر في زواياها وارجائها، وحمد الله، ثم صلى بين الاسطوانتين ركعتين، ثم خرج فقام بين (البابين) (٦٥) (فقال) (٦٦) علي: فتطاولت لها ورجوت ان يدفع إلينا المفتاح، فتكون فينا السقاية ⦗٣٤⦘ والحجابة، فقال رسول الله ﷺ (٦٧) :" (اين) (٦٨) عثمان؟ هاكم ما اعطاكم الله"، فدفع إليه المفتاح. ثم رقى بلال على ظهر الكعبة فاذن، فقال خالد بن اسيد: ما هذا الصوت؟ قالوا: بلال بن رباح، قال: عبد ابي بكر الحبشي؟ قالوا: نعم، قال: اين؟ (قالوا) (٦٩) : على ظهر الكعبة، قال: على (مرقبة) (٧٠) بني ابي طلحة؟ قالوا: نعم، قال: ما يقول؟ قالوا: (يقول) (٧١) : اشهد ان لا إله إلا الله، واشهد ان محمدا رسول الله، قال: لقد اكرم الله ابا خالد عن ان يسمع هذا الصوت -يعني اباه، وكان ممن قتل (يوم) (٧٢) (بدر) (٧٣) في المشركين. وخرج رسول الله ﷺ إلى حنين، وجمعت له هوازن (بحنين) (٧٤) فاقتتلوا، فهزم اصحاب رسول الله ﷺ، قال الله (٧٥) : ﴿ويوم حنين إذ اعجبتكم كثرتكم فلم تغن عنكم شيئا﴾ [التوبة: ٢٥] الآية ثم انزل الله سكينته على رسوله وعلى المؤمنين، فنزل رسول الله ﷺ (٧٦) عن دابته (فقال) (٧٧) :"اللهم إنك إن شئت لم تعبد بعد اليوم، شاهت الوجوه"، ثم رماهم (بحصباء) (٧٨) كانت في يده فولوا مدبرين. ⦗٣٥⦘ فاخذ رسول الله ﷺ السبي والاموال فقال لهم:"إن شئتم فالفداء وإن شئتم فالسبي"، قالوا: لن نؤثر اليوم على الحسب شيئا، فقال رسول الله ﷺ:"إذا خرجت فاسالوني فإني ساعطيكم الذي لي، ولن يتعذر علي احد من المسلمين"، فلما خرج رسول الله ﷺ (صاحوا) (٧٩) إليه فقال:"اما الذي لي فقد اعطيتكموه"، وقال المسلمون مثل ذلك، إلا عيينة بن حصن بن حذيفة بن بدر فإنه قال: اما الذي لي فإني لا اعطيه، قال:" (انت) (٨٠) على حقك من ذلك"، قال: فصارت له يومئذ عجوز عوراء. ثم حاصر رسول الله ﷺ اهل الطائف قريبا من شهر، فقال عمر بن الخطاب: اي رسول الله ﷺ (٨١) ! دعني (فادخل) (٨٢) عليهم فادعوهم إلى الله، قال:"إنهم إذن قاتلوك"، فدخل عليهم عروة فدعاهم إلى الله فرماه رجل من بني مالك بسهم فقتله، فقال رسول الله ﷺ:"مثله في (قومه) (٨٣) (مثل) (٨٤) صاحب ياسين"، وقال رسول الله: ["خذوا مواشيهم وضيقوا عليهم". ثم اقبل رسول الله ﷺ] (٨٥) راجعا حتى إذا كان بنخلة جعل الناس يسالونه (٨٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا)، وفي [هـ]: (حدثنا).
(٢) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، ب]: (فقال: كان).
(٤) في [أ، ب]: (وإني).
(٥) في [أ، ب]: (الأتلبا).
(٦) في [ب]: (فانظر)، وفي [ع]: (فانصره).
(٧) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: (اهتدا).
(٨) في [أ، ب، ع]: (تعلمين).
(٩) في [أ، ب]: (قال).
(١٠) في [أ، ب]: (واللَّه).
(١١) في [ق، هـ]: (بالطريق).
(١٢) في [أ، ب]: (ما).
(١٣) في [ق، هـ]: (غمنا).
(١٤) في [جـ]: (وأغممنا).
(١٥) في [أ، ب]: (ممنع).
(١٦) في [أ، ب]: (لنا).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [أ، ب]: تكررت.
(١٩) في [ي]: (وجوعتها).
(٢٠) في [أ، ب]: تكررت.
(٢١) في [ع]: (لبني).
(٢٢) سقط من: [أ، ب].
(٢٣) سقط من: [س].
(٢٤) في [أ، ب]: (قالوا).
(٢٥) في [ب]: زيادة ﷺ.
(٢٦) في [س]: (والقنبتين).
(٢٧) في [أ، ب]: (فاقبلوهم).
(٢٨) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(٢٩) في [س، ي]: (فجلس).
(٣٠) في [أ، ب]: (فأدرك).
(٣١) في [جـ]: زيادة (لكن).
(٣٢) في [ع]: (يكره).
(٣٣) سقط من: [ع].
(٣٤) في [ع]: (فيرى).
(٣٥) أي: يتكلم عنهم، وفي [ي]: (فيناولهم).
(٣٦) في [أ، ب]: (ابن).
(٣٧) في [أ، ب]: مكرر ما بين المعكوفين.
(٣٨) سقط من: [جـ].
(٣٩) في [أ، ب]: (ما كتب).
(٤٠) في [ع]: (فمر).
(٤١) سقط من: [جـ].
(٤٢) في [جـ، ع، ي]: زيادة (وأصحابه).
(٤٣) في [ب]: (فقال).
(٤٤) في [أ، ب]: (وكان).
(٤٥) سقط من: [أ، ب].
(٤٦) في [أ، ب]: (قيل).
(٤٧) في [أ، ب]: زيادة (أهل).
(٤٨) في [ع]: (أنت)، وفي [س، ط، هـ]: (إني).
(٤٩) سقط من: [أ، ب].
