🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38211 ترقیم الشثری: -- 39839
٣٩٨٣٩ - حدثنا وكيع وابن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن (زييد) (١) بن الحارث (ان) (٢) ابا بكر حين حضره الموت ارسل إلى عمر يستخلفه، فقال الناس: تستخلف علينا فظا غليظا، (ولو) (٣) قد ولينا كان افظ واغلظ، فما تقول لربك إذا لقيته وقد استخلفت علينا عمر، قال ابو بكر: ابربي تخوفونني، اقول: اللهم استخلفت عليهم خير (خلقك) (٤) ، ثم ارسل إلى عمر فقال: إني موصيك بوصية إن انت حفظتها: إن لله حقا بالنهار لا يقبله بالليل، وإن لله حقا بالليل لا يقبله بالنهار، وانه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة؛ وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم (في الدنيا الحق وثقله عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الحق ان يكون ثقيلا، وإنما خفت موازين من خفت موازينه يوم القيامة باتباعهم) (٥) الباطل وخفته عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الباطل ان يكون خفيفا، وان الله ذكر اهل الجنة (وصالح) (٦) ما عملوا، (وانه) (٧) تجاوز عن سيئاتهم، فيقول القائل: (لا) (٨) ابلغ هؤلاء، وذكر اهل النار باسوء ما عملوا، (وانه) (٩) رد عليهم صالح ما عملوا، ⦗١٥٢⦘ فيقول قائل: انا خير من هؤلاء، وذكر آية الرحمة وآية العذاب؛ ليكون المؤمن راغبا (راهبا) (١٠) ، لا يتمنى على الله غير الحق ولا يلقي بيده إلى التهلكة، (فإن) (١١) انت حفظت وصيتي لم يكن غائب احب إليك من الموت، كان انت ضيعت وصيتي لم يكن غائب ابغض إليك من الموت، (ولن) (١٢) تعجزه (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (زيد)، وفي [ق]: (زنيد).
(٢) سقط من: [ي].
(٣) في [ع]: (فلو).
(٤) في [ع]: (أهلك).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [هـ]: (بصالح).
(٧) في [ي]: (به).
(٨) في [ق، هـ]: (ألا).
(٩) في [ب]: (فإنه).
(١٠) في [ق، هـ]: (وراهبًا).
(١١) في [ي]: (قال).
(١٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (ولم).
(١٣) منقطع؛ زييد لا يروي عن أبي بكر، أخرجه هناد في الزهد (٤٩٦)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٠٩٨)، والآجري في الشريعة (١٢٠٢)، والخلال في السنة (٣٣٧)، وابن عساكر ٣٠/ ٤١٣.

حضرت زبید بن الحارث سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی مو ت کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا۔ اور حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ بنایا۔ اس پر لوگوں نے کہا۔ آپ ہم پر ایک ترش مزاج اور سخت آدمی کو خلیفہ بنا رہے ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے والی بن گئے تو وہ مزید ترش مزاج اور سخت آدمی ہوجائیں گے۔ پس جب آپ حضرت عمر کو ہم پر خلیفہ بنائیں گے تو آپ اپنے رب سے ملاقات کے وقت اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا: کیا تم لوگ میرے پروردگار سے مجھے ڈرا رہے ہو؟ میں (اللہ تعالیٰ کو) یہ جواب دوں گا۔ اے اللہ! میں نے لوگوں پر آپ کی مخلوق میں بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ ٢۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا (اور بلا کر) فرمایا۔ اگر تم یاد رکھو تو میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ یقینا دن کے وقت اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ جب تک فرائض کو ادا نہ کیا جائے نوافل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ دناا میں ان لوگوں نے حق کی اتباع کی ہوگی اور حق ان پر وزنی رہا ہوگا۔ اور میزان کے لئے بھی یہ بات حق ہے کہ (جب) اس میں صرف حق ہی کو رکھا جائے تو وہ وزنی ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں ہلکے ہوں گے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان لوگوں پر ہلکا رہا ہوگا۔ اور میزان کے لئے بھی یہ بات حق ہے کہ جب اس میں صرف باطل ہی کو رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ ٣۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر ان کے بہترین اعمال کی وجہ سے کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بد اعمال کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم پر ان کے اعمال صالحہ کو رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان سے بہتر ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت والی آیت اور عذاب والی آیت (دونوں) کو ذکر فرمایا تاکہ مؤمن رغبت بھی کرے اور خوف بھی۔ اللہ تعالیٰ پر ناحق امیدیں نہ کرے اور اپنے ہاتھ سے ہلاکت کی طرف نہ پڑے۔ ٤۔ پس اگر تم نے میری وصیت کی حفاظت کی تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ اور اگر تم نے میری وصیت کو ضائع کیا تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی۔ اور تم ہرگز موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39839، ترقيم محمد عوامة 38211)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38212 ترقیم الشثری: -- 39840
٣٩٨٤٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس بن ابي حازم قال: رايت عمر بن الخطاب وبيده عسيب تحل وهو يجلس الناس ويقول: اسمعوا (لقول) (١) خليفة رسول الله ﷺ (٢) ، قال: فجاء مولى لابي بكر يقال (له) (٣) شديد (٤) بصحيفة، فقراها على الناس فقال: يقول ابو بكر: اسمعوا واطيعوا (لمن) (٥) في هذه الصحيفة، فو الله ما (الوتكم) (٦) ، قال قيس: فرايت عمر بن الخطاب بعد ذلك على المنبر (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (القول).
