🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38074 ترقیم الشثری: -- 39691
٣٩٦٩١ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة (عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر -وعن اخيه عبد الله بن عبيدة-) (٢) ان رسول الله ﷺ دخل مكة حين دخلها وهو (معتجر) (٣) بشقة برد اسود، فطاف على راحلته القصواء ⦗٥٤⦘ في يده محجن يستلم به الاركان، قال: قال ابن عمر: فما وجدنا لها مناخا (في) (٤) المسجد حتى نزل على ايدي الرجال، ثم خرج بها حتى (انيخت) (٥) في الوادي، ثم خطب الناس على (رجليه) (٦) فحمد الله واثنى عليه بما هو (له) (٧) اهل، ثم قال:"ايها الناس إن الله قد وضع عنكم عبية الجاهلية وتعظمها (بآبائها) (٨) الناس [رجلان، (فبر) (٩) تقي كريم على الله، وكافر شقي هين على الله، ايها الناس] (١٠) إن الله يقول: ﴿ياايها الناس إنا خلقناكم من ذكر وانثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن اكرمكم عند الله (اتقاكم) (١١) إن الله عليم خبير﴾ [الحجرات: ١٣] اقول هذا واستغفر الله لي ولكم"، قال: ثم عدل إلى جانب المسجد فاتي بدلو من ماء زمزم فغسل منها وجهه، (ما) (١٢) (تقع) (١٣) منه قطرة إلا في يد إنسان، إن كانت قدر ما يحسوها حساها، وإلا مسح بها، والمشركون ينظرون، فقالوا: ما راينا ملكا قط اعظم من اليوم، ولا قوما احمق من اليوم، ثم امر بلالا فرقي على ظهر الكعبة، فاذن بالصلاة، وقام المسلمون (فتجردوا) (١٤) في الازر، واخذوا الدلاء وارتجزوا على زمزم يغسلون الكعبة ظهرها ⦗٥٥⦘ وبطنها، فلم يدعوا اثرا من المشركين إلا محوه او غسلوه (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (معتمر).
(٤) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (وفي).
(٥) في [ب]: (نيخت).
(٦) في [س]: (راحلته).
(٧) سقط من: [ب].
(٨) في [أ، ب]: (يا بالها).
(٩) في [أ، ب]: (فير).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١١) في [ع]: (أثقاكم).
(١٢) في [أ، ب]: (ماءً).
(١٣) في [ب، ع، ي]: (يقع).
(١٤) في [أ، ب]: (وتجردوا).
(١٥) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه الترمذي (٣٢٧٠)، وابن ماجه (٣٥٨٦)، والخطيب ٦/ ٢٣، وعبد بن حميد (٧٩٥)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٧٢)، والفاكهي (٤٥٩)، وابن أبي حاتم (١٨٦٢٢).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیاہ رنگ کی چادر کی پگڑی کے شملہ کو اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قصواء اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک خمدار سوٹی تھی جس کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارکان کا استلام کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے لئے مسجد میں بٹھانے کی جگہ نہ پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ہاتھوں پر نیچے تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو باہر نکالا گیا اور اس کو وادی میں بٹھایا گیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور ایسی ثنا بیان کی جس کے آپ اہل تھے اور فرمایا: ٢۔ اے لوگو! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور و نخوت ختم کردیا ہے اور جاہلیت کے زمانہ پر اپنے آباء کے ذریعہ اظہار عظمت کو بھی ختم کردیا ہے۔ (اب) لوگ دو قسم پر ہیں۔ نیک اور متقی آدمی اللہ تعالیٰ کے قابل عزت و تکریم ہے اور کافر، بدبخت اللہ تعالیٰ پر ہلکا اور بےوزن ہے۔ اے لوگوں! بلاشبہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔: اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوں۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس کے دھو ون میں سے ہر ایک قطرہ بھی انسانی ہاتھ ہی میں گرا۔ پھر اگر و ہ قطرہ اتنا ہوتا جس کو پیا جاسکتا تھا تو وہ آدمی اس کو پی لیتا وگرنہ اس کو اپنے اوپر مَل لیتا۔ مشرکین مکہ (یہ منظر) دیکھ رہے تھے۔ تو وہ کہنے لگے۔ ہم نے (جو بادشاہت) آج دیکھی ہے اس سے بڑی بادشاہی کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی قوم دیکھی ہے جو آج دیکھی ہوئی قوم سے زیادہ بیوقوف ہے۔ ٤۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم فرمایا چناچہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور انہوں نے نماز کے لئے اذان دی۔ اور مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور محض ازار بند پہنے ہوئے انہوں نے ڈول پکڑ لیے اور زمزم پر شعر کہتے ہوئے پہنچ گئے اور کعبہ کو انہوں نے اندر باہر سے دھو ڈالا اور مشرکین کے کسی اثر کو کعبہ میں باقی نہیں چھوڑا بلکہ اس کو مٹا دیایا دھو دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39691، ترقيم محمد عوامة 38074)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39691 in Urdu