🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. غزوة حنين وما جاء فيها
غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38152 ترقیم الشثری: -- 39771
٣٩٧٧١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن ابي سعيد الخدري قال: لما قسم رسول الله ﷺ السبي بالجعرانة اعطى عطايا قريشا وغيرها من (العرب) (١) ، ولم يكن في الانصار منها شيء، (فكثرت) (٢) (القالة) (٣) وفشت حتى قال قائلهم: اما رسول الله (فقد) (٤) لقي قومه. قال: فارسل إلى سعد بن عبادة فقال:"ما مقالة بلغتني عن قومك اكثروا فيها؟" قال: فقال له سعد: فقد كان ما بلغك. قال:"فاين انت من (ذاك؟) (٥) " قال: ما انا إلا رجل من قومي، قال: فاشتد غضبه، وقال:"اجمع قومك، ولا يكن معهم غيرهم". قال: فجمعهم في حظيرة من حظائر (السبي) (٦) ، وقام على بابها وجعل لا ⦗٩٨⦘ يترك إلا من كان من قومه، وقد ترك رجالا من المهاجرين، (ورد) (٧) اناسا. قال: ثم جاء النبي ﷺ (٨) يعرف في وجهه الغضب (فقال) (٩) :"يا معشر الانصار، [الم اجدكم ضلالا فهداكم الله"، فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله و (من) (١٠) غضب رسوله:"يا معشر الانصار [الم اجدكم عالة فاغناكم الله؟"، فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله،"يا معشر الانصار] (١١) [الم اجدكم اعداء فالف الله بين قلوبكم"، فيقولون: نعوذ بالله من غضب الله (١٢) وغضب رسوله] (١٣) ، (فقال) (١٤) :"الا تجيبون؟" قالوا: الله ورسوله امن وافضل، فلما سري عنه قال:"ولو شئتم لقلتم فصدقتم (وصدقتم) (١٥) : الم نجدك طريدا فآويناك، ومكذبا فصدقناك، وعائلا فآسيناك، ومخذولا فنصرناك"، فجعلوا يبكون ويقولون: الله ورسوله امن وافضل، (١٦) "اوجدتم من شيء من دنيا اعطيتها قوما اتالفهم على الإسلام، (و) (١٧) وكلتكم إلى اسلامكم، لو سلك الناس واديا او شعبا وسلكتم واديا او شعبا لسلكت واديكم (او) (١٨) شعبكم، انتم شعار، والناس دثار، ولولا الهجرة لكنت امرا من الانصار". ⦗٩٩⦘ ثم رفع يديه حتى إني لارى ما تحت منكبيه فقال:"اللهم اغفر للانصار (ولابناء الانصار) (١٩) ولابناء ابناء الانصار، اما ترضون ان يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول الله (٢٠) إلى بيوتكم"، فبكى القوم حتى (اخضلوا) (٢١) لحاهم وانصرفوا وهم يقولون: رضينا بالله ربا، وبرسوله (٢٢) حظا ونصيبا (٢٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الغرب).
(٢) في [جـ، ق، ي]: (وكثرت).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ع]: (قد).
(٥) في [ق، هـ]: (ذلك).
(٦) في [هـ]: (النبي ﷺ).
(٧) في [هـ]: (زاد).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) في [أ، ب]: (قال).
(١٠) سقط من: [ق، هـ].
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٢) في [أ، ب، ي]: زيادة (قال).
(١٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ق].
(١٤) في [ع]: (قال).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [ق، هـ]: زيادة (قال).
(١٧) سقط من: [ق، هـ].
(١٨) في [ع]: (و).
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) في [أ، ب، جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [ع]: (أخلصوا).
(٢٢) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٣) حسن؛ ابن إسحاق صدوق صرح بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (١١٧٣٠)، وأبو يعلى (١٠٩٢)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ١٧٦، وعبد الرزاق (١٩٩١٨)، وعبد بن حميد (٩١٥)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٧٢، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٢٠)، وابن سعد ٢/ ٢٥١.

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ میں قیدیوں کو تقسیم فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش وغیرہ کو قیدی عطا فرمائے لیکن ا ن قیدیوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار صحابہ کو کچھ بھی نہ دیا۔ اس پر بہت سی باتیں کہی گئیں اور پھیلائی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! تو اپنی قوم کے ساتھ مل گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ کی طرف قاصد بھیجا اور استفسار فرمایا کہ ”مجھے تمہاری جانب سے کیسی بات پہنچی ہے جو وہ بہت زیادہ کر رہے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جواب دیا۔ یقینا ایسی بات ہوئی ہوگی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں تو اپنی قوم کا محض ایک فرد ہوں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ زیادہ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اپنی قوم کو جمع کرو اور ان کے ساتھ کوئی اور (قوم) نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں: حضرت سعد نے انصار کو قیدیوں کے باڑوں میں سے ایک باڑہ میں جمع کیا اور خود اس باڑہ کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور جو ان کی قوم میں سے آتا تھا یہ اسی کو (اندر جانے کے لئے) چھوڑتے تھے۔ اور کچھ مہاجرین کو بھی انہوں نے (اندر جانے کے لئے) چھوڑ دیا۔ اور کچھ کو واپس کردیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی؟“ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں غنی بنادیا؟“ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ سے۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں (باہم) دشمن نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا“ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم جواب کیوں نہیں دیتے؟ انصار نے کہا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (یہ غصہ کی حالت) ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے تو تم یہ بات کہتے اور سچ کہتے، تمہاری تصدیق بھی کی جاتی کہ: ”کیا ہم نے آپ کو نکالا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو جھٹلایا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی تصدیق کی۔ اور کیا ہم نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کے ساتھ موالات کیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو بےیارو مدد گار نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی مدد کی؟“ اس پر انصار نے رونا شروع کیا اور کہنے لگے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بڑے محسن اور فضیلت والے ہیں۔“ کیا تم نے دنیا کی اس چیز کو جو میں نے کسی قوم کو اس لئے دی تاکہ میں انہیں اسلام کے ساتھ مضبوط کر سکوں… محسوس کیا ہے … اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کردیا (یعنی تم پختہ ایمان والے ہو) اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور تم انصار ایک دوسری وادی یا گھاٹی میں چلو تو البتہ میں تمہاری وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی طرح) ہو اور بقیہ لوگ جسم کے اوپر والے کپڑے (کی طرح) ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مونڈھوں کے نیچے کا حصہ (بغلیں) دکھائی دینے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بچوں کی مغفرت فرما۔ اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ تو بکریاں، اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ؟“ اس پر تمام صحابہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ اور نصیب ہونے پر راضی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39771]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39771، ترقيم محمد عوامة 38152)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39771 in Urdu