مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
42. ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38176 ترقیم الشثری: -- 39798
٣٩٧٩٨ - حدثنا ابن فضيل عن ابيه عن نافع عن ابن عمر قال: لما قبض رسول الله ﷺ كان ابو بكر في ناحية المدينة، فجاء فدخل على رسول الله ﷺ وهو مسجى، فوضع فاه على جبين رسول الله ﷺ فجعل يقبله ويبكي ويقول: بابي (١) وامي (طبت) (٢) حيا و (طبت) (٣) ميتا، فلما خرج مر بعمر بن الخطاب وهو يقول: ما مات رسول الله ﷺ (٤) ولا يموت حتى (يقتل) (٥) الله المنافقين، (وحتى يخزي الله المنافقين) (٦) ، قال: وكانوا قد استبشروا بموت رسول الله ﷺ، فرفعوا رؤوسهم، ⦗١٢٧⦘ فقال: ايها الرجل اربع على نفسك، فإن رسول الله ﷺ (٧) قد مات، الم تسمع الله يقول: ﴿إنك ميت وإنهم ميتون﴾ [الزمر: ٣٠] وقال (٨) : ﴿ (وما) (٩) جعلنا لبشر من قبلك الخلد افإن مت فهم الخالدون﴾ [الانبياء: ٣٤] ، قال: ثم اتى المنبر فصعده فحمد الله واثنى عليه ثم قال: ايها الناس، إن كان (محمد) (١٠) (١١) إلهكم الذي تعبدون فإن (إلهكم) (١٢) (١٣) قد مات، وإن كان إلهكم الذي في السماء فإن إلهكم لم يمت، ثم تلا: ﴿وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله (الرسل) (١٤) افإن مات او قتل انقلبتم على اعقابكم﴾ [آل عمران: ١٤٤] حتى ختم الآية، ثم نزل (وقد استبشر المسلمون بذلك) (١٥) واشتد فرحهم، (واخذت) (١٦) (المنافقين) (١٧) الكآبة قال عبد الله بن (عمر) (١٨) : فو الذي نفسي بيده لكانما كانت على وجوهنا اغطية فكشفت (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (أنت).
(٢) في [ع]: (طيب).
(٣) في [ع]: (طيب).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [س]: (يقبل).
(٦) سقط من: [ق، هـ].
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [س]: زيادة (تعالى).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) في [أ، ب]: (محمدًا).
(١١) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) في [هـ]: في [جـ، س، ع، ي]: زيادة (محمدًا).
(١٤) في [هـ]: (الرجل).
(١٥) في [جـ]: تكررت.
(١٦) في [ع]: (وأخذ).
(١٧) في [ع]: (المنافقون).
(١٨) في [أ]: (عمره).
(١٩) صحيح؛ أخرجه البزار (١٠٣)، والبخاري في التاريخ ١/ ٢٠١، والذهبي في العلو (١٦٦).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی تو (اس وقت) حضرت ابوبکر، مدینہ کے گوشہ میں تھے پھر آپ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھکا ہوا تھا۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے کر رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور مر کر بھی خوشبودار ہیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر (وہاں سے) نکلے تو ان کا گزر عمر بن خطاب سے ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اللہ کے رسول کو موت نہیں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت نہیں آئے گی حتی کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو موت دے دے اور یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو رسوا کر دے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی وجہ سے (منافقین نے) خوشی محسوس کی تھی چناچہ انہوں نے اپنے سر اٹھا لئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے آدمی! ٹھہرو (ذرا چپ کرو) کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا۔ {إِنَّک مَیِّتٌ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ } اور ارشاد خداوندی ہے۔ { وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ }۔ پھر حضرت ابوبکر منبر کے پاس آئے اور اس پر چڑھ گئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا اے لوگو! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے الہٰ تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تو یقین جانو کہ تمہارے الہٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور اگر تمہارا الہٰ وہ ذات ہے جو آسمانوں میں ہے تو پھر یقین کرو کہ تمہارا الہٰ نہیں مرا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی۔ { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ }۔ یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت مکمل فرما دی۔ پھر آپ نیچے تشریف لے آئے اور (اب) ان باتوں سے مسلمانوں نے خوشی محسوس کی اور یہ خوب خوش ہوئے اور منافقین کو مصیبت پڑگئی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یوں لگتا تھا جیسا کہ ہمارے چہروں پر پردے تھے جو ہٹا دیئے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39798]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39798، ترقيم محمد عوامة 38176)
ترقیم عوامۃ: 38177 ترقیم الشثری: -- 39799
٣٩٧٩٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن ابن جريج عن ابيه انهم شكوا في قبر النبي ﷺ اين يدفنونه؟ فقال ابو بكر: سمعت النبي ﷺ يقول:"إن النبي لا يحول عن مكانه يدفن حيث يموت"، فنحوا فراشه فحفروا له موضع فراشه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ عبد العزيز بن جريج لم يدرك أبا بكر، أخرجه أحمد (٢٧)، وعبد الرزاق (٦٥٣٤)، والمروزي في مسند أبي بكر (١٠٥).
حضرت ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے متعلق تردد ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کریں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا تھا کہ ”نبی کو اس کی جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا اور جہاں وہ فوت ہوتا ہے وہیں دفن کیا جاتا ہے“ چناچہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر ایک طرف کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر والی جگہ پر آپ کی قبر کھودی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39799]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39799، ترقيم محمد عوامة 38177)
ترقیم عوامۃ: 38178 ترقیم الشثری: -- 39800
٣٩٨٠٠ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس (بن) (١) ابي حازم عن جرير قال: كنت باليمن فلقيت رجلين من اهل اليمن ذا كلاع وذا عمرو، فجعلت (احدثهما) (٢) عن رسول الله ﷺ (فقالا) (٣) : إن كان حقا ما تقول فقد مر صاحبك على اجله منذ ثلاث، فاقبلت واقبلا معي حتى إذا كنا في بعض الطريق (رفع) (٤) لنا ركب من قبل المدينة، فسالناهم فقالوا: قبض رسول الله ﷺ واستخلف ابو بكر والناس صالحون، قال: فقالا لي: اخبر صاحبك انا قد جئنا، ولعلنا سنعود إن شاء الله، ورجعا إلى اليمن، (قال) (٥) : فاخبرت ابا بكر بحديثهم، قال: افلا جئت بهم! قال: فلما كان بعد قال لي ذو عمرو: يا جرير إن بك علي كرامة، وإني مخبرك خبرا، إنكم معشر العرب (لن) (٦) (تزالوا) (٧) (بخير) (٨) ما كنتم إذا هلك امير ⦗١٢٩⦘ تامرتم في آخر، فإذا (كانت) (٩) بالسيف كانوا ملوكا يغضبون غضب الملوك ويرضون رضى الملوك (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [ع]: (أحدثهم)، وفي [س]: (أخبرهما).
(٣) في [ع]: (فقال).
(٤) في [ق، هـ]: (وقع).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ب]: (تنالوا).
(٨) في [أ، ب]: (الخير).
(٩) في [ع]: (كانوا).
(١٠) صحيح؛ أخرجه عن طريق المؤلف: البخاري (٤٣٥٩)، وأحمد وابنه عبد اللَّه (١٩٢٤٤)، ويعقوب بن سفيان في المعرفة ٣/ ٢٩٠، وابن عساكر ١٧/ ٣٨٣، وابن البخاري في مشيخته ١/ ٣٦٠.