(٥٠) في [ع]: (من النهار ساعة).
(٥١) في [س، ي]: (جلها)، وفي [هـ]: (حشيشها).
(٥٢) في [ع]: (لاقطتها).
(٥٣) في [أ، ب]: (ثبا)، وفي [ط، هـ]: (شاه).
(٥٤) في [ح]: تكرر ما بين المعكوفين.
(٥٥) سقط من: [ع].
(٥٦) في [ي]: (لقيوننا وقبورنا).
(٥٧) سقط من: [س].
(٥٨) في [أ، ب]: (صبارة).
(٥٩) في [ق، هـ]: (فبادره)، وفي [ع]: (فتبادروه).
(٦٠) في [أ، ب]: (نمييله).
(٦١) في [أ، ب]: (أحدًا).
(٦٢) كذا في النسخ، وهو الموافق لما في الثقات ٣/ ٢٦٠، وأسد الغابة ٧/ ١٦٠، ولباب المنقول ص ٨٣، ونبه الحافظ إلى أن الصواب (سلافة)، كما في الإصابة ٧/ ٧٢٤، وانظر: الإصابة ٧/ ٧٠٢، وغوامض الأسماء المبهمة ١/ ٤٧٩، وتهذيب الكمال ١٩/ ٣٩٦، والسيرة الحلبية ٢/ ٤٩٨، ومغازي الواقدي ١/ ٢٠٢.
(٦٣) سقط من: [جـ].
(٦٤) سقط من: [ع].
(٦٥) في [ع]: (الناس).
(٦٦) في [أ، ب]: (قال).
(٦٧) سقط من: [ع].
(٦٨) في [أ، ب]: (لين).
(٦٩) في [جـ]: (قال).
(٧٠) في [أ، ب]: (مزقعة).
(٧١) في [أ، ب، ع]: (قال).
(٧٢) سقط من: [أ، ب].
(٧٣) في [أ، ب]: (ببدر).
(٧٤) في [أ، ب]: (وحنين).
(٧٥) في [ع]: زيادة (تعالى).
(٧٦) سقط من: [أ].
(٧٧) في [أ، ب]: (وقال).
(٧٨) في [أ، هـ]: (حصاء)، وفي [ب]: (حصى).
(٧٩) في [جـ]: (هاجوا).
(٨٠) في [هـ]: (فأنت).
(٨١) سقط من: [أ، ب].
(٨٢) في [ق، ع، هـ]: (أدخل).
(٨٣) في [ب]: (يومه).
(٨٤) في [ع]: (كمثل).
(٨٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٨٦) مرسل؛ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب تابعيان، أخرج الأزرقي ٢/ ١٢٥ قطعة منه، وورد متصلًا من حديث أبي هريرة، أخرجه أبو يعلى (٥٩٥٤)، وابن أبي خيثمة في أخبار المكيين ص ٩٨ (٣).

حضرت ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمان بن حاطب دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین (مکہ) کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ تھا۔ اور بنو کعب بنو بکر کے درمیان مکہ میں لڑائی ہوگئی۔ بنی کعب کی طرف سے ایک فریادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ ع اے خدا! میں محمد کو اپنے اور اس کے آباء کی پرانی قسم دیتا ہوں۔ کہ تم مدد کرو۔ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ سخت مدد اور اللہ کے بندوں کو بلاؤ وہ مدد کے لئے آئیں گے۔ ٢۔ پس ایک بادل گزرا اور وہ کڑکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لئے کھڑک رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: میرا سامان تیار کرو۔ اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔ پس (اسی دوران) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انہوں نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حالت کو متغیر پایا تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامان تیار کروں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا۔ کہاں کے لئے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا۔ مکہ کے لئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ بخدا! ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ ختم تو نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان لوگوں نے پہلے غدر کیا ہے۔ ٣۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ بند کرنے کا حکم دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر مسلمان نکل پڑے اور اہل مکہ کو یوں گھیر لیا کہ ان کو کوئی خبر نہ مل سکی۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام سے کہا۔ اے حکیم! بخدا! ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے اور ہم ڈھک چکے ہیں۔ کیا تم اس کام کے لئے تیار ہو۔ کہ ہم یہاں سے مرالظہران تک سوار ہو کر (حالات) دیکھیں۔ شاید ہمیں کوئی خبر مل جائے۔ قبیلہ خزاعہ کے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ ابو سفیان اور حکم نے کہا۔ اگر تم چاہو تو چل پڑو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ سوار ہو کر جب مرالظہران کی پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اور گاٹی پر چڑھ گئے۔ ٤۔ پس جب یہ پیلو کے درخت سے آگے گزرے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہرہ داروں نے … انصاری صحابہ کی ایک جماعت نے پکڑ لیا۔ اس رات حضرت عمر بن خطاب پہرہ داروں پر ذمہ دار تھے۔ پہرہ دار صحابہ ان کو … ابو سفیان وغیرہ کو لے کر حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آ کر کہنے لگے۔ ہم آپ کے پاس اہل مکہ میں سے چند لوگ پکڑ کر لائے ہیں۔ حضرت عمر… انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور … فرمایا: خدا کی قسم! اگر تم میرے پاس ابو سفیان کو لے آتے تو بھی کچھ زیادہ نہ ہوتا۔ پہرہ دار صحابہ نے کہا: خدا کی قسم! ہم آپ کے پاس ابو سفیان ہی کو لائے ہیں۔ (اس پر) حضرت عمر نے فرمایا: اس کو بند کرلو۔ صحابہ نے ابو سفیان کو بند کرلیا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر حضرت عمر ابو سفیان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو سفیان سے کہا گیا۔ بیعت (اسلام) کرلو۔ ابو سفیان نے کہا … میں اس وقت یہی صورت یا اس سے بھی بدتر صورت ہی موجود پاتا ہوں۔ پھر اس نے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) بیعت کرلی۔ پھر حکیم بن حزام سے کہا گیا۔ تم (بھی) بیعت کرلو۔ اس نے کہا: میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ لیکن میں کھڑا ہی رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ہماری طرف سے بھی کھڑے رہنے کو قبول کرو۔ ٥۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ابو سفیان ایک ایسا آدمی ہے جو شہرت کو پسند کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے سوائے ابن خطل، مقیس بن صبابہ اللیثی، عبد اللہ بن سعد بن سرح اور دو باندیاں۔ اگر تم ان (مستثنیٰ) لوگوں کو کعبہ کے غلافوں میں بھی چمٹا ہوا پاؤ تو بھی ان کو قتل کر ڈالو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اگر آپ ابو سفیان کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو راستہ میں روک دیا جائے اور پھر آپ لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیں۔ پس حضرت عباس نے ابوسفیان کو راستہ میں پالیا (اور روک دیا) حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ کیا تم بیٹھو گے تاکہ کچھ نظارہ کرو؟ ابو سفیان نے کہا: کیوں نہیں! اور یہ (راستہ میں روکنا اور نظارہ دکھانا) سب کچھ صرف اس لئے تھا کہ ابو سفیان ان کی کثرت کو دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے۔ ٦۔ اسی دوران قبیلہ جہینہ کے لوگ گزرے [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39670]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39670، ترقيم محمد عوامة 38055)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39671
٣٩٦٧١ - قال انس: حتى انتزعوا رداءه عن ظهره، فابدوا عن (مثل) (١) فلقة القمر، فقال:"ردوا علي ردائي لا ابا لكم اتبخلونني فوالله ان لو كان لي ما لى بينهما إبلا وغنما لاعطيتكموه". فاعطى المؤلفة يومئذ: مائة، مائة من الإبل، واعطى الناس، فقالت الانصار عند ذلك: فدعاهم رسول الله ﷺ فقال:"قلتم كذا وكذا، الم اجدكم ضلالا فهداكم الله بي"، قالوا: بلى، (قال:"الم اجدكم عالة فإغناكم الله؟") (٢) قالوا: بلى، قال:" (الم) (٣) اجدكم اعداء فالف الله بين قلوبكم بي"، (قالوا: بلى) (٤) ، قال:"اما إنكم لو شئتم قلتم: قد جئتنا مخذولا (فنصرناك) (٥) "، قالوا: الله ورسوله امن، قال:"لو شئتم قلتم: جئتنا طريدا (فاويناك) (٦) "، قالوا: الله ورسوله امن، (قال) (٧) :"ولو شئتم لقلتهم جئتنا عائلا فآسيناك"، قالوا: الله ورسوله امن، (قال) (٨) :"افلا ترضون ان ينقلب الناس بالشاء والبعير، وتنقلبون برسول الله إلي دياركم؟" قالوا: بلى، فقال رسول الله ﷺ:"الناس دثار، والانصار شعار"، وجعل على المقاسم عباد بن (وقش) (٩) اخا بني عبد الاشهل، فجاء رجل من اسلم عاريا ليس عليه ثوب، فقال: اكسني من هذه البرود بردة، (قال: إنما هي مقاسم المسلمين، ولا يحل لي ان اعطيك منها شيئا، فقال قومه: ⦗٣٧⦘ اكسه منها بردة) (١٠) ، فإن تكلم فيها احد فهي من قسمنا (واعطياتنا) (١١) فاعطاه بردة، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ فقال:" (من) (١٢) كنت اخشى هذا (عليه) (١٣) ، ما كنت اخشاكم عليه"، فقال: يا رسول الله ما (اعطيته) (١٤) إياها حتى قال قومه: إن تكلم فيها احد فهي من قسمنا (واعطياتنا) (١٥) ، فقال:"جزاكم الله خيرا، جزاكم الله خيرا" (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مثله).
(٢) سقط من: [أ، ق، هـ].
(٣) في [جـ]: (أو لم).
(٤) سقط من: [أ، ب، ي].
(٥) في [أ، ب]: (فنصرناك).
(٦) في [هـ]: (آويناك).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) سقط من: [أ، ب، جـ، ع، م].
(٩) في [أ، ب]: (أوقس).
(١٠) سقط من: [ي].
(١١) في [أ، ب، ع]: (وأخطياتنا)، وفي [س]: (وأعطياننا).
(١٢) في [أ، ط، هـ]: (ما).
(١٣) في [أ، ب]: (عليك).
(١٤) في [ي]: (أعطيتهم).
(١٥) في [أ]: (وأخطياتنا)، وفي [ب]: (وأجطياتنا)، وفي [ع]: (وأحطاتنا)، وفي [جـ، ي]: (أحطياتنا)، وفي [س]: (وأعطياننا).
(١٦) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39671، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38056 ترقیم الشثری: -- 39672
٣٩٦٧٢ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابي (السوداء) (١) عن (ابن) (٢) (سابط) (٣) ان النبي ﷺ ناول عثمان بن طلحة المفتاح من وراء الثوب (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، هـ]: (السواد).
(٢) في [أ، ب، ع]: (أبي).
(٣) في [هـ]: (أسباط).
(٤) مرسل؛ عبد الرحمن بن سابط تابعي.

