🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38178 ترقیم الشثری: -- 39800
٣٩٨٠٠ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس (بن) (١) ابي حازم عن جرير قال: كنت باليمن فلقيت رجلين من اهل اليمن ذا كلاع وذا عمرو، فجعلت (احدثهما) (٢) عن رسول الله ﷺ (فقالا) (٣) : إن كان حقا ما تقول فقد مر صاحبك على اجله منذ ثلاث، فاقبلت واقبلا معي حتى إذا كنا في بعض الطريق (رفع) (٤) لنا ركب من قبل المدينة، فسالناهم فقالوا: قبض رسول الله ﷺ واستخلف ابو بكر والناس صالحون، قال: فقالا لي: اخبر صاحبك انا قد جئنا، ولعلنا سنعود إن شاء الله، ورجعا إلى اليمن، (قال) (٥) : فاخبرت ابا بكر بحديثهم، قال: افلا جئت بهم! قال: فلما كان بعد قال لي ذو عمرو: يا جرير إن بك علي كرامة، وإني مخبرك خبرا، إنكم معشر العرب (لن) (٦) (تزالوا) (٧) (بخير) (٨) ما كنتم إذا هلك امير ⦗١٢٩⦘ تامرتم في آخر، فإذا (كانت) (٩) بالسيف كانوا ملوكا يغضبون غضب الملوك ويرضون رضى الملوك (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [ع]: (أحدثهم)، وفي [س]: (أخبرهما).
(٣) في [ع]: (فقال).
(٤) في [ق، هـ]: (وقع).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ب]: (تنالوا).
(٨) في [أ، ب]: (الخير).
(٩) في [ع]: (كانوا).
(١٠) صحيح؛ أخرجه عن طريق المؤلف: البخاري (٤٣٥٩)، وأحمد وابنه عبد اللَّه (١٩٢٤٤)، ويعقوب بن سفيان في المعرفة ٣/ ٢٩٠، وابن عساكر ١٧/ ٣٨٣، وابن البخاري في مشيخته ١/ ٣٦٠.

حضرت جریر سے روایت ہے کہ میں یمن میں تھا کہ مجھے اہل یمن میں سے دو آدمی ملے جن کے نام ذوکلاع اور ذو عمرو تھے۔ پس میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان دونوں نے کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر تمہارے یہ ساتھی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن پہلے اپنی مدت عمر گزار چکے ہیں۔ چناچہ میں بھی چلا اور وہ بھی چلے یہاں تک کہ جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو مدینہ کی جانب سے ایک لشکر ہماری جانب آ رہا تھا تو ہم نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں اور حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ نیکی کے پابند ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ آپ اپنے ساتھی (حضرت ابوبکر) کو بتادینا کہ ہم آئے تھے۔ اور شاید کہ ہم واپس آئیں گے انشاء اللہ۔ اور (پھر) وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکر کو ان کی بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: تم انہیں لے کر کیوں نہ آئے۔!!! راوی کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39800]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39800، ترقيم محمد عوامة 38178)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39800 in Urdu