(٢) في [أ، ب، جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٣) سقط من: [ي].
(٤) في [جـ]: زيادة (معه).
(٥) في [جـ]: (من).
(٦) في [س]: (ألوبكم).
(٧) صحيح؛ أخرجه أحمد ١/ ٣٧ (٢٥٩)، وابن شبه (١٠٩٤)، وابن عساكر ٤٤/ ٢٥٧، واللالكائي (٢٥٢٣)، والخلال في السنة (٣٣٩).

حضرت قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کی صاف شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کی بات سُنو۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت ابوبکر کا غلام … جس کو شدید کہا جاتا تھا … ایک رقعہ لے کر آیا۔ اور وہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس نے کہا۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں: اس آدمی کی بات سنو اور اطاعت کرو جس کا اس صحیفہ میں نام ہے۔ خدا کی قسم! میں نے تمہیں خیر تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ قیس راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد مں ا نے حضرت عمر بن خطاب کو منبر پر دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39840]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39840، ترقيم محمد عوامة 38212)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38213 ترقیم الشثری: -- 39841
٣٩٨٤١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن ابي (الاحوص) (١) عن ⦗١٥٣⦘ عبد الله قال: افرس الناس ثلاثة: ابو بكر حين تفرس في عمر فاستخلفه، والتي قالت: ﴿استاجره إن خير من استاجرت القوي (الامين) (٢)[القصص: ٢٦] والعزيز حين قال: لامراته: ﴿اكرمي مثواه﴾ [يوسف: ٢١] (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الأخوص).
(٢) في [ي]: بياض.
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ١/ ١٧٥، والحاكم ٢/ ٣٤٥، وابن أبي حاتم في التفسير (١٦٨٣٨)، والخلال في السنة (٣٤٠)، والبيهقي في الاعتقاد ١/ ٣٥٩، وابن عساكر ٤٤/ ٢٥٥.

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہوئے ہیں۔ حضرت ابوبکر جب انہوں نے حضرت عمر کے بارے میں فراست کا اظہار کیا اور انہیں خلیفہ بنایا۔ اور (دوسری) وہ عورت جس نے کہا تھا۔ { اسْتَأْجِرْہُ، إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الأَمِینُ } اور (تیسرا) عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ { أَکْرِمِی مَثْوَاہُ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39841، ترقيم محمد عوامة 38213)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38214 ترقیم الشثری: -- 39842
٣٩٨٤٢ - حدثنا ابن فضيل عن (حصين) (١) عن عمرو بن ميمون قال: جئت وإذا عمر واقف على حذيفة (٢) وعثمان بن حنيف، فقال: تخافان ان تكونا حملتما الارض ما لا تطيق، فقال حذيفة: لو شئت لاضعفت ارضي، وقال عثمان: لقد حملت ارضي امرا هي له مطيقة، وما فيها (كثير) (٣) فضل، فقال: انظرا ما لديكما ان تكونا حملتما الارض ما لا تطيق، ثم قال: والله لئن سلمني الله لادعن ارامل (اهل) (٤) العراق لا يحتجن بعدي إلى اح ابدا، قال: فما اتت عليه إلا اربعة حتى اصيب. (قال) (٥) : وكان إذا دخل المسجد قام بين الصفوف (فقال) (٦) : استووا، فإذا استووا تقدم فكبر، قال: فلما كبر طعن مكانه، قال: فسمعته يقول: قتلني الكلب -او (اكلني) (٧) الكلب، قال عمرو: (ما) (٨) ادري ايهما قال: قال: وما بيني وبينه ⦗١٥٤⦘ (غير) (٩) ابن عباس، فاخذ عمر بيد عبد الرحمن (بن عوف) (١٠) فقدمه (وطار) (١١) (العلج) (١٢) وبيده سكين ذات طرفين، ما يمر (برجل) (١٣) يمينا ولا شمالا إلا طعنه حتى اصاب منهم ثلائة عشر رجلا، فمات منهم تسعة، قال: فلما راى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنسا لياخذه، فلما ظن انه ماخوذ (١٤) نحر نفسه، قال: فصلينا الفجر صلاة خفيفة، قال: فاما نواحي المسجد فلا يدرون ما الامر، إلا انهم حيث فقدوا صوت عمر جعلوا يقولون: سبحان الله -مرتين. فلما انصرفوا كان اول من دخل عليه ابن عباس فقال: انظر من قتلني؟ (قال) (١٥) : (فجال) (١٦) ساعة ثم جاء فقال: غلام المغيرة الصناع، وكان نجارا، (قال) (١٧) : فقال عمر: الحمد لله الذي لم يجعل منيتي بيد رجل يدعي الإسلام، قاتله الله، لقد امرت به معروفا، قال: ثم قال لابن عباس: لقد كنت انت وابوك تحبان ان (تكثر) (١٨) العلوج بالمدينة، قال: فقال (ابن عباس) (١٩) : إن شئت فعلنا، فقال: بعد ما تكلموا بكلامكم، وصلوا (صلاتكم) (٢٠) ، ونسكوا (نسككم) (٢١) ، ⦗١٥٥⦘ قال: فقال (له) (٢٢) الناس: ليس عليك باس. قال: فدعا بنبيذ فشرب فخرج من جرحه، (ثم دعا) (٢٣) (بلبن) (٢٤) فشربه فخرج من جرحه، فظن انه الموت فقال لعبد الله بن عمر: (انظر ما علي من الدين) (٢٥) (فاحسبه) (٢٦) فقال: (ستة) (٢٧) وثمانين (الفا) (٢٨) ، فقال: إن (وفى بها) (٢٩) مال (آل) (٣٠) عمر فادها عني من اموالهم، وإلا فسل بني عدي بن كعب، فإن (تف) (٣١) من اموالهم وإلا فسل قريشا، ولا تعدهم إلى غيرهم، (فادها) (٣٢) عني. ٠٥ اذهب إلى عائشة ام المؤمنين فسلم وقل: يستاذن عمر بن الخطاب -ولا (تقل) (٣٣) : امير المؤمنين، فإني لست لهم اليوم بامير- ان يدفن مع صاحبيه. قال: فاتاها عبد الله بن عمر فوجدها قاعدة تبكي، فسلم ثم قال: يستاذن عمر بن الخطاب ان يدفن مع صاحبيه، قالت: قد -والله- كنت اريده لنفسي، ولاوثرنه اليوم على نفسي. فلما جاء قيل: هذا عبد الله بن عمر، قال: فقال: ارفعاني، فاسنده رجل إليه فقال: ما لديك؟ قال: اذنت لك، قال: فقال عمر: ما كان شيء اهم عندي من ⦗١٥٦⦘ ذلك، ثم قال: إذا انا مت فاحملوني على سريري (٣٤) ، ثم استاذن فقل: يستاذن عمر ابن الخطاب، فإن اذنت لك فادخلني، وإن لم تاذن فردني إلى مقابر المسلمين. قال: فلما حمل (كان) (٣٥) الناس لم تصبهم مصيبة إلا يومئذ، قال: فسلم عبد الله بن عمر (وقال) (٣٦) : (يستاذن) (٣٧) عمر بن الخطاب، فاذنت له حيث اكرمه الله مع (رسول) (٣٨) الله ﷺ (٣٩) ومع ابي بكر. فقالوا له حين حضره الموت: استخلف، فقال: لا اجد احدا احق بهذا الامر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله ﷺ وهو عنهم راض، (فايهم) (٤٠) استخلفوا فهو الخليفة بعدي، فسمى عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا، فإن اصابت سعدا فذلك، وإلا فايهم استخلف فليستعن به، فإني لم انزعه عن عجز ولا خيانة، قال: وجعل عبد الله (بن عمر) (٤١) (يشاور معهم) (٤٢) وليس له له من الامر شيء. قال: فلما اجتمعوا قال عبد الرحمن بن عوف: اجعلوا امركم إلى ثلاثة نفر، قال: فجعل الزبير امره إلى علي، وجعل طلحة امره إلى عثمان، وجعل سعد امره إلى عبد الرحمن، قال: فاتمروا اولئك الثلاثة حين جعل الامر (إليهم) (٤٣) ، ⦗١٥٧⦘ قال: فقال عبد الرحمن: ايكم (يتبرا) (٤٤) من الامر؟ ويجعل الامر إلي، ولكم الله علي ان لا آلو عن افضلكم (وخيركم) (٤٥) للمسلمين (٤٦) ، (قالوا: نعم) (٤٧) . فخلا لجي فقال: إن لك من القرابة من رسول الله ﷺ (٤٨) والقدم، ولي الله عليك لئن استخلفت لتعدلن، ولئن استخلف عثمان لتسمعن ولتطيعن، قال: فقال: نعم، قال: وخلا بعثمان فقال مثل ذلك، فقال له عثمان: نعم، ثم قال: يا عثمان ابسط يدك، فبسط يده فبايعه وبايعه علي والناس. ثم قال عمر: اوصي الخليفة من بعدي بتقوى الله والمهاجرين الاولين ان يعرف (لهم) (٤٩) حقهم، ويعرف (لهم) (٥٠) حرمتهم، واوصيه باهل الامصار (خيرا) (٥١) فإنهم ردء الإسلام وغيظ العدو وجباة الاموال: ان لا يؤخذ منهم فيئهم إلا عن رضا منهم، واوصيه بالانصار خيرا: الذين تبوؤا الدار والإيمان ان يقبل من محسنهم (٥٢) ، واوصيه بالاعراب خيرا فإنهم اصل العرب ومادة الإسلام، ان يؤخذ من حواشي اموالهم فترد على فقرائهم، واوصيه بذمة الله وذمة رسوله ان يوفى لهم بعهدهم وان لا يكلفوا إلا طاقتهم (٥٣) (٥٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (حسين).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (إذا).
