🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38206 ترقیم الشثری: -- 39833
٣٩٨٣٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابن عون عن محمد عن رجل من بني (زريق) (١) قال: لما كان ذلك اليوم خرج ابو بكر وعمر حتى (اتيا) (٢) الانصار، فقال ابو بكر: يا معشر الانصار إنا لا ننكر حقكم؛ ولا ينكر حقكم مؤمن، وإنا والله ما اصبنا خيرا إلا ⦗١٤٧⦘ ما شاركتمونا فيه، ولكن لا ترضى العرب ولا تقر إلا على رجل من قريش لانهم افصح الناس السنة، واحسن الناس وجوها، واوسط العرب دارا، واكثر الناس (شجنة) (٣) في العرب، فهلموا إلى عمر فبايعوه، قال: فقالوا: (لا) (٤) ، فقال عمر: لم؟ فقالوا: نخاف الاثرة، قال عمر: اما ما عشت فلا، قال: فبايعوا ابا بكر، فقال ابو بكر لعمر: انت اقوى مني، فقال عمر: انت افضل مني، فقالاها الثانية، فلما كانت الثالثة قال له عمر: إن قوتي (لك) (٥) مع فضلك، قال: فبايعوا ابا بكر (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (رزيق).
(٢) في [ع]: (أتوا).
(٣) في [ع]: (شجمة)، وفي [ي]: (شجنة)، وفي [س]: (سجنته)، وفي [هـ]: (سجية).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) مجهول، لإبهام الرجل شيخ ابن سيرين، أخرجه ابن سعد ٣/ ٢١١ وابن عساكر ٣٠/ ٢٧٤.

بنو زریق کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جب یہ دن تھا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکلے یہاں تک کہ وہ انصار کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے گروہ انصار! یقینا ہم تمہارے حق کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤمن تمہارے حق کا منکر ہوسکتا ہے۔ اور خدا کی قسم! بلاشبہ ہم نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ لیکن قریش کے آدمی کے علاوہ کسی اور آدمی پر اہل عرب راضی ہوں گے اور نہ قرار پکڑیں گے۔ کیونکہ قریش کے لوگ سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہں۔ اور اہل عرب میں سے سب سے وسیع گھر والے ہیں اور عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں۔ پس تم آؤ عمر کی طرف اور ان کی بیعت کرو۔ راوی کہتے ہیں: انصار نے کہا: نہیں! حضرت عمر نے پوچھا: کیوں؟ انصار نے جواب دیا۔ ہمیں ترجیح دیے جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ بہر حال جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو (یہ) نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا۔ چلو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت کرلو۔ ٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً) فرمایا: آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقینا میری قوت بھی آپ کے لئے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چناچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔ ٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر۔ ٤۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39833]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39833، ترقيم محمد عوامة 38206)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39833 in Urdu