🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38954 ترقیم الشثری: -- 40603
٤٠٦٠٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا جعفر بن زباد عن (امي) (١) الصيرفي عن صفوان بن قبيصة عن طارق بن شهاب قال: لما قتل عثمان قلت: ما (يقيمني) (٢) بالعراق، وإنما الجماعة بالمدينة عند المهاجرين والانصار، (قال) (٣) : فخرجت فاخبرت ان الناس قد بايعوا عليا، قال: فانتهيت إلى الربذة وإذا علي بها، فوضع له (رحل) (٤) فقعد عليه، فكان كقيام الرجل، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: إن طلحة والزبير بايعا طائعين غير مكرهين، ثم (ارادا) (٥) ان (يفسدا) (٦) الامر (ويشقا) (٧) عصا المسلمين، وحرض على قتالهم قال: فقام الحسن بن علي (فقال) (٨) : الم اقل لك إن العرب ستكون لهم جولة عند قتل هذا الرجل؛ فلو اقمت بدارك التي انت بها -يعني: المدينة- فإني اخاف ان تقتل بحال مضيعة (لا) (٩) ناصر لك، قال: فقال علي: اجلس (فإنما) (١٠) تخن (كما تخن) (١١) الجارية؛ وإن لك (خنينا كخنين) (١٢) الجارية، (آلله) (١٣) اجلس بالمدينة كالضبع تستمع ⦗٥٠٠⦘ (اللدم) (١٤) لقد ضربت هذا الامر ظهره، وبطنه، او راسه (وعينيه) (١٥) ، فما وجدت إلا السيف (او) (١٦) الكفر (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أم).
(٢) في [أ، ب]: (يقضي).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س، ط، هـ]: (رجل).
(٥) في [س]: (أراد).
(٦) في [س]: (يفسد).
(٧) في [ط، ع، هـ]: (وسيتا)، وفي [جـ، س]: (وشيعًا).
(٨) في [جـ]: (جعال).
(٩) في [أ، ب، جـ]: (ولا).
(١٠) في [جـ]: (فإنا).
(١١) سقط من: [هـ]، وفي [س]: (تحن كما تحن).
(١٢) في [هـ]: (حنينًا كحنين).
(١٣) سقط من: [هـ].
(١٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (الكدم)، وفي [س]: (اللام)، وفي [هـ]: (الدم)، والمراد صوت الحجر تسمه الضبع فتخرج من قفاها فيُمسك بها.
(١٥) في [س]: (عينه).
(١٦) في [جـ]: (على).
(١٧) مجهول؛ لجهالة صفوان بن قبيضة، وأخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٢/ ٦٦ و ٤/ ٢٠٩، وابن شبه (٢٢٣٧).

طارق بن شباب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا میں نے دل میں سوچا کہ مجھے کس شئے نے عراق میں ٹھہرایا ہوا ہے حالانکہ جماعت تو مدینہ میں ہے مہاجرین اور انصار کے پاس کہتے ہیں میں نکلا مجھے خبر ملی کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے کہتے ہیں کہ میں ربذہ مقام پر پہنچا تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ان کے لیے ایک شخص نے بیٹھنے کے لیے نشست رکھی۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ طلحہ اور زبیر نے بیعت خوشی خوشی کی تھی نہ کہ حالت اکراہ میں۔ اب چاہتے ہیں کہ وہ معاملے کو بگاڑ دیں اور مسلمانوں کی لاٹھی (جمعیت) کو توڑ ڈالیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کے لیے لوگوں کو ابھارا۔ پھر حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ عرب ان کے ساتھ جمع ہوجائیں گے اگر اس شخص (حضرت عثمان) کو شہید کیا گیا۔ اگر آپ اپنے گھر میں رہتے یعنی مدینہ میں تو مجھے ڈر تھا کہ آپ کو بھی اسی لاپرواہی سے قتل کردیاجاتا اور آپ کا کوئی مدد گار نہ ہوتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تم ایسے گنگناتے ہو جیسے دوشیزہ گنگناتی ہے یا یہ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا گنگنا ہونا ہے جیسے دوشیزہ کے لیے گنگنا ہونا۔ اللہ کی قسم میں مدینہ میں اس بھیڑیے کی طرح بیٹھا تھا جو زمین پر پتھر گر نے کی آواز سن رہا ہو۔ پس میں نے اس معاملے کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا میں نے سوائے تلوار یا کفر کے کچھ نہیں پایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40603]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40603، ترقيم محمد عوامة 38954)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40603 in Urdu