(٣) في [أ، ب]: (كبير).
(٤) سقط من: [ي].
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [ع]: (قال).
(٧) في [ع]: (كلمني).
(٨) في [ع]: (فما).
(٩) في [ع]: (إلا غير).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [أ، ب، س، ط]: (وكان).
(١٢) في [أ، ب]: (الصبح).
(١٣) سقط من: [أ، ب].
(١٤) في [أ، ب]: زيادة (طرح).
(١٥) سقط من: [ع].
(١٦) في [ب]: (جال).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) في [س، ق]: (يكثر).
(١٩) في [ي]: بياض.
(٢٠) في [ع]: (بصلاتكم)، وفي [ي]: بياض.
(٢١) في [ي]: بياض.
(٢٢) سقط من: [أ، ب].
(٢٣) في [ي]: بياض.
(٢٤) في [ب]: (بلب).
(٢٥) في [ي]: بياض.
(٢٦) في [أ]: (فاحسبيه).
(٢٧) في [س]: (سنة).
(٢٨) في [ع]: (ألف).
(٢٩) في [ع]: (أوفاتها)، وفي [جـ]: (وفا بها).
(٣٠) سقط من: [أ، ب].
(٣١) في [س]: (بقي)، وفي [أ، ط، هـ]: (تفي).
(٣٢) في [ع]: (قودها).
(٣٣) في [هـ]: (تقتل).
(٣٤) في [ق، هـ]: زيادة (ثم قف بي على الباب).
(٣٥) سقط من: [س].
(٣٦) في [ع]: (فقال).
(٣٧) في [أ، ب]: (إستأذن).
(٣٨) في [ع]: (رسوله).
(٣٩) سقط من: [ع].
(٤٠) في [ع]: (بأيهم).
(٤١) سقط من: [ع].
(٤٢) في [أ، ب، س]: (يشاورونه)، وفي [ق، ي]: (يشاور).
(٤٣) في [ع]: (لهم).
(٤٤) في [س]: بياض.
(٤٥) في [ع]: (وأخيركم).
(٤٦) في [هـ]: زيادة (فاسكت الشيخان علي وعثمان، فقال عبد الرحمن: تجعلانه إليّ، وأنا أخرج منها، فواللَّه لا ألو عن أفضلكم وخيركم للمسلمين).
(٤٧) في [ع]: تكررت.
(٤٨) سقط من: [ع].
(٤٩) في [ع]: (هم).
(٥٠) في [ع]: (هم).
(٥١) في [ع]: (خير).
(٥٢) في [ق، هـ]: زيادة (ويتجاوز عن مسيئهم).
(٥٣) في [ق، هـ]: زيادة (وأن يقاتل من وارءهم).
(٥٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٠٠)، وابن حبان (٦٩١٧).

حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں۔ تم خوف کرو کہ تم نے زمین کو اس قدر عوض پر دیا ہے جو وسعت سے زیادہ ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین کو دو چند (عوض پر) کر دوں اور حضرت عثمان نے کہا۔ میں نے اپنی زمین کو ایسے معاملہ کے عوض میں رکھا جو اس کے مطابق ہے اور اس میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کے محتاجوں کو ایسی حالت میں چھوڑوں گا کہ میرے بعد وہ کسی اور کے محتاج نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر چار دن ہی گزرے تھے کہ انہیں شہید کردیا گیا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر جب مسجد میں داخل ہوتے تو آپ صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے اور فرماتے۔ (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ پس جب لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ تکبیر کہتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر (جب ایک صبح) آپ نے نماز شروع کی تو آپ کی جگہ وار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: پس میں نے آپ کو کہتے سُنا۔ مجھے کتے نے قتل کر ڈالا… یا …مجھے کُتّے نے کھالیا۔ راوی عمروکہتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہا؟ میرے اور ان کے درمیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر حضرت عمر نے عبد الرحمان بن عوف کو ہاتھ سے پکڑا اور آگے کر دیا…وہ قاتل دوڑنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں دو دھاری چھری تھی وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس کو مارتا جاتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ لوگوں کو زخمی کردیا۔ پھر ان زخمیوں میں سے نو افراد وفات بھی پا گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب یہ منظر ایک مسلمان نے دیکھا تو اس نے اس کو پکڑنے کے لئے اس پر ایک بڑی چادر ڈال دی۔ پھر جب اس قاتل کو یہ یقین ہوگیا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خود کو ذبح کرلیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں: پس ہم نے فجر کی ہلکی سی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: مسجد کے کناروں والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ ہاں جب انہوں نے حضرت عمر (کی آواز) کو نہ پایا تو یہ کہنا شروع کیا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! پھر جب لوگ چلے گئے تو پہلا شخص جو حضرت عمر کے پاس آیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ حضرت عمر نے (ان سے) کہا۔ دیکھو (معلوم کرو) مجھے کس نے قتل کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھوڑا سا گھوم کر واپس آئے اور بتایا۔ حضرت مغیرۃ کے کاریگر غلام نے۔ اور یہ غلام بڑھئی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے آدمی کے ہاتھ سے واقع نہیں کی جو اسلام کا دعویدار ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے۔ یقینا میں نے اس کو بھلائی کا حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا۔ تحقیق تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں علوج زیادہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم یہ کرتے۔انہوں نے کہا کہ بعد اس کے کہ تم اپنی بات کرچکے، اپنی نماز پڑھ چکے اور اپنے نسک ادا کرچکے۔ ٤۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے حضرت عمر سے کہا۔ آپ کو کوئی (بڑا) مسئلہ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر نے نبیذ منگوائی اور اس کو پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل گئی۔ پھر حضرت عمر نے دودھ منگوایا اور اس کو پیا لیکن وہ بھی آپ کے زخموں سے باہر نکل گیا۔ چناچہ آپ کو موت کا یقین ہوگیا۔ تو آپ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ مجھ پر جو قرض ہے اس کو دیکھو اور اس کا حساب کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ چھیاسی ہزار ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر یہ قرض آلِ عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو میری طرف سے ان کے اموال میں سے اس قرض کو ادا کردو۔ وگرنہ بنو عدی بن کعب سے مانگ لینا۔ پھر اگر یہ قرض ان کے اموال سے پورا ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ قریش سے مانگ لینا اور ان کے سوا اور کسی سے نہ مانگنا۔ اور یہ میری طرف سے قرضہ ادا کردینا۔ ٥۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جاؤ اور (انہیں) سلام کرو اور کہو۔ عمر بن خطاب … امیر المؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ میں اس وقت لوگوں کا امیر نہیں ہوں …اپنے دونوں ساتھیوں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر) کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عبداللہ بن عمر آئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیٹھے روتے پایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا پھر کہا۔ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فن کئے جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ خدا کی قسم! میں تو اس بات کو اپنے لئے چاہتی تھی (یعنی حجرہ میں دفن ہونا) لیکن میں آج اس رات (حجر ہ میں دفن ہونا) میں عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجحب دیتی ہوں۔ پھر جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو کہا گیا۔ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (واپس آگئے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر نے فرمایا: م [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39842، ترقيم محمد عوامة 38214)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38215 ترقیم الشثری: -- 39843
٣٩٨٤٣ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن عمرو بن ميمون الاودي ان عمر بن الخطاب لما حضر قال: ادعوا لي عليا وطلحة والزبير (وعثمان) (١) وعبد الرحمن بن عوف وسعدا، قال: فلم يكلم (احدا منهم) (٢) إلا (عليا) (٣) وعثمان، فقال: يا علي! لعل هؤلاء القوم يعرفون (لك) (٤) قرابتك وما آتاك الله من العلم والفقه، (فاتق) (٥) (الله) (٦) ، وإن وليت هذا الامر فلا ترفعن بني فلان على رقاب الناس، وقال لعثمان: يا عثمان إن هؤلاء القوم لعلهم يعرفون لك صهرك من رسول الله ﷺ (وسنك) (٧) وشرفك، فإن انت وليت هذا (الامر) (٨) فاتق الله، (و) (٩) لا ترفع بني فلان على رقاب الناس، فقال: ادعوا لي صهيبا، فقال: صل بالناس (ثلاثا) (١٠) ، وليجتمع هؤلاء الرهط (فليخلوا) (١١) فإن اجمعوا على رجل فاضربوا راس (من) (١٢) خالفهم (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب]: (منهم أحدًا)، وفي [ع]: (أحد).
(٣) في [ع]: (علي).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: (واتق).
(٦) في [ع]: (للَّه).
(٧) في [أ، ب]: (دينك).
(٨) في [ع]: (لأمر).
(٩) سقط من: [ب].
(١٠) في [ع]: (ثلاث).
(١١) في [ي]: بياض.
(١٢) سقط من: [أ، ب].
(١٣) منقطع؛ عمرو بن ميمون لا يروي عن عمر، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٤٠، والخلال في السنة (٣٤٢).

