مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38584 ترقیم الشثری: -- 40213
٤٠٢١٣ - حدثنا (يعمر) (١) بن بشر قال: حدثنا ابن مبارك قال: اخبرنا معمر عن إسحاق بن راشد عن عمرو بن وابصة الاسدي عن ابيه قال: إني بالكوفة في داري إذ سمعت على باب الدار: السلام عليكم (ا) (٢) الج؟ فقلت: وعليكم السلام، فلج، فإذا هو عبد الله بن مسعود فقلت: يا (ابا) (٣) عبد الرحمن! آية ساعة (زيارة؟) (٤) وذلك في نحر الظهيرة، قال: طال علي النهار فتذكرت من اتحدث إليه، فجعل يحدثني ⦗٣٠٨⦘ عن رسول الله ﷺ واحدثه، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تكون فتنة: النائم فيها خير من المضطجع، والمضطجع خير من القاعد، والقاعد خير (من القائم، والقائم خير) (٥) من الماشي، والماشي خير من الساعي، قتلاها كلها في النار"، قال: قلت: (ومتى) (٦) ذاك يا رسول الله؟ قال."ذاك ايام الهرج"، قلت: ومتى ايام الهرج؟ قال:"حين لا (يامن) (٧) الرجل جليسه"، (قال) (٨) : قلت: فبم تامرني (إن) (٩) ادركت ذلك؟ قال:" (ادخل) (١٠) بيتك"، قلت: افرايت إن دخل علي؟ قال:" (فوال) (١١) مخدعك"، قال: قلت: افرايت إن دخل علي؟ قال:"قل هكذا، وقل (بؤ) (١٢) بإثمي وإثمك، وكلن عبد الله المقتول" (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (معتمر).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: (زباءة).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [أ، ب، ع]: (وما نا).
(٧) في [ط، هـ]: (نأمن).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) في [أ، ب]: (إذا).
(١٠) في [أ، ب]: (دخلت).
(١١) سقط من [أ، ب]، وفي [ع]: (فوالي)، وفي [هـ]: (فأدخل).
(١٢) في [هـ]: (أبؤ).
(١٣) مجهول؛ لجهالة عمرو بن وابصة، والخبر أخرجه أحمد (٤٢٨٦)، وأبو داود (٤٢٥٨)، والحاكم ٣/ ٣٢، وعبد الرزاق (٢٠٧٢٧)، والطبراني (٩٧٧٤)، وابن المبارك في المسند (٢٦٢)، والبزار (١٤٤٤)، والمزي ٢٣/ ٤٠٧، وابن عساكر ٦٢/ ٣٣٦، والخطابي في العزلة ص ١١، والحربي في غريب الحديث ١/ ١٣٢.
حضرت وابصہ اسدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا اچانک میں نے اپنے دروازے پر یہ بات سنی السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤ میں نے کہا وعلیکم السلام داخل ہوجاؤ پس وہ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمان! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے یہ عین دوپہر کی بات تھی انہوں نے فرمایا دن مجھ پر لمبا ہوگیا تھا میں نے سوچا کہ کسی سے بات چیت کروں پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں بھی ان کو احادیث سنانے لگا حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا اس میں سونے والا اس میں پہلو کے بل لیٹنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں لیٹنے والا بھنے ا والے سے بہتر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس فتنے میں مارے جانے والے سارے جہنم میں جائیں گے راوی حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا یہ کب ہوگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ارشاد فرمایا یہ ہرج کے ایام میں ہوگا میں نے عرض کیا یہ ایام ہرج کب ہوں گے انہوں نے فرمایا جب کسی آدمی کو اپنے ہمنشین سے امن نہیں ہوگا حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر میں یہ زمانہ پالوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا میں نے عرض کیا اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوجائے تو آپ کی کیا رائے ہے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنی کوٹھڑی میں گھس جا میں نے کہا اگر وہ وہاں بھی داخل ہوجائے تو آپ کا کیا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کرنا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا تھا جس کی تفصیل مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے کہ راوی نے دائیں ہاتھ سے کلائی کی ہڈی کو پکڑ کر اشارے کی تفصیل کی) اور کہنا میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹ اور اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40213، ترقيم محمد عوامة 38584)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40213 in Urdu