مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
ترقیم عوامۃ: 38200 ترقیم الشثری: -- 39827
٣٩٨٢٧ - حدثنا محمد بن بشر (حدثنا) (١) عبيد الله بن عمر (حدثنا) (٢) زيد بن اسلم عن ابيه اسلم انه حين بويع لابي بكر بعد رسول الله ﷺ كان علي والزبير (يدخلان) (٣) على فاطمة بنت رسول الله ﷺ فيشاورونها ويرتجعون في امرهم، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة فقال: يا بنت رسول الله ﷺ (٤) والله ما من (الخلق) (٥) (احد) (٦) احب إلينا من ابيك، وما من احد ⦗١٤٤⦘ (احب) (٧) إلينا بعد ابيك منك، وايم الله ما ذاك (بمانعي) (٨) ان اجتمع هؤلاء النفر عندك؛ ان امرتهم ان يحرق عليهم (البيت) (٩) ، قال: فلما خرج عمر جاؤوها (فقالت) (١٠) : تعلمون ان عمر قد جاءني وقد حلف (بالله) (١١) لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت، وايم الله (ليمضين) (١٢) لما حلف عليه، فانصرفوا راشدين، فرءوا رايكم ولا ترجعوا إلي، فانصرفوا عنها (فلم) (١٣) (يرجعوا) (١٤) إليها حتى بايعوا لابي بكر (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع، هـ]: (نا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (يدقون).
(٤) سقط من: [أ، ب، ع].
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ب]: (أحدًا).
(٧) في [ب]: (رعب).
(٨) في [ع]: (بما نعني).
(٩) في [ع]: (الباب).
(١٠) في [ع]: (قالت).
(١١) في [أ]: (للَّه).
(١٢) في [ع]: (لتمضين).
(١٣) في [ع]: (ولم).
(١٤) في [جـ]: (رجعوا).
(١٥) صحيح؛ أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٥٣٢)، وابن عبد البر في الاستذكار ٣/ ٩٧٥، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٥٢)،
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی وفات) کے بعد جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کے ہاں آنے جانے لگے اور ان سے مشاورت کرنے لگے اور اپنے معاملہ (خلافت) میں ان سے تقاضا کرنے لگے۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب کو پہنچی تو آپ نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ حضرت فاطمہ کے ہاں داخل ہوئے اور فرمایا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی! خدا کی قسم! تمام مخلوق میں ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ اور آپ کے بعد والد کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خدا کی قسم! (لیکن) اگر یہ آپ کے پاس (دوبارہ) جمع ہوئے تو مجھے یہ (محبت والی) بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ میں لوگوں کو حکم دوں اور ان تمام (گھر میں موجود) افراد پر گھر کو جلا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: پس جب حضرت عمر باہر چلے گئے تو یہ حضرات بی بی فاطمہ کے پاس آئے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عمر میرے پاس آئے تھے۔ اور انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ جمع ہوئے تو وہ ضرور بالضرور تمہیں گھر میں جلا دیں گے۔ اور خدا کی قسم! حضرت عمر نے جو کہا ہے وہ اس کو ضرور پورا کریں گے۔ پس تم لوگ اچھی حالت میں ہی واپس چلے جاؤ۔ اور اپنی رائے کو دیکھ لو۔ میری طرف واپس نہ آنا چناچہ لوگ وہاں سے واپس ہوگئے اور جب تک ان لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ (فاطمہ کے پاس) واپس نہیں آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39827]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39827، ترقيم محمد عوامة 38200)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39827 in Urdu