حضرت عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کی موت کا وقت جب قریب ہوا تو آپ نے فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت سعد کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے (ان میں سے) صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان سے گفتگو فرمائی۔ چناچہ آپ نے کہا۔ اے علی رضی اللہ عنہ! شاید یہ لوگ تمہارے بارے میں قرابت (نبوی) کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم اور فقہ عطاء کی ہے اس کو پہچانیں۔ پس تم اللہ سے ڈرنا۔ اور اگر تمہیں اس کا م (خلافت) کی سپردگی ہوجائے تو تم بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا (یعنی برتری نہ دینا) ور حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اے عثمان! شاید یہ لوگ تمہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دامادی کا رشتہ، اور تمہاری عمر اور تمہاری شرافت کو پہچانیں۔ پس اگر تم اس امر (خلافت) کے متولی ٹھہرے تو اللہ سے ڈرنا اور بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ حضرت صہیب کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے (انہیں) کہا۔ تم تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ ان (مذکورہ بالا) افراد کو چاہیے کہ اکٹھے ہوں اور خلوت میں (کوئی فیصلہ) کریں۔ پھر اگر یہ لوگ کسی ایک آدمی پر اکٹھے ہوجائیں تو اس کی مخالفت کرنے والے کا سر مار دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39843، ترقيم محمد عوامة 38215)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38216 ترقیم الشثری: -- 39844
٣٩٨٤٤ - حدثنا ابن إدريس عن (طلحة) (١) بن يحيى عن (عميه) (٢) عيسى بن طلحة وعروة بن الزبير (قالا) (٣) : قال (٤) (عمر: ليصل) (٥) لكم (صهيب) (٦) (ثلاثا) (٧) ، وانظروا (فإن) (٨) كان ذلك وإلا فإن امر (امة) (٩) محمد لا يترك فوق (ثلاث) (١٠) سدى (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: بياض.
(٢) كذا في النسخ، وفي [س]: بياض.
(٣) هكذا في [ق، هـ]: وفي باقي النسخ: (قال).
(٤) في [ي]: زيادة (جاء).
(٥) في [ي]: بياض.
(٦) في [ع]: (صهيبًا).
(٧) في [ي]: بياض.
(٨) في [أ، ب]: (فإذا).
(٩) سقط من: [أ، ب، ص، ط، هـ].
(١٠) في [ي]: بياض.
(١١) منقطع؛ عروة وعيسى لا يرويان عن عمر، وأخرجه ابن شبه في تاريخ المدينة (١٥٧٤).

حضرت عیسیٰ بن طلحہ اور حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا: ت میں صہیب تین دن نماز پڑھائیں۔ اور تم دیکھو اگر تو یہی (خلیفہ منتخب) ہوجائیں تو ٹھیک وگرنہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت تین دن سے زیادہ عبث نہیں چھوڑی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39844، ترقيم محمد عوامة 38216)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38217 ترقیم الشثری: -- 39845
٣٩٨٤٥ - حدثنا ابن [علية عن (سعيد) (١) ] (٢) عن قتادة عن سالم (بن ابي الجعد الغطفاني عن معدان بن ابي طلحة اليعمري) (٣) ان عمر بن الخطاب (قام) (٤) خطيبا يوم جمعة -او خطب يوم جمعة- فحمد الله واثنى عليه، ثم ذكر نبي الله ﷺ وابا بكر. ثم قال: ايها الناس! إني قد رايت رؤيا كان ديكا احمر نقرني نقرتين، ولا ارى ⦗١٦٠⦘ ذلك (إلا لحضور) (٥) (اجلي) (٦) ، وإن الناس (يامرونني) (٧) ان استخلف، وإن الله لم يكن ليضيع دينه وخلافته، والذي بعث (به) (٨) نبيه (٩) ، فإن عجل (بي) (١٠) امر فالخلافة شورى بين هؤلاء الرهط (الستة) (١١) (الذين) (١٢) توفي رسول الله ﷺ وهو عنهم راض، فايهم بايعتم له فاسمعوا له واطيعوا. وقد عرفت ان رجالا (سيطعنون) (١٣) في هذا الامر، وإني قاتلتهم بيدي هذه على الإسلام، فإن فعلوا ذلك فاولئك اعداء الله الكفرة الضلال، إني والله ما ادع بعدي اهم إلي من امر الكلالة، وقد سالت رسول الله ﷺ (١٤) فما اغلظ لي في شيء ما اغلظ لي فيها (حتى) (١٥) طعن بإصبعه في (جنبي) (١٦) او (في) (١٧) صدري، ثم قال:"يا عمر! (تكفيك) (١٨) آية الصيف التي انزلت في آخر النساء"، وإن اعش فساقضي فيها قضية لا يختلف فيها احد يقرا القرآن (او لا يقرا القرآن) (١٩) . ⦗١٦١⦘ ثم قال: اللهم إني اشهدك على امراء الامصار، فإني إنما بعثتهم ليعلموا الناس دينهم وسنة نبيهم (٢٠) ، ويقسموا فيهم فيئهم، ويعدلوا فيهم، فمن اشكل عليه شيء رفعه إلي. ثم قال: ايها الناس! إنكم (٢١) تاكلون شجرتين لا اراهما إلا خبيثتين: هذا الثوم وهذا البصل، لقد كنت ارى الرجل على عهد رسول الله ﷺ يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى (يخرج به) (٢٢) إلى البقيع، (فمن) (٢٣) كان آكلهما (لا بد) (٢٤) (فليمتهما) (٢٥) (طبخا) (٢٦) . قال: فخطب بها عمر يوم الجمعة واصيب يوم الاربعاء لاربع بقين لذي الحجة (٢٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (شعبة).
