مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
37. غزوة حنين وما جاء فيها
غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
ترقیم عوامۃ: 38138 ترقیم الشثری: -- 39756
٣٩٧٥٦ - [حدثنا ابو عبد الرحمن، (حدثنا) (١) ابو بكر (حدثنا) (٢) ] (٣) ابو اسامة عن زكريا عن ابي إسحاق قال: قال رجل للبراء: هل كنتم وليتم يوم حنين (يا ابا) (٤) عمارة؟ (فقال) (٥) : اشهد على النبي ﷺ (٦) ما ولى، ولكن انطلق (اخفاء) (٧) من الناس (وحسر) (٨) إلى هذا الحي (من) (٩) هوازن، وهم قوم رماة فرموهم برشق من نبل كانها رجل من جراد، قال: (فانكشفوا) (١٠) فاقبل القوم ⦗٩٠⦘ (هنالك) (١١) إلى رسول الله ﷺ، وابو سفيان بن (الحارث) (١٢) يقود بغلته، فنزل رسول الله ﷺ فاستنصر وهو يقول:"انا النبي لا كذب … انا ابن عبد المطلب اللهم (نزل) (١٣) نصرك"، قال: (كنا) (١٤) والله إذا احمر (الباس) (١٥) نتقي به، وإن الشجاع الذي يحاذي به (١٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ، ق، ي].
(٤) في [ع]: (يابا).
(٥) في [ع]: (قال).
(٦) في [هـ]: زيادة (أنه).
(٧) في [جـ، ع، ي]: (جفا)، وفي [أ]: (جتا)، وفي [ب]: (حيا).
(٨) في [أ، ب]: (وحشر).
(٩) سقط من: [جـ].
(١٠) في [ق]: (نانكشفنا).
(١١) في [ق]: (هناك)، وسقط من: [ع].
(١٢) في [ع]: (حرب).
(١٣) سقط من: [هـ].
(١٤) في [أ، ب]: (وكان).
(١٥) في [ب]: (الناس).
(١٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٣٠)، ومسلم (١٧٧٦).
حضرت ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت براء سے کہا۔ اے ابو عمارہ! کیا تم لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ حضرت براء نے کہا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ لیکن کچھ لوگ جلد بازی میں خالی ہاتھ قبیلہ ہوازن کی طرف چل پڑے تھے حالانکہ ہوازن والے تو ایک تیر انداز قوم تھے۔ چناچہ انہوں نے اس (خالی ہاتھ) جماعت کو تیز تیر پھینکنے والی کمان کے ذریعہ سے خوب تیر برسائے یوں لگتا تھا کہ گویا تیروں کا مجموعہ آ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پس لوگ چھٹ گئے اور اس وقت ہوازن کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھے جبکہ ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کو ہانک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خچر سے) نیچے تشریف لائے اور مدد کے لئے پکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ رہے تھے۔ ”میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“ اے اللہ! اپنی مدد نازل فرما“ راوی کہتے ہیں: خدا کی قسم! جب جنگ خوب شعلہ زن ہوتی تھی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آڑ میں (اپنا) بچاؤ کرتے تھے۔ اور یقینا (اس وقت) بہادر وہی شخص ہوتا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39756]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39756، ترقيم محمد عوامة 38138)
ترقیم عوامۃ: 38139 ترقیم الشثری: -- 39757
٣٩٧٥٧ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق عن البراء قال: لا والله ما ولى رسول الله ﷺ (١) يوم حنين دبره، قال: والعباس وابو سفيان (آخذان) (٢) بلجام بغلته وهو يقول:"انا النبي لا كذب … انا ابن عبد المطلب" (٣)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ع]: (آخذين).
(٣) حسن؛ شريك صدوق، وقوله والعباس شاذ، وأصل الحديث أخرجه البخاري (٢٨٦٤)، ومسلم (١٧٧٦).
