مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38083 ترقیم الشثری: -- 39701
٣٩٧٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن ابي هند عن ابي مرة مولى عقيل بن ابي طالب عن ام هانئ بنت ابي طالب قالت: لما افتتح رسول الله ﷺ مكة (فر) (١) إلي رجلان من احمائي من بني مخزوم، قالت: فخباتهما في بيتي، فدخل علي اخي علي بن ابي طالب فقال: (لاقتلنهما) (٢) ، قالت: فاغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول الله ﷺ (باعلى) (٣) مكة وهو يغتسل في (جفنة) (٤) إن فيها اثر العجين، وفاطمة ابنته تستره، فلما فرغ رسول الله ﷺ من غسله اخذ ثوبا فتوشح به ثم صلى ثماني ركعات من الضحى، ثم اقبل فقال:"مرحبا واهلا بام هانئ، ما جاء بك؟" (قالت) (٥) : قلت: يا نبي الله فر إلي رجلان من احمائي، فدخل علي علي بن ابي طالب فزعم انه قاتلهما، فقال:"لا، قد ⦗٦٠⦘ (اجرنا من اجرت) (٦) يا ام هانئ، وامنا من امنت" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فرا).
(٢) في [أ، ب]: (لأقبلتهما).
(٣) في [ب]: (على).
(٤) في [س]: (في جفنته).
(٥) في [أ، ب]: (قال).
(٦) في [أ، ب]: (أخرنا من أخرت).
(٧) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالسماع عند الطبراني ٢٤/ (١٠٢١)، والطحاوي ٣/ ٣٢٣، وابن بشكوال ١/ ٦٤٢، وأخرجه البخاري (٣٥٠)، ومسلم (٣٣٦)، وأحمد (٢٦٨٩٢).
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میرے سسرال بنو مخزوم میں سے دو آدمی میری طرف بھاگ کر آگئے۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ پس میں نے انہیں اپنے گھروں میں چھپا دیا۔ پھر میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے ہاں آئے اور کہنے لگے، میں ضرور بالضرور ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ میں نے ان دونوں آدمیوں کو (کمرہ میں داخل کر کے) دروازہ بند کردیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے بالائی مقام پر حاضر ہوئی تب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹب میں غسل فرما رہے تھے۔ جس میں گوندھے آٹے کے اثرات تھے اور حضرت فاطمہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پردہ کیے ہوئے تھی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے پکڑے اور زیب تن فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میری طرف) متوجہ ہوئے اور فرمایا: ام ہانی! مرحبا خوش آمدید۔ کس غرض سے آئی ہو۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے سسرالی رشتہ داروں میں سے دو بندے (پناہ کے لئے) میری طرف بھاگ کر آئے ہیں اور پھر علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے پاس آگئے اور اب علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ ان دونوں کو قتل کرنے کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ نہیں! یقین کرو۔ اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی ا س کو پناہ دی اور جس کو تم نے امن دیا ہے اس کو ہم نے بھی امن دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39701، ترقيم محمد عوامة 38083)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39701 in Urdu