مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
ترقیم عوامۃ: 38809 ترقیم الشثری: -- 40448
٤٠٤٤٨ - قال: وحدثنا ابو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) علية عن ابن عون عن الحسن قال: انباني وثاب وكان فيمن ادركه عتق امير المؤمنين عمر، فكان يكون بين يدي عثمان، قال: فرايت (في) (٢) حلقه طعنتين كانهما كيتان طعنهما يوم الدار (دار) (٣) عثمان، قال: بعثني امير المؤمنين عثمان فقال: ادع الاشتر، فجاء -قال ابن عون: اظنه قال: فطرحت لامير المؤمنين وسادة، (وله وسادة) (٤) فقال: يا اشتر، ما (يريد) (٥) الناس مني؟ قال: ثلاث ليس من إحداهن بد، يخيرونك (بين) (٦) ان تخلع لهم امرهم، فتقول: هذا امركم، فاختاروا له من شئتم، وبين ان (تقص) (٧) من نفسك، فإن ابيت ⦗٤٠٥⦘ هاتين فإن القوم قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، فقال: [اما ان اخلع لهم امرهم فما كنت لاخلع لهم سربالا سربلنيه الله ابدا (٨) . - قال ابن عون: وقال غير الحسن: لان اقدم فتضرب عنقي احب إلي من ان اخلع امة محمد بعضها على بعض (٩) ، (و) (١٠) قال ابن عون: وهذه اشبه بكلامه. - (واما) (١١) ان (اقص) (١٢) لهم من نفسي، فوالله لقد علمت ان صاحبي بين يدي كانا (يقصان) (١٣) من انفسهما وما (يقوم) (١٤) بدني بالقصاص، وإما (ان) (١٥) (يقتلوني) (١٦) فوالله لئن قتلوني لا (يتحابون) (١٧) بعدي ابدا، ولا يقاتلون بعدي جميعا عدوا ابدا؛ فقام الاشتر فانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس؛ ثم جاء (رويجل) (١٨) كانه (ذئب) (١٩) ، فاطلع من الباب ثم رجع، ثم جاء محمد بن ابي بكر في ثلاثة عشر رجلا حتى انتهى إلى عثمان فاخذ بلحيته فقال (بها) (٢٠) حتى سمعت وقع اضراسه وقال: ما اغنى عنك معاوية، ما اغنى عنك ابن عامر، ما اغنت عنك ⦗٤٠٦⦘ كتبك، فقال: ارسل (لي) (٢١) لحيتي يا ابن اخي، ارسل لي لحيتي يا ابن اخي، قال: فانا رايته استعدى رجلا من القوم بعينه فقام إليه بمشقص حتى وجا به في راسه فاثبته ثم مر، قال: ثم دخلوا عليه -والله- حتى قتلوه (٢٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أبو).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [ط، هـ]، وفي [ب]: (له وسادة).
(٥) في [ع]: (تريد).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ، س]، وتقدم في المغازي بإثباتها.
(٧) في [س]: (نقص).
(٨) مجهول لجهالة وثاب، أخرجه الطبراني (١١٦)، وابن سعد ٣/ ٧٢، وخليفة بن خياط ١/ ١٧٠، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٤، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٤.
(٩) منقطع؛ فيه جهالة، لم يبين ابن عون شيخه.
(١٠) سقط من: [جـ].
(١١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (لا).
(١٢) في [أ، ب]: (أقض).
(١٣) في [أ، ب]: (يقضان).
(١٤) في [س]: (تقوم)، وفي [ع]: (يقوى).
(١٥) في [س]: مكررة.
(١٦) في [ب]: (تقتلوني).
(١٧) في [أ، ب، هـ]: (يتحاربون).
(١٨) في [س]: (ويجل).
(١٩) في [ب]: (فوثب)، وفي [ق]: (ذؤيب).
(٢٠) سقط من: [أ، ب].
(٢١) سقط من: [أ، ب].
(٢٢) مجهول؛ لجهالة وثاب، أخرجه الطبراني (١١٦)، وابن سعد ٣/ ٧٢، وخليفة بن خياط ١/ ١٧٠، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٤، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٤.
حضرت وثاب سے روایت ہے جن کو امیر المؤمنین عمر نے آزاد کیا تھا وہ حضرت عثمان کے سامنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان کے حلق میں دو نیزے دیکھے جیسا کہ دو داغنے کی جگہ میں داغنے کے آلے ہوتے ہیں جو حضرت عثمان کو ان کے گھر میں مارے گئے وہ کہتے ہیں (راوی وثاب) کہ مجھے امیرامؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا کہ میرے لیے اشتر کو بلا کر لاؤ پس وہ آیا اور حضرت عثمان اور اس أشتر کے لیے ایک تکیہ رکھا گیا حضرت عثمان نے پوچھا اے أشتر لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ تین باتوں میں سے کسی کے (اختیار کیے بغیر چارہ) نہیں ایک وہ آپ کو اختیار دیتے ہیں اس بات میں کہ آپ ان کے لیے خلافت کے امر کو چھوڑ دیں اور ان سے کہہ دیں کہ یہ تمہارا امر خلافت ہے اس کے لیے جس کو چاہتے ہو چن لو اور اس کے درمیان کہ آپ اپنی ذات کو قصاص کے لیے پیش کردیں پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو بلاشبہ یہ لوگ آپ سے قتال کریں گے حضرت عثمان نے فرمایا کہ کیا ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر چارہ نہیں ہے تو اس نے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے پس حضرت عثمان نے فرمایا کہ باقی رہی یہ بات کہ میں ان کے لیے ان کے امر خلافت سے الگ ہوجاؤں تو کبھی اس قمیص کو نہیں اتاروں گا جسے اللہ رب العزت نے مجھے ہمیشہ کے لیے پہنایا ہے ابن عون راوی کہتے ہیں کہ حسن کے علاوہ دوسرے راویوں نے یوں نقل کیا ہے کہ یوں فرمایا کہ میں آگے بڑھوں اور میری گردن ماردی جائے یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دوسرے سے لڑائی کرتا ہوا چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ یہ ان کے کلام کے زیادہ قریب ہے۔ اور باقی رہی یہ بات کہ میں اپنی ذات کو ان کے سامنے قصاص کے لیے پیش کروں تو یقینا میں جانتا ہوں کہ مر سے دو ساتھی میرے سامنے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے اور میرا بدن قصاص کے قابل نہیں اور اگر وہ مجھے قتل کردیں تو اللہ کی قسم اگر انہوں نے مجھے قتل کردیا تو میرے بعد کبھی بھی وہ آپس میں محبت نہیں کریں گے اور میرے بعد وہ اکٹھے کبھی بھی کسی دشمن سے قتال نہیں کرسکیں گے پس أشتر کھڑا ہوا اور چلا گیا ہم تھوڑی دیر ٹھہرے ہم نے کہا شاید کہ لوگ ہیں پھر رو یحل آیا گویا کہ وہ بھیڑیا ہے اس نے درازے سے جھانکا پھر لوٹ گیا پھر محمد بن ابی بکر آئے تیرہ آدمیوں میں یہاں تک کہ حضرت عثمان تک پہنچے اور ان کی داڑھی کو پکڑا اور اسے کھینچا یہاں تک کہ میں نے ان کی داڑھیں گرنے کی آواز سنی اور کہا نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں معاویہ نے اور نہیں فائدہ پہنچایا تمہیں ابن عامر نے اور نہ فائدہ دیا تمہیں تمہارے لشکر نے انہوں نے فرمایا کہ میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے اے بھتیجے راوی نے فرمایا کہ محمد بن ابوبکر کی طرف انہوں نے دیکھا کہ اپنے مدد کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی سے مدد طلب کر رہے تھے وہ آدمی ان کی طرف نیزہ کا پھل لے کر کھڑا ہوا یہاں تک کہ اسے ان کے سر میں مار دیا پس اسے ٹھہرا دیا فرمایا پھر کیا ہوا فرمایا پھر وہ داخل ہوئے اور اللہ کی قسم انہوں نے ان کو شہید کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40448، ترقيم محمد عوامة 38809)
ترقیم عوامۃ: 38810 ترقیم الشثری: -- 40449
٤٠٤٤٩ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا معاوية بن صالح قال: وحدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي قال: حدثنا عبد الله بن قيس انه سمع النعمان بن بشير عن عائشة انها قالت: الا احدثك بحديث سمعته من رسول الله ﷺ: إنه بعث إلى عثمان فدعاه فاقبل إليه فسمعته يقول:"يا عثمان! إن الله لعله يقمصك قميصا، فإن ارادوك على خلعه فلا تخلعه" -ثلاثا، فقلت: يا ام المؤمنين! اين كنت عن هذا الحديث قالت: انسيته كاني لم اسمعه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) معلول؛ وهم فيه معاوية فقال: عبد اللَّه بن قيس، أخرجه ابن حبان (٦٩١٥)، والطيالسي (١٥٤٤)، وابن سعد ١/ ٤٦٨، والخلال في السنة (٤١٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٢)، وقد خالفه بقية الرواة فقالوا: عبد اللَّه بن عامر، وهو اليحصبي ثقة، أخرجه أحمد (٢٤٥٦٦)، والترمذي (٣٧٠٥)، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ١٠٦٩، والطبراني في الشاميين (١٩٣٤)، وأخرجه بنحوه الحاكم ٣/ ٩٩، وابن ماجه (١١٢).
حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کو بلانے کے لیے (کسی کو) بھیجا وہ آئے تو میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اے عثمان! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے اگر لوگ تجھ سے وہ قمیص اتارنے کا ارادہ کریں تو اسے نہ اتارنا یہ تین مرتبہ فرمایا نعمان بن بشیر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین آپ نے اب تک یہ حدیث بیان نہیں کی انہوں نے فرمایا مجھے یہ بھول چکی تھی گویا کہ میں نے سنی نہیں تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40449]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40449، ترقيم محمد عوامة 38810)
ترقیم عوامۃ: 38811 ترقیم الشثری: -- 40450
٤٠٤٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: اخبرنا يعلى بن حكيم عن نافع قال: حدثنا عبد الله بن (عمر) (١) قال: قال لي عثمان وهو محصور في الدار: ما تقول فيما اشار به (علي) (٢) المغيرة بن (الاخنس؟) (٣) قال: قلت: وما اشار به عليك؟ قال: إن هؤلاء القوم يريدون خلعي، فإن خلعت تركوني، وإن لم ⦗٤٠٧⦘ اخلع قتلوني، قال: قلت: ارايت إن خلعت اتراك مخلدا في الدنيا؟ قال: لا، قلت: فهل يملكون الجنة والنار؟ قال: لا، قلت: ارايت إن لم تخلع ايزيدون على قتلك؟ قال: لا، قلت: ارايت (تسن) (٤) هذه السنة في الإسلام كلما سخط قوم على امير خلعوه، ولا (تخلع) (٥) قميصا (قمصكه) (٦) الله (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (عمرو).
(٢) في [س]: مكررة.
(٣) في [ع]: (الأحسن).
(٤) في [أ، ب، جـ، س]: (ليس).
(٥) في [س]: (يخلع).
(٦) في [س]: (قمصك).
(٧) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٦٦.
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے مجھ سے ارشاد فرمایا جبکہ وہ گھر کے اندر محصور تھے تم اس بارے میں کیا کہتے ہو جو مغیرہ بن الاخنس نے بتلایا ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے عرض کیا اس نے آپ کو کیا بتلایا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہتے ہیں اگر میں اس خلافت سے جدا ہوجاؤں تو وہ مجھے چھوڑیں گے اور اگر میں اس سے جدا نہ ہوں تو وہ مجھے قتل کردیں گے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے کہا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ جدا ہوجائیں گے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ دنیا میں ہمشہ رہیں گے آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا۔ کیا جنت اور جہنم کے مالک ہیں انہوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں اگر آپ خلافت سے جدا نہ ہوں تو یہ آپ کے قتل سے زیادہ کرسکتے ہیں انہوں نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے بتلائیں کہ آپ اسلام میں یہ طریقہ جاری کردیں گے کہ جب بھی لوگ امیر سے ناراض ہوں تو اسے (خلافت سے) جدا کردیں جو قمیص اللہ نے آپ کو پہنائی ہے وہ نہ اتاریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40450، ترقيم محمد عوامة 38811)
ترقیم عوامۃ: 38812 ترقیم الشثری: -- 40451
٤٠٤٥١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: حدثني ابو سهلة ان عثمان قال يوم الدار: إن رسول الله ﷺ عهد إلي عهدا فانا صابر عليه، قال (قيس) (١) : فكانوا يرون انه (ذاك) (٢) اليوم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (ذلك).
(٣) حسن؛ أبو سهلة صدوق، أخرجه أحمد ١/ ٥٧ (٤٠٧)، والترمذي (٧٣١١)، وابن ماجه (١١٣)، وابن حبان (٦١٨٩)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٥)، والضياء ١/ (٣٩١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥٨، وابن سعد ٣/ ٦٧، وابن شبه (١٨٧٣)، والمزي ٣٣/ ٣٩٠، والقزويني ١/ ١٦٤، والخطيب ٦/ ٣٣٥، وابن عساكر ٣٩/ ٢٨٧.
حضرت ابو سہلہ سے روایت ہے حضرت عثمان نے گھر (کے محاصرے) کے دن فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نصیحت کی تھی میں اس پر جمنے والا ہوں راوی نے فرمایا وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ وہی دن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40451، ترقيم محمد عوامة 38812)
ترقیم عوامۃ: 38813 ترقیم الشثری: -- 40452
٤٠٤٥٢ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الملك بن ابي سليمان قال: سمعت ابا ليلى الكندي يقول: رايت عثمان اطلع على الناس وهو محصور فقال: ايها الناس! لا تقتلوني واستعتبوني، فوالله لئن قتلتموني لا تقاتلون جميعا ابدا، ولا تجاهدون عدوا ابدا، (و) (١) لتختلفن حتى تصيروا هكذا -وشبك بين اصابعه-: ﴿وياقوم لا يجرمنكم شقاقي ان يصيبكم مثل ما اصاب قوم نوح او قوم هود او قوم صالح وما قوم ⦗٤٠٨⦘ لوط منكم ببعيد﴾ [هود: ٨٩] ، قال: وارسل إلى عبد الله بن سلام فساله (فقال) (٢) : الكف الكف، فإنه ابلغ لك في الحجة فدخلوا عليه فقتلوه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) صحيح؛ أبو ليلى ثقة، يغاير أبا ليلى الضعيف، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧١، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٤٤٧٩)، وابن أبي حاتم في التفسير (١١١٥٤)، والدلابي في الكنى ٣/ ٩٤٣، وابن عساكر ٣٩/ ٣٤٩، وابن شبه (٢٠٧٤)، والخلال في السنة (٤٤٢)، والآجري في الشريعة (١٦٩٥).
حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان کو میں نے دیکھا کہ محاصرے کے وقت انہوں نے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا اے لوگو! مجھے قتل مت کرو اور مجھے راضی کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کردیاتو تم کبھی بھی اکھٹے قتال نہ کرسکو گے اور کبھی بھی دشمن سے جہاد نہ کرسکو گے اور تمہارے درمیان پھوٹ پڑجائے گی یہاں تک کہ تم اس طرح ہوجاؤ گے اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا اور آیت تلاوت کی ترجمہ اور اے میری قوم! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کررہے ہو وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے راوی نے فرمایا کہ حضر ت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا ٹھہریں ٹھہریں بلاشبہ میں آپ کی دلیل تک زیادہ پہنچنے والا ہوں پس وہ لوگ حضرت عثمان کے پاس آئے اور ان کو شہید کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40452، ترقيم محمد عوامة 38813)
ترقیم عوامۃ: 38814 ترقیم الشثری: -- 40453
٤٠٤٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد بن سيرين قال: اشرف (عليهم) (١) عثمان من القصر فقال: ائتوني برجل اتاليه كتاب الله، فاتوه بصعصعة ابن صوحان، وكان شابا فقال: ما وجدتم احدا تاتوني (به) (٢) غير هذا الشاب؟ قال: فتكلم صعصعة (بن صوحان) (٣) بكلام، فقال له عثمان: اتل، فقال صعصعة: ﴿اذن للذين (يقاتلون) (٤) بانهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير﴾ [الحج: ٣٩] فقال: ليست لك ولا لاصحابك، ولكنها لي ولاصحابي، ثم تلا عثمان: ﴿اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير﴾ حتى بلغ: ﴿ (ولله) (٥) عاقبة الامور﴾ [الحج: ٤١] (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عليكم).
(٢) سقط من: [ط، ع، هـ].
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [ط، هـ]: (تقاتلون).
(٥) في [هـ]: (وإلى اللَّه).
(٦) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عثمان.
حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت عثمان نے محل سے لوگوں کی طرف جھانکا اور فرمایا میرے پاس ایسا آدمی لاؤ جس کے مقابلے میں اللہ کی کتاب پڑھوں وہ صعصعہ بن صوحان کو لے آئے وہ جوان تھا حضرت عثمان نے فرمایا تم نے اس جوان کے علاوہ کسی اور کو نہ پایا جسے میرے پاس لاتے راوی نے فرمایا کہ صعصہ بن صوحان نے ایک بات کی حضرت عثمان نے اس سے فرمایا پڑھو صعصہ بن صوحان نے { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} آیت پڑھی ترجمہ جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلا نے پر پوری طرح قادر ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا نہ تو یہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے لیکن وہ میرے لیے ہے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے پھر حضرت عثمان نے یہ آیت تلاوت فرمائی { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} یہاں تک کہ { وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ } تک تلاوت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40453]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40453، ترقيم محمد عوامة 38814)
ترقیم عوامۃ: 38815 ترقیم الشثری: -- 40454
٤٠٤٥٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش قال: حدثنا ابو صالح قال: قال عبد الله بن سلام: لما حصر عثمان في الدار قال: لا (تقتلوه) (١) فإنه لم يبق من ⦗٤٠٩⦘ (اجله) (٢) إلا قليل، والله لئن قتلتموه لا (تصلوا) (٣) جميعا ابدا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (تقتلوني).
(٢) في [س]: (أجل).
(٣) في [س]: (تقتلوا)، وفي [أ، ب]: (تضلوا).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في الفضائل (٧٦٩)، ونعيم في الفتن (٤٣٧)، والخلال في السنة (١٣٩).
حضرت ابو صالح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا جبکہ حضرت عثمان کو گھر میں محصور کیا گیا کہ ان کو قتل نہ کرو اس لیے کہ ان کی عمر میں سے تھوڑا حصہ ہی باقی ہے بخدا اگر تم نے ان کو قتل کردیا تو تم اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40454]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40454، ترقيم محمد عوامة 38815)
ترقیم عوامۃ: 38816 ترقیم الشثری: -- 40455
٤٠٤٥٥ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عبد الله بن عامر قال: سمعت عثمان يقول: إن اعظمكم غنى عندي من كف سلاحه ويده (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه سعيد بن منصور (٢٩٤٥).
حضرت عثمان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ مالدار وہ آدمی ہے جس نے اپنے اسلحہ اور ہاتھ کو روکا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40455]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40455، ترقيم محمد عوامة 38816)
ترقیم عوامۃ: 38817 ترقیم الشثری: -- 40456
٤٠٤٥٦ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن ابيه عن بن الزبير قال: قلت لعثمان يوم الدار: اخرج فقاتلهم، فإن معك من قد نصر الله باقل منه، والله (إن) (١) قتالهم لحلال، قال: فابى، وقال: من كان لي عليه سمع وطاعة فليطع عبد الله بن الزبير، وكان امره يومئذ (على الدار) (٢) ، وكان ذلك اليوم صائما (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (و).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) صحيح.
حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان سے گھر (کے محاصرے) کے دن عرض کیا آپ نکلیں اور ان سے قتال کریں بلاشبہ آپ کے ساتھ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس سے کم مقدار میں مدد کی بخدا ان سے قتال حلال ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان نے انکار کیا اور فرمایا جس آدمی پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے وہ عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرے اور حضرت عثمان نے ان کو اس دن گھر پر امیر مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان اس دن روزہ دار تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40456]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40456، ترقيم محمد عوامة 38817)
ترقیم عوامۃ: 38818 ترقیم الشثری: -- 40457
٤٠٤٥٧ - حدثنا ابو اسامة عن صدقة بن ابي عمران قال: حدثنا ابو اليعفور عن ابي سعيد مولى ابن مسعود قال: قال عبد الله: (والله) (١) لئن قتلوا عثمان لا يصيبوا منه خلفا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي سعيد مولى ابن مسعود.
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انہوں نے فرمایا بخدا اگر انہوں نے عثمان کو شہید کردیا تو ان کے بعد ان کا اچھا نائب نہ پائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40457]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40457، ترقيم محمد عوامة 38818)