حضرت ابن سابط سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو کپڑے کے پیچھے سے (کعبہ کی) چابی عطا کی)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39672]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39672، ترقيم محمد عوامة 38056)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38057 ترقیم الشثری: -- 39673
٣٩٦٧٣ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمة قال: لما (وادع) (٢) رسول الله ﷺ اهل مكة، وكانت خزاعة حلفاء رسول الله ﷺ في الجاهلية، وكانت بنو بكر حلفاء قريش، فدخلت خزاعة في صلح رسول الله ﷺ، ودخلت بنو بكر في صلح قريش. ⦗٣٨⦘ فكان بين خزاعة وبين بني بكر قتال (فامدتهم) (٣) قريش بسلاح وطعام، وظللوا عليهم، فظهرت بنو بكر على خزاعة وقتلوا (فيهم) (٤) ، فخافت قريش ان يكونوا (قد) (٥) نقضوا، فقالوا لابي سفيان: اذهب إلى محمد (فاجد) (٦) (الحلف) (٧) واصلح بين الناس. فانطلق ابو سفيان حتى قدم المدينة، فقال رسول الله ﷺ:"قد جاءكم ابو سفيان وسيرجع راضيا بغير حاجته"، فاتى ابا بكر فقال: يا ابا بكر (اجد) (٨) الحلف واصلح بين الناس، او قال: بين قومك، قال: ليس الامر لي الامر إلى الله وإلي رسوله، قال: وقد قال له فيما قال: ليس من قوم ظللوا على (قوم) (٩) وامدوهم بسلاح وطعام ان يكونوا نقضوا، فقال ابو بكر: الامر إلى الله و (إلى) (١٠) رسوله. ثم اتى عمر بن الخطاب فقال: له نحوا مما قال لابي بكر، قال: فقال له عمر: انقضتم فما كان منه جديدا فابلاه الله، وما كان منه شديدا او (متينا) (١١) فقطعه الله، فقال ابو سفيان: ما رايت كاليوم شاهد عشيرة. ثم اتى فاطمة فقال: يا فاطمة هل لك في امر تسودين فيه نساء قومك، ثم ذكر لها نحوا مما ذكر لابي بكر فقالت: ليس الامر إلي، الامر إلى الله وإلى رسوله، ثم اتى عليا فقال: فقال له: نحوا مما قال لابي بكر، فقال له علي: ما رايت كاليوم ⦗٣٩⦘ رجلا اضل، انت (سيد) (١٢) الناس (فاجد) (١٣) الحلف واصلح بين الناس، قال: فضرب إحدى يديه على الاخرى وقال: قد اجرت الناس بعضهم من بعض. ثم ذهب حتى قدم على (اهل) (١٤) مكة فاخبرهم بما صنع، فقالوا: والله ما راينا اليوم وافد قوم، والله ما (اتيتنا) (١٥) بحرب فنحذر، ولا (اتيتنا) (١٦) (بصلح) (١٧) فنامن، ارجع. قال: وقدم وافد خزاعة على رسول الله ﷺ فاخبره بما صنع القوم (ودعا) (١٨) إلى النصرة وانشده في ذلك شعرا: (لا هم) (١٩) إني ناشد محمدا … حلف ابينا وابيه (الاتلدا) (٢٠) ووالدا (كنت وكنا) (٢١) ولدا … إن قريشا اخلفوك الموعدا ونقضوا ميثاقك (المؤكدا) (٢٢) … وجعلوا لي (بكداء) (٢٣) (رصدا) (٢٤) وزعمت ان لمست ادعو احدا … فهم اذل واقل عددا ⦗٤٠⦘ وهم اتونا بالوتير هجدا … (نتلوا) (٢٥) القرآن ركعا وسجدا ثمت اسلمنا ولم (ننزع) (٢٦) يدا … فانصر رسول الله نصرا (اعتدا) (٢٧) وابعث جنود الله (تاتي) (٢٨) مددا … في فيلق كالبحر ياتي مزبدا فيهم رسول الله قد تجردا … إن (سيم) (٢٩) (خسفا) (٣٠) وجهه تربدا قال حماد: هذا الشعر بعضه (عن ايوب، وبعضه عن) (٣١) يزيد بن حازم واكثره عن محمد بن إسحاق. ثم رجع إلى حديث ايوب عن عكرمة قال: قال حسان بن ثابت (٣٢) : اتاني ولم اشهد ببطحاء مكة … (رجال) (٣٣) بني كعب تحز رقابها وصفوان عود (خر) (٣٤) من (ودق) (٣٥) استه … فذاك (اوان) (٣٦) الحرب شد عصابها ⦗٤١⦘ فلا تجزعن يا ابن ام مجالد … فقد صرحت (صرفا) (٣٧) وعصل نابها فياليت شعري هل ينالن مرة … سهيل بن عمرو حوبها وعقابها قال: فامر رسول الله ﷺ بالرحيل فارتحلوا، فساروا حتى نزلوا مرا، قال: وجاء ابو سفيان حتى نزل مرا ليلا، قال: فراى العسكر والنيران فقال: (من) (٣٨) هؤلاء؟ فقيل: هذه تميم محلت بلادها (فانتجعت) (٣٩) بلادكم، قال: والله لهؤلاء اكثر من اهل (منى) (٤٠) ، (او قال: مثل اهل منى) (٤١) . فلما علم انه النبي ﷺ قال: دلوني على (العباس) (٤٢) ، فاتى العباس فاخبره الخبر، وذهب به إلى رسول الله ﷺ، ورسول الله ﷺ (٤٣) في قبة (له) (٤٤) فقال له:"يا ابا سفيان اسلم تسلم"، فقال: كيف اصنع باللات والعزى؟. قال ايوب: (فحدثني) (٤٥) ابو (الخليل) (٤٦) عن سعيد بن جبير، قال: قال له عمر بن الخطاب وهو خارج من القبة في عنقه السيف: اخر عليها، اما والله (ان) (٤٧) لو كنت خارجا من القبة ما قلتها ابدا، قال: قال ابو سفيان: من هذا؟ قالوا: عمر بن الخطاب (٤٨) . ⦗٤٢⦘ ثم رجع إلى حديث ايوب عن عكرمة: فاسلم ابو سفيان وذهب به العباس إلى منزله، فلما اصبحوا ثار الناس لطهورهم، قال: فقال ابو سفيان: يا ابا الفضل ما للناس امروا بشيء؟ قال: لا ولكنهم قاموا إلى الصلاة، قال: فامره العباس فتوضا ثم ذهب به إلى رسول الله ﷺ، فلما دخل رسول الله ﷺ (٤٩) الصلاة كبر، فكبر الناس، ثم ركع فركعوا ثم رفع فرفعوا، فقال ابو سفيان: (ما) (٥٠) رايت كاليوم طاعة قوم جمعهم من هاهنا وههنا، ولا فارس (الاكارم) (٥١) ولا الروم (٥٢) ذات القرون باطوع منهم له. قال: حماد وزعم يزيد بن حازم عن عكرمة ان ابا سفيان قال: يا ابا الفضل اصبح بن اخيك -والله- عظيم الملك، قال: (فقال له) (٥٣) العباس: إنه ليس بملك ولكنها (نبوة) (٥٤) ، قال: او ذاك؟ (او ذاك) (٥٥) (٥٦) . (ثم) (٥٧) رجع إلى حديث ايوب عن عكرمة قال: قال ابو سفيان: واصباح قريش، قال: فقال العباس: يا رسول الله، لو اذنت لي (فاتيتهم) (٥٨) فدعوتهم (فامنتهم) (٥٩) ، وجعلت لابي سفيان شيئا يذكر به، فانطلق العباس فركب بغلة ⦗٤٣⦘ رسول الله ﷺ (٦٠) الشهباء، وانطلق، فقال رسول الله ﷺ:"ردوا علي ابي، ردوا علي ابي، فإن عم الرجل صنو ابيه، إني اخاف ان تفعل به قريش ما فعلت ثقيف بعروة بن مسعود، دعاهم إلى الله فقتلوه، اما والله لئن ركبوها منه لاضرمنها عليهم نارا". فانطلق العباس حتى قدم مكة، فقال: يا اهل مكة اسلموا تسلموا، قد استبطنتم باشهب (بازل) (٦١) ، وقد كان رسول الله ﷺ بعث الزبير من قبل اعلى مكة، (وبعث) (٦٢) خالد (بن الوليد) (٦٣) من قبل اسفل مكة، فقال لهم العباس: هذا الزبير من قبل اعلى مكة، وهذا خالد من قبل اسفل مكة، وخالد (وما) (٦٤) خالد؟ وخزاعة (المجدعة) (٦٥) الانوف، ثم قال: من القى سلاحه فهو آمن. ثم قدم رسول الله ﷺ فتراموا بشيء من النبل، ثم إن رسول الله ﷺ ظهر عليهم فامن الناس إلا خزاعة (من) (٦٦) بني بكر (فذكر) (٦٧) اربعة: مقيس بن صبابة، وعبد الله بن ابي سرح، وابن (خطل) (٦٨) ، وسارة (مولاة) (٦٩) بني هاشم، قال حمادة: سارة -في حديث ايوب، (او) (٧٠) في حديث (غيره) (٧١) . ⦗٤٤⦘ قال: فقتلهم خزاعة إلى نصف النهار، وانزل الله: ﴿الا تقاتلون قوما نكثوا ايمانهم وهموا بإخراج الرسول وهم بدءوكم اول مرة اتخشونهم فالله احق ان تخشوه إن كنتم مؤمنين (١٣) قاتلوهم يعذبهم الله (٧٢) بايديكم ويخزهم (٧٣) وينصركم عليهم (٧٤) ويشف صدور قوم مؤمنين﴾ (قال: خزاعة) (٧٥) : ﴿ويذهب غيظ قلوبهم﴾ قال: خزاعة: ﴿ويتوب الله على من يشاء..﴾ [التوبة: ١٣ - ١٥] ، (قال: خزاعة) (٧٦) (٧٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (ودع).
(٣) في [أ، ب]: (فأمتنهم).
(٤) في [ق، هـ]: (منهم).
(٥) سقط من: [ق، هـ].
(٦) في [ع]: (فأخر)، وفي [أ، جـ، ق، ع]: (فأحد)، وفي [ب]: (فأعد)، وفي [هـ]: (فأجر).
(٧) في [أ، ب]: (الخلف).
(٨) في [ع]: (فأخر)، وفي [أ، جـ، ق، ع]: (فأحد)، وفي [ب]: (فأعد)، وفي [هـ]: (فأجر).
(٩) في [أ، ب]: (يوم).
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) في [ب]: (متنًا)، وفي [ع]: (قال: مثبتًا).
(١٢) في [أ، ب]: (سل).
(١٣) في [أ، ب]: (فأخذ)، وفي [جـ، س، ي]: (فأجد)، وفي [هـ]: (فأجر).
(١٤) سقط من: [هـ].
(١٥) هكذا في: [ع، هـ]، وفي باقي النسخ: (أتينا).
(١٦) هكذا في: [ع، هـ]، وفي باقي النسخ: (أتينا).
(١٧) في [أ، ب]: (يصلح).
(١٨) في [أ، ب]: (فدعا).
(١٩) في [جـ، ع، ي]: (اللهم).
(٢٠) في [أ، ب]: (الأبلدا).
(٢١) في [ع]: (كنا وكنت).
(٢٢) في [ب]: (الموكداه).
(٢٣) في [ب]: (بكذا)، وفي [ع]: (بكراء).
(٢٤) في [ق، هـ]: (مرصدا).
(٢٥) في [هـ]: (تتلو)، وفي [أ، ب، ط]: (يتلوا).
(٢٦) في [أ، ب]: (تنزع).
(٢٧) في [ب]: (أعبدا)، وفي [ع]: (عتدا).
(٢٨) في [ب]: (تاني).
(٢٩) في [أ، ب]: (شتم)، وفي [جـ]: (شيم).
(٣٠) في [أ، ب]: (حسفًا)، وفي [جـ، ق]: (حسن)، وفي [ي]: (حسنًا).
(٣١) سقط من: [ع].
(٣٢) في [أ، ب]: زيادة (شعرًا).
(٣٣) في [هـ]: (رحال).
(٣٤) في [هـ]: (حز)، وهو الموافق لما في ديوان حسان ١/ ٢٢، وتاريخ ابن جرير ٢/ ١٥٥، والبداية والنهاية ٤/ ٢٨٣، وفي شرح معاني الآثار ١٣/ ٣١٣: (خرَّ).
(٣٥) في [أ، ب]: (درق)، وفي [ع]: (ورق).
(٣٦) في [ي]: (أواني).
(٣٧) في [أ، ب]: (صرحًا).
(٣٨) في [ع]: (ما).
(٣٩) في [هـ]: (وانتجعت).
(٤٠) في [ع]: (منا).
