🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38512 ترقیم الشثری: -- 40140
٤٠١٤٠ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا زهير قال: حدثنا ابو روق الهمذاني قال: حدثنا (ابو الغريف) (١) قال: كنا مقدمة (الحسن) (٢) بن علي اثني عشر الفا بمسكن مستميتين تقطر سيوفنا من (الجد) (٣) على قتال اهل الشام وعلينا ابو (العمرطة) (٤) ، قال: فلما (اتانا) (٥) صلح (الحسن) (٦) بن علي [ومعاوية كانما كسرت ظهورنا من (الحزن والغيظ) (٧) قال: فلما قدم الحسن بن علي] (٨) الكوفة قام إليه رجل منا يكنى ابا عامر فقال: السلام عليك يا مذل المؤمنين، فقال: ⦗٢٨٠⦘ لا (تقل) (٩) ذاك يا ابا عامر، (ولكني) (١٠) كرهت (ان اقتلهم) (١١) طلب الملك -او على الملك (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الفريق).
(٢) في [س]: (الجيش)، وفي [ط]: (الحسين).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط]: (الحد).
(٤) في [هـ]: (العمرو).
(٥) في [أ]: (لتنا).
(٦) في [جـ]: (الحسين).
(٧) في [جـ]: (الغيظ والحسن).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [ط، هـ]: (تقتل).
(١٠) في [جـ، س، ع]: (ولكن).
(١١) في [أ]: (أنا قتلهم)، وفي [ب]: (أن قتلهم).
(١٢) حسن؛ أبو الغريف صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ١٧٥، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٢٦، والمزي في تهذيب الكمال ٦/ ٢٥٠، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٣٠٥، وابن عساكر ١٣/ ٢٧٩، وابن عبد البر في الاستذكار ١/ ٣٨٦.

حضرت ابو غریف سے روایت ہے کہ ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے مقدمۃ الجیش میں بارہ ہزار کی مقدار میں مقام مسکن میں تھے اس حال میں کہ موت کے متمنی تھے ہماری تلواروں سے اہل شام کے ساتھ سخت لڑائی کی وجہ سے (خون کے) قطرات ٹپک رہے تھے ہم پر ابو عمرطہ امیر تھے ابو غریف فرماتے ہیں جب ہمارے پاس حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح کی خبر پہنچی تو اس خبر پر غم اور غصے سے گویا ہماری کمریں ٹوٹ گئیں ابو غریف راوی نے فرمایا جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو ہم میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابو عامر تھی کھڑا ہوا اور کہنے لگا السلام علیک اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عامر یہ بات نہ کرو لیکن میں نے ناپسند سمجھا تھا اس بات کو کہ میں ان کو ملک کی طلب میں قتل کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40140]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40140، ترقيم محمد عوامة 38512)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40140 in Urdu