حضرت جریر سے روایت ہے کہ میں یمن میں تھا کہ مجھے اہل یمن میں سے دو آدمی ملے جن کے نام ذوکلاع اور ذو عمرو تھے۔ پس میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان دونوں نے کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر تمہارے یہ ساتھی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن پہلے اپنی مدت عمر گزار چکے ہیں۔ چناچہ میں بھی چلا اور وہ بھی چلے یہاں تک کہ جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو مدینہ کی جانب سے ایک لشکر ہماری جانب آ رہا تھا تو ہم نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں اور حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ نیکی کے پابند ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ آپ اپنے ساتھی (حضرت ابوبکر) کو بتادینا کہ ہم آئے تھے۔ اور شاید کہ ہم واپس آئیں گے انشاء اللہ۔ اور (پھر) وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکر کو ان کی بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: تم انہیں لے کر کیوں نہ آئے۔!!! راوی کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39800]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39800، ترقيم محمد عوامة 38178)
ترقیم عوامۃ: 38179 ترقیم الشثری: -- 39801
٣٩٨٠١ - حدثنا جعفر بن عون عن ابن جريج عن عطاء قال: بلغنا ان رسول الله ﷺ حين مات، قال: اقبل الناس يدخلون فيصلون عليه ثم يخرجون ويدخل آخرون كذلك، قال: قلت لعطاء: يصلون ويدعون، قال: يصلون ويستغفرون (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عطاء تابعي.
حضرت عطاء سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حجرہ میں) داخل ہوتے۔ آپ پر نماز پڑھتے اور نکل جاتے پھر اسی طرح اور لوگ اندر چلے جاتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت عطاء سے پوچھا۔ وہ نماز پڑھتے تھے اور دعا مانگتے تھے؟ عطاء نے کہا۔ نماز پڑھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39801]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39801، ترقيم محمد عوامة 38179)
ترقیم عوامۃ: 38180 ترقیم الشثری: -- 39802
٣٩٨٠٢ - حدثنا حفص عن جعفر عن ابيه قال: لم يؤم على النبي ﷺ إمام وكانوا يدخلون افواجا يصلون (١) ويخرجون (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (عليه).
(٢) مرسل؛ أبو جعفر ليس صحابيًا، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢٩١، وابن الجوزي في المنتظم ٤/ ٤٧.
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی امام نے (نماز جنازہ کی) امامت نہیں کروائی۔ بلکہ لوگ جماعت جماعت کی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حجر ہ میں) داخل ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز جنازہ پڑھتے اور نکل آتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39802]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39802، ترقيم محمد عوامة 38180)
ترقیم عوامۃ: 38181 ترقیم الشثری: -- 39803
٣٩٨٠٣ - حدثنا ابو اسامة عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قبض النبي ﷺ جعلت ام ايمن تبكي؛ فقيل لها: لم (تبكين) (١) يا ام ايمن؟ قالت: ابكي على خبر السماء انقطع عنا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (تبكي).
(٢) صحيح؛ أخرجه الطبراني ٢٥/ (٢٢٧)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٦٨ وابن عساكر ٤/ ٣٠٣، وابن سعد ٨/ ٢٢٦.
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی تو ام ایمن نے رونا شروع کیا۔ ان سے کہا گیا۔ اے ام ایمن! تم کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ آسمانی خبریں (اب) ہم پر منقطع ہوگئی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39803]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39803، ترقيم محمد عوامة 38181)
ترقیم عوامۃ: 38182 ترقیم الشثری: -- 39804
٣٩٨٠٤ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت (١) قال: لما قبض النبي ﷺ قال ابو بكر لعمر او عمر لابي بكر: انطلق بنا إلى ام ايمن نزورها، ⦗١٣٠⦘ (فانطلقا) (٢) إليها فجعلت تبكي، فقالا لها: يا ام ايمن! إن ما عند الله خير لرسول الله ﷺ (٣) ، فقالت: قد علمت ان ما عند الله خير لرسول الله ﷺ (٤) ، (ولكني) (٥) ابكي على خبر السماء، انقطع عنا، فهيجتهما على البكاء؛ فجعلا يبكيان معها (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: زيارة (عن أنس).
