🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38476 ترقیم الشثری: -- 40104
٤٠١٠٤ - حدثنا ابو معاوية عن (الاعمش) (١) عن حبيب عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل قال: خطبهم معاوية فقال: يا ايها الناس إنكم جئتم فبايعتموني طائعين، ولو بايعتم عبدا حبشيا (مجدعا لجئت) (٣) حتى ابايعه معكم، فلما نزل عن المنبر قال له (عمرو) (٤) بن العاص: تدري اي شيء (جئت) (٥) به اليوم؟ زعمت ان الناس بايعوك طائعين، ولو بايعوا عبدا حبشيا (مجدعا) (٦) لجئت (٧) حتى تبايعه معهم، قال: فندم فعاد إلى المنبر فقال: ايها الناس! وهل كان احد احق بهذا الامر مني؟ وهل هو احد احق بهذا الامر مني؟ قال: وابن عمر جالس، قال: فقال ابن عمر: هممت ان اقول: احق بهذا الامر منك من ضربك واباك عن الإسلام؟ ثم خفت (ان تكون) (٨) كلمتي فسادا؛ وذكرت ما اعد الله في الجنان، فهون علي ما اقول (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب، هـ]: (هذيل).
(٣) في [أ، ب]: تقديم وتأخير (لجئت مجدعًا).
(٤) في [أ، ب]: (عمر).
(٥) في [أ، ب، ع]: (جيت).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [أ، ب]: زيادة (طايعًا).
(٨) سقط من: [ع]، وفي [أ، ب]: (يكون).
(٩) منقطع؛ هزيل لم يدرك ذلك، وورد من طريق حبيب عن ابن عمر، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٨٢، ومن طريق جبلة بن سحيم عن ابن عمر عند ابن عساكر ٣١/ ١٨٢.

حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! بلاشبہ تم آئے ہو تم نے میری بیعت خوشی سے کی ہے اور اگر تم کان کٹے ہوئے حبشی غلام کی بیعت کرتے تو میں آتا اور تمہارے ساتھ اس کی بیعت کرتا جب منبر سے نیچے اتر آئے ان سے حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے آج کیا کام کیا ہے آپ نے کہا ہے کہ تم نے خوشی سے میری بیعت کی ہے۔ پس اگر وہ حبشی غلام کی بیعت کرتے تو وہ آجائے گا اور آپ کو اس کی بیعت کرنی پڑے گی۔ وہ نادم ہوئے اور منبر کی جانب لوٹے اور ارشاد فرمایا اے لوگو کیا اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے اور کیا کوئی اس کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے راوی نے فرمایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف فرما تھے راوی نے بتلایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے یہ ارادہ کیا کہ یوں کہوں اس امر کا آپ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو اسلام پر مارا پھر مجھے خوف ہوا کہ میری یہ بات فساد ہوگی اور میں نے جنت میں جو اللہ نے تیار کر رکھا ہے اسے یاد کیا تو جو میں کہنا چاہتا تھا (اس سے رکنا) مجھ پر آسان ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40104، ترقيم محمد عوامة 38476)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40104 in Urdu