🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38845 ترقیم الشثری: -- 40486
٤٠٤٨٦ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثني معتمر بن سليمان التيمي قال: سمعت ابي قال: حدثنا ابو نضرة عن ابي سعيد مولى ابي اسيد الانصاري قال: سمع عثمان ان وفد اهل مصر قد اقبلوا، فاستقبلهم فكان في قرية خارجا من المدينة، او كما قال، قال: فلما سمعوا (به) (٢) اقبلوا نحوه إلى المكان الذي هو فيه، قال: اراه قال: (وكره) (٣) ان يقدموا عليه المدينة، او نحوا من ذلك. فاتوه (فقالوا) (٤) : ادع بالمصحف، فدعا بالمصحف (فقالوا) (٥) : ⦗٤٢٤⦘ (افتح) (٦) السابعة، وكانوا (يسمون) (٧) سورة يونس السابعة، فقراها حتى إذا اتى على هذه الآية: ﴿قل ارايتم ما انزل الله لكم من رزق فجعلتم منه حراما وحلالا قل آلله اذن لكم ام على الله تفترون﴾ [يونس: ٥٩] قالوا: ارايت ما حميت من الحمى: آلله اذن لك به ام على الله (تفتري؟) (٨) فقال: امضه، (انزلت) (٩) في كذا وكذا، واما الحمى فإن عمر حمى الحمى (قبلي) (١٠) لإبل الصدقة؛ فلما وليت زادت إبل الصدقة فزدت في الحمى لما زاد من إبل الصدقة، (امضه) (١١) ، فجعلوا ياخذونه بالآية فيقول: امضه، نزلت في كذا وكذا. والذي يلي كلام عثمان يومئذ في سنك، يقول: ابو نضرة يقول لي ذلك ابو سعيد: قال ابو نضرة: وانا في سنك يومئذ، قال: ولم يخرج وجهي -او لم (يستو) (١٢) وجهي- يومئذ، لا ادري لعله قال مرة اخرى: وانا يومئذ في ثلاثين سنة. ثم اخذوه باشياء لم يكن عنده منها نحرج، فعرفها فقال: استغفر الله واتوب إليه، فقال لهم: (ما تريدون؟) (١٣) فاخذوا ميثاقه، قال: واحسبه قال: وكتبوا عليه شرطا، قال: واخذ عليهم، ان لا يشقوا (عصى) (١٤) ولا يفارقوا جماعة ما اقام لهم بشرطهم او كما اخذوا عليه. ⦗٤٢٥⦘ فقال لهم: ما تريدون؟ فقالوا: نريد ان لا ياخذ اهل المدينة عطاء، فإنما هذا المال لمن قاتل عليه ولهذه الشيوخ من اصحاب محمد ﷺ [فرضوا. واقبلوا معه إلى المدينة راضين، فقام فخطب فقال: والله إني ما رايت (وفدا هم) (١٥) خير (لحوباتي) (١٦) من هذا الوفد (الذين) (١٧) قدموا علي، وقال مرة اخرى: حسبت انه قال: من هذا الوفد من اهل مصر، الا من كان له زرع فليلحق بزرعه، ومن كان له ضرع (فليحتلب) (١٨) ، إلا إنه لا مال لكم عندنا، إنما هذا المال لمن قاتل عليه، ولهذه الشيوخ من اصحاب محمد ﷺ] (١٩) ، فغضب الناس (وقالوا) (٢٠) : (هذا) (٢١) مكر بني امية. ثم رجع الوفد المصريون راضين، فبينما هم في الطريق (إذا هم) (٢٢) براكب يتعرض لهم ثم يفارقهم ثم يرجع إليهم (ثم يفارقهم) (٢٣) ويسبهم، فقالوا له: إن لك لامرا، ما شانك؟ قال: انا رسول امير المؤمنين إلى عامله بمصر ففتشوه فإذا (بكتاب) (٢٤) على لسان عثمان، (عليه) (٢٥) خاتمه إلى عامل مصر: ان (٢٦) يقتلهم او يقطع ايديهم وارجلهم. ⦗٤٢٦⦘ فاقبلوا حتى قدموا المدينة، فاتوا عليا فقالوا: الم تر إلى عدو الله، امر فينا بكذا وكذا، والله قد (احل) (٢٧) دمه (قم معنا) (٢٨) إليه، فقال: لا والله، لا اقوم معكم، قالوا: فلم كتبت إلينا؟ قال: لا والله ما كتبت إليكم كتابا قط. قال: فنظر بعضهم إلى بعض، ثم قال بعضهم لبعض: الهذا تقاتلون او لهذا (تغضبون) (٢٩) ، وانطلق علي فخرج من المدينة إلى قرية -او قرية له-. فانطلقوا حتى دخلوا على عثمان فقالوا: (كتبت) (٣٠) فينا بكذا وكذا، فقال: إنما هما (اثنتان) (٣١) ان تقيموا علي رجلين من المسلمين او (يمينا) (٣٢) بالله الذي لا إله إلا هو، ما كتبت ولا امليت، وقد تعلمون ان الكتاب يكتب على لسان الرجل (٣٣) ينقش الخاتم على الخاتم، فقالوا له: قد والله احل الله (دمك) (٣٤) ، ونقض العهد والميثاق. قال: (فحصروه) (٣٥) في القصر، فاشرف عليهم فقال: السلام عليكم، قال: فما (اسمع) (٣٦) احدا رد السلام إلا ان يرد رجل في نفسه، فقال: انشدكم بالله، هل علمتم اني اشتريت رومة (بمالي) (٣٧) (لاستعذب) (٣٨) بها، فجعلت رشائي فيها ⦗٤٢٧⦘ كرشاء رجل من المسلمين، فقيل: نعم، فقال: (فعلام) (٣٩) تمنعوني ان (اشرب) (٤٠) منها حتى افطر (على) (٤١) ماء البحر، قال: انشدكم بالله، هل علمتم اني اشتريت (كذا وكذا) (٤٢) من الارض (فزدته) (٤٣) في المسجد؟ قيل: نعم، قال: فهل علمتم احدا من الناس منع ان يصلي فيه، (قيل: نعم) (٤٤) ، قال: فانشدكم بالله هل سمعتم نبي الله ﵇ (٤٥) (فذكر) (٤٦) (كذا وكذا) (٤٧) شيئا من شانه، وذكر ارى (كتابة) (٤٨) (المفصل) (٤٩) . قال: ففشا النهي، وجعل الناس يقولون: مهلا عن امير المؤمنين، وفشا النهي وقام الاشتر، فلا ادري يومئذ ام يوما آخر فقال: (لعله) (٥٠) قد مكر به وبكم، قال: فوطئه الناس حتى (لقي) (٥١) كذا وكذا. ثم إنه (اشرف) (٥٢) عليهم مرة اخرى فوعظهم وذكرهم، فلم تاخذ ⦗٤٢٨⦘ (فيهم) (٥٣) الموعظة، وكان الناس تاخذ فيهم الموعظة اول ما يسمعونها، فإذا اعيدت عليهم لم تاخذ فيهم الموعظة. ثم فتح الباب ووضع المصحف بين يديه (٥٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عثمان).
(٢) في [أ]: (إليه).
(٣) في [س]: (ذكره).
(٤) في [أ، ب]: (وقالوا)، وفي [جـ]: (فقال).
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) في [أ، ب]: (افتتح).
(٧) في [أ، ب]: (يسمعون).
(٨) في [ب]: (يفتري).
(٩) في [أ، ب]: (نزلت).
(١٠) في [جـ، س]: (قبل).
(١١) سقط من: [جـ، س].
(١٢) في [أ، ب]: (يسبق).
(١٣) في [س]: (ما يريدون).
(١٤) في [أ، ب]: (غصًا).
(١٥) في [ب، جـ، س]: (وافد)، وفي [هـ]: (وفد أهم).
(١٦) في [ب]: (لحواباتي)، وفي [ع]: (لحبواتي).
(١٧) في [ب]: (الذي).
(١٨) في [ب]: (فلتحتلب).
(١٩) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢٠) في [جـ]: (وقال).
(٢١) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].
(٢٣) في [ب]: (ليفارفهم).
(٢٤) في [أ، ب، جـ، س]: (بالكتاب).
(٢٥) في [جـ، س]: (قلبه)، وسقط من: [أ].
(٢٦) في [هـ]: زيادة (يصلبهم أو).
(٢٧) في [أ، ب]: (أجل).
(٢٨) في [أ، ب، جـ، س]: (فرجعنا).
(٢٩) في [أ، ب، س]: (تعصبون).
(٣٠) في [ب]: (اكتبت).
(٣١) في [أ، ب]: (اثنتين).
(٣٢) في [ط، هـ]: (يميني).
(٣٣) في [هـ]: زيادة (وقد).
(٣٤) في [ع]: (دمه).
(٣٥) في [أ، ب، جـ، س]: (حصروه).
(٣٦) في [ب]: (استمع).
(٣٧) في [س]: (بماتي).
(٣٨) في [أ، ب]: (لأسعدت).
(٣٩) في [أ، ب]: (علام).
(٤٠) في [أ، ب]: (شرب).
(٤١) في [جـ]: (حتى).
(٤٢) في [س]: (كذا كذا).
(٤٣) في [أ، ب]: (فرددته).
(٤٤) في المراجع: (قبلي).
(٤٥) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٤٦) في [أ، ب، جـ، س]: (يذكر).
(٤٧) في [أ]: (كذا أو كذا).
(٤٨) في [جـ]: (كتاه).
(٤٩) في [أ، ب]: (المفضل)، وفي [جـ]: (الفضل).
(٥٠) في [أ، ب]: (له).
(٥١) في [أ، ب، جـ]: (بقى).
(٥٢) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (شرف).
(٥٣) في [أ، ب]: (فيهما).
(٥٤) صحيح؛ أبو سعيد وثقه الهيثمي في مجمع الزوائد ٧/ ٢٢٩، وابن حجر في المطالب العالية ١٨/ ٤٧، وقال ابن منده في فتح الباب ١/ ٣٦٢: "له صحبة"، أخرج بعضه أحمد في فضائل الصحابة (٧٦٦)، وابن خزيمة (٢٤٩٣)، وابن حبان (٦٩١٩)، والبزار (٣٨٩)، وإسحاق (٨٥٩)، وكما في المطالب العالية (٤٣٧٢)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٥٥، في كتاب المصاحف (١) والآجري (١٤٧٣)، والبيهقي ٦/ ١٤٧، وابن عساكر ٣٩/ ٢٥٧، وأبو الشيخ في طبقات أصفهان (١٦٢)، وابن شبه (١٩٧١) و (١٩٨٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٠١٨)، واللالكائي (٢٥٩٥).

ابو سعید سے منقول ہے کہ حضرت عثمان سے سنا کہ مصر کا وفد آیا ہے پس حضر ت عثمان نے ان کا استقبال کیا وہ مدینہ سے باہر ایک بستی میں تھے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ مدینہ میں ان کے پاس حاضر ہوں یا اس طرح کا کوئی امر تھا۔ پس اہل مصر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ صحیفہ منگوائیے تو انہوں نے صحیفہ منگوا لیا پھر کہنے لگے اس کو کھولیے اور سابعہ نکالیے وہ سور یونس کو سابعہ کا نام دیتے تھے پس حضرت عثمان نے پڑھنا شروع کیا اس آیت پر پہنچے: { قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُونَ } (آپ کہہ دیجیے تم بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق اتارا پھر اس میں سے تم نے حرام اور حلال بنا لیا آپ کہہ دیں کیا تمہیں اللہ نے اجازت دی یا اللہ پر تم بہتان باندھتے ہو) حضرت عثمان نے فرمایا پس اسے چھوڑو یہ آیت فلاں فلاں امر میں اتری ہے بہر حال آپ چراگاہ کی جو بات کر رہے ہیں تو مجھ سے پہلے حضرت عمر نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ مقرر کی تھی۔ پھر جب مجھے والی بنایا گیا تو صدقہ کے اونٹ بڑھ گئے، میں نے چراگاہ کو بھی وسعت دیدی اونٹوں کی کثرت کے پیش نظر۔ پس اہل مصر آیتوں سے دلیل پکڑتے رہے اور حضرت عثمان فرماتے رہے کہ اسے چھوڑو اور کہتے رہے یہ آیت فلاں فلاں واقعہ میں اتری ہے۔ جو حضرت عثمان سے کلام کررہا تھا وہ آپ کی عمر کا تھا، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے ابو سعیدنے بتائی، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں اس دن تمہاری عمر کا تھا کہتے ہیں میرے چہرے پر مکمل جوانی کے اثرات ظاہر نہ ہوئے تھے یا یوں فرمایا کہ میں اچھی طرح جوان نہ ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے دوسری دفعہ فرمایا ہو میں اس دن تیس سال کا تھا۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایسے اعتراضات کیے جن سے وہ چھٹکارا نہ پا سکے اور حضرت عثمان نے ان چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا پھر فرمایا میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ پھر ان سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو؟ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایک عہد لیا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کچھ شرائط بھی طے کیں اور حضرت عثمان نے ان سے عہد لیا کہ وہ مسلمانوں کی قوت کو فرو نہ کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں میں تفرقہ پھلائیں گے جب تک کہ میں شرائط پر قائم رہوں گا۔ پھر حضر ت عثمان نے فرمایا تم اور کیا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ عطا یا نہ لیں کیونکہ یہ مال تو صرف قتال کرنے والوں اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے پس وہ راضی ہوگئے اور حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے پس حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس وفد سے بہتر کوئی وفد نہیں دیکھا جو میری حاجت کے لیے اس سے بہتر ہو۔ اور پھر دوسری مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس کے شرکاء اہل مصر ہیں سنو جس کے پاس کھیتی ہے وہ اپنی کھیتی باڑی کرے اور جس کے پاس دودھ والا جانور ہے وہ اس کا دودھ نکال کر گزارا کرے میرے پاس تمہارے لیے کوئی مال نہیں۔ اور مال مجاہدین اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے پس لوگ غصے ہوئے اور کہنے لگے یہ بنوامیہ کا فریب ہے۔ پھر مصری وفد بخوشی واپس لوٹ گیا۔ راستے میں تھے کہ ایک سوار ان کے پاس آیا پھر ان سے جدا ہوگیا پھر ان کی طرف لوٹا اور جدا ہوگیا اور ان کو برا بھلا کہا۔ تو انہوں نے ا س سے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا امیر المؤ منین کی طرف سے مصر کے گورنر کی طرف سفیر ہوں پس اس وفد نے تحقیق کی تو اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا اس پر مہر بھی حضرت عثمان کی تھی اور مصر کے گورنر کو یہ پیغام لکھا تھا کہ وہ اس وفد کو قتل کردے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ پس وہ وفد واپس لوٹا اور مدینہ پہنچا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا تم اللہ کے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے جس نے ہمارے بارے میں اس طرح کا حکم جاری کیا ہے، اللہ نے اس کا خون حلال کردیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤنگا، اہل وفد نے حضرت عثمان سے پوچھا آپ نے ہمارے لیے یہ خط کیوں لکھا تو حضرت عثمان نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نے تمہارے لیے کوئی خط نہیں لکھا، پس وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کیا اس وجہ سے تم قتال کروگے؟ کیا اس وجہ سے تم غیظ و غضب میں مبتلا ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر ایک بستی کی طرف چلے گئے۔ پس وہ چلے اور حضرت عثمان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے بارے میں اس طرح کیوں لکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ تب دو ہی چیزیں ہیں ایک یہ کہ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40486]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40486، ترقيم محمد عوامة 38845)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40486 in Urdu