(٢) في [أ، ب، جـ، ي]: (فانطلقنا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [ع]: (ولكن).
(٦) مرسل؛ ثابت تابعي، وقد ورد متصلًا من حديث عمرو بن عاصم عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس، أخرجه مسلم (٢٤٥٤)، وابن ماجه (١٦٣٥)، وأبو يعلى (٦٩)، والبخاري في التاريخ الأوسط (٢٤١)، والمروزي في مسند أبي بكر (٧٦)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٦٨ والبيهقي ٧/ ٩٣، وابن عساكر ٤/ ٣٠٢.
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا یا حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ ہمارے ساتھ ام ایمن کے پاس چلو تاکہ ہم ان کو دیکھیں۔ پس ہم ان کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں۔ شیخین نے ام ایمن سے کہا۔ اے ام ایمن! جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہے وہ بہتر ہے۔ اس پر ام ایمن نے کہا۔ یقینا مجھے بھی اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زیادہ بہتر ہے لیکن میں تو اس بات پر رو رہی ہوں کہ ہم سے آسمان کی خبریں منقطع ہوگئیں۔ پس ام ایمن نے حضرت ابوبکر و عمر کو بھی رونے پر ابھار دیا چناچہ وہ دونوں حضرات بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39804]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39804، ترقيم محمد عوامة 38182)
ترقیم عوامۃ: 38183 ترقیم الشثری: -- 39805
٣٩٨٠٥ - حدثنا حفص عن جعفر عن ابيه قال: خرجت صفية وقد قبض (النبي) (١) ﷺ وهي تلمع بثوبها -يعني تشير (به) (٢) - وهي تقول: قد كان بعدك (هنباء) (٣) و (هنبثة) (٤) … لو كنت شاهدها لم (تكثر) (٥) الخطب (٦)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (رسول اللَّه).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) أي: بلاهة النساء، وفي [ق، هـ]: (أنباء).
(٤) أي: شدة تخلط الأمور، وفي [ق، هـ]: (هنبئة).
(٥) في [س]: (نكثر).
(٦) مرسل؛ أبو جعفر تابعي، وأخرجه الطبراني ٢٤/ (٨٠٧).
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فوت ہوگئے تو حضرت صفیہ باہر آئیں اور اپنے کپڑے سے اشارہ کرتی ہوئی فرما رہی تھیں۔ ”تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بہت سی باتیں اور شدید معاملات ہوں گے۔ اگر آپ ان کو دیکھتے تو مصائب کثیر نہ ہوتے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39805]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39805، ترقيم محمد عوامة 38183)
ترقیم عوامۃ: 38184 ترقیم الشثری: -- 39806
٣٩٨٠٦ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان الذي ولي دفن رسول الله ﷺ وإجنانه اربعة نفر دون الناس: علي ⦗١٣١⦘ (والعباس) (١) والفضل وصالح مولى (النبى) (٢) ﷺ لحدوا (له) (٣) ونصبوا عليه اللبن نصبا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عباس).
(٢) في [س، ع]: (للنبي).
(٣) في [أ، ب]: (عليه).
(٤) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٤٣٢٥).
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفن کرنا اور قبر میں اتارنا سونپا گیا تھا وہ چار لو گ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عباس، حضرت فضل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام صالح۔ چناچہ ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لحد بنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کچی اینٹیں نصب کیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39806]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39806، ترقيم محمد عوامة 38184)
ترقیم عوامۃ: 38185 ترقیم الشثری: -- 39807
٣٩٨٠٧ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن عامر قال: دخل قبر النبي ﷺ علي والفضل واسامة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٣٠٠، وأبو داود (٣٢٠٩)، والبيهقي ٤/ ٥٣.
حضرت عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فضل اور حضرت اسامہ داخل ہوئے۔ حضرت شعبی کہتے ہیں۔ مجھے مرحب یا ابن ابی مرحب نے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمان بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39807]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39807، ترقيم محمد عوامة 38185)