🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38503 ترقیم الشثری: -- 40131
٤٠١٣١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابو شهاب عن الحسن بن عمرو (الفقيمي) (١) عن منذر الثوري عن (سعد) (٢) بن حذيفة قال: لما (تحسر) (٣) الناس سعيد بن العاص كتبوا بينهم كتابا ان لا يستعمل عليهم إلا رجلا يرضونه لانفسهم ودينهم، فبينما هم كذلك إذ قدم حذيفة من المدائن فاتوه بكتابهم فقالوا: يا ابا ⦗٢٧٦⦘ عبد الله (صنعنا) (٤) بهذا الرجل ما قد بلغك، ثم كتبنا هذا الكتاب واحببنا (٥) ان لا نقطع امرا دونك، (فنظر) (٦) في كتابهم وضحك وقال: والله ما ادري اي الامرين اردتم؟ اردتم ان تتولوا سلطان قوم ليس لكم؟ (اردتم) (٧) ان تردوا هذه الفتنة حيث (اطلعت) (٨) خطامها (واستوت) (٩) ، إنها (لمرسلة) (١٠) من الله في الارض ترتعي حتى تطا على خطامها، لن (يستطيع) (١١) احد من الناس لها (ردا) (١٢) ، وليس احد من الناس يقاتل فيها إلا قتل حتى (يبعث) (١٣) الله (قزعا كقزع) (١٤) الخريف يكون (بهم بينهم) (١٥) (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (القمقمي).
(٢) في [جـ]: (سعيد).
(٣) في [س، ع]: (نحس).
(٤) في [س]: (ضعنا).
(٥) في [هـ]: زيادة (و).
(٦) في [ب]: (ونظر).
(٧) في [س]: تكرر.
(٨) في [ط، هـ]: (اطلقت).
(٩) في [س]: (وشوت).
(١٠) في [س]: (لمرحلة).
(١١) في [أ، ب]: (تستطيع).
(١٢) في [أ، ب]: (زاد).
(١٣) في [أ، س]: (بعث).
(١٤) في [س]: (قرعًا كقراع).
(١٥) سقط من: [س].
(١٦) حسن؛ سعد بن حذيفة صدوق، وأخرجه الحاكم ٤/ ٥٠٣.

حضرت سعد بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جب لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو معزول کرنے پر موافقت کرلی تو آپس میں انہوں نے ایک تحریر لکھی کہ ان پر عامل نہیں بنایا جائے گا مگر وہ آدمی جس پر وہ اپنے لیے اور اپنے دین کے لیے راضی ہوں گے وہ لوگ اسی حالت پر تھے اچانک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن سے تشریف لائے اپنی تحریر لے کر ان کے پاس گئے اے ابو عبداللہ ہم نے اس آدمی کے ساتھ وہ معاملہ کیا ہے ہے جو آپ کو پہنچا ہے پھر ہم نے یہ تحریر لکھی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بغیر ہم کسی امر کا یقینی فیصلہ نہ کریں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تحریر کو دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں دونوں امروں میں سے کس کا تم نے ارادہ کیا ہے ایسے لوگوں کی ولایت کا ارادہ کیا ہے جو تمہارے فائدے کے لیے نہیں ہے یا تم نے ارادہ کیا ہے اس فتنے کو لوٹا نے کا اس مقام کی طرف جہاں یہ بےمہار ہوجائے گا اور مضبوط ہوجائے گا۔ بلاشبہ یہ فتنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر بھیجا جاتا ہے چرتا ہے یہاں تک اپنی لگام کو روندتا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا لوگوں میں سے کوئی بھی اس میں قتال نہیں کرتا مگر قتل کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بدلی بھیجتے ہیں موسم خزاں کے بادلوں کی طرح وہ قتال انہی کے درمیان ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40131، ترقيم محمد عوامة 38503)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40131 in Urdu