حضرت براء سے روایت ہے کہ نہیں خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن اپنی پشت نہیں پھیری۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عباس اور ابو سفیان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام کو پکڑے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ رہے تھے۔ ”میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39757]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39757، ترقيم محمد عوامة 38139)
ترقیم عوامۃ: 38140 ترقیم الشثری: -- 39758
٣٩٧٥٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن انس قال: كان من دعاء النبي ﷺ يوم حنين:"اللهم إنك إن تشا لا تعبد بعد هذا اليوم" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٢٢٠)، والخطيب ٣/ ٣٩٤، وبنحوه مسلم (١٧٤٣).
حضرت انس سے روایت ہے کہ حنین کے دن، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء یہ تھی۔ ”اے اللہ! اگر آپ چاہتے ہیں تو آج کے بعد آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39758]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39758، ترقيم محمد عوامة 38140)
ترقیم عوامۃ: 38141 ترقیم الشثری: -- 39759
٣٩٧٥٩ - حدثنا عفان حدثنا سليم بن اخضر حدثني ابن عون حدثني هشام بن زيد عن انس قال: لما كان يوم حنين جمعت هوازن وغطفان للنبي ﷺ جمعا كثيرا، والنبي ﷺ يومئذ في عشرة آلاف او اكثر من عشرة آلاف، ( (قال) (١) : ومعه الطلقاء) (٢) ، قال: فجاؤوا (بالنفر) (٣) والذرية، (فجعلوا) (٤) خلف ظهورهم، قال: فلما التقوا ولى الناس، والنبي ﷺ يومئذ على بغلة بيضاء، قال: فنزل فقال:"إني عبد الله ورسوله"، قال: ونادى يومئذ (نداءين لم يخلط) (٥) بينهما (كلاما) (٦) ، فالتفت عن يمينه فقال:"اي معشر الانصار"، فقالوا: لبيك يا رسول الله، نحن معك، (ثم التفت عن يساره فقال:"اي معشر الانصار"، فقالوا: لبيك يا رسول الله نحن معك) (٧) ، ثم نزل إلى الارض، فالتقوا فهزموا واصابوا من الغنائم، فاعطى النبي ﷺ الطلقاء وقسم فيها، فقالت الانصار: ندعى عند الشدة وتقسم الغنيمة لغيرنا، فبلغ ذلك النبي ﷺ فجمعهم وقعد في قبة فقال:"اي معشر الانصار (ما حديث) (٨) بلغني عنكم؟" فسكتوا، (فقال) (٩) :"يا معشر الانصار! لو ان الناس (سلكوا) (١٠) (واديا) (١١) (وسلكت) (١٢) الانصار شعبا ⦗٩٢⦘ لاخذت شعب الانصار"، ثم (قال) (١٣) :"اما ترضون ان يذهب الناس بالدنيا (وتذهبون) (١٤) برسول الله تحوزونه إلى بيوتكم"، فقالوا: رضينا (رضينا) (١٥) (يا رسول) (١٦) الله، قال: ابن عون قال هشام بن زيد: قلت: لانس وانت شاهد ذلك؟ قال: واين اغيب عن ذلك (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قالوا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (والبقر).
(٤) في [أ، ب]: (فجعلوه).
(٥) في [ب]: (نداء من لم يخطط).
(٦) في [ع]: (كلام).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ب].
(٩) سقط من: [ع].
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) سقط من: [ع].
(١٢) في [ع]: (أرسكت).
(١٣) في [ي]: (قالوا).
(١٤) في [ط، ق، هـ]: (وتذهبوا).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [ب]: (برسول).
(١٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٣)، ومسلم (١٠٥٩).
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک بہت بڑی تعداد جمع کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس دن دس ہزار یا دس ہزار سے بھی زیادہ کی تعداد کے ہمراہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طلقاء (فتح مکہ کے موقع کے مسلمان) بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں: دشمن اپنے مال مویشی اور بیوی بچوں کو ساتھ لایا تھا اور انہیں اپنے پیچھے چھوڑا ہوا تھا۔ پس جب دونوں گروہوں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو کچھ لوگ بھاگ گئے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خچر سے) نیچے اترے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ (یہ) آواز لگائی اور ان کے درمیان کوئی اور کلام مخلوط نہیں فرمایا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں طرف رُخ کیا اور آواز لگائی۔ ”اے گروہ انصار!“ انصار نے جواب میں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بائیں طرف رُخ کیا اور آواز دی، اے گروہ انصار!“ انصار نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر اترے اور (دوبارہ) آمنا سامنا ہوا تو دشمن شکست خوردہ ہوا اور مسلمانوں کو بہت سی غنیمتیں ملیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ غنائم طلقاء کو عطا فرمائیں اور ان میں تقسیم کردیں۔ (اس پر) انصار نے کہا۔ سختی کے وقت ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمتیں ہمارے سوا اوروں کو تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام انصار کو جمع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان کے ساتھ) ایک قبہ میں بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا: ”اے گروہ انصار! مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے؟“ انصار صحابہ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ انصار! اگر لوگ ایک کشادہ اور صاف راستہ پر چلیں اور انصار ایک پہاڑی گھاٹی پر چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو (چلنے کے لئے) پکڑوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا (کا سامان) لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں پناہ دو؟“ انصار کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم راضی ہیں، ہم راضی ہیں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ ہشام بن زید کہتے ہیں میں نے حضرت انس سے پوچھا۔ آپ اس وقت حاضر تھے۔ انہوں نے جواب دیا۔ تو میں اس وقت کہاں غائب ہوتا؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39759]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39759، ترقيم محمد عوامة 38141)
ترقیم عوامۃ: 38142 ترقیم الشثری: -- 39760
٣٩٧٦٠ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان (بن) (١) المغيرة (عن ثابت) (٢) عن انس قال: جاء ابو طلحة يوم حنين يضحك رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، الم تر إلى ام سليم معها خنجر؟ فقال لها رسول الله ﷺ:" (يا) (٣) ام سليم ما اردت إليه؟" قالت: اردت إن (دنا) (٤) إلي احد منهم طعنته به (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ق].
(٤) في [أ، ب]: (إليك).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٩)، وأحمد (١٢١٠٨).
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسانے لگے اور فرمایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے ام سلیم کو نہیں دیکھا ان کے ہاتھ میں چھرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلیم سے پوچھا۔ ”اے ام سلیم! اس چھرے سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“ حضرت ام سلیم نے جواب دیا۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر کوئی دشمن میرے قریب آیا تو میں یہ چھرا اسے گھونپ دوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39760]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39760، ترقيم محمد عوامة 38142)
ترقیم عوامۃ: 38143 ترقیم الشثری: -- 39761
٣٩٧٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) حماد بن سلمة عن إسحاق ابن عبد الله بن ابي طلحة عن انس ان النبي ﷺ قال يوم حنين:"من قتل قتيلا فله سلبه"، فقتل (يومئذ ابو طلحة) (٢) عشرين رجلا؛ فاخذ اسلابهم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، ع]: (طلحة يومئذ).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٢٣٦)، والحاكم ٣/ ٣٥٣، وابن حبان (٤٨٤١)، وأبو داود (٢٧١٨)، والبيهقي ٦/ ٣٠٧، والدارمي (٢٤٨٤)، والطحاوي ٣/ ٢٢٧، والضياء (١٥٢٣)، والطيالسي (٢٠٧٩).
حضرت انس سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن ارشاد فرمایا تھا۔ ”جس نے کسی کو قتل کیا تو اس (قاتل) کو مقتول کا سامان ملے گا۔“ چناچہ حضرت ابو طلحہ نے اس دن بیس آدمی قتل کیے اور ان کا سامان حاصل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39761]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39761، ترقيم محمد عوامة 38143)
ترقیم عوامۃ: 38144 ترقیم الشثری: -- 39762
٣٩٧٦٢ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة بن مصرف قال: انهزم المسلمون يوم حنين (فنودوا) (١) : يا اصحاب سورة البقرة، قال: فرجعوا ولهم حنين -يعني: بكاء- (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (فردوا).
(٢) مرسل؛ طلحة بن مصرف تابعي.
