مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38229 ترقیم الشثری: -- 39857
٣٩٨٥٧ - حدثنا محمد بن بشر، (حدثنا) (١) محمد بن عمرو، (حدثنا) (٢) ابو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب واشياخ، قالوا: راى عمر بن الخطاب في المنام (فقال) (٣) : رايت ديكا احمر نقرني ثلاث نقرات بين (الثنة) (٤) والسرة، قالت اسماء بنت (عميس) (٥) ام عبد الله بن جعفر: قولوا له: فليوص، وكانت تعبر الرؤيا، فلا ادري ابلغه (ذلك) (٦) ام لا. فجاءه ابو لؤلؤة الكافر المجوسي (عبد) (٧) المغيرة بن شعبة، فقال: إن المغيرة قد جعل علي من الخراج (مالا) (٨) (٩) ، قال: كم جعل عليك؟ قال: كذا وكذا، قال: وما عملك؛ قال: (اجوب) (١٠) الارحاء، قال: وما ذاك (عليك) (١١) (بكثير) (١٢) ، ليس بارضنا احد يعملها غيرك، الا تصنع لي (رحى؟) (١٣) قال: بلى والله، لاجعلن لك (رحى) (١٤) (يسمع) (١٥) بها اهل الآفاق. ⦗١٦٨⦘ فخرج عمر إلى الحج فلما صدر اضطجع (بالمحصب) (١٦) ، وجعل رداءه تحت راسه، فنظر إلى القمر فاعجبه استواؤه وحسنه، فقال: بدا (ضعيفا) (١٧) ثم لم يزل الله يزيده وينميه حتى استوى، فكان احسن ما كان، ثم هو ينقص حتى يرجع كما كان، وكذلك الخلق كله، ثم رفع يديه فقال: اللهم رعيتي قد كثرت وانتشرت فاقبضني إليك غير عاجز ولا مضيع. فصدر إلى المدينة فذكر له ان امراة من المسلمين ماتت بالبيداء مطروحة على الارض يمر بها الناس لا يكفنها احد، ولا يواريها احد، حتى مر بها كليب بن البكير الليثي، فاقام عليها حتى كفنها وواراها فذكر ذلك لعمر، فقال: من مر عليها من المسلمين؟ فقالوا: لقد مر عليها عبد الله بن عمر فيمن مر عليها من (المسلمين) (١٨) فدعاه، وقال: ويحك مررت على امراة من المسلمين مطروحة على ظهر الطريق، فلم توارها ولم تكفنها؟ قال: (والله) (١٩) (ما شعرت) (٢٠) بها ولا ذكرها لي احد، فقال: لقد خشيت ان لا يكون فيك خير، فقال: من (واراها وكفنها؟ قالوا: كليب ابن بكير الليثي) (٢١) قال: والله (لحري) (٢٢) ان يصيب كليب خيرا. فخرج عمر (يوقظ الناس بدرته) (٢٣) لصلاة الصبح، فلقيه الكافر ابو لؤلؤة فطعنه (ثلاث طعنات بين الثنة والسرة، وطعن كليب بن بكير فاجهز عليه) (٢٤) ، ⦗١٦٩⦘ (وتصايح) (٢٥) الناس، فرمى رجل على راسه ببرنس ثم (اصطعنه) (٢٦) إليه. وحمل عمر إلى الدار فصلى عبد الرحمن بن عوف بالناس، وقيل لعمر: الصلاة، (فصلى) (٢٧) (وجرحه) (٢٨) (يثعب) (٢٩) ، (وقال) (٣٠) : لا حظ (في الإسلام) (٣١) لمن لا صلاة له، فصلى ودمه (يثعب) (٣٢) . ثم انصرف الناس عليه فقالوا: يا امير المؤمنين، إنه ليس بك باس، وإنا لنرجو ان (ينسي) (٣٣) الله في اثرك ويؤخرك إلى حين، او إلى خير، فدخل عليه ابن عباس وكان يعجب به، فقال: اخرج فانظر من صاحبي ثم خرج فجاء، فقال: ابشر يا امير المؤمنين! صاحبك ابو لؤلؤة المجوسي (عبد) (٣٤) المغيرة بن شعبة، فكبر حتى خرج صوته من الباب، ثم قال: الحمد لله الذي لم يجعله رجلا من المسلمين (يحاجني) (٣٥) (سجد سجدة) (٣٦) لله يوم القيامة. ثم اقبل على القوم فقال: (اكان) (٣٧) هذا عن ملا منكم؟ فقالوا: معاذ الله؛ ⦗١٧٠⦘ والله لوددنا انا فديناك بآبائنا، (وزدنا) (٣٨) في عمرك من اعمارنا، إنه ليس بك باس. قال: اي يرفا؛ (ويحك) (٣٩) ، اسقني، فجاءه بقدح فيه نبيذ حلو فشربه، فالصق رداءه ببطنه، قال: فلما وقع الشراب في بطنه خرج من الطعنات، قالوا: الحمد لله، هذا دم استكن في جوفك، فاخرجه الله من جوفك، قال: اي يرفا، (ويحك) (٤٠) (اسقني) (٤١) لبنا، فجاء بلبن فشربه فلما (٤٢) وقع في جوفه خرج (من) (٤٣) الطعنات. فلما (راوا) (٤٤) ذلك علموا انه هالك، قالوا: جزاك الله خيرا (قد) (٤٥) كنت تعمل فينا بكتاب الله وتتبع سنة (صاحبيك) (٤٦) ؛ لا تعدل عنها إلى غيرها، جزاك الله احسن الجزاء، قال: بالإمارة (تغبطونني) (٤٧) ، فوالله لوددت (اني) (٤٨) انجو منها كفافا لا علي ولا لي، قوموا فتشاوروا في امركم، امروا عليكم رجلا منكم، فمن خالفه فاضربوا راسه. ⦗١٧١⦘ قال: فقاموا وعبد الله بن عمر مسنده إلى صدره، فقال عبد الله: (اتؤمرون) (٤٩) وامير المؤمنين حي؟ فقال عمر: (لا) (٥٠) ، وليصل صهيب ثلاثا، وانتظروا طلحة، وتشاوروا في امركم، فامروا عليكم رجلا منكم، فإن خالفكم فاضربوا راسه. قال: اذهب إلى (عائشة) (٥١) فاقرا عليها مني السلام، وقل: إن عمر يقول: إن كان ذلك ولا يضر بك ولا يضيق عليك فإني احب ان ادفن مع صاحبي، وإن كان يضر بك ويضيق عليك، فلعمري لقد دفن في هذا البقيع من اصحاب رسول الله ﷺ وامهات المؤمنين من هو خير من عمر، فجاءها الرسول فقالت: إن ذلك لا يضر (بي) (٥٢) ولا يضيق علي، قال: فادفنوني معهما. قال عبد الله بن عمر: فجعل الموت يغشاه وانا امسكه إلى صدري، قال: ويحك ضع راسي بالارض، قال: فاخذته غشية فوجدت من ذلك، فافاق فقال: (ويحك) (٥٣) ضع راسي بالارض، فوضعت راسه بالارض فعفره بالتراب فقال: ويل عمر، وويل امه: إن لم يغفر الله له. قال محمد بن عمرو: واهل الشورى: علي وعثمان وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف (٥٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (قال).
(٤) في [أ، ب]: (الثنية).
(٥) في [ع]: (عميش).
(٦) في [س، ع]: (ذاك)، وسقط من: [هـ].
(٧) في [أ، ب]: (عند).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (ما لا).
(٩) في [هـ]: زيادة (أطيق) أخذًا من كنز العمال ١٢/ ٣٠٧، وفي المحن ص ٦٨: (ما لا أطيق حمله).
(١٠) في [ع]: (أجرب)، أي: أقطع الحصى ليكون رمحًا لطحن الدقيق.
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) في [أ، ب، س]: (بكبير).
(١٣) في [ع]: (رحا).
(١٤) في [ع]: (رحا).
(١٥) في [ع]: (تسمع).
(١٦) في [س]: (الحصب).
(١٧) في [ب]: (ضعفًا).
(١٨) هكذا في: [ق، هـ]، وفي باقي النسخ: (الناس).
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) في [ي]: بياض.
(٢١) سقط من: [ي].
(٢٢) في [أ]: (مجرى)، وفي [ب]: (لجري).
(٢٣) في [ي]: بياض.
(٢٤) في [ى]: بياض.
(٢٥) في [جـ، س، ي]: (تصالح)، وفي [ب]: (ولصالح).
(٢٦) في [ف]: (اصلعنه)، وفي [ق، هـ]: (اضطبعه)، وفي المحسن: (اضغطه).
(٢٧) سقط من: [ع].
(٢٨) في [جـ]: (جرحه).
(٢٩) في [س]: (ينشعب).
(٣٠) في [ع]: (قال).
(٣١) سقط من: [ع].
(٣٢) في [ع]: (ينبعث).
(٣٣) في [س]: (ينبي).
(٣٤) في [س، ع]: (غلام).
(٣٥) في [ع]: (فجاء حتى).
(٣٦) في [ق، هـ]: (بسجدة سجدها).
(٣٧) في [جـ، ي]: (لقد كان).
(٣٨) في [ع]: (وزودناك).
(٣٩) سقط من: [ع].
(٤٠) سقط من: [ع].
(٤١) سقط من: [أ، ب، جـ، ي].
(٤٢) في [ي]: زيادة (خرج).
(٤٣) في [هـ]: (منه).
(٤٤) في [هـ]: (رأوه).
(٤٥) في [جـ]: (لقد).
(٤٦) في [أ، ب، ط]: (صاحبك).
(٤٧) في [ع]: (تغبطوني).
(٤٨) في [جـ]: (أن).
(٤٩) في [أ، جـ، س، ع]: (أبومرون) وفي [ي]: (أيومرون)، وفي [ب]: (أبومروان).
(٥٠) سقط من: [أ، ب]، والمعنى: أن عمر لم يعد أميرًا.
(٥١) في [ي]: بياض.
(٥٢) سقط من: [هـ].
(٥٣) سقط من: [هـ].
(٥٤) منقطع؛ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب لا يرويان عن عمر، أخرجه أبو العرب ابن تميم في كتاب المحن ص ٦٧.
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغے نے ان کی ناف اور سینے کے درمیان چونچ ماری ہے۔ حضرت اسماء بنت عمیس تعبیر کی ماہر تھیں، انہوں نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ وصیت کردیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تعبیر ان تک پہنچی یا نہیں۔ کچھ دنوں بعد مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ، حضرت عمر کے پاس آیا اور حضرت عمر نے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا میں چکیاں بناتا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر تو بہت زیادہ نہیں کیونکہ یہاں تمہارے علاوہ کوئی یہ کام نہیں کرتا، کیا تم مجھے ایک چکی بنا کردو گے؟ اس نے کہا میں آپ کو ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ اس کی شہرت سارے عالم میں ہوگی۔ ٢۔ پھر حضرت عمر حج کے لئے چل پڑے پس جب آپ پہنچے تو آپ رمی جمار کی جگہ لیٹ گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔ آپ نے چاند کی طرف دیکھا تو آپ کو اس کی خوبصورتی اور برابری بہت پیاری لگی اس پر آپ نے فرمایا۔ یہ ابتداء میں کمزور ساظاہر ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور اس کو بڑھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ برابر ہوجاتا ہے۔ اور پھر یہ کمال حسن تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک دوبارہ ویسا ہی (پہلے جیسا) ہوجاتا ہے۔ ساری مخلوق کی حالت ایسی ہی ہے۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔ اے اللہ! میری رعایا بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بہت پھیل گئی ہے پس تو مجھے اپنی طرف واپس بلا لے عاجز اور ضائع کیے بغیر۔ ٣۔ پھر حضرت عمر مدینہ واپس آئے تو ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک عورت مقام بیداء میں مرگئی تھی، وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور لوگ اس کے پاس سے گزرتے جا رہے تھے۔ کسی نے بھی اس کو کفن نہ دیا اور نہ ہی اس کو دفنایا یہاں تک کہ حضرت کلیب بن بکیر لیثی اس عورت کے پاس سے گزرے تو وہ اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اس کو کفنایا اور دفنایا۔ یہ بات حضرت عمر کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے پوچھا۔ مسلمانوں میں سے کون لوگ اس کے پا س سے گزرے تھے؟ لوگوں نے جواب دیا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگوں میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ چناچہ آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا۔ تو ہلاک ہوجائے۔ تو ایک مسلمان عورت پر سے جو راستہ میں زمین پر گری پڑی تھی گزرا اور تو نے اس کو کفنایا، دفنایا کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں ذکر کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو خیر سے خالی نہ ہو۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ اس عورت کو کس نے کفنایا اور دفنایا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ کلیب بن بکیر لیثی نے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! کلیب اس بات کا حق دار ہے کہ اس کو خیر پہنچے۔ ٤۔ پھر حضرت عمر لوگوں کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کرنے کے لئے نکلے تھے کہ آپ کو ابو لؤلؤ کافر ملا اور اس نے آپ کی ناف اور سینے کے درمیان تین وار کئے۔ اور حضرت کلیب بن بکیر کو مارا اور ان کا کام تمام کردیا۔ لوگوں نے آوازیں بلند کیں تو ایک آدمی نے اس پر بڑی چادر پھینک دی۔ اور حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور حضرت عمر سے کہا گیا۔ نماز! تو آپ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ اور آپ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کی نماز نہیں، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ پس آپ نے اس حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ اے امیر المؤمنین! آپ کو کوئی زخم نہیں ہیں۔ اور یقینا ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو مزید باقی رکھے گا اور آپ کو مزید ایک وقت تک یا ایک خیر (کے کام) تک مہلت دے گا۔ ٥۔ پھر حضرت عمر کی خدمت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے … حضرت عمر کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے محبت تھی … حضرت عمر نے فرمایا۔ تم دیکھو کہ مجھے قتل کرنے والا کون ہے؟ چناچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما باہر چلے گئے پھر واپس آئے تو فرمایا۔ اے امیر المؤمنین! آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کا قاتل حضرت مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ مجوسی ہے۔ اس پر حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ یہاں تک (بلند آواز میں کہا کہ) آپ کی آواز دروازے سے باہر نکل گئی پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے قاتل کو مسلمان آدمی نہیں بنایا کہ بروز قیامت وہ میرے ساتھ کسی ایسے سجدہ کی وجہ سے مخاصمت کرتا جو اس سے صرف خدا کے لئے کیا ہوتا۔ پھر حضرت عمر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کیا یہ آدمی تمہارے قوم میں سے ہے؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ کی پناہ! ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اپنے آباء کو فداء کردیں اور آپ کی عمر میں اپنی عمروں سے اضافہ کردیں۔ آپ کو کوئی ز [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39857]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39857، ترقيم محمد عوامة 38229)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39857 in Urdu