🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38837 ترقیم الشثری: -- 40477
٤٠٤٧٧ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا شيبان عن الاعمش عن إسماعيل بن رجاء عن صخر بن الوليد عن (جزي) (١) بن بكير العبسي قال: جاء حذيفة إلى عثمان ليودعه او يسلم عليه، فلما ادبر قال: ردوه، فلما جاء قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال: والله (ما ابغضتك) (٢) منذ احببتك، ولا غششتك ⦗٤١٩⦘ منذ نصحت (لك) (٣) ، قال: انت اصدق منهم وابر، انطلق، فلما ادبر قال: ردوه [قال: ما بلغني عنك بظهر الغيب؟ فقال حذيفة بيده هكذا: ما بلغني عنك بظهر الغيب، اجل (والله لتخرجن إخراج الثور) (٤) ] (٥) ثم (لتذبحن) (٦) ذبح الجمل، (قال) (٧) : [فاخذه من ذلك افكل (٨) ، فارسل إلى معاوية فجيئ به يدفع، قال: هل تدري ما قال حذيفة؟ والله [لتخرجن إخراج الثور ولتذبحن ذبح الجمل، فقال (ادفنها (ادفنها) ) (٩) (١٠) ] (١١) (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (جرير)، وفي [هـ]: (جزء)، وفي [ع]: (حربي)، وانظر: التاريخ الكبير ٢/ ٢٥٠، وتوضيح المشتبه ٢/ ٣٠٥، وضعفاء العقيلي ١/ ٢٠١، وتصحيفات المحدثين ٢/ ٧٥٢.
(٢) في [س]: (ما أبغضك).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [جـ]: (وإنه خرجن إخراج الثور).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (لتذبحوا).
(٧) في [جـ]: (فقال).
(٨) أي: رعدة من برد أو خوف، انظر: جمهرة اللغة ٢/ ٩٦٨ تاج العروس ٣/ ١٨٨، والنهاية ١/ ٥٦.
(٩) في [هـ]: (لعثمان).
(١٠) سقط من: [جـ]، وفي [أ، هـ]: (أولها)، وفي [ب، س]: (أوتها).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٢) ضعيف جدًّا؛ جزي متروك، وأخرجه ابن شبه (١٨٩٦)، وورد خبر آخر بنحوه أخرجه يعقوب في المعرفة ٣/ ٨٤، والعقيلي ١/ ٢٠١.

جزی بن بکیر عبسی سے منقول ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس آئے تا کہ ان کو الوداع کریں یا سلام کریں۔ جب وہاں سے پیٹھ پھیر کر واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا ان کو واپس لاؤ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جب سے میں نے بیعت کی ہے کبھی آپ سے بغض نہیں رکھا اور جب سے آپ کی خیر خواہی کی اس کے بعد نہ ہی میں نے اپنے دل میں کینہ رکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا آپ ا ن سے زیادہ سچے اور نیک ہیں آپ جائیں پس جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے پھر حضرت عثمان نے فرمایا وہ کیا بات ہے جو آپ کی طرف سے مجھے پہنچی؟ پھر فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم ضرور بیل کی طرح نکال دیے جاؤ گے اور اونٹ کی طرح ذبح کیے جاؤ گے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان پر کپکپی طاری ہوگئی پھر انہوں نے معاویہ کو بلایا پس حضرت معاویہ کو لایا گیا تا کہ اس کا کچھ ازالہ کیا جاسکے۔ حضرت عثمان نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا کہ تم کو بیل کی طرح نکالا جائے گا اور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ اس بات کو دفن کردیجیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40477]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40477، ترقيم محمد عوامة 38837)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40477 in Urdu