حضرت طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ حنین کے دن مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہیں آواز دی گئی۔ اے سورة بقرہ والو! راوی کہتے ہیں: پس صحابہ کرام واپس پلٹ آئے اور ان کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39762]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39762، ترقيم محمد عوامة 38144)
ترقیم عوامۃ: 38145 ترقیم الشثری: -- 39763
٣٩٧٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) يوسف بن صهيب عن عبد الله ابن (بريدة) (٢) ان رسول الله ﷺ يوم حنين انكشف الناس عنه، فلم يبق معه إلا رجل يقال: له زيد، آخذ بعنان بغلته الشهباء، وهي التي اهداها له النجاشي، فقال (٣) رسول الله ﷺ:"ويحك [يا زيد ادع الناس"، فنادى: ايها الناس هذا رسول الله (٤) (يدعوكم) (٥) ، فلم يجب احد عند ذلك، فقال:"ويحك] (٦) (خص) (٧) الاوس والخزرج"، فقال: يا معشر الاوس والخزرج، هذا رسول الله يدعوكم، فلم يجبه احد عند ذلك، فقال:"ويحك ادع المهاجرين، فإن لله في اعناقهم بيعة" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (بردة).
(٣) في [ع]: زيادة (له).
(٤) في [ب، ق]: زيادة ﷺ.
(٥) في [س]: (يدعوهم).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٧) في [أ، ق، هـ]: (حض)، وفي [ط]: (حصر).
(٨) مرسل؛ عبد اللَّه بن بريدة تابعي، وقد أشار للمرسل الحافظ ابن حجر في الإصابة ٢/ ٦٢٧، وقد رواه المؤلف في المسند بهذا السند عن ابن بريدة عن أبيه، وهذا إسناد متصل كما في المطالب العالية (٤٣٠٧)، وهكذا رواه البزار كما في كشف الأستار (١٨٢٨)، والروياني (٣١).
حضرت عبد اللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صرف ایک آدمی رہ گیا جس کا نام زید تھا۔ اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھورے رنگ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا … یہ وہی خچر تھا جو نجاشی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کیا تھا … جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے کہا۔ ”تو ہلاک ہوجائے اے زید! لوگوں کو بلاؤ۔“ چناچہ زید نے آواز دی۔ اے لوگو! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن کسی نے زید کو اس وقت جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ”تو ہلاک ہوجائے! اوس اور خزرج کو خاص کر کے بلاؤ۔“ چناچہ حضرت زید نے آواز دی۔ اے اوس و خزرج کے لوگو! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی زید کو کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) فرمایا۔ ”تو ہلاک ہوجائے۔ مہاجرین کو بلا لو کیونکہ ان کی گردنوں میں تو اللہ کے لئے بیعت ہے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے حضرت بریدہ نے بیان کیا کہ لوگوں میں سے ایک ہزار ایسے لوگ (واپس) متوجہ ہوئے جنہوں نے نیاموں کو توڑا اور پھینک دیا تھا۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے (اور لڑے) یہاں تک کہ کفار پر ان کو فتح ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39763]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39763، ترقيم محمد عوامة 38145)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39764
٣٩٧٦٤ - قال: فحدثني بريدة انه اقبل منهم الف قد طرحوا الجفون وكسروها ثم اتوا رسول الله ﷺ حتى فتح عليهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البزار (١٨٢٨/ كشف)، والروياني (٣١).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39764، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38146 ترقیم الشثری: -- 39765
٣٩٧٦٥ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن موسى بن عبيدة قال: اخبرني عمر مولى (غفرة) (١) قال: نزل النبي ﷺ عن بغلة كان عليها فجعل يصرخ بالناس:"يا اهل سورة البقرة، يا اهل بيعة الشجرة، انا رسول الله (٢) ونبيه، (فتولوا) (٣) مدبرين" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط]: (عفرة)، وفي [أ، هـ]: (عمرة).
(٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٣) في [ع]: (وتولوا).
(٤) مرسل ضعيف؛ عمر تابعي ضعيف، وموسى ضعيف.
حضرت عمر مولیٰ غفرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس خچر پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے نیچے تشریف لائے اور لوگوں کو آواز دینے لگے۔ ”اے سورة بقرہ والو! … اے درخت کی (جگہ) بیعت کرنے والو! میں اللہ کا رسول ہوں (کیا یہ) لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39765]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39765، ترقيم محمد عوامة 38146)