مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38443 ترقیم الشثری: -- 40071
٤٠٠٧١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني ابو حيان عن ابي زرعة قال: جلس ثلاثة نفر من المسلمين إلى مروان بن الحكم فسمعوه يحدث عن الآيات: (ان) (١) اولها خروج الدجال، فانصرف النفر إلى عبد الله بن (عمرو) (٢) فحدثوه بالذي سمعوه من مروان بن الحكم في الآيات ان اولها خروج الدجال، فقال عبد الله: لم يقل مروان شيئا، قد حفظت من رسول الله ﷺ حديثا لم انسه بعد (٣) (سمعت رسول الله ﷺ يقول) (٤) :"إن اول الآيات خروجا: طلوع الشمس من مغربها او خروج الدابة على الناس ضحى، وايتهما ما كانت قبل صاحبتها فالاخرى على اثرها قريبا"، ثم قال عبد الله: وكان يقرا الكتب: واظن اولهما خروجا طلوع الشمس من مغربها، وذاك انها كما غربت اتت تحت العرش فسجدت فاستاذنت في الرجوع فاذن لها (في الرجوع) (٥) ، حتى إذا شاء الله ان ⦗٢٥٢⦘ تطلع من مغربها اتت تحت العرش فسجدت واستاذنت (فلم يرد عليها بشيء) (٦) ، ثم تعود فتستاذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، ثم تعود فتستاذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، حتى إذا ذهب من الليل ما شاء الله ان يذهب، وعرفت انها لو اذن لها لم تدرك المشرق قالت: رب ما ابعد المشرق؟ (٧) من لي بالناس، حتى إذا اضاء الافق كانه طرق استاذنت في الرجوع، قيل لها: مكانك فاطلعي، فطلعت على الناس من مغربها، ثم تلا عبد الله هذه الآية (وذلك) (٨) ﴿يوم ياتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل او كسبت في إيمانها خيرا﴾ [الانعام: ١٥٨] (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (عمر).
(٣) في [هـ]: زيادة (ما).
(٤) في [ع]: (سمعته يقول).
(٥) في [أ، ب]: (بالرجوع).
(٦) في [أ، ب]: (ولم يرد عليها)
(٧) في [ط، هـ]: زيادة (قالت).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٨٨١) كاملًا، وأخرج مسلم (٢٩٤١) المرفوع منه فقط.
حضرت ابو زرعہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تین آدمی مسلمانوں میں سے مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے ان سے سنا نشانیوں کے متعلق بیان کر رہے تھے کہ نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور جو مروان بن حکم سے نشانیوں سے متعلق سنا تھا وہ حضرت عبداللہ سے بیان کیا کہ پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا مروان نے کوئی بات بیان نہیں کی میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی نشانی نشانیوں میں سے نکلنے میں سورج کا طلوع ہونا ہے مغرب سے یا جانور کا نکلنا ہے لوگوں پر چاشت کے وقت اور ان دونوں نشانیوں میں سے جو بھی دوسری نشانی سے پہلے ہوگی دوسری اس کے پیچھے قریب ہی واقع ہوجائے گی پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا وہ کتابیں پڑھتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ ان دونوں نشانیوں سے پہلی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ جب بھی وہ غروب ہوتا ہے عرش کے نیچے آتا ہے اور دوبارہ طلوع کی اجازت چاہتا ہے اسے دوبارہ طلوع کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ ریز ہوگا واپسی کی اجازت چاہے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیاجائے گا یہاں تک جب رات کا جتنا حصہ اللہ چاہیں گے گزر جائے گا اور سورج یہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت دی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا اے میرے رب مشرق کتنی ہی دور ہے سورج عرض کرے گا اے میرے رب کون ہے میرے لیے لوگوں میں سے یہاں تک کہ جب افق روشن ہوگا گویا کہ طوق ہے واپسی کی اجازت چاہے گا اس سے کہا جائے گا تم پر لازم ہے تمہارا مقام طلوع ہو پس وہ طلوع ہوگا لوگوں پر مغرب سے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی آئیگی اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان کار آمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40071]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40071، ترقيم محمد عوامة 38443)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40071 in Urdu