(٤١) سقط من: [ق، هـ].
(٤٢) في [أ، ب]: (عباس).
(٤٣) سقط من: [ع].
(٤٤) سقط من: [أ، ب].
(٤٥) في [أ، ب]: (حدثني).
(٤٦) في [ط، هـ]: (الخيل).
(٤٧) سقط من: [ع].
(٤٨) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي.
(٤٩) سقط من: [ع].
(٥٠) سقط من: [هـ].
(٥١) سقط من: [هـ].
(٥٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٥٣) في [ب]: (فقاله).
(٥٤) في [هـ]: (النبوة).
(٥٥) في [جـ]: (أو ذا)، وفي [س]: (وأوذا).
(٥٦) مرسل؛ عكرمة تابعي.
(٥٧) في [جـ]: تكررت.
(٥٨) سقط من: [أ، ب].
(٥٩) في [س]: (وأمنتهم).
(٦٠) سقط من: [س].
(٦١) في [هـ]: (باذل)، والمراد: رميتم في باطن أمركم بأمر شديد صعب.
(٦٢) في [جـ]: (هذا).
(٦٣) سقط من: [جـ].
(٦٤) في [هـ]: (ما).
(٦٥) في [ب]: (المخدعة).
(٦٦) في [ع]: (عن).
(٦٧) في [أ، ب]: (وذكر).
(٦٨) في [ب]: (حنطل).
(٦٩) في [جـ، ي]: (مولى).
(٧٠) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (و).
(٧١) في [ع]: (غره).
(٧٢) في [أ، ب]: زيادة (قال: خزاعة).
(٧٣) في [أ، ب]: زيادة (قال: خزاعة).
(٧٤) في [أ، ب]: زيادة (قال: خزاعة).
(٧٥) سقط من: [هـ].
(٧٦) سقط من: [هـ].
(٧٧) مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه الفاكهي في أخبار مكة (٥/ ٢٠٨، وابن أبي حاتم في التفسير (١٠٠٢٨)، والسمرقندي ٢/ ٤٢، والطحاوي ٣/ ٢٩١ و ٣١٢، والبلاذري ص ٥٠، وورد بعضه من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه ابن جرير في التاريخ ٢/ ١٥٧، وابن عساكر ٢٣/ ٤٤٨.

حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اہل مکہ کے ساتھ صلح کی اور قبیلہ خزاعہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہلیت میں بھی حلیف تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے۔ لہٰذا (اس صلح میں بھی) خزاعہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صلح میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کی صلح میں داخل ہوگئے۔ پھر بنو خزاعہ اور بنو بکر میں کوئی لڑائی ہوئی تو قریش نے بنو بکر کی اسلحہ اور کھانے کے ساتھ خوب مدد کی۔ اور (گویا) ان پر سایہ فگن ہوگئے۔ پس بنو بکر، قبیلہ خزاعہ پر غالب آگئے اور بنو بکر نے قبیلہ خزاعہ کے بہت لوگ قتل کئے۔ پھر قریش کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنا عہد (جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا ہو) توڑ چکے ہیں۔ تو انہوں نے ابو سفیان سے کہا۔ جاؤ محمد کی طرف اور معاہدہ کی تجدید کرو ا لو اور لوگوں میں صلح کروا لو۔ ٢۔ ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تحقیق تمہارے پاس ابوسفیان آ رہا ہے اور عنقریب وہ اپنی حاجت (پوری کئے) بغیر واپس پلٹے گا۔ چناچہ ابو سفیان، حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے ابوبکر! معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح ہی رہنے دو۔ یا یہ الفاظ کہے کہ … اپنی قوم کے درمیان صلح ہی رہنے دو۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے بس میں نہیں ہے یہ تو اللہ اور اس کے رسول کے بس میں ہے۔ راوی کہتے ہیں: ابو سفیان نے جو باتیں حضرت ابوبکر سے کہیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ۔ یہ با ت نہیں ہے کہ اگر کسی قوم نے دوسری قوم کو اسلحہ اور کھانے کے ذریعہ سے مدد کی ہو اور ان پر سایہ کیا ہو تو وہ عہد کو توڑنے والے ہوں۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بس میں ہے۔ ٣۔ پھر ابو سفیان حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان سے بھی ویسی باتیں کہیں جیسی باتیں اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا۔ کیا تم نے عہد توڑ دیا ہے؟ پس اس بارے میں جو نئی بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے پرانا کردیا ہے اور جو مضبوط اور سخت بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے توڑ ڈالا ہے۔ ابو سفیان کہتا ہے میں نے اس د ن کی طرح قوم کو نہیں دیکھا؟ پھر ابو سفیان حضرت فاطمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے فاطمہ! کیا تم وہ کام کرو گی جس میں تم اپنی قوم کی خواتین کی سیادت کرو۔ پھر ابو سفیان نے ان سے بھی ویسی بات ذکر کی جیسی بات اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت فاطمہ نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے (بلکہ) یہ معاملہ تو اللہ اور اس کے رسول کے اختیار میں ہے۔ پھر ابو سفیان، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ویسی بات ہی کہی جیسی بات حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیا۔ میں نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی گمراہ آدمی نہیں دیکھا! تم تو لوگوں کے سردار ہو پس تم معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور کہنے لگا۔ تحقیق میں نے لوگوں میں سے بعض کو بعض سے پناہ دے دی ہے۔ ٤۔ پھر ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ اہل مکہ کے پاس پہنچا اور انہیں وہ بات بتلائی جو اس نے سرانجام دی تھی۔ تو انہوں نے (آگے سے) کہا۔ خدا کی قسم! ہم نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی قوم کا نمائندہ نہیں دیکھا۔ بخدا! نہ تو تم جنگ کی خبر ہمارے پاس لائے ہو کہ ہم (اس سے) بچاؤ کریں اور نہ ہی تم ہمارے پاس صلح کی خبر لے کر آئے ہو کہ ہم مامون ہوجائیں۔ (لہٰذا) تم واپس جاؤ۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں: (اتنے میں) قبیلہ خزاعہ کا نمائندہ وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین مکہ کے کئے کی خبر سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدد کے لئے بلایا اور اس بات کو اس نے ان شعروں میں بیان کیا۔ اے اللہ! محمد کو اپنے اور ان کے آباء کا پرانا عہد یاد دلاتا ہوں۔ اور (یہ بات کہ) آپ والد ہیں اور ہم بیٹے ہیں۔ بلاشبہ قریش نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ اور انہوں نے آپ کے پختہ عہد کو توڑ ڈالا ہے اور انہوں نے ہمارے لئے مقما کداء میں گھات لگایا ہے۔ اور انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ میں کسی کو (مدد کے لئے) نہیں بلاؤں گا۔ حالانکہ وہ لوگ تو تعداد میں تھوڑے اور ذلیل ہیں۔ وہ لوگ ہم پر مقام ونیر میں صبح کو حملہ آور ہوئے جبکہ ہم رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔ پس … اے اللہ کے رسول… خوب سخت مدد کیجئے۔ اور آپ اللہ کے لشکروں کو ابھاریں پس یہ آپ کے پاس مدد کیلئے ایسے [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39673]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39673، ترقيم محمد عوامة 38057)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38058 ترقیم الشثری: -- 39674
٣٩٦٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن زكريا بن ابي زائدة قال: كنت مع ابي إسحاق فيما بين مكة والمدينة فسايرنا رجل من خزاعة، فقال له (ابو) (١) إسحاق: كيف (قال) (٢) رسول الله ﷺ: لقد (رعدت) (٣) هذه السحابة بنصر بني كعب، [فقال (٤) الخزاعي: لقد (نصلت) (٥) بنصر بني كعب] (٦) ، ثم اخرج إلينا رسالة رسول ⦗٤٥⦘ الله ﷺ إلى خزاعة، (وكتبتها) (٧) يومئذ كان فيها:"بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله إلى بديل وبسر وسروات بني عمرو، فإني احمد إليكم الله الذي لا إله إلا هو، اما بعد ذلكم فإني لم (ثم) (٨) بإلكم ولم (اضع) (٩) في جنبكم، وإن اكرم اهل تهامة علي انتم واقربه رحما ومن (تبعكم) (١٠) (١١) من المطيبين، وإني قد اخذت لمن هاجر منكم مثل ما اخذت لنفسى، ولو هاجر بارضه غير ساكن مكة إلا معتمرا او حاجا، وإني لم اضع فيكم إن (اسلمتم) (١٢) وإنكم غير (خائفين) (١٣) من قبلي ولا محصرين، اما بعد فإنه قد اسلم علقمة بن علاثة (وابن) (١٤) هوذة (وبايعا) (١٥) وهاجرا على من اتبعهما من عكرمة، (واخذ) (١٦) لمن تبعه مثل ما اخذ لنفسه، وإن (بعضنا) (١٧) من بعض في الحلال والحرام، وإني والله ما كذبتكم وليحيكم ربكم" (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ع]: (كان).
(٣) في [س]: (أعدت).
(٤) في [جـ، ق]: زيادة (له).
(٥) من نصل السهم، وفي [أ، ب، ع]: (نصلت)، وفي [جـ]: (خلت)، وفي [ي]: (نضرت)، وفي [ق، هـ]: (وصلت).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٧) في [ع]: (وأثبتها).
(٨) أي: لم أغدر في عهدكم، وفي [ع، ق]: (أثم).
(٩) في [ع]: (أصنع).
(١٠) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (سبقكم).
(١١) في [هـ]: زيادة (و).
(١٢) في [جـ، ق]: (سلمتم).
(١٣) في [ق، هـ]: (خائبين)، وفي [ط]: (خائنين).
(١٤) في [هـ]: (ابنا).
(١٥) في [أ، ب، س، ي]: (وتابعا).
(١٦) في [هـ]: (أخذ).
(١٧) في [ط، هـ]: (بعضًا).
(١٨) مرسل؛ الخزاعي لم تثبت صحبته، وأخرجه ابن عساكر ٤١/ ١٤٣.

حضرت زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ میں ابو اسحاق کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا۔ توبنو خزاعہ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا۔ ابو اسحاق نے اس سے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کیسے فرمائی تھی۔ کہ تحقیق یہ بدلی بنی کعب کی مدد کے لئے کڑک رہی ہے؟ تو اس خزاعی آدمی نے جواب دیا۔ تحقیق اس بدلی نے فیصلہ کردیا تھا بنو کعب کی مدد کا۔ پھر اس خزاعی نے ہمیں ایک خط نکال کر دکھایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے خزاعہ کی طرف تھا۔ اور میں نے اس خط کو اسی دن لکھا۔ اس میں لکھا تھا۔ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بدیل، بسر اور سرواتِ بنی عمرو کی طرف ہے۔ پس بیشک میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بہرحال اس کے بعد، میں نے تمہارا عہد نہیں توڑا اور نہ ہی میں نے تمہاری زمین کو مباح کیا ہے۔ اور اہل تہامہ میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ تم لوگ معزز ہو۔ اور سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ اور (اسی طرح) وہ لوگ جنہوں نے تمہاری اتباع کی ہے (یعنی بنو ہاشم، بنو زہرہ وغیرہ)۔ اور میں نے تم میں سے ہجرت کرنے والوں کے لئے بھی وہی پیمان باندھا ہے جو میں نے اپنے لئے باندھا ہے۔ اور اگر (تم میں سے) کوئی اپنی زمین سے (اسی طرح) ہجرت کرے کہ وہاں سکونت نہ رکھے مگر حج اور عمرہ کے لئے۔ اگر تم سلامتی قبول کرلو تو میں تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں دوں گا۔ اور تم لوگ میری طرف سے نہ خائف ہو اور نہ محصور۔ ٢۔ اما بعد! پس بلاشبہ علقمہ بن علاثہ اور ابن ہوزہ نے اسلام قبول کرلیا اور انہوں نے اپنے تابع … عکرمہ… کے ہمراہ ہجرت کی ہے۔ اور ان کے لئے بھی اس نے وہی کچھ پیمان باندھا ہے جو اس نے اپنے لیے باندھا ہے۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کے حکم میں ہے حلا ل اور حرام ہونے کے اعتبار سے۔ اور بخدا میں نے تمہیں نہیں جھٹلایا اور پس تمہارا پروردگار تمہیں حیات دے۔ ٣۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے زہری سے یہ بات پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہ لوگ خزاعہ کے ہیں۔ اور یہ میرے اہل میں سے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف خط تحریر فرمایا۔ یہ لوگ اس وقت عرفات اور مکہ کے درمیان پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اور یہ لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیف تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39674]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39674، ترقيم محمد عوامة 38058)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39675
٣٩٦٧٥ - قال: (و) (١) بلغني عن الزهري قال: هؤلاء خزاعة وهم من اهلي، قال: فكتب إليهم النبي ﷺ وهم يومئذ نزول بين عرفات ومكة، لم يسلموا حيث ⦗٤٦⦘ كتب إليهم، وقد كانوا حلفاء النبي ﷺ (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ق]: (زيادة يوم فتح مكة).
