مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
41. ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم)
اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
ترقیم عوامۃ: 38172 ترقیم الشثری: -- 39794
٣٩٧٩٤ - حدثنا وكيع حدثنا الاعمش عن سالم قال: كان اهل نجران قد بلغوا اربعين الفا، قال: وكان عمر يخافهم ان يميلوا على المسلمين فتحاسدوا بينهم، قال: فاتوا عمر، فقالوا: إنا قد تحاسدنا بيننا فاجلنا، قال: وكان رسول الله ﷺ قد كتب لهم كتابا ان لا يجلوا، قال: فاغتنمها عمر فاجلاهم فندموا فاتوه، فقالوا: اقلنا، فابى ان يقيلهم، فلما قدم علي اتوه فقالوا: إنا نسالك بخط يمينك وشفاعتك عند نبيك (١) الا اقلتنا، فابى وقال: ويحكم، إن عمر كان رشيد الامر، قال سالم: ⦗١٢٥⦘ فكانوا يرون ان عليا لو كان طاعنا على عمر في شيء من امره طعن عليه في اهل نجران (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢) منقطع؛ سالم بن أبي الجعد لم يدرك عمر، أخرجه مسدد كما في المطالب (٣٨٨٥)، وأبو عبيد في الأموال (٢٧٣)، ومقاتل في التفسير ١/ ٢١٢، والآجري في الشريعة (١٢٣٥)، والبيهقي ١٠/ ١٢٠، وابن عساكر ٤٤/ ٣٦٤، والفاكهي في أخبار مكة (٢٩١٩)، والبلاذري في فتوح البلدان ص ٧٨.
حضرت سالم سے روایت ہے کہ اہل نجران کی تعداد (جب) چالسد ہزار کو پہنچ گئی … راوی کہتے ہیں: حضرت عمر ان سے اس بات کا خوف کرتے تھے کہ یہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوجائیں گے۔ تو (اتفاقاً) ان میں باہم حسد پیدا ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ لوگ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ہم لوگوں میں باہم حسد پیدا ہوگیا ہے پس آپ ہمیں جلا وطن کردیں … راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایک تحریر لکھ دی تھی کہ انہیں جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر نے اس کو غنیمت سمجھا اور ان کو جلا وطن فرما دیا۔ اس کے بعد اہل نجران کو ندامت ہوئی اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہم اپنی بات سے معذرت کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے ان کی معذرت قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ ہم آپ سے آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اور آپ کے نیو کی سفارش کے ذریعہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ہماری معذرت قبول کرلیں۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی انکار فرما دیا اور کہا۔ تم ہلاک ہو جاؤ۔ حضرت عمر تو ایک بصیرت والے شخص تھے۔ سالم راوی کہتے ہیں۔ اسلاف کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاگر حضرت عمر کی کسی بات پر معترض ہوتے تو وہ آپ کو اہل نجران کے بارے میں اعتراض دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39794]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39794، ترقيم محمد عوامة 38172)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39794 in Urdu