(٢) ما بين المعكوفين في [ي]: بياض.
(٣) في [ي]: بياض.
(٤) في [ب]: (قال).
(٥) في [ع]: (لا حضور).
(٦) في [ع]: (جلي).
(٧) في [ع]: (يأمروني).
(٨) سقط من: [ب].
(٩) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(١٠) في [ب]: (لي).
(١١) في [ع]: (ستة).
(١٢) في [ع]: (الذي).
(١٣) هكذا في: [ق، هـ]، وفي [جـ]: (يطيعون)، وفي الباقي: (سيطيعون).
(١٤) سقط من: [ع].
(١٥) في [ي]: (حين).
(١٦) في [أ، ب]: (جبيني).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [ع، ي]: (يكفيك).
(١٩) سقط من: [جـ، ي].
(٢٠) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [أ، ب]: زيادة (إلا).
(٢٢) في [أ، ب]: (يخرجه).
(٢٣) في [أ، ب]: (فإن).
(٢٤) في [س]: (فلا بد).
(٢٥) في [جـ]: (فليمتهما).
(٢٦) في [هـ]: (طنجًا).
(٢٧) صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٦٧)، وأحمد (٨٩).

حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے یا آپ نے جمعہ کا خطبہ دیا … پس اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ گویا کہ ایک مرغ تھا اس نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری اور میں اس خواب کو اپنی عمر کے پورا ہونے سے ہی کنایہ دیکھ رہا ہوں اور لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں خلیفہ مقرر کر دوں۔ یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس چیز کو بھی ضائع نہیں کرے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا ہے۔ پس اگر مجھے جلد ہی موت نے آلیا تو پھر خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشاورت کے ساتھ (طے) ہوگی جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضا مندی کے ساتھ رخصت ہوئے۔ ان میں سے جس کی بھی تم بیعت کرلو تو پھر اس کی بات سنو اور مانو۔ یقینا مجھے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ لوگ اس معاملہ میں طعن کریں گے۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن، کافر اور گمراہ ہوں گے۔ ٢۔ میں نے اپنے بعد کلالۃ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ اس (کلالہ) میں فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! تمہیں سورة نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیۃ الصیف کافی ہے۔ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ ٣۔ پھرحضرت عمر نے کہا … اے اللہ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں۔ کیونکہ میں نے انہیں صرف اس لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنَّت سکھائیں۔ اور ان کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انہیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں۔ ٤۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو! تم دو درخت (پیداوار) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث (ناپسندیدہ) ہی خیال کرتا ہوں۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقینا میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بو کو مار ڈالے۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں: پس یہ خطبہ حضرت عمر نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ کو زخمی کردیا گیا۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39845]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39845، ترقيم محمد عوامة 38217)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38218 ترقیم الشثری: -- 39846
٣٩٨٤٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن ابي (جمرة) (١) عن (جارية) (٢) ابن قدامة السعدي قال: حججت العام الذي اصيب فيه عمر، قال: فخطب (٣) فقال: إني رايت (ان) (٤) (ديكا) (٥) نقرني نقرتين او ثلاثا، ثم لم ⦗١٦٢⦘ (تكن) (٦) إلا جمعة او نحوها حتى اصيب، قال: فاذن لاصحاب رسول الله ﷺ، ثم اذن لاهل المدينة، ثم اذن لاهل الشام، ثم اذن لاهل العراق، فكنا آخر من دخل عليه وبطنه معصوب ببرد اسود والدماء تسيل، كلما دخل قوم بكوا واثنوا عليه، فقلنا له: اوصنا -وما ساله الوصية احد غيرنا- فقال: عليكم بكتاب الله، فإنكم لن تضلوا ما اتبعتموه، واوصيكم بالمهاجرين فإن الناس يكثرون ويقلون، واوصيكم بالانصار فإنهم شعب (الإسلام) (٧) الذي لجا إليه، واوصيكم بالاعراب فإنها اصلكم ومادتكم، واوصيكم بذمتكم فإنها ذمة نبيكم (٨) ، ورزق عيالكم، قوموا عني، فما (زادنا) (٩) على هؤلاء الكلمات (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (حمزة).
(٢) في [ع]: (حارثة).
(٣) في [ع]: زيادة (عمر).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) في [ي]: بياض.
(٦) في [ع]: (يك).
(٧) في [أ، ب، هـ]: (الإيمان).
(٨) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٩) في [ع]: (زاذنا).
(١٠) صحيح؛ أخرج بعضه البخاري (٣١٦٢)، وأخرجه أحمد (٣٦٢)، والطيالسي (٦٦)، وابن سعد ٣/ ٣٣٦، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ٩٣٦، والبغوي في الجعديات (١٢٩٠)، وأبو عبيد في الأموال (٥٦٩)، وابن زنجوية (٥١٩)، والبيهقي ٩/ ٢٠٦.

حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں: جس سال حضرت عمر کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا۔ بیان کرتے ہیں کہ … حضرت عمر نے خطبہ دیا اور (اس میں) ارشاد فرمایا۔ میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر پر حملہ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں: پس (پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو اجازت دی گئی۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی۔ پس ہم حضرت عمر کی خد مت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ کی تعریف کرتے۔ ہم نے آپ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں۔ اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ سے وصیت کرنے کا سوال نہیں کیا … چناچہ حضرت عمر نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور (یہ) کم ہوں گے۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھاٹی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39846، ترقيم محمد عوامة 38218)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38219 ترقیم الشثری: -- 39847
٣٩٨٤٧ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن ابي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: لما طعن عمر ماج الناس بعضهم في بعض، حتى كادت الشمس ان تطلع، فنادى مناد الصلاة، فقدموا عبد الرحمن بن عوف فصلى بهم، فقرا باقصر سورتين في القرآن ﴿إنا اعطيناك الكوثر﴾ [الكوثر: ١] ﴿إذا جاء نصر الله والفتح (٢)[النصر: ١] ، فلما اصبح دخل عليه الطبيب، وجرحه يسيل دما، فقال: اي الشراب احب إليك؟ قال: النبيذ، فدعا بنبيذ فشربه فخرج من جرحه، (فقال: هذا صديد، ائتوني بلبن ⦗١٦٣⦘ (فاتي بلبن) (٣) فشرب فخرج من جرحه) (٤) ، فقال له الطبيب: اوصه فإني لا اظنك إلا ميتا من يومك او من غد (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الأخوص).
(٢) في [أ، ب]: زيادة ﴿وَالْفَتْحُ﴾.
(٣) سقط من: [جـ، ق].
(٤) سقط من: [ب، هـ].
(٥) منقطع؛ رواية عمرو بن ميمون عن عمر مرسلة؛ والحديث أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٤٠، والطحاوي ٤/ ١٨، واللالكائي (٢٦٥٣)، وابن أبي داود في المصاحف (٥٥٩)، والبيهقي ٢/ ٣٩٠، وابن عبد البر في الاستيعاب ٣/ ١٥٣، والحارث (٥٩٤/ بغية)، وابن النحاس في الناسخ ١/ ١٧٥، والخطيب ٦/ ٥٦، وأبو نعيم ٤/ ١٥٦، وابن شبه (١٥١٧).

حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو سب لوگ مضطرب ہوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا۔ تو ایک آواز دینے والے نے ندا دی۔ نماز! چناچہ لوگوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کو آگے کردیا۔ پس انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور قرآن مجید کی دو مختصر سورتیں یعنی {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ } اور {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ } کو پڑھا۔ پھر جب دن نکل آیا تو ایک طبیب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عمر کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ طبیب نے پوچھا۔ آپ کو کون سا مشروب پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: نبیذ چناچہ نبیذ منگوایا اور اس کو حضرت عمر نے پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل آیا۔ آپ نے فرمایا۔ یہ خون ملی پیپ ہے۔ تم میرے پاس دودھ لاؤ۔ چناچہ دودھ لایا گیا آپ نے دودھ نوش فرمایا تو وہ بھی زخموں سے باہر نکل آیا۔ اس پر طبیب نے آپ سے کہا۔ کوئی وصیت کرلو۔ کیونکہ میرے خیال میں آپ ایک یا دو دن میں فوت ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39847]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39847، ترقيم محمد عوامة 38219)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38220 ترقیم الشثری: -- 39848
٣٩٨٤٨ - حدثنا إسحاق الرازي عن ابي سنان عن عطاء بن السائب عن (عامر) (١) قال: [ (حلف) (٢) بالله] (٣) لقد طعن عمر وإنه لفي النحل يقرؤها (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (عامره).
(٢) في [أ، ق، هـ]: (أخلف).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٤) ضعيف؛ عطاء اختلط.

حضرت عامر سے روایت ہے۔ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تحقیق حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا تو وہ اس وقت سورة نحل کی قراءت کر رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39848]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39848، ترقيم محمد عوامة 38220)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں