🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38526 ترقیم الشثری: -- 40154
٤٠١٥٤ - حدثنا وكيع عن ابي عاصم الثقفي عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: جاءنا قتل عثمان وانا اؤنس من نفسي شبابا وقوة ولو قتلت القتال، فخرجت احضر الناس حتى إذا كنت بالربذة إذا علي بها، فصلى بهم العصر، فلما سلم اسند ظهره في مسجدها واستقبل القوم، قال: فقام إليه الحسن بن علي يكلمه (وهو) (١) يبكي، (٢) فقال (له) (٣) علي: تكلم ولا تحن حنين الجارية، قال: امرتك حين (حصر) (٤) الناس هذا الرجل ان تاتي مكة فتقيم بها فعصيتني، ثم امرتك حين قتل ان تلزم بيتك حتى ترجع إلى العرب (غوارب) (٥) احلامها، فلو كنت في جحر ضب لضربوا إليك اباط الإبل، حتى يستخرجوك من جحرك فعصيتني، و (انا) (٦) انشدك بالله ان تاتي العراق فتقتل بحال مضيعة، قال: فقال علي: اما قولك: آتي مكة، فلم اكن بالرجل الذي تستحل لي مكة، واما قولك: قتل الناس عثمان، فما ذنبي إن كان الناس قتلوه، واما قولك: آتي العراق، فاكون كالضبع (تستمع اللدم) (٧) (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: زيادة (قال).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ، ب، س، ع]: (حضر).
(٥) في [أ، ب، جـ، س]: (عوازب).
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) في [أ، ب، جـ، س]: (نسمع أن)، قال في جمهرة الأمثال ٢/ ٤٠٤: "قولهم: لا أكون كالضبع تسمع اللدم حتى تصاد، أي: أغفل عما يجب له التيقظ، اللدم: الضرب باليد، وإذا ضرب على وجار الضبع باليد لبدت بالأرض فتؤخذ).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٧/ ٣٩٥، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٤٢، وابن عساكر ٤٢/ ٤٥٦، وابن شبه (٢٢٣٦)، وابن الجوزي في المنتظم ٥/ ٨٢، وابن جرير في التاريخ ٣/ ١٠، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٤٣٦.

حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی اور میں اپنے آپ میں جوانی اور قوت کو پہچان رہا تھا اگر میں لڑائی کرتا میں نکلا لوگوں کے ساتھ حاضر تھا جب ہم مقام ربذہ پر پہنچے وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا لوگوں کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ان سے روتے ہوئے بات کرنے لگے انہوں نے فرمایا بات کرو اور لڑکی کے رونے کی طرح نہ رو۔ حضرت حسن نے فرمایا میں نے آپ سے کہا تھا جب لوگوں نے اس آدمی کا محاصرہ کیا تھا کہ آپ مکہ جا کر وہاں اقامت اختیار کریں آپ نے میری بات نہ مانی پھر جب انہیں شہید کیا گیا میں نے آپ سے کہا تھا اپنے گھر میں رہیں۔ یہاں تک عرب کی عقل مندی واپس آجائے پس اگر آپ گوہ کی بل میں ہوئے تو وہ آپ کو اونٹ کے پہلوں مارتے یہاں تک آپ کو اس بل سے نکالتے آپ نے میری بات نہ مانی اور میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ عراق نہ جائیں کہیں بےتوجہی کی حالت میں آپ کو قتل کردیا جائے راوی نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا باقی رہی تمہاری بات کہ میں مکہ جاتا تو میں اس آدمی کے پاس نہیں گیا جو میرے لیے مکہ کو قتال کے لیے حلال کرتا اور تیری یہ بات کہ لوگوں نے عثمان کو شہید کردیا تو میرا کیا گناہ ہے اگر لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عراق نہ جاتا (مدینہ اگر رہتا تو) تو میں اس گوہ کی طرح ہوتا جو (بل میں رہ کر) آواز کو سنتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40154]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40154، ترقيم محمد عوامة 38526)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40154 in Urdu