(٣) مرسل؛ الزهري تابعي.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39675، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38059 ترقیم الشثری: -- 39676
٣٩٦٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان النبي ﷺ قال يوم فتح مكة:"كفوا السلاح إلا خزاعة (عن) (٢) بني بكر"، فاذن لهم حتى صلوا العصر ثم قال لهم:"كفوا السلاح"، فلقي من الغد رجل من خزاعة رجلا من بني بكر، فقتله بالمزدلفة فبلغ ذلك رسول الله ﷺ فقام خطيبا فقال:"إن (اعدى) (٣) الناس على الله من قتل في الحرم، ومن قتل غير قاتله، ومن قتل (بذحول) (٤) الجاهلية" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ق، هـ]: (هن).
(٣) في [ع]: (أعدا).
(٤) أي: عداوة الجاهلية، وفي [أ، ب، س، ط، ع]: (بدخول).
(٥) حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (٦٦٨١)، وأبو عبيد في الأموال ١/ ١٥٤.

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اپنے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ سوائے خزاعہ کے بنو بکر سے (بقیہ لوگ) اسلحہ روک لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خزاعہ کو اجازت دی یہاں تک کہ انہوں نے نماز عصر پڑھ لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا۔ تم (بھی) اسلحہ روک لو۔ اس کے بعد اگلے دن بنو خزاعہ کا ایک آدمی بنو بکر کے ایک آدمی سے ملا تو اس نے بنو بکر کے آدمی کو مزدلفہ میں قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ لوگوں میں سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا شخص وہ ہے جو (کسی کو) حرم میں قتل کرے اور (وہ) جو اپنے قاتل کے علاوہ (کسی کو) قتل کر ڈالے اور (وہ) جو جاہلیت کے انتقام میں قتل کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39676]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39676، ترقيم محمد عوامة 38059)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38060 ترقیم الشثری: -- 39677
٣٩٦٧٧ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا (المغيرة) (١) بن مسلم عن ابي الزبير عن جابر قال: دخلنا مع النبي ﷺ مكة (وفي البيت) (٢) وحول البيت ثلاثمائة وستون صنما تعبد من دون الله، قال: فامر بها رسول الله ﷺ (فكبت) (٣) كلها لوجوهها، ثم قال: ﴿جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا﴾ [الإسراء: ٨١] ، ثم دخل رسول الله ﷺ (٤) البيت فصلى (فيه) (٥) ركعتين، فراى فيه تمثال إبراهيم ⦗٤٧⦘ وإسماعيل وإسحاق (وقد جعلوا) (٦) في يد إبراهيم الازلام يستقسم بها، فقال رسول الله ﷺ:"قاتلهم الله، ما كان إبراهيم يستقسم بالازلام"، ثم دعا رسول الله ﷺ بزعفران فلطخه بتلك التماثيل (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (المغير).
(٢) سقط من: [أ، ب]، وفي [ط، هـ]: (في البيت).
(٣) في [ع]: (وكبت).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ي]: (في).
(٦) في [ع]: (قد جعلوا)، وفي [أ، ب]: (وجعلوا).
(٧) حسن؛ المغيرة بن مسلم صدوق، وأخرجه أبو يعلى كما في تفسير ابن كثير ٣/ ٦٠، وابن المنذر كما في الدرر المنثور ٥/ ٣٢٩، وحسنه الحافظ في المطالب العالية (٤٣٠٣).

حضرت جابر سے روایت ہے کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں (بھی) داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت ایسے موجود تھے جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی … راوی بیان کرتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کے بارے میں حکم فرمایا تو تمام بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کی (طرف منسوب) تصویریں دیکھیں اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں میں مشرکین نے تیروں (کی تصویر) بنائی ہوئی تھی جن کے ذریعہ سے قسمت آزمائی کی جاتی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر) ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ان (مشرکین) کو ہلاک کرے، ابراہیم تو تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زعفران منگوایا اور اس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تصاویر کو مسخ فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39677]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39677، ترقيم محمد عوامة 38060)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38061 ترقیم الشثری: -- 39678
٣٩٦٧٨ - حدثنا ابن عيينة عن ابن ابي نجيح (عن مجاهد) (١) عن ابي معمر عن عبد الله قال: دخل النبي ﷺ مكة وحول الكعبة ثلاثمائة وستون صنما فجعل يطعنها بعود كان في يده ويقول: ﴿وقل جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا﴾ [الإسراء: ٨١] ﴿جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد﴾ [سبا: ٤٩] (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٧٨)، ومسلم (١٧٨١).

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس لکڑی سے مارنا شروع فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اور فرمایا۔ حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے اور نہ دوبارہ کرنے کا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39678]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39678، ترقيم محمد عوامة 38061)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں