🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم)
اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38169 ترقیم الشثری: -- 39791
٣٩٧٩١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: لما اراد رسول الله ﷺ ان يلاعن اهل نجران قبلوا الجزية ان يعطوها، فقال رسول الله ﷺ:"لقد اتاني البشير بهلكة اهل نجران لو تموا على الملاعنة حتى الطير على الشجر او العصفور على الشجر"، ولما غدا إليهم رسول الله ﷺ اخذ بيد حسن وحسين وكانت فاطمة تمشي خلفه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه سعيد بن منصور ٢/ (٥٠٠)، وابن جرير في التفسير ٣/ ٣٠٠.
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تحقیق مجھے ایک بشارت دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اگر یہ لوگ مباہلہ میں مکمل شریک ہوجاتے حتیٰ کہ درختوں پر پرندے بھی … یا … فرمایا… درختوں پر چڑیا بھی۔ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل نجران کی طرف جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل رہی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39791]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39791، ترقيم محمد عوامة 38169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38170 ترقیم الشثری: -- 39792
٣٩٧٩٢ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) عبد الواحد بن زياد (حدثنا) (٢) (مجالد) (٣) بن سعيد عن الشعبي قال: كتب رسول الله ﷺ إلى اهل نجران وهم نصارى:"ان من (بايع) (٤) منكم بالربا فلا ذمة له" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [س]: (مجاهد).
(٤) في [ع]: (باع).
(٥) مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف.

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کو تحریر فرمایا… یہ عیسائی لوگ ہیں … کہ تم میں سے جو سود پر خریدو فروخت کرے گا اس کا (ہم پر) کوئی ذمہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39792]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39792، ترقيم محمد عوامة 38170)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38171 ترقیم الشثری: -- 39793
٣٩٧٩٣ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد ان عمر اجلى اهل نجران اليهود والنصارى، واشترى بياض ارضهم وكرومهم، فعامل عمر الناس إن هم جاءوا بالبقر والحديد من عندهم (١) فلهم الثلثان ولعمر الثلث، وإن جاء عمر بالبذر من عنده (فله الشطر) (٢) ، وعاملهم النخل على ان لهم الخمس ولعمر اربعة اخماس، وعاملهم الكرم على ان لهم الثلث ولعمر الثلثان (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: زيادة (منهم).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) منقطع؛ يحيى بن سعيد لم يدرك عمر.

حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل نجران … یہودو نصاریٰ … کو جلا وطن کیا اور ان کی زمینوں اور انگوروں کی بیلوں کو خرید لیا اور حضرت عمر نے (ان سے یہ) معاملہ کیا کہ اگر وہ بیل اور ہل کا سامان خود مہیا کریں تو ان کو (پیداوار کا) دو ثلث اور حضرت عمر کو ایک ثلث ملے گا اور اگر حضرت عمر بیج مہیا کریں تو ان کو نصف حصہ ملے گا۔ اور حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھجوروں کا اس شرط پر معاملہ کیا کہ (پیداوار کا) ایک خمس ان کا ہوگا اور چار خمس حضرت عمر کے ہوں گے … اور انگوروں میں ان کے ساتھ اس شرط پر معاملہ کیا کہ ان کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور حضرت عمر کا حصہ دو ثلث ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39793]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39793، ترقيم محمد عوامة 38171)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38172 ترقیم الشثری: -- 39794
٣٩٧٩٤ - حدثنا وكيع حدثنا الاعمش عن سالم قال: كان اهل نجران قد بلغوا اربعين الفا، قال: وكان عمر يخافهم ان يميلوا على المسلمين فتحاسدوا بينهم، قال: فاتوا عمر، فقالوا: إنا قد تحاسدنا بيننا فاجلنا، قال: وكان رسول الله ﷺ قد كتب لهم كتابا ان لا يجلوا، قال: فاغتنمها عمر فاجلاهم فندموا فاتوه، فقالوا: اقلنا، فابى ان يقيلهم، فلما قدم علي اتوه فقالوا: إنا نسالك بخط يمينك وشفاعتك عند نبيك (١) الا اقلتنا، فابى وقال: ويحكم، إن عمر كان رشيد الامر، قال سالم: ⦗١٢٥⦘ فكانوا يرون ان عليا لو كان طاعنا على عمر في شيء من امره طعن عليه في اهل نجران (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢) منقطع؛ سالم بن أبي الجعد لم يدرك عمر، أخرجه مسدد كما في المطالب (٣٨٨٥)، وأبو عبيد في الأموال (٢٧٣)، ومقاتل في التفسير ١/ ٢١٢، والآجري في الشريعة (١٢٣٥)، والبيهقي ١٠/ ١٢٠، وابن عساكر ٤٤/ ٣٦٤، والفاكهي في أخبار مكة (٢٩١٩)، والبلاذري في فتوح البلدان ص ٧٨.

حضرت سالم سے روایت ہے کہ اہل نجران کی تعداد (جب) چالسد ہزار کو پہنچ گئی … راوی کہتے ہیں: حضرت عمر ان سے اس بات کا خوف کرتے تھے کہ یہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوجائیں گے۔ تو (اتفاقاً) ان میں باہم حسد پیدا ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ لوگ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ہم لوگوں میں باہم حسد پیدا ہوگیا ہے پس آپ ہمیں جلا وطن کردیں … راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایک تحریر لکھ دی تھی کہ انہیں جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر نے اس کو غنیمت سمجھا اور ان کو جلا وطن فرما دیا۔ اس کے بعد اہل نجران کو ندامت ہوئی اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہم اپنی بات سے معذرت کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے ان کی معذرت قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ ہم آپ سے آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اور آپ کے نیو کی سفارش کے ذریعہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ہماری معذرت قبول کرلیں۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی انکار فرما دیا اور کہا۔ تم ہلاک ہو جاؤ۔ حضرت عمر تو ایک بصیرت والے شخص تھے۔ سالم راوی کہتے ہیں۔ اسلاف کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاگر حضرت عمر کی کسی بات پر معترض ہوتے تو وہ آپ کو اہل نجران کے بارے میں اعتراض دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39794]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39794، ترقيم محمد عوامة 38172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38173 ترقیم الشثری: -- 39795
٣٩٧٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن ابي إسحاق عن صلة بن زفر عن حذيفة قال: اتى النبي ﷺ اسقفا نجران: العاقب والسيد، فقالا: ابعث معنا رجلا امينا حق امين، حق امين، فقال:"لابعثن معكم رجلا حق امين"، فاستشرف لها اصحاب محمد (١) ، قال:"قم يا ابا عبيدة بن الجراح"، فارسله معهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٤٥)، ومسلم (٢٤٢٠).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے دو راہب عاقب اور سید حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ آپ ہمارے ساتھ خوب امانتدار شخص بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ضرور بالضرور تمہارے ہمراہ ایک کامل امانتدار آدمی کو بھیجوں گا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اس معاملہ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ا بو عبیدہ بن الجراح! اٹھو چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39795]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39795، ترقيم محمد عوامة 38173)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38174 ترقیم الشثری: -- 39796
٣٩٧٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن ابيه عن سماك عن علقمة بن وائل عن المغيرة ابن شعبة قال: بعثني رسول الله ﷺ إلى نجران فقالوا (لي) (١) : إنكم (تقراون) (٢) : ﴿يااخت هارون﴾ [مريم: ١٢٨] وبين (موسى وعيسى) (٣) ما شاء الله من السنين؟ فلم ادر ما (اجيبهم) (٤) به، حتى رجعت إلى النبي ﷺ (فسالته) (٥) فقال:"الا اخبرتهم انهم كانوا يسمون بانبيائهم والصالحين من قبلهم" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (إلا)، وفي [س]: (إلى).
(٢) في [ع]: (تقرون).
(٣) في [ع]: (عيسى وموسى).
(٤) في [س]: (أخيمهم).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) حسن؛ سماك وعلقمة صدوقان، أخرجه مسلم (٢١٣٥)، وأحمد (١٨٢٠١).

حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نجران (والوں) کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ تم لوگ تو پڑھتے ہو { یَا أُخْتَ ہَارُونَ } حالانکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان بہت زیادہ سالوں کا وقفہ ہے؟ مجھے ان کے اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے والے انبیاء اور صالحین کے ناموں کے مطابق نام رکھتے تھے۔؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39796]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39796، ترقيم محمد عوامة 38174)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38175 ترقیم الشثری: -- 39797
٣٩٧٩٧ - حدثنا (معتمر) (١) عن ابيه عن قتادة قال: قال رسول الله ﷺ (لاسقف) (٢) نجران:"يا ابا الحارث اسلم"، فقال: إني مسلم، قال:"يا ابا الحارث اسلم"، قال: قد اسلمت قبلك، قال نبي الله ﷺ (٣) :"كذبت منعك من الإسلام ثلاثة: ادعاؤك لله ولدا، واكللك الخنزير، وشربك الخمر" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (معمر).
(٢) في [أ، ب]: (أشلق).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) مرسل؛ قتادة تابعي.

حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے اسقف سے فرمایا۔ اے ابو الحارث! اسلام لے آؤ اس نے جواب دیا۔ میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا۔ اے ابو الحارث! اسلام لے آؤ اس نے (دوبارہ) جواب میں کہا۔ تحقیق میں آپ سے پہلے ہی اسلام لے آیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو جھوٹ بولتا ہے۔ تجھے تین چیزوں نے اسلام سے روکا ہے۔ تمہارا خدا کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرنا۔ تمہارا خنزیر کھانا۔ تمہارا شراب پینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39797]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39797، ترقيم محمد عوامة 38175)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں