🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38967 ترقیم الشثری: -- 40616
٤٠٦١٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عوانة عن إبراهيم بن محمد بن (المنتشر) (١) عن ابيه عن عبيد بن (نضيلة) (٢) عن سليمان بن (صرد) (٣) قال: اتيت عليا يوم الجمل وعنده (الحسن) (٤) وبعض اصحابه، فقال علي حين رآني: يا ابن (صرد) (٥) (تنانات) (٦) و (تزحزحت) (٧) وتربصت، كيف ترى الله (صنع؟) (٨) (قد اغنى) (٩) الله عنك، قلت: يا امير المؤمنين إن (الشوط) (١٠) (بطين) (١١) وقد بقي من الامور ما (تعرف) (١٢) فيها عدوك من صديقك، قال: فلما (قام) (١٣) الحسن لقيته فقلت: ما اراك اغنيت عني شيئا ولا عذرتني عند الرجل؟ وقد كنت حريصا على ان (تشهد) (١٤) معه، قال: هذا يلومك على (ما) (١٥) يلومك، وقد قال لي يوم الجمل: مشى الناس بعضهم إلى بعض، يا حسن ثكلتك امك -او هبلتك امك- ما ظنك بامرئ، جمع بين هذين الغارين، والله ما ارى بعد هذا خيرا، قال: فقلت: ⦗٥٠٥⦘ الهمكت، لا (يسمعك) (١٦) (اصحابك) (١٧) فيقولوا: شككت فيقتلونك (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (المنعشر).
(٢) في [أ، ب]: (نصلة)، وفي [جـ]: (نصلة)، وفي [س]: (نضلية)، وفي [هـ]: (نضيلة).
(٣) في [س]: (ضرد).
(٤) في [جـ]: (علي).
(٥) في [س]: (ضرد).
(٦) في [أ]: (وتنأنأت).
(٧) في [هـ]: (ترجرجت)، وفي [أ، ب]: (ترخرجت).
(٨) في [أ، ب]: (ضعف).
(٩) في [أ، ب]: (فرعاني).
(١٠) في [هـ]: (السوط).
(١١) أي: بعيد، وفي [أ، ب]: (لطين).
(١٢) في [ب، س]: (يعرف).
(١٣) في [أ، ب]: (قدم).
(١٤) في [س]: (يشهد).
(١٥) سقط من: [ع].
(١٦) في [ع]: (تسمعك).
(١٧) في [ع]: (أصخابك).
(١٨) صحيح؛ أخرجه نعيم في الفتن (٢٠٧)، والعسكري في جمهرة الأمثال ١/ ٥٥٤، وبنحوه أخرجه مسدد كما في المطالب (٤٤٠٥)، وابن أبي الدنيا في المتمنين (١٥٥)، والخطيب في موضح أوهام الجمع والتفريق ١/ ١٠٥، وابن ماكولا في تهذيب مستمر الأوهام ص ٧٢.

سلیمان بن صرد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس حضرت حسن اور ان کے بعض ساتھی بھی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا اے ابن صرد کمزور اور ڈھیلے پڑگئے اور پیچھے ٹھہر گئے۔ اللہ کے ساتھ تمہارا کیا معاملہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بےنیاز کردیا میں نے کہا اے امیر المومنین معاملہ بڑا سخت ہوگیا۔ معاملات ایسے ہوگئے ہیں کہ آپ کے دوست اور دشمن میں امتیاز مشکل ہوچکا کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا آپ نے میری ذرا بھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی میری طرف سے کوئی عذراسی شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے پاس کیا؟ حالانکہ میں اس بات کا متمنی تھا ان کے پاس میری گواہی ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) جو ملامت آپ پر کرنی تھی سو وہ کی۔ حالانکہ مجھے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف جا رہے ہیں اے حسن تیری ماں تجھے گم کرے! تیرا میرے اس معاملے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد خیر نہیں دیکھتا۔ میں نے کہا آپ خاموش ہوجائیے آپ کے ساتھی نہ سن لیں پس کہنے لگیں کہ تو نے معاملہ مشکوک کردیا اور تجھے قتل کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40616]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40616، ترقيم محمد عوامة 38967)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40616 in Urdu